پائدا بلوچ، پائدا بلوچ

سمجھ نہیں آتا کہ یہ بلوچوں کی بالک نسل کیوں نہیں سمجھتی کہ ہم ہی تو وہ قہر ہیں جو تمام انسانی احساسات کو چبا جاتا ہے، ہم ہی اپنے وچن کو نہ نبھانے والا وہ ٹولہ ہیں، جو نہ کسی وعدے کی پاسداری کا پابند ہے اور نہ ہی ہمارے نزدیک کسی معاہدے کی کوئی اہمیت و حیثیت ہے، اگر ہم وعدہ وفا کرنے والے ہوتے تو ہمارے مربی برطانوی سامراج کی نوکری کو لات مار کر برطانوی سامراج سے عہد وفاداری نہ نبھانے والے ”نوروز خان زرکزئی“ کے نہ بیٹوں کو بے دردی سے قتل کرتے اور نہ ہی ”نوروز خان“ کو مسلسل قید کرتے، وہ تو بھلا ہو مقدس کتاب کا کہ جس کے واسطے پر نوروز خان اپنے احتجاج اور مزاحمت کو تج کر کے ”امن“ کی خاطر ہمارے جھانسے میں آ گیا، کیا یہ بالک بلوچ نسل نہیں جانتی کہ ہم نے ”مقدس کتاب“ کی آڑ میں ہمارے جبر کو چیلنج کرنے والے نوروز خان کو بھی نہ بخشا اور اس سے ریاست کی طاقت کے ذریعے چھٹکارا پا لیا۔
پتہ نہیں یہ بلوچ بالک نسل کیوں نہیں سمجھتی کہ ہم اپنے قتال اور برپا کیے جانے والے ظلم پر نظر ثانی کرنے کے قائل نہیں، اگر ہم نواب نوروز خان سے لے کر نواب اکبر بگٹی کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر نظر ثانی کرتے تو کیا بلوچ بالک نسل ہمارے قہر اور جبر کو جان سکتی تھی؟ ہماری اہمیت و حیثیت کو سمجھ سکتی تھی؟ ہمارے قہر سے بچ جانے والے ”بلوچ سردار“ ہمیں اپنے وسائل میں شریک کار کرتے۔ ؟ ہماری نہ نظر آنے والی حاکمیت بلوچستان پر ہوتی؟
بلوچوں کی بالک نسل سمجھ لے کہ ہم سروں کے مینار تعمیر کرنے کے ہنر سے بہت اچھی طرح واقف ہیں، ہم برطانوی سامراج کے ”زمین“ حاصل کرنے اور توسیع پسندانہ فارمولے کے وہ حفاظت کار ہیں جو آج بھی ”تاج برطانیہ“ کی آنکھ کا تارا ہیں، تبھی تو ہماری تمام تر خرمستیوں کو یورپ سمیت امریکہ نہ صرف برداشت کرتا ہے بلکہ ہمیں امداد بھی فراہم کرتا ہے کیونکہ ہم نہایت خلوص کے ساتھ خطے میں اپنے آقاؤں کے مفادات کا تحفظ بھی کرتے ہیں اور ہر ممکن سہولت کاری بھی کرتے رہتے ہیں، کیا یہ بالک بلوچ نسل نہیں جانتی کہ ہم نے اپنے بے گناہ شہریوں کی جان کی پرواہ کیے بغیر انہیں افغان جہاد/جنگ کے نام پر طالبان دہشت گردی کے سپرد کر دیا تھا، جو آج بھی کسی نہ کسی طرح ہماری محب ہے، اور جب ہمیں ان دہشت گردوں کی ضرورت ہوتی ہے یہ ہمارے محب ہماری مرضی کے مطابق کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، ہم تو اس قسم کی وفاداری کے قائل ہیں جیسے دہشت گرد طالبان یا ہم برطانوی سامراج سے آج تک نبھا رہے ہیں، ہم بلوچوں کی بالک نسل سے صرف یہ ہی تو چاہتے ہیں کہ وہ سر اٹھا کر نہ چلے بلکہ طالبان مانند سر جھکا کر ہر وہ کام کرے، جو ان کے فنڈز میں اضافے اور ان کی خوشحالی کا سبب بنیں۔
اب دیکھو نا کہ نجانے بلوچ نسل کی خواتین کو کیا سوجی کہ وہ بھی سر راہ با پیادہ نکل آئیں اور احتجاج کرتی ہوئی ”شام“ کی یاد دلا دی، گو ”شام“ میں بھی دربار یزید کے خلاف پہلے صرف احتجاج ہوا تھا مگر یہ معلوم نہ تھا کہ ایک زینب رہتی دنیا تک ہمارے اجداد کے ظلم و جبر کا وہ نشان بن جائے گی جس کا انجام ہمارے جبر کے نظریے کو ساری دنیا میں بدنام کر دے گا اور ”زینب“ کی جرات ہی ہماری ناکامی کی وہ کالک بنے گی، جو چاہتے ہوئے بھی ہم تاریخ سے دھو نہ سکیں گے، گو ہم نے اسلام آباد کے ایوبی جبر کے خاندانی جج اورنگزیب کو بھی خرید کر اس سے بلوچ لاپتہ افراد کے بارے میں فیصلہ اپنے حق میں کروا لیا، مگر احتجاج کے نجانے کس رنگ میں رنگی ہوئی ہیں یہ بلوچ خواتین نسل کہ ان کی مزاحمت کے ”رنگ“ ہی ختم نہیں ہوتے، گو ہم نے ڈالے منگوا کر ڈرایا، ساز و سامان غائب کروا کے دیکھ لیا، بلوچ طلبہ کو ریاستی تشدد اور گرفتاریوں سے زیر کرنے کی کوشش کی، مگر مزاحمت کے رنگوں میں ”رنگنے والی“ بلوچ خواتین ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتیں، لاپتہ بلوچ اور اپنے پیاروں کی تشدد زدہ لاشوں کا پوچھتی ہوئی اسلام آباد کے دربار کے ارد گرد منڈلا رہی ہیں، ان بلوچ ست رنگی مزاحمت کار خواتین کے حوصلے اور استقامت ہمیں دن بدن خوف میں مبتلا کر رہی ہے، مگر ہم بھی ظلم کر کے ماننے والے کہاں جو اتنی آسانی سے اپنے کیے ہوئے جرائم کو مان لیں، یہ بلوچ خواتین ہر آنے جانے والے کو پیغام دیتی پھر رہی ہیں کہ ”دیکھتے ہیں کہ کتنا زور بازوئے قاتل میں ہے“ ، ان بلوچ خواتین کے عزم کو پولیس اور اسلام آباد دربار کی عدلیہ بھی نہ توڑ پائی ہے، نہ یہ مذاکراتی ٹیم کے وعدوں پر یقین کرتی ہیں اور نہ یہ ہمارے تنگ کیے جانے کو خاطر میں لاتی ہیں، ہم نے تو سوچا تھا کہ اسلام آباد کی یخ بستہ راتیں ان کے عزم کو ٹھٹھرا دیں گی مگر یہ تو اس ٹھنڈ میں بھی پر عزم کہہ رہی ہیں کہ!
تمہیں شاید معلوم نہیں کہ
ھم اپنے سینوں میں تحترتی سرد بھر کر لائے ہیں
تم پہاڑوں کی چوٹی پہ جمی سرد رات سے ناواقف کیا جانو کہ
سرد جسموں کے چٹان عزم
نہ توپ و تفنگ اور نہ بارود سے ختم ہوں گے
”انا الحق“ کے رسیاؤں کو بھلا کب تک ریاستی لاٹھی سے ہانکو گے
سنو اور غور سے سنو کہ
”تم شکست کھا چکے ہو“
سرد سینے جیت چکے ہیں
تبھی تو ہمارا سینئر صحافی عزیز سنگور لفظوں کا ماتم کر رہا ہے وہ مسلسل لکھ رہا ہے کہ ”بقول میر چاکر خاں رند کے“ بلوچ افراد عورتوں اور بچوں پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتے، مہمان نوازی بلوچ سماج کا ایک لازمی حصہ ہے، اور بلوچ مہمانوں کو نعمت سمجھتے ہیں، لیکن آج ہمارے حکمران مہمان نوازی کی اخلاقیات کے بر عکس چل رہے ہیں، ان کی بلیک ڈکشنری میں منتخب افراد کو نا اہل کرنا اور حقوق مانگنے والوں کو بے عزت کرنا ہی لکھا ہے، بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے اسلام آباد پہنچنے والے لانگ مارچ کے سینکڑوں شرکا پر اسلام آباد پولیس نے حملہ کر کے ملکی آئین و قانون کی دھجیاں اڑا دیں ہیں، بلوچ خواتین اور بچیوں تک کو ظلم کا نشان بنایا، بلوچی رسم و رواج کی پامالی کی گئی، غیر مہذب پولیس نے بلوچ روایات کو طاقت کے ذریعے روند ڈالا، بلوچی دوپٹہ خواتین کے سروں سے گن پوائنٹ پر اتارا گیا اور زبردستی پولیس موبائل میں ڈال کر انہیں مختلف تھانوں میں قید کیا گیا، خدشہ ہے کہ وسیم سفر زامرائی کی وہیل چیئر بھی بلوچی خواتین کی رداؤں کی طرح چھن جائے گی، جبر کے پیامبروں کو خبر ہو کہ جس وسیم نے کوہ سلیمان کا سفر اپنی وہیل چیئر پر طے کیا ہو وہ اور اس کے ساتھ مزاحمت کے رنگ لئے بلوچی خواتین کیسے شکست کھائیں گی؟ یہ خبر اور عزم اسلام آباد کے درباروں کے مکینوں میں عام کردو کہ یہ ”عشاق کے قافلے کا پہلا پڑاؤ ہے“ کتنے اور پڑاؤ پڑنے ہیں، یہ موت سے عشق کے دھتی کبھی نہیں بتاتے۔

