سال نو اور غزہ: امسال زندگی نہ کسی کی وبال ہو


دنیا کے آٹھ بلین سے زیادہ باشندے 2023 ء کو الوداع کرنے کے بعد 2024 ء کو خوش آمدید کہہ چکے ہیں۔ عالمی سیاسی عدم استحکام، جنگوں اور روز مرہ زندگی کے ہوشربا اخراجات نے متوازن زندگی بسر کرنا انسانوں کے لیے مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے۔ نئے سال کا سب سے پہلے آغاز نیوزی لینڈ سے، اس کے بعد آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحلوں پر ایک ملین سے زیادہ افراد کی ”نیو ائر پارٹی“ کے اجتماع سے ہوا، جس میں 8 ٹن آتش بازی کی گئی۔ سال نو کے آغاز پر دنیا کے اکثر ممالک میں آتش بازی کے مظاہرے کیے جاتے ہیں۔

”نیو ائر“ منانے کی روایت کسی مستند تہذیب کا حصہ نہیں رہی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ رائل نیوی کے نوجوان اکثر بحری جہاز پر دور دراز کا سفر کیا کرتے تھے۔ طویل سفر میں یہ بوریت اور اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے، جسے ختم کرنے کے لیے کبھی اپنی سالگرہ کا اہتمام کرتے، کبھی اپنے گھر والوں اور بچوں کی سالگرہ کا جشن مناتے۔ ان تقریبات کے باوجود ان کا سفر ختم نہ ہو تا تو وہ بوریت کے خاتمے کے لیے اپنے پالتو جانوروں کی بھی سالگرہ منانے لگے۔

ایک سفر میں دسمبر کا اختتام قریب تھا تو ان نوجوانوں میں سے ایک کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم نیو ائر نائٹ منا کر نئے سال کو خوش آمدید کہیں۔ چنانچہ دسمبر کی آخری شام جہاز کو خوب آراستہ کر کے موسیقی اور ناچ گانے کا اہتمام کیا گیا اور رات بارہ بجے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے کو ”ہیپی نیو ائر“ کہہ کر مبارکباد پیش کی۔ اسی واقعے کے بعد یہ ایک روایت بن گئی اور ہر سال اس جشن کا اہتمام کیا جانے لگا۔

اس میں مزید اضافہ یہ ہوا کہ لوگ اپنی بیویوں اور منگیتروں کے ہمراہ سکاٹ لینڈ کے اناڈین ساحل پر جمع ہو جاتے۔ گانے بجانے کی محفل سجائی جاتی۔ اس طرح ”ہپی نیو ائر“ کی رسم پروان چڑھتی اور پوری دنیا میں پھیل گئی۔ ہر ملک کی مقامی روایات سے مل کر نت نئی رسومات بھی سامنے آتی رہیں۔ اب نیو ائر نائٹ کا اہتمام لگ بھگ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ حکومتی سطح پر آتش بازی کے مظاہرے ہوتے اور لوگ سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارا سارا کاروبار حیات چونکہ انگریزی مہینوں کے مطابق چلتا ہے۔ اسی لیے سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پر اسی حوالے سے احساسات شیئر کرنے کا معمول ایک فطری امر ہے۔ کئی مسلم ممالک میں اس موقع پر دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

سال نو کے استقبال کے لیے ”نیو ائرنائٹ“ اگرچہ مغربی روایت ہے، مگراس موقع پر وطن عزیز کے من چلے ایسی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ’جن کا ہماری روایات اور ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔ رات بھر ون ویلنگ سے شہریوں کے ناک میں دم کرنا، ڈھول باجے، آتش بازی، چھلکتے جام لنڈھانا اور ہوائی فائرنگ کرنا جس میں اکثر قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں معمول بن گیا ہے۔ یقیناً یہ سب کچھ غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی بھی ہے۔ اس بار نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے مظلوم فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئے نئے سال کی آمد پر ہر قسم کی تقریبات پر پابندی کا اعلان کر کے دنیا اور خصوصاً مسلم ممالک کو ایک مثبت اور جامع پیغام دیا ہے۔ بلا شبہ فلسطین کی صورت حال کے باعث پوری امت مسلمہ رنج و غم میں مبتلا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی جنگ میں، 22 ہزار انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہسپتال اور عبادت گاہیں تک بمباری سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ زخمی 50 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ جنگ جارحیت اور درندگی کا بدترین نمونہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کے 20 لاکھ سے زائد باشندے بے گھر ہو چکے ہیں۔ تصور کیجیے کہ مائیں اپنے بچوں کی ٹانگوں پر نام لکھ رہی ہیں تاکہ لاشیں پہچاننے میں آسانی ہو۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ امر کیا ہو سکتا ہے؟ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس غزہ کو ’بچوں کا قبرستان‘ قرار دے چکے ہیں۔

جنگ کا آغاز 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے ہوا جسے ’معرکۃ طوفان الاقصی‘ کا نام دیا گیا۔ جنگ کے دوران امریکا اور مغربی ممالک کی حکومتوں کا رویہ افسوس ناک رہا جنہوں نے غیر جانبداری اور جنگ بندی میں موثر کردار ادا کرنے کے بجائے اسے مزید ہوا دی۔ پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کو وہ ساز و سامان فراہم کرتے رہیں گے جو اسے اپنے دفاع کے لیے درکار ہے۔

تاہم امریکا اور یورپ کے عام شہری اسرائیلی مظالم کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلے۔ وائس آف امریکا کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے مظاہرے میں شریک افراد سیاہ اور سفید فلسطینی سکارف پہنے ’فلسطین آزاد ہو گا‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین کے ایک گروپ نے ایک بہت بڑا فلسطینی پرچم اٹھا کر پینسلوانیا ایونیو پر مارچ کیا۔ یہ وہ سڑک ہے، جو وائٹ ہاؤس تک جاتی ہے۔ بعض مقامات پر مظاہرین کے ہاتھوں میں پیلے، سرخ اور سیاہ پلے کارڈز تھے جن پر ’غزہ کو جینے دو ‘ (Let Gaza Live) اور ’غزہ پر بمباری بند کرو‘ (Stop Bombarding Gaza) کے مطالبے درج تھے۔

اقوام متحدہ کو رواں برس یوکرین روس اور پھر اسرائیل حماس تنازعات کے دو بڑے چیلنجز درپیش تھے، یہ دونوں محاذوں پر ناکام رہا۔ جنرل اسمبلی کے 193 اراکین، سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ غزہ پر جنگ بندی کے خلاف اقوام متحدہ کی پاس کردہ قرار دادیں عملی طور پر نتیجہ خیز نہیں رہیں، البتہ یہ بھی ایک سچ ہے کہ غزہ میں عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں ہونے والی وحشت ناک سفاکیت نے دنیا کی سوچ کا دھارا بدلا۔ 2023 کے آغاز میں بڑوں اور بچوں میں اپنی مسلم شناخت کا وہ احساس نہیں تھا جو سال کی آخری سہ ماہی میں اسرائیل کی جارحیت سے پیدا ہوا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں تک نے اپنی پسندیدہ چیزیں، چاکلیٹس، برگر، پزے اور چپس اس لیے کھانا چھوڑ دیے کہ ان پیسوں سے فلسطین کے دشمنوں کی مدد ہوتی ہے۔ احساس و شعور کی یہ سطح بہت بڑی کامیابی ہے، جس میں سوشل میڈیا کا اہم ترین کردار ہے اس پر ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جنہوں نے لوگوں میں شعور بیدار کیا۔

اہل غزہ اور ان کے بچوں کے لیے احساس ہمدردی اور انسانی حقوق کے دعوے داروں کے لیے نفرت کے الاؤ نے جنم لیا۔ غزہ میں قتل و غارت اور نسل کشی نے تکلیف، کرب اور بے بسی کے نئے باب کھولے۔ عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں کمسن شیرخوار فلسطینی بچوں کو وحشت سے روندا جاتا رہا اور مسلم ممالک بے بسی سے یہ قیامت خیز منظر دیکھتے، چپ کا مجسمہ بنے رہے۔ ان کے معاشی مفادات ان کی پاؤں کی زنجیر بن گئے۔ 2023، میں انسانی حقوق کے نعرے کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے عیاں ہوا۔ بچوں کے حقوق اور انسانی حقوق کی اصطلاحیں اپنے آپ پر شرمندہ نظر آئیں۔

سال کے اختتام پر ہم جائزہ لیتے ہیں کہ کون سے اہداف گزشتہ برس حاصل نہیں ہو سکے اور کون سے اہداف اس برس پورے ہوئے۔ سود و زیاں کا یہ حساب کرتے وقت ہمیشہ امید کا دامن تھامے رہنا چاہیے۔ اگر کچھ اہداف حاصل نہیں ہو سکے تو اپنی خامیوں کو درست کر کے سال نو میں انہیں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم ترین عمل اللہ نے جو

عطا کیا ہے اس پر شکر گزاری ہے۔ یہ نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا وعدہ ہے :
”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا“
شکر کا عملی اظہار یہ ہے کہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے انہیں بھی حصہ دیا جائے جو ان سے محروم ہیں۔

نئے سال کی آمد پر مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا اس لیے ضروری ہے کہ وہ قبلۂ اول کی آزادی کے لیے اپنی اور اپنے بچوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ 2023 ء کا سال ہمارے لیے فلسطینی قضیے کے علاوہ بھی دردناک یادیں چھوڑ کر جا رہا ہے۔ 2023 ء اب تک کے ریکارڈ میں موجود گرم ترین سال بھی رہا۔ اس کے سبب موسمیاتی شدت سے آنے والی آفات کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ ایسے میں نئے سال کی آمد پر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی اور امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے دعاؤں کے ساتھ اپنے اعمال کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے۔ آخر میں تصدق قریشی کے الفاظ میں یہ التجا ہے :

تقویم عیسوی ہو کہ ہجری کا سال ہو
آغاز و اختتام سبھی خوش خصال ہو
مولا یہی دعا ہے ترے خا کسا ر کی
امسال زندگی نہ کسی کی وبال ہو

Facebook Comments HS