اسلام میں خدا کا تصور: یونانی فلسفہ

جیسا کہ میں نے پچھلے مضمون میں ذکر کیا، مسلم فلسفیانہ فکر کے ارتقاء پر یونانیوں کے اثرات بہت زیادہ تھے۔ یونانی فلسفے کی اہم شخصیات افلاطون اور ارسطو تھیں۔ یہ دونوں شخصیات دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے انتہائی با اثر رہی ہیں۔ ان کا اثر آج بھی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی دنیا میں خدا کی فطرت کو سمجھنے کی فلسفیانہ کوششوں کو سمجھنے کے لیے افلاطون اور ارسطو کی تعلیمات کو سمجھنا ناگزیر ہے۔
یونانی تہذیب تقریباً اٹھ سو قبل مسیح سے دو سو عیسوی تک قائم رہی۔ اس شاندار تہذیب کا مرکز ابتدا میں ایتھنز تھا اور پھر مقدونیہ کے سکندر کی طرف سے مصر کی فتح کے بعد تین سو قبل مسیح کے قریب اسکندریہ منتقل ہو گیا۔ یونانیوں کی فلسفیانہ روایات بہت پرانی ہیں۔ تاہم، سقراط ( 470۔ 399 قبل مسیح) افلاطون (428۔ 348 قبل مسیح) ، اور ارسطو (384۔ 322 قبل مسیح) کی بے مثال تخلیقات نے ان روایات کو بلندی تک پہنچا دیا۔ یہ تینوں فلسفی تمام فلسفیانہ معاملات میں عقلیت کے باپ تصور کیے جاتے ہیں۔
سقراط کے بارے میں ہماری معلومات بہت کم ہیں۔ ہم ان کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ ان کے شاگرد افلاطون کی وجہ سے ہے۔ افلاطون کی کتابوں میں سقراط کو ایک اعلیٰ ذہانت اور عظیم بصیرت کے آدمی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سقراط کو 70 سال کی عمر میں خدائی چیزوں کی بے حرمتی اور مذاق اڑانے اور نوجوانوں کو بگاڑنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی۔ سقراط نے زہر پینے سے پہلے اپنے مقدمے میں جو اخری تقریر کی تھی اسے مغربی فکر کی مرکزی دستاویزات میں شمار کیا جاتا ہے۔
افلاطون یونانی فلسفہ کی مرکزی شخصیت ہیں۔ ان کا کام عام طور پر ان کے استاد سقراط اور ان کے طلبہ کے درمیان مکالموں کی شکل میں ہے۔ افلاطون کے کام کا ایک عام انداز یہ تھا کہ پہلے کسی مسئلے کو اپنے طلبہ کے سامنے پیش کیا جائے، اور پھر اس پر منطقی دلائل کی بنیاد پر بحث کے ذریعے ایک نتیجے تک پہنچا جائے۔ افلاطون کا خیال تھا کہ کائنات کا ہر مسئلہ عقل کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے۔
افلاطون کے زمانے میں مذہب کی بنیاد غیر معقول خرافات پر تھی۔ یونانی اساطیر کے مرکز میں مخصوص طاقتوں اور کاموں کے ساتھ دیوتا اور دیویاں تھیں۔ زیوس تمام دیوتاؤں کا بادشاہ تھا جو موسم، قانون اور تقدیر کو کنٹرول کرتا تھا، ہیرا شادی کی دیوی تھی، ایفرو ڈائٹ محبت کی دیوی تھی، اور اپالو پیشن گوئی اور علم کا دیوتا تھا۔ پھر انسانی ہیرو اور راکشس تھے۔ دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے نذرانے پیش کیے جاتے تھے۔
افلاطون کے فلسفے کا مرکز ”فارمز“ یا شکلوں کا تصور ہے۔ افلاطون کے مطابق ہم جس مادی دنیا میں رہتے ہیں وہ قابل تغیر ہے اور ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے ناقابل اعتبار ہے۔ تاہم، اس دنیا کے پیچھے ایک مستقل اور قابل اعتماد دنیا ہے۔ افلاطون نے اس دنیا کو ”فارمز“ یا ”آئیڈیاز“ کی دنیا کا نام دیا۔ ان کا خیال تھا کہ شکلوں کی دنیا مثالی اشیاء سے آباد ہے اور جو کچھ ہم اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں وہ ان مثالی شکلوں کی نامکمل شکل ہے۔ شکلیں ایک تجریدی حالت میں اور ذہن سے آزاد ہیں۔ یہ افلاطون کا خدا کے وجود کا تصور ہے۔ جو اس دنیا سے باہر ایک غیر متبدل حقیقت ہے۔
افلاطون کے فلسفے کے مطابق سب انسانوں کی روحوں کا مسکن اس فارمز کی دنیا میں تھا جہاں انھوں نے تمام چیزوں کی فارمز سے آ گاہی حاصل کی۔ افلاطون کے مطابق انسان اس دنیا میں کوئی نئی چیز نہیں سیکھتا بلکہ اس کا سارا علم اس عالم ارواح یا فارمز کی دنیا میں آئیڈیل فارمز کی یاداشت پر مشتمل ہے۔ مثال کے طور پر ، فارمز کی دنیا میں ایک مثالی مثلث ہے۔ اس فارم یا آئیڈیا کی بنیاد پر ، ہم اس دنیا میں ایک مثلث بناتے ہیں، لیکن ہماری ڈرائنگ کبھی بھی کامل نہیں ہوگی۔ یہ فارمز کی دنیا کی مثلث کی شکل کی صرف ایک نامکمل شکل ہوگی۔ دوسری چیزوں جیسے گھوڑے، درخت اور گیند کے ساتھ ساتھ محبت، خوبصورتی اور انصاف جیسے خیالات کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ فارم کا اعلیٰ ترین درجہ اچھائی ہے۔
اس طرح افلاطون کے مطابق اس دنیا میں ہمارے وجود سے بہت پہلے، ہماری روحیں ”فارمز“ یا ”آئیڈیاز“ کی دنیا میں موجود تھیں، جہاں وہ تمام اشیاء کی مثالی شکلوں سے آشنا ہو گئیں۔ افلاطون اس کو حقیقی علم قرار دیتے ہیں۔ پھر روحیں اس عالم ارواح سے اتر کر جسم میں مقید ہو گئیں۔ اس دنیا میں، ہم اس ”آئیڈیاز“ کی دنیا میں موجود آئیڈیل شکلوں کی اپنی یادداشت کے ذریعے، اشیاء کو پہچانتے ہیں۔ افلاطون کے فلسفے میں روحیں لافانی ہیں۔
شکلوں کا علم حواس کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ شکلیں اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ ہم دنیا میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ان اشیاء کے سائے ہیں جو حقیقی دنیا میں موجود ہیں۔ اس طرح، افلاطون کے مطابق، جب ہم کچھ سیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو ہم صرف اس دنیا میں آنے سے پہلے کی شکلوں سے اپنی روح کی واقفیت کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ انسان کی زندگی کا حتمی مقصد ”فارمز“ یا ”آئیڈیاز“ کی دنیا کا تجربہ کرنے اور شکلوں کا حقیقی علم حاصل کرنے کے ذریعے روشن خیالی حاصل کرنا ہے۔ افلاطون کے ان خیالات میں بعد کی نسلوں کے صوفیانہ خیالات اور تجربات کی بازگشت نظر اتی ہے۔
شاید انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ با اثر فلسفی ارسطو تھے جو ایک طرف افلاطون کے طالب علم تھے اور دوسری طرف سکندر اعظم کے استاد۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے عقلی اور منطقی استدلال کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا خیال تھا کہ کائنات کو عقلی استدلال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ سائنس کی بنیاد بنی۔
حقیقت کے بارے میں ارسطو کا نظریہ افلاطون سے بالکل مختلف تھا۔ ایک آسمانی عالم ارواح پر یقین کرنے کے بجائے جہاں تمام تصورات اور شکلیں موجود ہیں، ارسطو نے اصرار کیا کہ علم کو عقلی اور منطقی نقطہ نظر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مشاہدے اور تجربات کی اہمیت پر زور دیا۔ ارسطو کے مطابق، خدا تک پہنچنے کا راستہ غور و فکر سے نہیں جیسا کہ افلاطون کا خیال تھا، بلکہ استدلال کے ذریعے ہے۔
ارسطو کا خیال تھا کہ اس کائنات میں جب کوئی چیز حرکت کرتی ہے تو اس حرکت کا سبب ایک موور (mover) ہوتا ہے۔ اس موور کی حرکت کا سبب ایک اور موور ہوتا ہے، حرکت کرنے والوں کا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور اخر کسی ایسی چیز پر ختم ہوتا ہے جو حرکت کا سبب تو بن سکتا ہے لیکن خود غیر متحرک رہتی ہے۔ یہ بنیادی محرک، تعریف کے لحاظ سے، ابدی ہے اور ارسطو اس غیر متحرک موور کو خدا کہتا ہے۔
ارسطو کے لیے، حرکت کا مطلب صرف دو نقطوں کے درمیان سفر کرنا نہیں تھا، اس کا مطلب طبعی حالات میں تبدیلی یا ارتقاء بھی ہے۔ مثلاً حرارت کے ذریعے برف کا پگھلنا۔ ارسطو کے مطابق unmoved mover یا خدا خود تو کسی بھی طرح سے حرکت نہیں کرتا لیکن دوسری اشیاء کی حرکت کا سبب بنتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کسی بھی قسم کی حرکت کے بغیر تحریک کیسے ہو سکتی ہے؟ ارسطو کے خدا کی اس خصوصیت کو واضح کرنے کے لیے ایک مشہور مثال دودھ کے پیالے کے ذریعے ہے جو بلی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں بلی حرکت کرتی ہے لیکن دودھ کا پیالہ حرکت نہیں کرتا۔
ارسطو کے اس نظریے نے، کہ حقیقت کو اس مادی دنیا میں عقلی نقطہ نظر کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے، ان کے بعد آنے والی تمام تہذیبوں پر بہت زیادہ اثر ڈالا۔ چنانچہ ایک طرف تو افلاطون کے فلسفے کی بنیاد ہر ذی روح کے عالم ارواح تک پہنچنے کی تمنا تھی، یہ فلسفہ انسانی تاریخ میں صوفی منش لوگوں کے لیے کافی پر کشش رہا، وہیں دوسری طرف ارسطو کا فلسفہ ایک سائنسی نقطہ نظر کی بنیاد بنا۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، افلاطون اور ارسطو کو انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ با اثر فلسفیوں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم جس شخص نے خدا کی تلاش میں اسلامی فکر کے عمل پر سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ ان دونوں کے پانچ صدیوں بعد آیا۔ ان کا نام پلوٹینس ( 204۔ 270 ) تھا۔ پلوٹنس اسکندریہ میں پیدا ہوئے، لیکن جب وہ 40 سال کے تھے تو روم چلے گئے اور وہاں فلسفے کا ایک اسکول قائم کیا۔ انھوں نے نیوپلاٹونزم Neoplatonism کے نام سے ایک فلسفہ تخلیق کیا جس نے جدت کو روایات کے ساتھ جوڑ دیا۔ نیوپلاٹونک فلسفہ کی طاقت اس بات میں پوشیدہ تھی کہ اس میں خدا کے بارے میں مختلف آرا کو سمویا جا سکتا تھا۔
قدیم روایات کے مطابق کائنات کو خدا نے اس طرح تخلیق کیا تھا کہ خدا نے بس سوچا، اور کائنات وجود میں آ گئی۔ نیوپلاٹونزم میں، حقیقت کا ظہور ایک منظم طریقے سے ”The One“ سے شروع ہونے والے مراحل میں ہوا۔ ہر مرحلے نے اگلے مرحلے کے ماخذ کے طور پر کام کیا جیسا کہ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
نیوپلاٹونزم کا ترجمہ نئی افلاطونیت کے طور پر کیا جا سکتا ہے، یعنی افلاطون کے فلسفے کی ایک بہتر شکل۔ تاہم، یہ تیسری صدی میں ابھرتے ہوئے فلسفے کی درست وضاحت نہیں ہے۔ نیوپلاٹونزم نے ایک ہزار سال پر محیط فلسفیانہ خیالات کی بنیاد پر سوچ کا ایک نیا انداز پیش کیا۔ پلوٹینس نے افلاطون اور ارسطو کے ساتھ ساتھ ان کے پیشرو فلسفیوں کے سائنسی اور فلسفیانہ نظریات کو بھی اکٹھا کیا اور کائنات کی تخلیق اور ارتقا کا ایک نیا طاقتور نظریہ پیش کیا، جس نے اسلام سمیت دوسرے مذاہب پر گہرے تاثرات چھوڑے۔
تو، نیوپلاٹونزم کی کیا خوبی ہے، کہ اس فلسفے نے آنے والی صدیوں میں انسان کی مذہبی سوچ کو بہت متاثر کیا؟
پلوٹینس کا نیوپلاٹونزم کا فلسفہ ایک درجہ بندی پر مبنی ہے جس میں سب سے اوپر وحدانیت کا تصور ہے، اس کے بعد شعور، روح، اور پھر آخر میں مادی دنیا ہے۔
نیوپلاٹونزم نے کائنات کو ایک ایسے تصور کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کی جسے ”The One“ کہا جاتا ہے۔ کوئی انسانی تصنیف اس تصور کو بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ تصور وجود سے ماورا ہے اور طاقت اور جگہ اور وقت میں لامحدود ہے۔ اس کی کوئی ابتدا اور انتہا نہیں ہے۔ انسانی ذہن اسے سمجھنے سے قاصر ہے، اور یہ نام اور تعریف سے باہر ہے۔ مگر یہ اس لحاظ سے سادہ ہے کہ اس کے کوئی حصے نہیں ہیں۔ اس کا کوئی وجود نہیں لیکن جو کچھ موجود ہے اس کا سرچشمہ ہے۔ یہ حقیقت کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ کائنات سمیت ہر چیز اس ذات کی پیروی کرتی ہے جسے خدا سمجھا جاتا ہے۔ نیوپلاٹونزم کے لیے چیلنج یہ تھا کہ وہ اس اعلی اور ارفع پہلی وجہ سے مادی کائنات کے ظہور کے مراحل کو سمجھے اور بیان کرے۔
The One کی سب سے بڑی سرگرمی Nous نامی کوئی چیز بنانا ہے۔ نوس کا تصور انتہائی مبہم اور سمجھنا مشکل ہے۔ نوس کی ایک سادہ تعریف خالص اور مطلق شعور یا عقل ہے۔ یہ وہ خاص فیکلٹی ہے جس کے ذریعے انسان سچائی اور اس سے زیادہ الہی نوعیت کی دوسری چیزوں کو محسوس کرتا ہے، جیسے کہ فضیلت۔ نوس کی تعریف بعض اوقات Intuition کے طور پر کی جاتی ہے، یعنی شعوری استدلال کی ضرورت کے بغیر، فوری طور پر کسی چیز کو سمجھنے کی صلاحیت۔
پلوٹینس کے نیوپلاٹونزم میں تیسری حقیقت روح ہے۔ جس طرح عقل ”ایک“ کی پیدا کردہ ہے اسی طرح روح عقل سے پیدا ہوتی ہے۔ روح شعور اور مادی دنیا کے درمیان پل بناتی ہے اور کائنات کے بنانے والے یا خالق کا کردار ادا کرتی ہے۔ پلوٹنس کے مطابق، ایک آفاقی روح ہے جس سے انفرادی روحیں الگ ہو جاتی ہیں۔ جب ایک انفرادی روح انسانی جسم میں آجاتی ہے تو اس کا رجحان عقل کی طرف اوپر کی طرف ہوتا ہے اور اس چیز کی طرف نیچے کا رجحان ہوتا ہے جسے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ موت کے بعد ، روح جسم سے الگ ہو جاتی ہے اور موت اور پیدائش کے چکر سے ذہین دنیا کی طرف اپنا سفر شروع کرتی ہے۔
ہم خدا کی تلاش کے اسلامی سفر میں نیوپلاٹونزم فلسفے کی بازگشت دیکھیں گے اس فلسفے کی بنیاد پر خدا کا ایسا تصور پیش کیا جائے گا جس میں وہی صفات ہوں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔

