جو پھول سجانے تھے مجھے تیری جبیں پر


وہ دیکھو اک لاش پڑی ہے وہ دیکھو اک لاش پڑی ہے جنگل کی آگ کی طرح یہ خبر گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لیتی سرد پڑتی سماعتوں میں انگارے کے مانند اترنے لگی۔ اس خبر کو پھیلاتی موبائل فونز کی بجتی گھنٹیاں دلوں سے دھڑکنوں کی ترتیب چھیننے لگیں۔ خوف و ہراس سے آنکھوں کے ڈھیلے پھیلائے لوگ مقتل کی جانب چلنے لگے۔ ہائے ہائے بالکل جوان تھا، ہائے یہ کس کا بیٹا ہے۔ ابھی تو اس کی داڑھی بھی پوری نہیں اتری۔ ہائے ہائے عین جوانی میں مارا گیا یہ کس نے کیا ہے کون ہے۔

آوازوں کا جم غفیر ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہونے لگا۔ زندگی سے بھرپور گالوں پر ابھی موت کا رنگ نہ چڑھا تھا۔ پھول سے چہرے کو مسلتی موت کے گلابی گلابی نشانات سکول یونیفارم کی سفیدی پر ابھی تازہ تھے۔ ہائے ہائے وائے وائے کے وا ویلوں کو چیرتی، اپنے چہرے اور سینے کو پیٹتی، گرتی پڑتی مامتا لاشے سے جا کے لپٹ گئی۔ ہائے ہائے میرے جواد کو کس نے مارا۔ نہیں نہیں میرے جواد کو کچھ نہیں ہو سکتا۔ گرد میں سراپا حیرت بنے کھڑے لوگوں کی پلکوں کے بندھن ٹوٹنے لگے۔

درداں ماری مامتا کے اٹھتے بین چیخ چیخ کر پکار رہے تھے جواد آنکھیں کھول دو جواد آنکھیں کھول دو۔ کسی نے کندھوں سے پکڑ کر سہارا دینے کی کوشش کی تو بیٹے کی لاش چھوڑ کر ہاتھ باندھ باندھ کر دہائیاں دیتی کہہ رہی تھی کوئی تو اٹھا دو میرے جواد کو۔ پھر اپنا آپ چھڑاتی لخت جگر کے نعشے سے لپٹتی بیٹے کے نین نقش ٹٹولتی بین سے بین جوڑتی کبھی اپنے چہرے تو کبھی سینے پہ برستی جواد جواد پکار رہی تھی۔ ہمدردی اور درد شناسی کے جذبات لوگوں کے رخساروں کو بھگو رہے تھے۔

اس دکھ بھرے ہنگامے میں ایک دم ایک سنجیدہ آواز ابھری ہٹو راستہ دو۔ پولیس کی وردی میں ملبوس قدم بڑھاتے قانون کو مجمعے نے راستہ دینے میں دیر نہ کی جو لاش اور مقتل کا جائزہ لیتا ابتدائی ضروری اقدامات کرنے میں مصروف ہو گیا۔ معلوم کرنے پر انکشاف ہوا کہ نواحی بستی جنجو شریف کا رہائشی جواد نویں جماعت کا طالب علم ہائر سیکنڈری اسکول گوہر والا بریک ٹائم میں اسکول سے نکلا۔ بریک بند ہونے پر جواد نہیں لوٹا بلکہ آنا فانا خبر پہنچی کہ آبادی سے دو کلو میٹر کی مسافت پر بر لب سڑک جواد کی لاش پڑی ہے۔

پاس کھڑی مسافر کوچ کا ڈرائیور جو پہلے موقع پر پہنچنے کا دعویدار تھا اور پولیس کو بھی کال اسی نے کی تھی کہہ رہا تھا کہ ہم جیسے ہی یہاں پہنچے تو لاش پڑی دیکھی۔ کوئی تین گھنٹے بعد فرانزک ڈیپارٹمنٹ کے سرد چہرے ایک ایک بیان اور ایک ایک نشان کا مشاہدہ بغور کرتے رہے بالآخر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا۔ یہاں کے مراحل میں گھنٹوں نہیں بلکہ شب بھر کا انتظار جس کا ایک ایک لمحہ اللہ جانے جواد کے بابا پر کیسے گزرا جسے بیٹے کی ناگہانی موت کی خبر اس وقت ملی تھی جب وہ جواد کے لیے نئے جوتے خرید کر دکان سے نکل رہا تھا۔

صبح ہوتے ہی جواد کا جنازہ جب گاؤں پہنچا تو رات بھر کی سسکتی سسکاریوں کے بندھن ٹوٹ گئے دھاڑوں پہ دھاڑیں مارتا باپ، ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کے کرلاتے یار، جنازے کے پائے پکڑ پکڑ کے بھیا بھیا پکارتی بہنیں، چوکھٹوں پہ سر ٹکراتی مائیں، ایک ہی سوال پوچھ رہی تھیں ہمارے جواد کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ جواد پورے گاؤں کے اذہان کو شدید رنج و غم میں مبتلا کرتا دنیائے فانی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہتا قبر کی گود میں جا سویا۔

پانچ دسمبر کے اس سانحے کی ایف آئی آر اقدام قتل منکیرہ پولیس اسٹیشن میں درج کر دی۔ لیکن جواد شاکر کی پراسرار موت کا خون کس کے ہاتھوں پر ہے تا حال ایک معمہ ہے۔ دسمبر کا پورا ماہ گزر گیا ہے۔ پورا علاقہ جہاں ناگہانی موت بھی فضا کو سوگوار کر دیتی ہے اور قتل جیسی گھناؤنی وارداتوں سے تو پورا تھل کانپ اٹھتا ہے۔ پرامن علاقے کے امن پسند لوگ شدید مخمصے میں ہیں کہ ابھی تک اس لرزہ خیز موت کے اسباب منظر عام پر کیوں نہیں لائے جا سکے۔

اور اس مامتا کی اجڑی کوکھ کے دکھ کو احاطہ تحریر میں سمیٹنا یقیناً محال ہے۔ مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران میں سے کوئی بھی سوگواران کے زخموں پر پھاہے رکھنے تک کی زحمت نہیں کر پایا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر حالات حادثہ کی نشاندہی کرتے جیسا کہ سڑک کنارے خون آلود لاش کا پایا جانا، کوچ پہ لگے خون کے قطرے جن کی حقیقت فرانزک رپورٹ آنے کے نتائج سی جڑی ہے اسی لیے کوچ کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور کی گرفتاری کو التوا میں رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دو ڈرائیورز میں سے ایک کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا تھا جبکہ ایک ابھی تک حوالات میں ہے۔ اگر تو یہ حادثہ ہے تو بھی غیر محتاط ڈرائیونگ پر سوالیہ نشان ہے اور یہ بھی تحقیق طلب بات ہے کہ دونوں ڈرائیورز میں سے کس کی نا اہلی ہے جبکہ کوچ میں سوار تیسرے آدمی کو شامل تفتیش نہ کیا جانا اپنی جگہ قانون کے لمبے ہاتھوں اور کھلی آنکھوں پر ایک سوال مرتسم کرتا ہے۔ فرانزک رپورٹ کی جانچ پڑتال کا دورانیہ دنوں سے حد امکان ایک ماہ ہے۔ لیکن یہ اس قسمت ماری مامتا کو کوئی کیسے سمجھائے جو ابھی تک ایک تخیل کے گرداب میں پھنسی غم کی تصویر بنی ہے کہ میرے لعل نے آخری چیخ میں مجھے پکارا تو ہو گا میں کیوں نہ پہنچ پائی۔ اور وہ باپ جو بیٹے کے ماتھے پہ سہرا سجانے کے خوابوں کی کرچیاں چنتا کہہ رہا ہے

جو پھول سجانا تھے مجھے تیری جبیں پر
بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے

Facebook Comments HS