قانون کشش کا ایک پہلو


Thoughts turn into words and words become actions that come with likly results.
یعنی خیالات الفاظ بن جاتے ہیں اور الفاظ اعمال جو اپنے مطابق نتائج لاتے ہیں۔
ادھر ارشاد ہے کہ بے شک عملوں کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
مگر ہم نے اس بات کو نہایت محدود کینوس پر پرکھا ہے۔
آئیے آج کینوس کو تھوڑا سا پھیلاتے ہیں۔

قانون کشش یا law of attraction ویسے تو ایک بہت ہی قدیم موضوع ہے اور اس پر بے شمار صوفیوں خاص طور پر مغربی صوفیوں نے لکھا ہے مگر 2006 میں رونڈا برن کے the secret نے اس کو متنازعہ ترین موضوعات میں سے ایک بنا دیا۔

بہت سوں نے اس پر تنقید اور توہم پرستی یا وہم پرستی کہا تو بہت سوں نے اس کی تائید بھی کی۔

مگر کافی زیادہ تحقیق کے بعد بالآخر اب جا کر اس کی افادیت نہ صرف مغرب بلکہ مشرق میں بھی (اگرچہ کم) تسلیم کی جانے لگی ہے۔

اسلام اس بار میں کیا کہتا ہے یہ میں آخر میں بتاؤں گی۔

2007 میں انڈین سائیکیٹری جرنیل میں چھپنے والی ایک تحقیق (جو دعا کے انسانی زندگی پر اثرات یا دعا اور خواہشات کی تکمیل کے متعلق تھی) کہتی ہے کہ ہم نے کچھ عورتوں پر تحقیق کی جن کو حال ہی میں حمل ٹھہرا تھا اور جنہیں نہیں ٹھہرا تھا۔ تو تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حاملہ عورتوں کی اکثریت ایسی خواتین پر مشتمل تھی جو حمل کے لیے دعا کرتی رہی تھیں اور جن کو حمل نہیں ٹھہرا تھا ان کی اکثریت وہ تھی جو دعا نہیں کر رہی تھیں۔ اب کوئی کہے گا کہ حمل کے ٹھہرنے یا نہ ٹھہرنے میں ارادہ، پلان، یا کوشش کا کا کردار ہو گا۔ تو تحقیق میں یہ بات واضح لکھی ہے کہ یہ تحقیق صرف ان جوڑوں پر کی گئی جو فیملی پلان کر رہے تھے۔

کشش کا قانون ایک سادہ مگر نہ بدلنے والا عالمگیر اصول ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں اس کے عملی استعمال کو سیکھ لیں تو ہم ایسی بے شمار چیزوں کو اپنی زندگیوں میں لا سکتے ہین جن پر ہم ارادتاً توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

بہت ہی سادہ لفظوں میں پاکیزہ اور مثبت خیالات یا نیک گمان مثبت انرجی اور نتائج کو کشش کرتے ہیں اور گندے، منفی خیالات اور بد گمانیاں نیگٹیو انرجی اور منفی نتائج کو ہماری زندگیوں میں کھینچ لاتے ہیں۔

لا آف اٹریکشن ایک بہت ہی وسیع موضوع ہے مگر میں اس کے صرف ایک چھوٹے سے کونے پر محدود رہنے کی کوشش کروں گی۔

مغربی صوفیوں کا خیال ہے کہ ہر انسان کے جسم سے مخصوص شعائیں نکلتی ہیں جن کو ہم اورا کہہ سکتے ہیں۔ نیک اور بد انسان کے اورا اور اس کے رنگوں میں فرق ہوتا ہے۔

ایک تحقیق یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال اور خیالات کے مطابق اپنے ارد گرد ان شعاعوں کا ایک ہالہ یا ماحول بنائے رکھتا ہے۔ نیک انسان کا اورا نرم جبکہ بد کا سخت ہوتا ہے دیوار کی طرح۔ اس سے نہ۔ کوئی لہر کائنات میں جاتی ہے اور نہ اندر آتی ہے۔

جیسے قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی یہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔

قرآن میں قرن، غلف (غلاف) غشاوہ (پردہ) سر (دیوار) سے مراد یہی ماحول ہے۔ ڈاکٹر کرنگٹن کا خیال ہے کہ اورا وہ مقناطیسی روشنی ہے جو انسانی جسم سے خارج ہوتی ہے۔ یہ یا تو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے یا پرے دھکیل دیتی ہے۔

اب آپ غور کیجیے کہ ایسا کئی بار ہوا ہو گا کہ کسی شخص کو دیکھ کر بے اختیار دل خوش ہو جائے یا اس سے بات کرنے کو دل کرے، یا خوشگوار محسوس ہو کسی سے بات کر کے۔ یا بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم کچھ لوگوں کو دیکھ کر ان سے دور بھاگتے ہیں یا گھبراہٹ ہوتی ہے۔ برا محسوس ہوتا ہے۔ یا ایسا محسوس ہوتا جیسے ہم لڑے ہوئے ہیں آپس ہیں۔ حالانکہ ہماری کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ یا ہم ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہوتے۔

اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔
اول یا تو نیک اور بد یا منفی یا اور مثبت اورا۔

دوئم ہمارے ایک دوسرے کے بارے میں یا کسی ایک فریق کے دوسرے کے بارے میں خیالات (اچھے ہوں گے تو اچھا محسوس ہو گا، اگر برے ہوں گے تو اگلے تک وہ انرجی پہنچ رہی ہوگی)

تو جناب یہ ہے لا آف اٹریکشن۔
اب ایک اور پہلو لیجیے جو کہ فلسفہ دعا اور عبادت کے متعلق ہے۔

ماہرین روحانیات کے مطابق حروف کے مخصوص رنگ ہیں۔ اور ان رنگوں کی اپنی انرجی اور انسانی طبیعت پر اثرات۔ جیسے الف کا رنگ سرخ، ب کا نیلا، د کا سبز، اور س کا زرد۔

ان ماہرین کا ماننا ہے کہ ان حروف اور ان کر مبنی الفاظ کے انسانی طبییت پر مخصوص اثرات ہوتے ہیں۔ کچھ کے استعمال سے بیماریاں دور بھاگتی ہیں۔ ان کے بقول اولیاء و انبیا اللہ اور اللہ کے کلام میں بہت زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ اور ان کو پڑھنے سے یہ مخصوص لہریں پیدا کوتی ہیں جن کی انرجی انسانی جسم و جسم لطیف پر مخصوص اثرات ڈالتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ الہامی صحائف کے ایک ایک لفظ کو خیرو برکت کا خزانہ مانا جاتا ہے۔ شاید تعویز کی طاقت کے نظریہ کے پیچھے بھی یہی راز ہو۔

پادری لیڈ بیٹر جسے یورپ کا بہت بڑا روحانی صوفی مانا جاتا ہے وہ کہتا ہے کہ ایک تعویز جس میں کچھ مخصوص الفاظ سے کوئی مقناطیسی شخصیت مقناطیسی طاقت بھر دے وہ بہت مفید ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی لکھتا کہ ہر لفظ اپنا ایک مخصوص اثر لیے ہوئے ہے۔ ہر لفظ ایک مخصوص لہر اور انرجی پیدا کرتا ہے اور مخصوص اثرات چھوڑتا ہے۔ اس کے مطابق اگر آپ لفظ نفرت کی وہ لہروں والی شکل دیکھ لین تو آپ کبھی یہ لفظ استعمال ہی نہ کریں۔

اب اپ خود اندازہ لگائیے کہ کچھ الفاظ جو کسی نے بولے ہوں وہ بیمار کو شفا دے دیں مرتے میں زندگی بھر دیں۔ اور کچھ ایسے اثرات لیے ہوں کہ ماحول میں آگ لگا دیں اگلے کی روح چھلنی کر دیں۔ جیسے کوئی گالی۔ کہنے کو لفظ ہے مگر ہمارے تن بدن میں زہر بھر دیتی ہے۔ آخر کیسے؟ اس کے اثرات، اس کی لہریں، اس کی منفی انرجی۔

یہ بھی مانا جاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز لہریں پیدا کرتی ہے اور لہریں چھوڑتی ہے۔ کائنات میں دو قسم کی انرجی ہے۔ منفی اور مثبت۔ پھر یہ انرجی ایک دوسرے کو اٹریکٹ بھی کر رہی ہے۔ اگر ہمارے خیالات ہمارے اعمال اچھے ہوں گے یا مثبت ہوں گے تو ہم مثبت انرجی کو اٹریکٹ کریں گے۔ بصورت دیگر اس کے الٹ ہو گا۔

کاسمک وائبریشنز اب ایک سائنسی حقیقت مانی جاتی ہیں۔ اس کائنات کی ہر چیز ایک مخصوص وائبریشن پیدا کرتی ہے جس سے اس امواج کے سمندر (کاسمک ورلڈ) میں ایک لہر اٹھتی ہے۔ ماہرین روح کا ماننا ہے کہ آواز تو دور ہمارے خیالات بھی یہ وائبریشنز اور ان سے لہریں پیدا کرتے ہیں۔ کائنات میں مخلتف روابط (دعا، ٹیلی پیتھی، چھٹی حس) کا ذریعہ یہی لہریں ہیں جو الفاظ و خیالات کے مخصوص اثرات لہروں اور وائبریشنز کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔

اب گداز میں ڈوبی آواز اور دعا یا کسی مخصوص نام کا ورد (ایموشنل انرجی) جو کاسمک ورلڈ میں زبردست لہریں پیدا کرتی ہے وہ متعلقہ طاقتوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، بے چین کرتی ہے نتیجتاً یا تو وہ خود ہماری مدد کو آتی ہیں یا کوئی تجویز کو حل ہمارے دماغ میں انھیں لہروں کے ذریعے القا کر دیتی ہیں۔

اللہ فرماتا ہے
اور کون ہے جو ہمارے سوا بے قرار کی پکار سنے (نمل 62 )

لیڈ بیٹر اپنی کتاب انویزیبل ہیلپرز میں دعا کو کاسمک ورلڈ مین قوت کس خزانہ قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ گداز میں ڈوبی آواز کا جواب فوراً آتا ہے نہیں تو ہم اس کائنات کو مردہ سمجھنے لگیں۔

خیالات کے جسم پر بھی اثرات ہوتے ہیں۔ اور الفاظ خیالات کی تصویریں ہیں۔ جیسے کسی کے آنے سے ہمیں آرام مل جائے۔ کسی کو سوچ کے خوشگوار محسوس ہو۔ ہماری داد یا الفاظ کسی کے چہرے کو روشن کر دیں چمکا دیں۔ ایک ترانہ لوگوں میں جوش بھر دے۔

الفاظ کی لہریں بھی دو طرح کی ہیں۔ ایک وہ جو خوف بے ہمتی سراسیمگی نفرت، منفیت پیدا کریں اور ایک وہ جو بے خوفی، سکون، پیار، مثبیت وغیرہ پیدا کرتی ہیں۔

ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم کسی کہ بارے میں برا سوچیں، برے گمان کریں، برے وہم پالیں، برے ارادے باندھیں اور اس تک ہماری اچھی انرجی جائے یا اس کو یہ محسوس نہ ہو۔ کاسمک وائبریشنز اور لہریں ویسے ہی اثرات پیدا کریں گی ماحول میں بھی اور ہماری زندگی میں بھی۔

اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم نیک گمان رکھیں، نیک ارادے باندھیں اچھا سوچیں اور ان خیالات سے مثبت انرجی نکل کر متعلقہ شخص تک نہ پہنچے یا ماحول پر اثر انداز ہو کر مثبت انرجی کو اٹریکٹ کر کے ہماری زندگیوں میں اس کے مثبت اثرات نہ لائے۔

اب آ جائیں قرآن کی طرف۔ اللہ فرماتا ہے اے ایمان والو کثرت گمان سے بچو بے شک بہت سے گمان گناہ ہوتے ہیں۔ عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے؟

اب یہاں واضح ہے کہ کہ بد گمانی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ لا آف اٹریکشن اور کاسمک وائبریشنز کے ذریعے منفی انرجی کو اٹریکٹ کر کے ویسے ہے نتائج لاتی ہے اور سائنس اس انرجی کو مانتی ہے۔

اللہ مزید فرماتا ہے

[الفتح : 6 ] ”جو اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانیاں رکھنے والے ہیں در اصل بری گردش انھیں پر پڑے گی، اللہ ان سے ناراض ہو اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے“ ۔

اللہ یہ بھی فرماتا ہے یہ مجھے ویسا ہی پائیں گے جیسا یہ گمان کریں گے میرے بارے

یعنی کہ اگر ہم اللہ سے نیک گمان کریں کہ وہ ہمارے ساتھ ہے، وہ ہماری مدد کرے گا، وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا، وہ مہربان ہے، وہ سننے والا ہے، وہ جاننے والا ہے، وہ عادل ہے، وہ اجر ضرور دیتا ہے اور اللہ پر توکل اللہ پر بھروسا رکھیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ہماری امید ہمارے نیک گمان کو غلط ثابت کرے۔ ہمارے گمان اپنے نتائج لے کر ہی لوٹتے ہیں شرط صرف یقین ہے۔ اور یہ کیونکر ہوتا ہے؟ جیسی وائبریشنز لہریں اور انرجی ہم چھوڑیں گے ویسے نتائج اس کاسمک امواج کے سمندر سے ہمارے پاس اٹریکٹ کو کر آئیں گے۔

آپ نے نا شکرے، اللہ سے بد ظن، اللہ سے اور نا امید لوگوں کو دیکھا ہے؟ ان کی زندگیاں ویسی ہی ہوتی ہیں۔ نا ان کی دعا قبول ہوتی ہے نہ ان تک کوئی مثبت نتیجہ آتا ہے۔ ان کے چہرے ان کے حال بتاتے ہیں۔ وہ جن کو دعا کرتے وقت یہ بھی یقین نہیں ہوتا کہ اللہ ہے بھی کہ نہیں۔ ان کا جسم جائے نماز پر ہوتا ہے اور خود کہیں اور۔ تو پھر امواج تاثیر پیدا کیسے ہوں گی ۔ لا آف اٹریکشن ان پر ان کے مطابق ہی اپلائی ہو گا۔

یہی حال انسانوں کا ہے۔ اپ کسی انسان کے بارے مین نیک گمان کرنا شروع کر دیجیے وہ بہت میلوں فاصلے پر ہو کر بھی آپ کو محسوس کرے گا۔ اس کے خیالات بھی ویسے ہی ہونا شروع ہو جائیں گے گے۔ اپ اس کے لیے نفرت پالیے وہ اس کے دل تک بھی جانا شروع کر دے گی۔

آپ دھوکا دیجیے وہ پلٹ کے آئے گا۔

اب یاد کریں الکیمسٹ کو۔ وہ کہتا ہے جب آپ کسی چیز کو پانے کی خواہش کرتے ہین تو کائنات اس کو آپ سے ملانے کی جستجو مین لگ جاتی ہے۔ یہ کیا تھا؟ یہی لا آف اٹریکشن۔

عامر خان کی مووی یاد کیجیے۔ دل پہ ہاتھ رکھ کے آل از ویل آل از ویل۔ یہ کیا تھا؟ لا آف اٹریکشن۔
اب یہ اللہ کے صفاتی ناموں کا ورد کیا ہے؟ لا آف اٹریکشن۔
یہ دعائیں کیا ہیں؟ لا آف اٹریکشن۔
یا بلا وجہ کسی سے لو دیکھ کر برا محسوس ہونا کیا ہے۔ لا آف اٹریکشن۔

آپ عملی زندگی میں مثبت سوچوں مثبت اعمال، اور نیک گمانی، نیکی جیسی اقدار کو جگہ دیجیے کائنات کی مثبت انرجی خود ہی مقناطیسی کشش سے آپ کی طرف کھنچی چلی آئے گی۔ موضوعی بہت وسیع ہے میں بہت لمبا کر چکی مگر ایک کونا بھی کور نہیں ہوا۔

Facebook Comments HS