جناح، رتی، دینا


بانی پاکستان قائد اعظم کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک خوبی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا تھا۔ ان کی نجی زندگی اور پبلک لائف میں بہت فرق تھا۔ قائد ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی کے بہت سے پہلو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ وہ ایک اچھے انسان، اچھے طالبعلم، کامیاب وکیل اور ایک اچھے قائد ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک اچھے بیٹے، ایک اچھے شوہر اور ایک اچھے باپ بھی تھے۔ بانی پاکستان کی پہلی شادی ان کی والدہ مٹھی بائی کی خواہش پر ان کی فرسٹ کزن ایمی بائی سے ہوئی۔

اپنی تعلیمی مصروفیات اور عمر کے ابتدائی حصے میں ہونے کے باوجود جناح نے اپنی والدہ کی خواہش کا احترام کیا۔ شادی کے کچھ ہی عرصہ کے بعد جناح اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گئے اور اسی دوران ایمی بائی ناگہانی طور پر چل بسیں۔ اس حادثے کا جناح کی زندگی پر بہت اثر ہوا۔ وہ ابھی نوجوان تھے لیکن اس حادثے کے پچیس برس بعد تک انھوں نے دوسری شادی نہ کی۔ قائد اعظم ایک کامیاب وکیل اور انتہائی قابل انسان تھے اور ہندوستان کے ہر طبقے کے لوگوں سے ان کے سماجی تعلقات تھے۔

محمد علی جناح اپنی دلآویز شخصیت، شاندار لباس، عمدہ گفتگو اور انگریزوں سے اچھے تعلقات کی وجہ سے ممبئی کے طبقہ امراء میں بہت مقبول تھے۔ پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے مشہور صنعت کار سر ڈنشا پٹیٹ ان کے خاص دوستوں میں سے تھے۔ دونوں کے گھر ساتھ ساتھ تھے اس لئے فارغ اوقات میں وہ اکثر ساتھ رہتے۔ پٹیٹ، ٹاٹا اور جناح فیملی کے آپس میں بالواسطہ اور بلا واسطہ کاروباری تعلقات بھی تھے کیونکہ جناح فیملی چمڑے اور کپڑے کی ایکسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ تھی اور یہ مصنوعات زیادہ تر ٹاٹا اور پٹیٹ فیملی کے کارخانوں میں تیار ہوتی تھیں۔

قائد اعظم کے دوست سر ڈنشا پٹیٹ کے ہاں سال 1900 میں ایک خوبصورت بچی پیدا ہوئی جس کا نام رتی بائی رکھا گیا۔ جناح اور ڈنشا پٹیٹ تقریباً ہم عمر تھے اور انھیں وہاں گھر کے ایک فرد کی حیثیت حاصل تھی سو، رتی بائی گھر میں مسٹر جناح مسٹر جناح کی آوازیں سنتی ہوئی بڑی ہوئیں۔ دیگر بہت سے لوگوں کی طرح رفتہ رفتہ رتی بائی بھی قائد اعظم کی گرویدہ ہوتی چلی گئیں اور دونوں کی عمروں میں چوبیس سال کا فرق ہونے کے باوجود یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔

رتی جناح محض سولہ سال کی تھیں جب انھوں نے جناح سے شادی کا اردہ ظاہر کیا۔ اپنی معمول کی ملاقاتوں میں ایک روز جناح نے اپنے دوست کے ساتھ بین المذاہب شادی کا موضوع چھیڑ دیا جو انڈیا میں مختلف مذاہب اور مکتبہ فکر کے لوگوں کے ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے مختلف محفلوں میں اکثر زیر بحث رہتا تھا۔ جناح کو اپنے دوست سے حوصلہ افزا جواب ملنے کی توقع تھی کیونکہ سر ڈنشا پٹیٹ کی بیوی بھی ہاف انڈین پارسی اور ہاف فرنچ کیتھولک تھیں۔

سر ڈنشا نے جب اس حوالے سے مثبت رد عمل دیا تو جناح نے اپنے دوست سے رتی بائی کا ہاتھ مانگ لیا۔ یہ سنتے ہی سرڈنشا پٹیٹ صدمے سے بے حال ہو گئے کیونکہ انھوں نے اپنے دوست اور بیٹی کے تعلقات کو کبھی اس زاویے سے دیکھنے کا تصور بھی نہ کیا تھا۔ غصے اور ناراضگی میں انھوں نے جناح کو گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ رتی کیونکہ ابھی بالغ نہ تھیں اس لئے ان کے والد وقتی طور پر اس شادی کو روکنے میں کامیاب رہے یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا۔

رتی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں اور وہ ہمیشہ اپنی بیٹی کی سالگرہ دھوم دھام سے مناتے تھے۔ اگرچہ رتی کے والدین جناح سے ان کی شادی کی ضد پر سخت ناراض تھے لیکن اس کے باوجود ممبئی میں اپنے فیملی ہوٹل تاج محل میں اکلوتی بیٹی کی سالگرہ منانے کا شاندار اہتمام کیا۔ ڈنر کے بعد سرڈنشا جب مدعو شدہ مہمانوں کا شکریہ ادا کر چکے تو رتی اپنی نشست سے کھڑی ہو گئیں اور اپنے والد کا شکریہ ادا کرنے کے بعد محفل میں پرسکون انداز میں یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ انھیں جناح نے شادی کا پروپوزل دیا ہے جسے وہ قبول کرتے ہوئے تمام مہمانوں سے نیک تمناؤں کی توقع رکھتی ہیں۔

رتی کی ضد کے باوجود انکے والدین نہ مانے لیکن اپنی اٹھارہویں سالگرہ کے کچھ ہی دنوں بعد رتی نے پارسی مذہب کو چھوڑ کر بیالیس سالہ جناح سے شادی کے لئے اسلام قبول کر لیا اور رتی جناح سے مریم جناح بن گئیں۔ انھوں نے اپنے خاندان سے مکمل ناتا توڑ لیا جس کے ردعمل میں ان کے والدین نے انھیں جائیداد سے عاق کر دیا۔ رتی ممبئی ساؤتھ کورٹ مالا بار میں جناح کے گھر میں منتقل ہو گئیں جو اگرچہ سر ڈنشا پٹیٹ کے گھر کے قرب و جوار میں واقع تھا لیکن چونکہ اب دونوں خاندانوں کے مابین اختلافات کی مضبوط دیوار کھڑی ہو چکی تھی اس لئے گھر ساتھ ہونے کے باوجود دلوں کے فاصلے بڑھ چکے تھے۔

شادی کے بعد جناح اور رتی کچھ عرصے کے لئے یورپ چلے گئے۔ انھیں ایک پر کشش اور مثالی جوڑا سمجھا جاتا تھا۔ رتی جو اب مریم بن چکیں تھیں جناح کو پیار سے ”جے“ کہہ کر مخاطب کرتیں۔ سر ڈنشا سماجی محفلوں میں اپنی بیٹی کی حرکت پر تاسف کا اظہار کرتے رہتے تھے اور 15 اگست 1919 میں اپنی نواسی دینا جناح کی پیدائش کے بعد بھی ان کا دل موم نہ ہوا۔ 1922 کے وسط کے بعد قائد اعظم کی سیاسی مصروفیات بڑھ گئیں اور وہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے علمبردار کے طور پر سامنے آئے۔

دن رات کی مسلسل مصروفیات کی وجہ سے وہ رتی کو ٹھیک طرح سے وقت نہ دے پائے۔ رتی شدید تنہائی کا شکار ہو گئیں لیکن وہ اپنے خاوند سے شدید محبت کرتی تھیں جس کا اظہار جناح کے نام ان کے آخری خط سے بھی ہوتا ہے جس کا ایک اقتباس کچھ یوں ہے : ”میرے ہمدم! آپ نے میرے لئے جو کچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حس نے میرے رویے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے۔

ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے ) جس کے قریب میں پہنچ چکی ہوں تو تب انسان اپنی زندگی کے خوش کن اور خوشگوار لمحات اور احساسات ہی یاد رکھتا ہے جبکہ باقی تمام باتیں اس کے لئے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ مجھے اس پھول کی طرح یاد رکھنا جسے چنا جاتا ہے نہ کہ اس پھول کی طرح جو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے۔ میرے ہمدم میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔میرے غم و اندوہ کی پیمائش میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیے۔“ ۔ ”۔ میرے ہمدم! میں آپ سے شدید محبت کرتی ہوں۔ مجھے آپ سے بے انتہا محبت ہے۔ اور اگر میں آپ سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید آپ کے ساتھ ہی رہتی۔ جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے آپ کو چاہا ہے کہ کم ہی مردوں کو اس طرح چاہا گیا ہو گا۔ میری آپ سے صرف یہی التجا ہے کہ ہماری محبت میں جس ٹریجڈی نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔“

جناح اپنی نجی زندگی کے پہلوؤں اور جذبات کو منظر عام پر نہیں لاتے تھے لیکن عوامی سطح پر انھیں صرف دو مرتبہ روتے ہوئے دیکھا گیا ایک مرتبہ 1929 میں اپنی محبوب بیوی کے جنازے پر اور دوسری مرتبہ اگست 1947 میں جب وہ ہندوستان سے پاکستان روانہ ہوتے وقت آخری بار اپنی بیوی کی قبر پر گئے۔ کینسر کے سبب رتی کی اچانک موت کے بعد جناح انھیں بہت یاد کرتے تھے۔

جی الانا اپنی کتاب ”قائد اعظم جناح: ایک قوم کی کہانی“ میں قائد اعظم کے ایک ملازم کی معرفت سے رقمطراز ہیں : ”کسی گھر کے ملازمین گھر کے مکینوں کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ رتی جناح کی وفات کو بارہ برس بیت چکے تھے لیکن قائد اب بھی اکثر آدھی رات کو ایک بڑا سا قدیم صندوق نکالنے کا حکم دیتے جس میں ان کی مرحومہ بیوی اور شادی شدہ بیٹی کے کپڑے اور دیگر چیزیں ہوتیں۔ آپ بڑے اشتیاق سے ان اشیاء کو کارپٹ پر بچھا کر دیر تک خاموش اور غمگین نگاہوں سے دیکھتے رہتے اور پھر ان کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ “

قائد کی مرحومہ بیٹی دینا واڈیا اپنی یادداشتوں میں کہتی ہیں۔ ”میرے والد جذبات کا اظہار کرنے والے شخص نہیں تھے لیکن وہ ایک محبت کرنے والے باپ تھے۔ انھوں نے آخری بار 1946 میں ہمیں اپنے بمبئی والے گھر میں فون کر کے ہمیں مدعو کیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ سرمئی ٹوپی جو وہ اکثر پہنتے تھے اور اب ان کے نام سے مشہور ہو گئی ہے، نسلی کو بہت بھائی۔ اسی لمحے انھوں نے وہ ٹوپی نسلی کے سر پر جما کر کہا“ یہ رکھ لو، میرے بچے! ”نسلی نے آج تک وہ ٹوپی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے۔

میرے والد کے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ وہ بہت مغرور تھے۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ وہ لوگوں سے زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے۔ وہ میری طرح اپنے آپ میں مگن رہنے والے شخص تھے۔ وہ اپنے موقف پر جم جاتے تھے۔ انھوں نے اپنی نجی یا عوامی زندگی میں کبھی خود کو یا دوسروں کو دھوکا نہیں دیا۔ جب لوگ ان کے بارے میں وہ باتیں کرتے ہیں جو سچی نہیں ہیں تو مجھے غصہ آ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ناقابل یقین باتیں کرتے ہیں جیسا کہ میرے والد سور کا گوشت کھاتے تھے حالانکہ مسلمان کبھی سور نہیں کھاتے۔

وہ میرے والد کی زندگی کے بعض گوشوں کے بارے میں اپنی ناقص معلومات کو جھوٹ سے پر کرتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں میں کئی عظیم راہنما پیدا ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی انھیں وہ نہیں دے سکا جو میرے والد نے دیا، یعنی مسلمانوں کی اپنی ریاست۔ پاکستان کے عوام میرے والد کے قرض دار رہیں گے۔

جناح نہ ہوتے تو پاکستان نہ ہوتا۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ دینا جناح ایک عظیم باپ کی عظیم بیٹی تھیں جنھوں نے اپنے والد کے تخلیق کیے ہوئے ملک سے کبھی کوئی خراج طلب نہیں کیا۔

وہ چاہتیں تو اپنے باپ کی حیثیت کے پیش نظر بہت سے سیاسی فوائد اٹھا سکتی تھیں اور نہرو کی بیٹی اندرا کی طرح اپنے باپ کی سیاسی وارث بن سکتی تھیں لیکن انھوں نے اصولی موقف اپناتے ہوئے کسی بھی طرح کی سیاسی مہم جوئی اور منافقت سے گریز کیا۔ قائد نے اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر دیا یہاں تک کہ ان کا گھر تک اجڑ گیا۔ محبوب بیوی اور بیٹی بھی دور ہو گئی، صحت بھی تباہ ہو گئی۔ آج ہمیں ایسے ہی قائد کی تلاش ہے جو اسی طرز کی قربانی دینے کا جذبہ رکھتا ہو۔

دیکھا جائے تو قائد اعظم، ان کی مرحوم اور محبوب بیوی اور بیٹی سب کی پاکستان کے لئے بے مثال قربانیاں ہیں۔ حکومت پاکستان کو سرکاری سطح پر ان لازوال قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قائد اعظم کی بیوی اور ان کی بیٹی کے جسد خاکی کو مزار قائد کراچی میں لاکر دفنانا یا ان کی علامتی آرام گاہیں بنانی چاہئیں اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ سرکاری عمارات کے نام بھی ان کے نام پر رکھنے چاہئیں۔ ہمارے یہ اقدام قائد کی روح کے لئے طمانیت کا باعث ہو گا اور دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان کے لوگ اپنے محسنوں سے پیار کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS