ایک جپسی کے خطوط اور اس کی دنیا
”اس زمانے میں خورشید قائم خانی جرنیلی سڑک کو تیاگ کر جپسی ٹریک پر اپنا قلمی سفر کر رہے تھے“ الہورایو بہن
”مٹھی میں دلت لوگوں کے بارے میں ایک لیکچر تھا، بقیہ دنوں بچپن کی یادیں تازہ کیں۔ میزبان کچھ بھیل اور کچھ میگھواڑ تھے۔ اب یہی اپنا طبقہ اور یہی اپنی ذات ہے“ خورشید قائم خانی
بالائی سطریں ”ایک جپسی کے خطوط“ نامی کتاب سے لی گئی ہیں۔ یہ وہ خطوط ہیں جو سندھ میں خانہ بدوشوں کے ساتھ تقریباً آدھی عمر گزارنے والے ملک کے مایا ناز لکھاری خورشید قائم خانی نے اپنے ایک ناقابل فراموش بھائی الہورایو بہن کے نام لکھے ہیں۔ الہورایو بہن کا تعلق سانگھڑ سے تھا اور پیشے کے اعتبار سے وہ تدریس و تعلیم سے وابستے رہے۔ دونوں کی دوستی تیس سے زیادہ سالوں کے عرصے پر محیط تھی۔ میجر خورشید قائم خانی بنگال کے خلاف ہونے والے آپریشن کے دوران اختلاف کر کے پاک فوج کی نوکری کو الوداع کر آئے تھے۔ اس نوکری کے بعد انہوں نے اپنے والد کیپٹن اسد کی ٹنڈو الہیار میں واقع زرعی زمین سنبھالی، وہاں ان کا من فقیری میں لگ گیا۔ انہوں نے باقی زندگی بھیلوں، میگھواڑوں، شکاریوں، کولہیوں، شیدیوں اور اس طرح کی دیگر جاتیوں کے ساتھ گزار دی۔
خورشید قائم خانی نے ان بھٹکتی نسلوں کی کہانیاں اسٹار نامی انگریزی روزنامہ میں لکھ کر اپنے صحافت کی شروعات کی۔ ان کی پہلی تحریر ٹنڈو الہیار میں واقع راما پیر کے مندر کے متعلق تھی جہاں شیڈولڈ کاسٹ مرد و خواتین اکٹھے حاضری دینے آتے ہیں جہاں ان کا سالانہ میلا بھی منعقد ہوتا ہے۔
ایک جپسی کے خطوط میں جہاں خورشید قائم خانی کی ذاتی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔ وہاں ان کے دوستوں کا تذکرہ بھی ہے۔ ان خطوط میں وہ ملک کے ممتاز تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی سے اختلافات کرتے ہیں اس اختلاف کی باتیں بھی شامل ہیں۔ عبداللہ حسین نے اداس نسلیں اور نادار لوگ کے لیے مواد یا موضوع کہاں سے چرایا ہے وہ الزام بھی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے بڑے ناموں محمد ابراہیم جویو، رسول بخش پلیجو اور شیخ ایاز کے بارے میں خورشید قائم خانی اور الہورایو بہن کے سوال و جوابات بھی ہیں۔ انگریزوں کے دور میں سندھ میں لڑی جانے والی حر گوریلا تحریک اور سندھ میں لسانی بنیادوں پر پیدا کروائے گئے سندھ مہاجر تضاد کا تذکرہ بھی ان خطوط میں ملتا ہے۔
جپسی کے خطوط زیادہ تر امام پاڑو ٹنڈو الہیار کے پوسٹل ایڈریس سے بھیجے گئے ہیں، کچھ ایسے خطوط بھی ہیں جن کا پتہ پی او باکس 629 اسکردو بلتستان کا لکھا ہوا ہے۔ خورشید گرمیوں کے دنوں میں سال کے تین سے چار ماہ اپنی رفیقہ خدیجہ گوہر کے پاس اسکردو میں گزارتے تھے۔
”میں اپنی روایتی خانہ بدوشی کر کے اور بصورت دیگر گرمیاں گزار کے و نیز غم گسار کے چار و ناچار واپس لوٹا ہوں۔ بس اب زندگی کو دھکا دیتے رہنے والی سی بات ہے۔ بس میرے پاس ایک ہی راہ کھلی نظر آتی ہے کے بھیلوں کے بیچ اپنی آشرم کے پناہ گاہ میں چھپوں اور یہی کرتا بھی ہوں۔ اور یا پھر موقع ملنے پر دور کہیں قراقرم کی غاروں میں پناہ ڈھونڈتا ہوں۔“
فروری دو ہزار میں خورشید نے اپنے دوست کو ایک خط میں لکھا ”ہم لوگ حسب معمول اپریل میں شاید ہندوستان جائیں (بنگلور) جہاں میں جوہری دھماکوں کے خلاف ایک مضمون پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ہمارے جانے یا نا جانے سے ظاہر ہے کوئی بڑا فرق تو نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں ملکوں کی سرکاروں کا رویہ امن کے بارے میں غیر انسانی حد تک گرا ہوا ہے۔“
اس بات کو ابھی کوئی بائیس سال گزر گئے ہیں مگر پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ خورشید دونوں پار امن چاہتے تھے اور امن قائم کروانے کے لیے ملک کے دیگر ساتھیوں سے مل کر انہوں نے کام بھی کیا۔
الہورایو صاحب کو لکھا ہے ”کل حیدرآباد میں پاک انڈیا فورم برائے امن کی پہلی کنوینشن منعقد ہوئی اس کی بنیاد ہم چند دوستوں نے 1995 میں رکھی تھی۔“
خورشید قائم خانی نے خدیجہ گوہر کی کتاب The Coming Season ’s Yield کا ترجمہ ”امیدوں کی فصل“ کے نام سے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کے عبداللہ حسین نے نادار لوگ لکھتے ہوئے خدیجہ گوہر کے امیدوں کی فصل کا چربہ اتارا ہے، سرقہ کیا ہے۔
بھٹکتی نسلیں، جوگی بستی، سپیاں اور پتھر جیسی کتابیں لکھنے والے خورشید قائم خانی کی تحریریں ان کی زندگی کی طرح غیر معمولی ہیں۔ انہوں نے راجپوت ہو کر جنگ سے نفرت کی اور زمیندار کا بیٹا ہو کر کسان بھیلوں، کولہیوں اور میگھواڑوں سے دوستیاں کی اور ان ہی کے ساتھ رہنے میں سکون پایا۔ وہ دنیا کو الٹی آنکھ سے دیکھنے والوں کے قبیلے سے تھے۔
دیبل پبلشرز حیدرآباد کی طرف سے ایک جپسی کے خطوط دسمبر 2023 میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مرتب نوجوان لکھاری کریم شیرازی ہیں۔


