ذمہ داریوں میں اضافہ


ایک دن میں سکول سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ ابا جی ہاتھ میں فیتا لیے میجر صاحب کے گھر کے ساتھ پڑی ہوئی خالی جگہ کی پیمائش کر رہے تھے۔ استفسار پر بتایا کہ تمہارے لیے یہاں پر ایک چھوٹا سا گھر بنوا کر دے رہا ہوں۔ مجھے ان کی اس بات سے شرمندگی ہوئی کیونکہ اس کا پس منظر مجھے معلوم تھا۔ ان دنوں تم گاؤں میں رہا کرتی تھیں اور میں ہفتے میں ایک بار چھٹی کا دن تمہارے پاس گاؤں میں گزارا کرتا تھا۔ کچھ دن تو ایسا ہی چلتا رہا۔

پھر میں نے ہفتہ میں دو بار گھر جانا شروع کر دیا اور کبھی کبھار آنے بہانے ہفتے میں تین بار بھی جانا ہو جاتا۔ میں عموماً مغرب کے بعد فارغ ہو کر گاؤں جایا کرتا تھا اور گاؤں پہنچتے ]پہنچتے اچھا خاصا اندھیرا ہو جایا کرتا۔ ایک دو بار ابا جی نے دبے دبے الفاظ میں اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ تمہیں گھر پہنچتے کافی اندھیرا ہو جاتا ہے اور رات کو راستے میں کسی بھی حادثے یا سانحے کا احتمال ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذرا جلدی شہر سے نکل پڑا کرو۔ لیکن میرا ٹائم ٹیبل کچھ ایسا تھا کہ یہ ممکن نہیں تھا۔ اس لیے اس مسئلے کا حل انہوں نے نکال لیا تھا۔ یہاں پر انہوں نے ہمارے لئے ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کرا دیا اور تمہیں بھی مختصر سے ساز و سامان سمیت یہاں پر منتقل کر دیا گیا۔

ہمارے ساتھ والے گھر میں میجر صاحب کی رہائش تھی۔ دونوں گھروں کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار تھی اور اس دیوار میں ایک عدد دروازہ بھی موجود تھا۔ جسے حسب ضرورت کھولا اور بند کیا جاتا تھا۔ دو کمروں پر مشتمل یہ چھوٹا سا گھروندہ میرے لیے امن و عافیت اور مسرت و شادمانی کا گہوارہ تھا۔ میں صبح سویرے تیار ہو کر ڈیوٹی پر چلا جایا کرتا اور بعد دوپہر جب فارغ ہو کر گھر آتا تو پورا گھر صاف ستھرا ہوتا۔ ہر چیز اپنی اپنی جگہ موجود ہوتی۔

اس گھر کے مکین ہم ہی دو افراد تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں رونق، طمانیت اور مسرت و شادمانی کا احساس ہوتا رہتا۔ ہماری شادی شدہ زندگی کی نئی شروعات بہت ہی خوبصورت اور دل کش تھیں۔ تمہاری موجودگی اور رویے نے میرے لیے گھر کو ایک مقناطیسی قوت کا مرکز و محور بنا دیا تھا۔ میری کوشش ہوتی کہ اپنے کاموں سے فراغت کے بعد فوراً ہی گھر پہنچوں۔ ہمیں یہاں منتقل ہوئے تقریباً دو ہفتے گزر چکے تھے۔ اس دوران میجر صاحب اور ان کے بیوی بچوں کے ساتھ بھی اکثر و بیشتر ملاقات رہتی۔

ایک دن انہوں نے ہمیں خصوصی طور پر بلایا۔ ہم ابھی بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ شروع ہو گئے۔ تمہیں کوئی تمیز ہے، رہنے کا کوئی سلیقہ ہوتا ہے، کوئی آداب ہوتے ہیں رہنے کے۔ اوئے تم کیا چیز ہو؛ تم کون لوگ ہو۔ اب ہم دونوں حیران بھی تھے اور پریشان بھی کہ انجانے میں کون سی اتنی بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں۔ جس نے انہیں اس قدر برہم کیا ہوا ہے۔ وہ بولے۔ تمہیں اتنے دن ہو گئے ہیں یہاں آئے ہوئے نہ کوئی لڑائی جھگڑا نہ شور شرابا۔

آخر ہم یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تم آپس میں کوئی دنگا فساد کوئی سر پھٹول، کوئی چھوٹی موٹی جنگ و جدل کچھ تو کرو۔ تاکہ ہمیں بھی موقع ملے اور ہم بھی سیانے بن کر تمہارے درمیان صلح کروانے آئیں۔ تمہاری تو کبھی اونچی بلکہ نیچی بھی آواز تک سنائی نہیں دیتی۔ دو برتن ایک دوسرے کے قریب قریب پڑے ہوں تو وہ بھی آپس میں کبھی کبھار کھڑک پڑتے ہیں۔ تم لوگ تو بے جان برتنوں سے بھی گئے گزرے ہو۔ اتنے دن ہو گئے ہیں کوئی کھڑکا دھڑکا نہیں کیا۔

اس کے بعد وہ تم سے مخاطب ہوئے۔ دیکھو تم ایک خوش قسمت لڑکی ہو کہ تمہیں میرے بھائی جیسا ایک خوبصورت، تعلیم یافتہ، خوش اخلاق اور باکردار خاوند نصیب ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا ہیرا ہے جسے اپنی قدرو قیمت کا خود بھی اندازہ نہیں ہے۔ یہ اپنے سارے کام نہایت خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا طرز عمل متاثرکن اور خوش اخلاقی کا مظہر ہوتا ہے۔ لیکن جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے بہت لاپروا اور غیر حاضر دماغ ہے۔

اس لیے اس کی ذاتی ضروریات اور حرکات و سکنات پر ہمیشہ گہری نظر رکھنا ہو گی۔ اسے اپنی نگرانی میں تیار کروا کر باہر بھیجنا ہے۔ اس بات کا خصوصی خیال رکھنا ہے کہ اس نے اپنا لباس مناسب انداز میں زیب تن کیا ہوا ہے۔ خاص طور پر شلوار سیدھی پہنی ہوئی ہے کیونکہ تمہاری آمد سے پہلے میں میجر صاحب کے ساتھ رہا کرتا تھا اور دو تین بار الٹی شلوار پہن کر باہر جانے کا مظاہرہ بھی کر چکا تھا۔ انہوں نے اس بات کی نشان دہی کر دی اور خاص طور پر تمہاری ڈیوٹی لگائی کہ گھر سے باہر جاتے وقت تم نے اس کا بڑا دھیان رکھنا ہے اور تم نے تمام عمر یہ ذمہ داری بڑے احسن طریقے سے نبھائی۔

جب میں نے صبح سویرے ڈیوٹی پر جانا ہوتا تو تم مجھے اپنی نگرانی میں خود تیار کرواتیں۔ کون سا سوٹ پہننا ہے اس کے ساتھ جوتا کون سا پہنا جائے گا۔ سردیوں میں سویٹر جرسی اور کوٹ کون سا پہنا جائے گا۔ تمہارا انتخاب ہوتا جب میں نہا دھو کر کپڑے وغیرہ تبدیل کر کے تیار ہو جاتا۔ تو میرے چاروں طرف گھوم کر بغور جائزہ لیتیں۔ اگر کپڑوں پر کہیں سلوٹیں وغیرہ نظر آ جاتیں تو انہیں اتروا کر استری کی مدد سے درست کرتیں اور آخر میں کپڑوں پر پرفیوم خود چھڑکا کرتیں۔

کیونکہ تمہارا خیال تھا کہ اپنی کنجوس طبیعت کے باعث اول تو میں پرفیوم کے استعمال سے ہی گریز کرتا ہوں اور اگر کبھی کبھار استعمال کر بھی لیتا ہوں تو بہت ہی کم کرتا ہوں۔ پھر میرے ساتھ بیرونی دروازے پر آ کر مجھے خدا حافظ کہتیں۔ جب میں باہر چلا جاتا تو پیچھے سے مجھے دیکھتی جاتیں اور تین دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر اللہ سوہنے کی امان میں دے کر گھر لوٹتیں۔ یہ معمول اس وقت کا تھا جب کہ ہمارا خاندان صرف دو افراد یعنی تم پر اور مجھ پر مشتمل تھا۔

اس کے بعد ماشاء اللہ بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ قدرت نے ہمیں دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے خوبصورت اور پیارے پیارے تحائف سے نوازا۔ ہر نئے بچے کی آمد کے ساتھ ہی ظاہر ہے کہ تمہاری مصروفیات بھی بڑھتی گئیں۔ لیکن تم نے میری روانگی کے سلسلہ میں اپنے معمول میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ اپنی بیماری کے ایام میں بھی جب مجھے گھر سے باہر جانا ہوتا تو تم مجھے آواز دے کر اپنے پاس بلاتیں اور اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد ہی باہر جانے کی اجازت دیا کرتیں۔

گویا کہ اس معمول کو تم آخر دم تک نبھاتی رہیں۔ ایک بار مجھے کہیں صبح بہت جلدی پہنچنا تھا۔ میں حسب معمول تیار ہو کر باہر نکلا تو ہلکی سی خنکی محسوس ہوئی۔ میں نے واپس آ کر واسکٹ اٹھا لی اور تیزی میں باہر چلتے چلتے ہی اسے پہن لیا لیکن الٹا پہنا۔ نشان دہی پر اسے سیدھا تو پہن لیا لیکن واپسی پر تم سے گلہ کیا کہ تم نے آج اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں کوتاہی کی ہے۔ میجر صاحب نے تمہیں تاکید بھی کی تھی کہ گھر سے باہر نکلتے وقت اسے کپڑے درست انداز میں پہنوانے ہیں اور آج تم اپنے فرائض کی بجا آوری میں غفلت کی مرتکب پائی گئی ہو۔ تم نے بغیر کسی حیل و حجت اور بحث مباحثے کے اپنی اس غلطی کا کھلے دل سے اعتراف کر لیا اور آئندہ اس معاملے میں محتاط رہنے کی یقین دہانی پر میں نے یہ کیس میجر صاحب کی عدالت میں لے جانے کی بجائے یہیں پر ہی رفع دفع کر دیا۔

Facebook Comments HS