قومی سیاست کا سیاسی ہیجان


ریاست اور سیاست دونوں ہی سنگین نوعیت کے بحران سے جڑے ہوئے ہیں۔ قومی سیاست درست سمت کی طرف پیش قدمی کی بجائے عملاً مسائل در مسائل کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست اور جمہوریت راستہ نکالنے کی بجائے بند گلی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سیاسی تقسیم محض ملک میں سیاسی جماعتوں یا سیاسی فریقین تک محدود نہیں بلکہ اس کا عملی مظاہرہ ہم ریاست کے مختلف اداروں سمیت سول سوسائٹی اور میڈیا کی سطح پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس سارے منظرنامہ کی رسہ کشی میں آئین اور قانون یا سیاسی و جمہوری اقدار پیچھے رہ گئے ہیں اور نظام کو افراد اور چند اداروں کی خواہش پر چلایا جا رہا ہے۔

سیاست اور سیاست سے جڑے فریقین قومی مسائل کے حل سے زیادہ اقتدار کے کھیل کی جنگ کا عملی حصہ بن گئے ہیں۔ اقتدار کے اس کھیل کا کوئی اصول نہیں بلکہ واحد اصول جائز و ناجائز بنیادوں پر اقتدار کی جنگ میں خود کو ایک بڑے حصہ دار کے طور پر منوانا ہے۔ اس لیے جو بھی سیاسی یا غیر سیاسی افراد یا اداروں کی حکمت عملی میں بات واضح ہوتی ہے کہ اقتدار کی اس جنگ ہر کوئی ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

قومی یا عام انتخابات کا عمل خود کئی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی پنڈتوں کے بقول انتخابات کے بعد بھی جو نئی حکومت آئے گی اسے انتخابات کے متنازعہ ہونے کی بحث کے ساتھ ساتھ کئی اور سیاسی، معاشی، سیکورٹی سطح کے سنگین مسائل سے نمٹنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انتخابات کا مجموعی کھیل روزانہ کی بنیادوں پر نئے نئے سیاسی تضادات کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم انتخابات کو بنیاد بنا کر اپنی مرضی اور منشا کے مطابق سیاسی مہم جوئی یا سیاسی ایڈونچرز کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔

اس بات سے کسی کو بھی کوئی ڈر اور خوف نہیں یا ان کو حالات کی سنگینی کا احساس نہیں کہ ہمارا یہ سیاسی مہم جوئی کا کھیل سیاسی، جمہوری اور ریاستی نظام کو کیسے خرابی کی طرف دھکیلے گا اور ہماری ترقی کا عمل آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف جائے گا۔ سیاسی قوتوں اور اسٹیبلیشمنٹ اور الیکشن کمیشن یا عدلیہ یا سرکاری بیوروکریسی کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول ظاہر کرتا ہے کہ حالات ریاستی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لیے اس بحران کا حل اجتماعی سطح کی دانش سے نکالنا ہو گا۔ ان مسائل کا حل ٹکراؤ یا سیاسی دشمنی پر مبنی حکمت عملی سے ممکن نہیں اور نہ ہی یہ جنگ سیاسی مخالفین کو ختم کرنے یا ان کو دیوار سے لگانے یا سیاسی عمل سے باہر نکالنے سے جیتی جا سکے گی۔

سیاسی محاذ پر سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ نگاروں کو دیکھیں تو ان کی طرف سے بھی ان حالات میں درستگی کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے ٹکراؤ کی عملی تقسیم کو اور زیادہ گہرا کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر کوئی اس بیانیہ پر آنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی اپنی گفتگو یا تحریروں سے دباؤ ڈالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے کہ اس مہم جوئی کے کھیل کو بند کیا جائے اور سیاست کو سیاست کے ساتھ یا سیاسی حکمت عملیوں کو ہی بنیاد بنا کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہی دانش مندی ہوگی۔

بعض تجزیہ کار تو حالات کی درستگی کی بجائے اس میں مزید بگاڑ رہے ہیں یا کسی کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کا راستہ روکیں وگرنہ پی ٹی آئی کی جیت ان کو آگے جاکر ان کے خلاف انتقام کی سیاست کو جنم دے گی اور بدلے کی سیاست آگے بڑھے گی۔ اس بات سے قطع نظر کہ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے اور کون مقبولیت رکھتا ہے یا ووٹرز میں پاپولر ہے ہم بڑی طاقتوں کو یہ مشورہ دے رہے ہیں یا ان کا پیغام پہنچا رہے ہیں کہ ایک سیاسی طاقت کے لیے راستے بند کیے جائیں۔

یہ کھیل نیا نہیں اور نہ ہی پہلی دفعہ ہو رہا ہے۔ قومی سیاست اسی طرز کے کھیلوں کا وسیع تجربہ رکھتی ہے اور اسی کھیل کو بنیاد بنا کر اس میں نئے سیاسی رنگ اور نئے سیاسی کردار تشکیل دیے جاتے ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ ہم اپنے نظام میں موجود خرابیوں کی اصلاح کے لیے تیار نہیں اور چاہتے ہیں کہ اسی طرز کی بنیاد پر جاری روایتی بنیاد پر چلنے والا سیاسی نظام کو ایسے ہی چلایا جاتا رہے۔

لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ یہ کھیل جو کئی دہائیوں سے قومی سیاست یا ریاست میں چل رہا ہے اپنی اہمیت، افادیت کھو چکا ہے اور مسلسل اس کھیل کی ساکھ منفی بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے یہ نقطہ سمجھنا ہو گا کہ اس منفی کھیل کی بنیاد پر ہم کچھ اور عرصہ کے لیے آگے چل سکتے ہیں۔ لیکن اب یہ کھیل آج نہیں تو کل ضرور ٹوٹے گا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارا مجموعی طور پر نظام برے طریقے بے نقاب ہوا ہے اور لوگوں کو کو اندازہ ہوا ہے کہ ہم کہاں تک نیچے چلے گئے ہیں۔

اس لیے اس بیمار نظام کو جتنی جلدی ہم سمجھ سکیں اور اس میں جو اصلاحات ہمارے لیے ناگزیر ہو گئی ہیں اس کو ایمرجنسی بنیادوں پر اختیار کر کے یا کسی سیاسی سمجھوتوں کے بغیر کچھ نہیں ہو سکے گا۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ لوگ نظام سے نالاں ہوتے جا رہے ہیں اور اس کو روکنے کے لیے یا اس نظام پر لوگوں کی ملکیت کے تصور کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں واقعی ہر محاذ پر غیر معمولی سطح کے اقدامات کرنے ہوں گے ۔

ہیجانی کیفیت جو آج موجود ہے اس میں جہاں لوگوں کے معاشی سطح پر موجود سنگین مسائل ہیں ان میں بے روزگاری، روزگار کے کم مواقع، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بنیادی حقوق سے جڑے معاملات پر عدم رسائی، بجلی، گیس، پٹرول یا ڈیزل سمیت ادویات یا کھانے پینے کی چیزوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے امور شامل ہیں۔ گورننس یا اچھی حکمرانی کا یہ بحران لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں کم اور مشکلات کو زیادہ پیدا کر رہا ہے۔ لوگوں میں یہ لگنا کہ سیاست، جمہوریت اور انتخابات کا عمل ہماری مشکلات کو کم نہیں بلکہ زیادہ کر رہا ہے وہ زیادہ تشویش کا پہلو ہے۔

یہ عمل سیاست اور جمہوریت کے مفاد میں نہیں اور نہ ہی اس سے ہمارا معاشی بحران حل ہو سکے گا۔ کیونکہ عالمی اور قومی سطح پر جو بھی ادارے ہیں جو معاشی حالات کا جائزہ لے کر مستقبل کی تصویر کشی کرتے ہیں ان کے بقول بھی ہمارے حالات 2024 میں بھی بہت زیادہ مثبت تبدیلی کے ساتھ سامنے نہیں آ سکیں گے۔ یہ اس لیے ہمارے چیلنجز بڑھ رہے ہیں اور ہمیں لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہو گا کہ ہم بہتری کی طرف جائیں گے۔ کیونکہ نوجوان نسل میں جو مایوسی ہے وہ بڑھ رہی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ سب نوجوانوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ انہوں نے ملک کو چھوڑنا ہے۔ ہمارے مسائل کا حل نئی نسل سمیت مختلف فریقوں کو گالی دینے، ان کو برا بھلا کہنے یا کسی کی حب الوطنی کو چیلنج کرنے یا ان میں ہر سطح پر غداری کے لفظوں سے ممکن نہیں۔ ہمیں لوگوں کو جوڑنا ہے اور ان کے ساتھ سیاسی بنیاد پر حل بھی تلاش کرنا ہے۔

بظاہر ایسے لگتا ہے کہ ریاست، حکومت اور اداروں کی سطح پر جو حالات ہیں اس پر پریشانی یقینی ہوگی۔ لیکن اس پریشانی سے نکلنے کے لیے ہمیں جو حکمت عملی یا سنجیدگی یا سخت گیر فیصلے کرنے ہیں یا جو کڑوی گولیاں کھانی ہیں اس کے لیے ہم تیار نہیں۔ قومی سیاست یا ریاست ٹھوس منصوبہ بندی کی بجائے ردعمل کی سیاست سے جڑی ہوئی ہے اور فیصلے بھی لمبی مدت کی بجائے وقتی بنیادوں پر کر کے حالات سے جان بچانے کی ہی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایسے لگتا ہے حالات سے نمٹنے کے لیے ہمارے فیصلوں میں یا اقدامات میں جو گہرائی نظر آنی چاہیے اس کا ہمیں ہر سطح پر فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ ریاست اور سیاست میں ٹکراؤ کا ماحول ہے اور اس طرز کے ٹکراؤ کے ماحول میں تعمیر اور ترقی کا کام پیچھے رہ گیا ہے۔ اس لیے ہمارے ریاستی، حکومتی ادارے، پالیسی ساز سمیت اہل سیاست خود کو بھی اس ہیجانی کیفیت سے باہر نکالیں اور قوم کو بھی یہ پیغام دیں کہ ریاست ان کے بنیادی حقوق کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ جو ہم نے مختلف طرز کے مضبوط مافیاز کے گٹھ جوڑ سیاسی، انتظامی بنیادوں پر کھڑے کر دیے ہیں ان کو کمزور کرنا، آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا، سیاسی اور جمہوری اقدار کا فروغ اور عام آدمی کی ترقی کو بنیاد بنا کر ہی ہم مستحکم پاکستان کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں۔ اگر ہر فریق اپنے اپنے آئینی اور قانونی یا سیاسی دائرہ کار میں رہ کر کام کرے اور کسی کے کام میں مداخلت نہ کی جائے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments