بلاول بھٹو لاہور سے جیت بھی سکتے ہیں


پاکستان کی سیاست نے مولانا فضل الرحمٰن اور آصف علی زرداری، دو ایسے سیاست دان پیدا کیے ہیں جنہیں کوئی مات نہیں دے سکتا۔ کس وقت کون سی چال چلنی ہے، کون سا مہرہ پھینکنا ہے اور کس سے کیا بیان دلوانا ہے، یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان دونوں کی ایسی ایسی باتیں ہیں جو پاکستانی سیاست کا روزمرہ بن چکی ہیں۔ ان کی کئی چالیں اس ملک کی مشکل ترین سیاست میں قابل تقلید ہیں۔

پاکستان میں مذہبی پارٹیاں ناکام ہو چکی ہیں لیکن مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی پارٹی کو سیاست سے نکالا نہیں جا سکتا۔ یہ خالصتاً ان کی ذاتی صلاحیت کی بنیاد پر ہے۔ جونہی مولانا نے دیکھا کہ وہ تحریک طالبان کی ہٹ لسٹ پر ہیں انہوں نے کابل سے تعلقات استوار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اب وہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جو کھلم کھلا الیکشن ملتوی کرنے کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس کام کے لیے کچھ وقت چاہیے۔

مولانا اس وقت ہمارا موضوع نہیں اس لیے اس ایک مثال کے بعد اصل بات کی طرف آتے ہیں۔

’ایک زرداری سب پر بھاری‘ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ان کے دور حکومت میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں ’سٹیٹ وتھ ان دی سٹیٹ‘ کہہ کر سیاست کے فرعونوں کو چیلنج کیا تھا اور یہی پاکستان کے مستقبل کی سیاست ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے کے ولیمے میں آصف زرداری اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ صادق سنجرانی کے انتخاب اور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں انہیں خفیہ قوتوں کی مدد حاصل رہی تھی۔ ان خفیہ قوتوں کو بے نقاب کرتے ہوئے محترم زرداری نے اگلے الیکشن کا ایک منظر نامہ دکھایا اور ان کو سیاست کا گر بھی ساتھ ہی سکھا دیا۔

بولے، ”سیاست میں سوچا کر ، ہمیشہ ان کی بادشاہی نہیں رہتی، ہماری رہتی ہے۔“ یہ وہی قول ہے جس کی پاداش میں انہیں کچھ سال پہلے دوبئی بدر ہونا پڑا تھا۔

”ہمیں تنگ مت کرو، ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ آپ نے تین سال، ہم نے ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔“
اٹھارہ ماہ کی جلاوطنی سے واپسی پر وہی جملہ دہرا کی اپنی بات کی اہمیت پھر جتلا دی تھی۔
”میں لوٹ آیا ہوں، ہمارا جینا مرنا یہیں ہے۔“

دسمبر 2011 ء کی سرد راتوں میں صدر آصف علی زرداری ایوان صدر کے پچھلے حصے میں واقع اپنے بیڈ روم میں بندوق ہاتھ میں تھام کر ساری ساری رات کسی کا انتظار کیا کرتے تھے اور کہتے تھے، ”جس جس کو مجھے ایوان صدر سے نکالنے کا شوق ہے وہ جمہوری اور آئینی طریقہ اختیار کرے اور اگر ایسا کوئی طریقہ قابل عمل نہیں تو پھر واحد طریقہ موت ہے۔ میں اللہ سے تو ڈرتا ہوں موت سے نہیں ڈرتا۔ میں سرنڈر نہیں کروں گا، استعفیٰ بھی نہیں دوں گا، گرفتاری بھی نہیں دوں گا، میں لڑوں گا، گولی کا جواب گولی سے دوں گا۔“

پاکستانی سیاست اس نہج تک پہنچ چکی ہے جہاں کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ جوابی گولی کا ذکر سن کر گولی چلا سکے۔

ان کے جملے ہماری سیاست کی بنیاد بن چکے ہیں۔

زرداری پہلے سیاست دان ہیں جن کی باتوں نے ان کی صدارت بچا لی اور پھر وہی جملے باقی سیاست دانوں کی لیے مثال بن گئے۔ نواز شریف نے ان پر عمل کر کے عمران طاہر القادری کے ایوان وزیراعظم پر حملے سے خود کو بچایا تھا۔

2014 کے دھرنوں کے دوران جب ظہیر السلام نے آدھی رات کو نواز شریف کو پیغام پہنچایا کہ استعفیٰ دے دو انہوں نے جواب دیا تھا،

”استعفیٰ نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو۔“

اسی طریقے پر چلتے ہوئے عمران خان ایوان وزیراعظم میں ڈٹے رہے گرچہ یہ ان کی حماقت تھی۔ وہ زرداری و نواز شریف کے برعکس غیر جمہوری طریقے پر عمل پیرا تھے کیونکہ وہ ایوان کی حمایت کھو چکے تھے۔

زرداری پاکستانی سیاست کے سب سے بڑے گرو ہیں۔ 2014 کے دھرنے میں نواز شریف گھبرائے ہوئے تھے۔ زرداری نے مشورہ دیا کہ حملہ آوروں کا مقابلہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر کرو۔ یہ وہی موقع تھا جب ان کے اس وقت کے ماوتھ پیس اعتزاز احسن نے چوہدری نثار احمد پر چڑھائی کر کے اپنا حساب برابر کیا اور وہ سوائے تلملانے کے کچھ نہ کر سکے تھے۔ کاش چوہدری نثار اس وقت چٹکی بھر عقل زرداری صاحب سے ادھار لے لیتے کیونکہ آج تک انہوں نے اپنے کسی اتحادی کو ایسا موقع نہیں دیا کہ ان کے کسی لیڈر کے خلاف کوئی ایسی باتیں کر سکے۔ انہیں چاہیے تھا کہ اپنے اور اپنے خاندان پر لگنے والے الزامات کا جواب دے کر اپنی عزت بچا لیتے چاہے پارٹی سے مستعفی ہونا پڑتا۔ اس وقت یہ اتحاد کسی کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا تھا، بالآخر سب انہیں منا لیتے۔

ایک وقت تھا جب نواز شریف پیپلز پارٹی کی سیاست کو ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ پنجاب سے پی پی پی کا تقریباً صفایا ہو چکا تھا۔ نواز شریف کے ووٹ بینک کے حصے بخرے کرنے کے لیے آصف زرداری نے عمران خان کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ اکتوبر 2011 کے جلسے میں پنجاب کے جیالے کارکنان کو ہدایت تھی کہ وہ اس میں ضرور شرکت کریں۔

اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار عمران خان کو ایسی کسی مدد کی کوئی پرواہ یا ضرورت نہیں تھی۔ اگلے دس سال میں پی پی پی وسطی و شمالی پنجاب سے سوائے راجہ اشرف پرویز کے تمام سیٹیں کھو چکی تھی۔

اب زرداری پنجاب میں دوبارہ پاؤں جمانے کے لیے نئی چالیں چل رہے ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے الیکشن مہم چلانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ان کا ووٹر نئے آشیانے ڈھونڈے گا۔ زرداری کی تحریک انصاف کے ان بے لگام ووٹوں پر نظر ہے۔ بیانات میں اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔

’ دشمن کا دشمن، دوست ہوتا ہے۔ ‘ بلاول کو لاہور میں لانچ کرنا اسے مقولے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔ بلاول اور زرداری پی ٹی آئی کے ووٹرز کو مخاطب کر کے پی ٹی آئی والا ہی نعرہ لگا رہے ہیں کہ سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنا چاہیے۔ وہ ہر موقع پر یہی کہتے ہیں کہ عمران خاں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اب جب کہ پی ٹی آئی کے بہت سے امیدوار نا اہل ہو جائیں گے تو ان کا ووٹر نا امید ہو کر گھر بیٹھنے کی بجائے کسی دوسرے طاقتور امیدوار کو سپورٹ کرنا زیادہ مناسب سمجھے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک انصاف آگے چل کر کسی وقت بلاول کی علانیہ یا خفیہ حمایت شروع کر دے جیسے زرداری نے ان کی کی تھی۔

زرداری اب اس درخت کا پھل کھانا چاہتے ہیں جو انہوں نے 2011 میں لگایا تھا۔

بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں گھر گھر جاکر جیالوں کو متحرک کیا تھا اگر ویسی ہی کمپین لاہور میں چلا لی تو کامیابی ہو بھی سکتی ہے۔ پاکستان کی سیاست محبت کی بجائے نفرت پر زیادہ چلتی ہے۔ نون لیگ کی نفرت بلاول کی چاہت کا رنگ دھار سکتی ہے۔ وہ جوان ہے، نا امید محمل نشیں لیلائیں اس کی طرف راغب ہو سکتی ہیں۔ ساری ناقہ بے مہار اس کے دام زود رس میں الجھ کر شتر کینہ ور میں بدل سکتی ہیں۔ نون لیگ ان حالات میں بلاول بھٹو سے خوف زدہ ہے۔ اس حلقے سے لیگی امیدوار اور کارکن بلاول کی لاہور آمد کا سن کر بوکھلائے ہوئے پھر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS