آپ کے پاس جدید دنیا کو دینے کے لیے کیا ہے


روز اول سے ہم پر مستبد اور سخت گیر حاکم مسلط رہے ہیں۔ بلکہ ہم کو عادت ایسے مطلق العنان حکمرانوں کی رہی ہے جو ہمیں ڈنڈا اور تلوار لے کر قابو کریں۔

آئیے دیکھتے ہیں ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد انگریز ہمارے مقدس علمی ورثے کے بارے میں کیا سوچتا تھا۔ وزیر تعلیم ہند لارڈ میکالے نے ہندوستان کا تعلیمی نصاب بنانے کے لئے ایک رپورٹ تیار کی اس موقع پر موصوف نے کہا کہ تمام مشرقی علوم کی حیثیت ایک الماری مغربی علوم کے برابر نہیں۔

بظاہر دیکھا جائے تو یہ مشرقی علوم کی بہت بڑی توہین تھی لیکن ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ آپ کے پاس جدید دنیا کو دینے کے لئے کیا ہے۔ آپ نے تو علوم کے پھیلاؤ کو ہر ممکنہ طریقہ سے روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسی مقصد کے لئے آپ نے صدیوں تک پریس کے استعمال پر پابندی لگائے رکھی۔ آپ کو علم کے پھیلنے اور عام ہونے سے خوف محسوس ہوتا تھا۔ مسلمان حکمرانوں کو امت کو جہالت کے اندھیروں میں رکھنے میں فائدہ نظر آتا تھا۔

ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو کمزور ہوتے ہیں۔ اور جنہوں نے اقتدار ناجائز طریقے سے حاصل کیا ہو۔ اور جو چاہتے ہوں کہ سٹیٹس کو برقرار رہے۔ تاکہ ان کی عیاشیاں جاری رہیں۔ جاہل لوگوں کی سب سے بڑی خوبی کہیں یا خامی کہ وہ سوال کرنے کو گناہ سمجھتے ہوئے خاموش رہ کر مظالم کو اپنا نصیب اور مقدر مان کر برداشت کرتے ہیں۔ مسلم دنیا میں عربوں کے زوال کے بعد اقتدار تین ترک النسل اقوام کے حصہ میں آیا۔

مغلوں نے ہندوستان میں اقتدار حاصل کیا۔ پارس میں صفوی ترک اقتدار میں آئے۔ اسی طرح عثمانیوں کو اناطولیہ میں عروج حاصل ہوا۔ تین عظیم ترک سلطنتوں نے صدیوں تک مسلم دنیا پر راج کیا ان سب کی بنیادی اور ابتدائی خاصیت کشور کشائی تھی۔ یہ لڑاکا قومیں تلوار چلاتے ہوئے اپنے کوہ و دمن سے برآمد ہو کر مسلم علاقوں پر قابض ہوئیں۔ اب ان مغلوں صفویوں اور عثمانیوں کا کوئی علمی کارنامہ بتائیں۔ مغلوں نے ہندوستان میں شاندار عمارتیں بنائیں۔ اور عہد مغلیہ کی شان و شوکت کا اظہار کیا۔ کنیزوں کے حرم آباد کیے ۔ مخالفین کے سر کاٹے۔ اور تو اور اپنے سگے بھائیوں کو بھی نہیں بخشا۔ ان کے سر بھی قلم کیے ۔ تاکہ ان کی رٹ کو چیلنج نہ کریں پارسائی کے دعوے الگ کیے ۔

اورنگزیب کے درباریوں نے اس کو محی الدین کا خطاب دیا یعنی دین کو زندہ کرنے والا۔ اس کے بارہ میں لکھا کہ اس نے اسلام کے مخالفین کو کچلا۔ برادر کشی کو اسی سلسلے کی کڑی مانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ درویش صفت انسان تھا ٹوپیاں سی کر روزی روٹی کماتا تھا۔ یعنی اس کے علاوہ اس کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا۔

یہی برادر کش مسلمانوں کے مقبول عوامی بیانیہ کے مطابق راسخ العقیدہ بادشاہ تھا جو ٹوپیاں سی کر روٹیاں کماتا اور قرآن لکھ لکھ کر پیسے بناتا تھا۔

بہر کیف اس نے مسلمانوں میں نیک نامی اور ثواب کمانے کے لئے اپنے عہد کے مذہبی عالموں کو جمع کیا۔ ان سے فتوا سازی کروا کے فتوے عالمگیری کے نام سے کتاب مرتب کروائی۔ اس طرح وہ برادر کش سے ایک نیک انسان بن گیا۔ اس نے سخت گیری کی پالیسی اپنا کر بظاہر ایک مضبوط سلطنت کھڑی کی۔ لیکن وہ اندر سے کھوکھلی تھی۔ یہ بات اس وقت پتہ چلی جب وہ مر گیا اس کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کے تربیت یافتہ شہزادے اپنے باپ داداؤں کی طرح شاندار ترک اور مغلیہ روایات کو زندہ کرتے ہوئے آپس میں لڑ پڑے۔ اس طرح اندر سے کھوکھلی بنیادوں پر لڑکھڑاتی مغلیہ سلطنت دھڑام سے نیچے گر پڑی۔ اس کے بعد تو لائن لگ گئی یکے بعد دیگرے شہزادے بادشاہ بنتے گئے اور کٹتے گئے۔ سلطنت سکڑتے سکڑتے لال قلعہ تک محدود ہو گئی اور پھر جلد ہی چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

اس طرح صفویوں کے یہاں بھی آپ کو سوائے محلاتی سازشوں کے اور کوئی عظیم الشان کارنامہ نہیں ملے گا۔ مگر ہاں ایرانیوں میں شیعیت پھیلانے کا سہرا پہلے صفوی حکمران اسماعیل صفوی کے سر باندھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے وہاں کے لوگ سنی المذہب تھے اسماعیل صفوی نے یہ کام تبلیغ اور تلوار دونوں بہ روئے کار لا کر کیا۔ آج ایران سعودی تصادم کو دیکھتے ہوئے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ کہ اس تصادم کی بنیاد رکھنے والے فرقہ پرستوں نے اسلام کے نام پر انسانیت اور اسلام کی کتنی خدمت کی ہے۔

عثمانی ترکوں کا ریکارڈ بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ہے۔ انہیں تلوار بازی کے علاوہ کسی اور ہنر سے دلچسپی نہیں تھی۔ جس زمانے میں ترکوں نے ایشیائے کوچک اور بحر روم کے ساحلوں پر عثمانی خلافت قائم کی۔ اس وقت اہل یورپ عیسائیت کے ہاتھوں گہری نیند سے ہڑبڑا کر بیدار ہو رہے تھے۔ یورپی ذہن دیکھ رہا تھا کہ صلیبی جنگوں نے اسے سوائے لایعنی جنگی کے اور کچھ نہیں دیا تھا۔ پوپ اربن کی پھیلائی ہوئی جنگی محاذ آرائی نے اسے تھکا کر بیزار کر دیا تھا۔

اب وہ مزید فضول جنگیں نہیں چاہتا تھا۔ اس نے صلیبی جنگوں میں شکست کھانے کے اسباب پر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا پھر اس نے جنگ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ اسی طرح یورپ میں نشاط ثانیہ کا آغاز ہوا۔ یورپ نے شکست کے اسباب پر غور کیا تو اسے مذہبی جنگوں پیچھے پاپائیت کا ہاتھ نظر آیا۔ جو عیسائیت کی توسیع کے پیچھے اپنے اقتدار اور معاشی مفادات کی مضبوطی کا خواہش مند تھا۔ جبکہ اس کے مقابلہ میں یورپ کے حکمران مذہب کی آڑ میں پاپائیت کے اس منصوبے سے بیزار تھے۔ لیکن پوپ خدا کا نائب بن بیٹھا تھا۔ اگرچہ وہ پوپ کے سیاسی عزائم کو ناپسند کرتے تھے۔ لیکن اس سے مخالفت کرنے کی جرات ان میں نہیں تھی۔ کیونکہ پوپ کو غربت، لاچاری اور بے کسی میں جکڑی عوام کی اندھی حمایت حاصل تھی۔ عوام اس کو پیشوا مان کر خدا کا نمائندہ سمجھتی تھی۔

لیکن صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد سوچ میں تبدیلی آئی۔ مذہبی جنگوں اہل یورپ کو بربادی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں دیا تھا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ تجارت کے مشرقی راستوں پر قابض مسلمانوں نے یورپیوں کے مشرق آنے پر قدغنیں لگائیں۔

اب کوئی بھی یورپی بحر روم کے راستے مشرق آ جا نہیں سکتا تھا۔ نہ ہی ہند و چین کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتا تھا۔ نا ہی وہ فوجی لحاظ سے مسلمانوں سے زیادہ طاقتور تھے۔ کہ ان سے لڑ کر بحر روم کے مسلم علاقے پر بالادستی حاصل کرتے۔

اس کے بعد یورپ صلیبی جنگوں سے کنارہ کش ہوا۔ اس وقت مذہب کی اجارہ داری میں کمی آنا شروع ہوئی عوامی شعور میں اضافی ہوا خصوصاً عقلی اور سائنسی علوم میں لوگوں کی توجہ بڑھی۔ سائنسی سوچ کا آغاز ہوا پہلے ہی جنگوں سے بیزار لوگ پاپائیت سے برگشتہ ہوئے۔ سائنسی سوچ کے آغاز نے اس فکری تحریک کو بڑھاوا دیا۔ یہ پاپائیت کے خلاف کھلی بغاوت تھی۔ اس سے مذہبی اقدار کمزوری چرچ سے خائف حکمران اس تبدیل ہوتی صورتحال پر خوش ہوتے رہے۔

یورپ اس وقت جاگیرداری نظام کے آخری دور سے گزر کر صنعتی دور کا آغاز کر رہا تھا کارخانہ داروں کو اپنے مالوں کی کھپت کے لئے نئی منڈیاں درکار تھیں۔

اس وقت کے آتے آتے مسلمان زمانے کی رفتار کا ساتھ نہ دے کر زوال پذیر ہوچکے تھے ان کے یہاں اگرچہ ابتدائی طور پر عقلی علوم کی ترویج کی کوششیں ہوئیں۔ لیکن فتح کے جذبے سے سرشار مسلمانوں کو لگ رہا تھا کہ تلوار اور لڑائی ہر مسئلے کا حل ہے۔ یہ وجہ ہے کہ عثمانی ترک یورپ کو جنگیں کر کے فتح کرنے میں لگے رہے۔ عثمانی خود کو سپاہی سمجھ کر لڑنے پر اکتفاء کرتے رہے۔ جبکہ دوسری جانب یورپیوں نے سائنسی علوم کی جانب منہ موڑ لیا۔

یورپ میں نشاط ثانیہ کا آغاز ہوا۔ پریس کی ایجاد سے معلومات کی ترسیل میں انقلاب آ گیا۔ لیکن پڑوس میں رہ رہے مسلمانوں نے ان تبدیلیوں کو منہ نہیں لگایا۔ الٹا ان کے خلاف مزاحمت کی۔ مذہبی طبقہ کو لگا کہ پریس علم کو عام کرے گا تو عام آدمی کی علم تک رسائی ہو جائے گی۔ جس سے ان کی اجارہ داری چیلنج ہوگی۔ خصوصی حیثیت ختم ہونے سے ان کی مراعات چھن جائیں گی۔ لہذا وہ سائنسی علوم کی اشاعت کی مخالفت پر کمربستہ ہوئے۔ اور اس سلسلہ میں حسب توقع فتوا صادر ہوا کہ پریس کا استعمال ناجائز ہے۔

عثمانی خلیفے اس فتوا پر خوش تھے۔ کیونکہ وہ بھی پریس کی ایجاد اور علوم کی ترویج سے خائف تھے۔ ان کو لگتا تھا کہ علم عام ہونے سے لوگوں میں شعور پھیلے گا۔ جس سے ان کے طرز حکمرانی پر سوال اٹھ سکتا ہے۔

پریس کے خلاف ملا ملٹری ایکشن نے مسلمانوں کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔ جس کا احساس زیاں آج بھی بہت کم لوگوں کو ہے۔

یورپ کے مذہبی طبقہ اور مسلمانوں کے مذہبی طبقہ میں بڑا فرق یہ ہے۔ کہ یورپ میں مذہب اقتدار پر اس وقت قابض ہوا۔ جب شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر لی۔ شہنشاہ کے عیسائی ہو جانے سے عیسائیت براہ راست اقتدار میں آ گئی۔ رومی پاپائیت کی شکل میں اسے بے پناہ طاقت اور مرکزیت حاصل ہوئی۔ چرچ کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ یورپ کے حکمران اس کی خوشنودی کو ضروری خیال کرنے لگے۔ رومن کیتھولک چرچ ایک متبرک ادارہ بن گیا۔ اور پوپ کو مقدس باپ کی حیثیت حاصل ہوئی۔

لیکن اس قدر تقدس اور اختیارات کے باوجود اس پر بھی کچھ ان دیکھی پابندیاں تھیں۔ خصوصاً کیتھولک پیشوایان دین شادی نہیں کرتے تھے۔ روم میں براجمان پوپ اور دیگر عہدے داروں کے منصب موروثی نہیں تھے۔ کوئی مذہبی عہدیدار ایک خاص انتخابی طریقہ کار کے تحت کارڈینلز اور بشپس سے پوپ بنتا تھا۔ پوپ کے مرنے، بیمار ہونے یا دستبردار ہونے پر الیکٹورل کالج رائے دہندگی کے ذریعے اگلے پوپ کی تقرری کرتا تھا۔

دوسری جانب مسلمانوں میں صورتحال بالکل مختلف تھی۔ یہاں شروع سے ہی طاقت حکمرانوں کے ہاتھ میں تھی۔ مذہبی طبقہ ایک ربر سٹیمپ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ حکمران جب چاہتا اپنا من پسند فتوا حاصل کر لیتا۔ جہاں کوئی چوں چوں کرتا۔ اسے عبرت کا نشان بنا دیتا۔ یعنی مستبد اور سخت گیر حکمرانوں کے مقابلے میں کسی کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ مذہبی طبقے کو اپنی اوقات خوب پتہ تھی۔ اس لئے حکمرانوں کا آلہ کار بنے رہنے میں عافیت سمجھتے تھے۔ اس طرح مراعات حاصل کر کے زندگی گے دن کاٹتے تھے۔

عام لوگ ان مذہبی پیشواؤں کی بات روزمرہ کی پند و نصائح کی حد تک تو مانتے تھے۔ لیکن حکمرانوں کے خلاف کھلی بغاوت کرنے میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ شکست کی صورت میں ان کی پوری نسل مٹا دی جائے گی۔

لہذا بہت کم لوگوں نے مذہبی پیشواؤں کی سرکردگی میں حکمرانوں سے ٹکر لی۔ اس کی سب سے بڑی مثال حضرت امام حسین (رض) کی ہے۔ سوائے اپنے خاندان کے، اس وقت کے عام و خاص لوگوں نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

دیگر اقوام کی طرح مسلمانوں میں بھی حکمرانوں نے ہمیشہ مذہب کو اپنے فائدے میں استعمال کیا۔ اس کو اوروں پر لاگو کیا خود ہر لاگو نہیں کیا۔ ایسے میں ہمیشہ مذہبی طبقات کو یہ ڈیوٹی سونپی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کی ایسی ذہن سازی کریں کہ وہ حکمرانوں کے مطیع و فرمانبردار رہیں۔ تاکہ ان پر کوئی سوال نہ اٹھائے اور معاشرہ میں امن و امان قائم رہے۔

حکمرانوں کی خواہش پر یہ سبق صدیوں تک مسلمان معاشروں کو پڑھایا گیا۔

آج کے جدید دور میں اب جاکر صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ اب ہم سوشل میڈیا کے دور میں رہ رہے ہیں۔ جس میں کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ ہر کوئی بات کر سکتا ہے۔ معلومات کا سیل رواں بہہ رہا ہے۔ ہر کوئی اس میں نہا رہا ہے۔ اب دھیرے دھیرے حالت بدلے گی۔ صدیوں سے قائم منحوس گھٹن چھٹے گی۔ ماضی کا نقاب اوڑھے ہوئے ظالموں، عیاروں اور مکاروں کے چہرے آشکار ہو رہے ہیں۔ جدید سوچ کی اہلیت نہ صرف ماضی کے بدنما چہروں کی پہچان کروا رہی ہے۔ بلکہ مستقبل کے لئے ایک روشن راہ کا انتخاب کرنے میں بھی ہماری رہنمائی کرے گی۔

Facebook Comments HS