یونانی ڈرامہ میڈیا: ایک جائزہ


”میڈیا“ ایک المیہ ڈرامہ ہے جسے قدیم یونانی ڈرامہ نگار یورپیڈیز نے لکھا ہے۔ یورپیڈیز کے المیہ ڈراموں میں ”میڈیا“ ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ 431 بی سی میں پہلی دفعہ اسٹیج ہوا۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ایک طاقتور اور چال باز جادوگرنی میڈیا ہے، جو اپنا سب کچھ ہارنے کے بعد پھر نفرت کے سامنے جھک جاتی ہے۔ یہ ڈرامہ انتقام، دغا بازی، اور لامحدود محبت اور نفرت کے جذبات کی انتہا کے مضامین پر لکھا گیا ہے۔ ڈرامہ میڈیا کے گرد ہے، جو جیسن ( ہیرو ) کے ساتھ محبت میں گرفتار ہے۔

اس محبت کی خاطر میڈیا بہت قربانیاں دیتی ہے، اپنے باپ اور بھائی کو دھوکہ دیتی ہے، خون کے رشتوں کو ختم کر دیتی ہے، مگر جیسن میڈیا اور اس کی محبت کی قدر کیے بغیر ایک جوان شہزادی کے لیے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ جیسن کا رویہ میڈیا کے اندر نفرت اور انتقام بھر دیتا ہے۔ میڈیا اپنے اندر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے انتقام کا راستہ اپناتی ہے اور انتقام میں اندھی ہو کر اپنی اور جیسن کی اولاد کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہے۔ جو انتقام کا ایک تباہ کن راستہ ہے۔

میڈیا میں کردار بہت مختلف اور جاندار ہیں اور انسانی فطرت کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔ خود میڈیا ایک دلچسپ کردار ہے جو محبت اور نفرت کی انتہا پر لکھا گیا ہے۔ دوسری طرف جیسن، ایک عیب دار ہیرو ہے جس کی حسرتوں نے اسے اس کے اعمال کے نتائج سے بے خبر کر دیا ہے۔ مزید کردار جیسے کہ کورس اور مختلف حامی کردار دیکھنے اور پڑھنے والے کے دل میں اخلاقی اور جذباتی احساسات کو نمایاں کرتے ہیں۔

میڈیا ایک المیہ مگر یورپیڈیز کا ایک بہترین ڈرامہ ہے جس کا انجام افسوسناک ہے۔ اس ڈرامہ میں عورت کی چال بازیاں، محبت کے حصول کی جنگ، دغا بازی، ممتا اور نفرت و انتقام کی جنگ یہ سب احساسات ڈرامے کو ایک حسین امتزاج دیتے ہیں۔ شائقین اس سے محظوظ ہوں گے کہ میڈیا نے اپنے ہی خاندان کو دھوکا دیا اور یہ سب اس نے جیسن سے جڑے رہنے کے لیے کیا مگر جیسن بھی اس کے ساتھ مخلص نہ تھا، اپنے باپ اور بھائی کو دھوکا دینے کی وجہ سے میڈیا کو جلاوطن کر دیا گیا مگر اس نے جیسن کی خاطر یہ برداشت کیا۔

جیسن نے سلطنت، دولت اور کم عمر دلہن پانے کے لیے بے وفائی کی۔ اس کی درد ناکیوں کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے، جب میڈیا کو جیسن سے انتقام لینے کے لئے انتہائی تدابیر پر رجوع کرنا ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کا اختتام اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قتل کرتی ہے اس زعم میں کہ اس طرح کر کے وہ جیسن کو زیادہ سے زیادہ دکھ دے گی، مگر شاید وہ جیسن سے مکمل طور پر نفرت بھی نہ کر سکی، اس لیے اس نے جیسن کی نئی دلہن کو تو زہر دے دیا مگر جیسن کو زندہ چھوڑ کر اس کے بیٹوں کو مار دیا تاکہ اس کی نسل نہ چل سکے۔ ڈرامے کے اختتام پر میڈیا اسی گھر کو چھوڑ کر سورج کے دیوتا کی فراہم کردہ ایک چھکڑے میں بھاگتی ہے، جس گھر کو خود اس نے دھوکہ سے تعمیر کیا تھا۔

میڈیا غیر معمولی انتقامی جذبات پر لکھا گیا ڈرامہ ہے۔ میڈیا کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ عورت انتقام میں اتنا آگے جا سکتی ہے کہ اپنے بچوں کی جان لے سکتی ہے۔ اس ڈرامے میں یورپیڈیز انتقام اور اس کے نتائج، اور ایک شخص کو چھوڑ دینے کی مایوسی اور دل شکستگی کس طرح انسان کو انتہا پر لے جاتی ہے، کیوں کسی کو دور کیا جاتا ہے ان سب انسانی روابط پر تفصیل سے گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ انسانی رویہ کی حدود اور محبت اور نفرت کے درمیان نازک دھاگے پر سوالات اٹھاتا نظر آتا یہ ڈرامہ انسانی تعلقات کی پیچیدگیوں پر غور کرنے پر دعوت دیتا ہے اور بے قابو جذبات، شدت اور فساد سے آگہی دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کی محبت اور نفرت دونوں ہی شدید ہوتی ہیں، میڈیا اس کی عمدہ مثال ہے

ڈرامے میں یورپیڈز نے علامتوں اور استعاروں سے کام لے کر مزا دوبالا کر دیا مثلاً جیسن کا جلاوطنی کے بعد کسی خطے پر حکمرانی کا خواب جس کو وہ نئی بیوی سے شادی کر کے اور پھر اس کی سلطنت پر راج کا دیکھ رہا تھا مگر میڈیا نے اس شہزادی کو زہر دے کر جیسن کا خواب ملیا میٹ کر دیا۔ ڈرامہ کا آغاز اور انجام گھر پر ہوتا ہے، گھر جس کی خاطر اس نے ساری قربانیاں دیں، مگر اسی گھر میں اس کی سسکیاں گونجتی رہیں۔ گھر نہ صرف خوشیوں کا قاتل ثابت ہوا بلکہ اس کے بچوں کی قتل گاہ بنا۔

یورپیڈس کا یہ ڈرامہ ”میڈیا“ ایک ہمیشہ زندہ رہنے والا اور طاقتور ادب کا نمائندہ ہے۔ اس کے دلچسپ کردار، شدت سے بھری کہانی، اور غور کرنے کے قابل مضامین کے ذریعے یہ ڈرامہ دلوں کو موہ لیتا ہے۔

Facebook Comments HS