ہمارے سرکاری ہسپتال، استاد منگو اور تبلیغی جماعت کی محنت


میرے خیال میں کسی بھی قوم کی ذہنی سطح کو جانچنے کے لیے ابتدائی لٹمس ٹیسٹ کے طور پر دو تین پہلوؤں کو دیکھ لینا چاہیے، اگر وہ درست ہیں تو سمجھ لیجیے کہ وہ قوم یا ریاست درست سمت کی طرف گامزن ہے۔

اہم ترین پہلوؤں میں سر فہرست تعلیم ہوتی ہے، نسلوں کا مستقبل اسی پر ٹکا ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنی نسلوں کا سوچتی ہیں وہ کبھی تعلیم کے معاملے پر کمپرومائز نہیں کرتیں۔ دوسرے نمبر پر صحت آتی ہے اور تیسرے نمبر پر صفائی کا معیار آتا ہے، بدقسمتی سے ہم ان تینوں میدانوں میں بری طرح سے ناکام ہو چکے ہیں۔

ہمارا تعلیمی معیار انتہائی پست اور اس قدر بے سمت ہے جو آج کے تقاضوں سے کوسوں دور ہے اور اس کی افادیت نا ہونے کے برابر ہے۔

صحت کو دیکھ لیجیے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور ابلتے گٹر ہماری ذہنی گندگی کو عریاں کر رہے ہوتے ہیں۔

دنیا کو ہم یہ بتانے میں لگے ہوئے ہیں
” ہم ایسا اس جہاں میں کوئی نہیں ہے اور ہم قادر مطلق کی محبوب ترین قوم ہیں“

لیکن عملی طور پر ہمارا کوئی پرسان حال نہیں، دو نمبری اور بددیانتی میں ہمارا کوئی ثانی نہیں، البتہ حج اور عمرہ کرنے والوں میں ہم سر فہرست ہیں۔ کیونکہ ہمارا یہ کامل ایمان ہے کہ حج اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد بندے کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ ایسے ہو جاتا ہے جیسے وہ ابھی ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہو۔

شاید یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر پروفیشن سے تعلق رکھنے والے لوگ ریٹائرڈ ہو جانے کے بعد حج یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے حرم پاک کا رخ کرتے ہیں اور گناہوں سے پاک ہو جانے کے بعد صوم و صلوٰۃ کے پابند ہو جاتے ہیں اور اپنے چہرے کو بھی سنت نبوی سے مزین کر لیتے ہیں۔

اب جو بندہ اتنی آسانی سے چھوٹ سکتا ہے تو وہ عملی زندگی میں کھرا کیسے ہو سکتا ہے؟

نیز ہر قسم کی عیاشی اور بددیانتی کے بعد آخر میں رو دھو کے کام چل جاتا ہے اور جان چھوٹ جاتی ہے تو ہمارے رویوں میں سدھار کیسے آ سکتا ہے؟ اس قدر تلخ باتیں کرنے کا سبب ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمارے ساتھ حال ہی میں پیش آیا۔ چھوٹے بھائی کی بیوی حاملہ تھی ڈاکٹرز کی دی گئی تاریخ کے مطابق تقریباً رات تین بجے ہسپتال پہنچے، مریضہ کو داخل کر لیا گیا اور معمول کے پروسیجر کا آغاز ہو گیا۔

ہمیں یقین دہانی کروائی گئی کہ آثار تو نارمل ڈیلیوری کے ہیں لیکن اگر سرجری کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم تاخیر نہیں کریں گے۔

دن کے تقریباً 12 بجے ہمیں آگاہ کر دیا گیا کہ خون کا بندوبست کر لیں تھوڑی دیر میں آپریشن کرنا پڑے گا۔

ہدایت کے مطابق خون کا بندوبست کر دیا گیا اور اسی چکر میں شام ہو گئی لیکن ڈاکٹرز نے آپریشن نہیں کیا اور تقریباً رات کے آٹھ بجے کہنے لگے کہ ہمارے پاس آپریشن کا سامان پورا نہیں ہے اس لیے ہم مریضہ کو ڈسچارج کر رہے ہیں۔

آپ ان کا کیس کسی بھی پرائیویٹ کلینک سے کروا لیں۔ بڑی پریشانی ہوئی ان سے کہا کہ اگر یہی بات تھی تو ہمیں دن کے وقت ہی بتا دیتے، بلا وجہ انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھنے کا کیا مقصد تھا؟

قصہ مختصر تھوڑا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے بعد تقریباً رات کے گیارہ بجے وہ آپریشن کرنے پر آمادہ ہوئے۔

یہ تو ہوا آپریشن کا معاملہ لیکن عملے کا برتاؤ بھی انتہائی ظالمانہ تھا اور واش روم غلاظت کے ڈھیر بنے ہوئے تھے۔ سخت سردی کے باوجود انتظار گاہ بالکل اوپن اور واش روم بالکل ساتھ ہونے کی وجہ سے ماحول انتہائی بدبودار تھا۔

اس تلخ تجربے سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارے سرکاری شفا خانے دراصل بیمار خانے ہیں، جہاں مریضوں کو تندرست کرنے کی بجائے بیمار کرنے کا تسلی بخش بندوبست کیا جاتا ہے اور جو لوگ مریض کے ساتھ آتے ہیں وہ بدبودار اور گندے ماحول کی وجہ سے ہی بیمار ہو جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ چلو ہم نے تو سفارش وغیرہ کا سہارا لے کر کے اپنا کام نکلوا لیا لیکن جن کے پاس یہ بندوبست بھی نہیں ہوتا ان کا کیا بنتا ہو گا؟

نجانے کتنے بے سہارا مریض یونہی رلتے رہتے ہوں گے۔
اس واقعہ سے ہمیں استاد منگو یاد آ گیا۔ جو ایک تانگے والا تھا ان پڑھ ہونے کے باوجود بہت سیانا اور کمال کی سٹریٹ وزڈم رکھتا تھا۔

اسے جب یہ پتا چلا کہ 1935 ایکٹ کے تحت ہندوستان میں ایک ایسا آئین معرض وجود میں آنے والا ہے کہ جس سے چھوٹائی بڑائی کا تصور ختم ہو جائے گا اور سب کو برابر کے حقوق ملیں گے اور اس آئین کی وجہ سے گورے جنہیں وہ ”وائٹ مائس“ کہتا تھا اپنے اپنے بلوں میں واپس چلے جائیں گے۔

لیکن اس کی ساری امیدیں اس وقت خاک میں مل گئیں جب اسے ایک انگریز کو پیٹنے پر جیل میں ڈال دیا گیا۔
حالانکہ اس گورے نے بلا وجہ منگو کی بے عزتی کر دی تھی، اس دن اسے پتا چلا
” کیڑے مکوڑوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا صرف طاقت ور کا ڈنکا بجتا ہے“

ہم سارے اس سماج کے استاد منگو ہیں جنہیں 1947 کے بعد سے اس زعم میں مبتلا رکھا گیا کہ یہ وطن عزیز اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے جہاں سب کے ساتھ انصاف ہو گا، سب کے حقوق برابر ہوں گے، اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہو گا اور ہر کوئی اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہو گا۔

لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور آج ہم نا تو پورے سیکولر بن پائے ہیں اور نا ہی پورے مذہبی۔ بس گھڑیال کے پنڈولم کی طرح سے ہیں جو وقتی مفاد کے لیے کبھی سیکولر بن جاتے ہیں کبھی مذہبی۔

طاقت کا کھیل پورے جوبن پر ہے، طاقتور روز بروز سانڈ بنتا چلا جا رہا ہے اور غریب غرباء بیچارے غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں اور امراء غریبوں کو ”مقدر و تقدیر“ کے گورکھ دھندوں میں الجھائے رکھتے ہیں اور غریب بیچارہ اسی لارے لپے کو سینے سے لگائے ہوئے کسمپرسی کی زندگی جینے پر مجبور ہو چکا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر تبلیغی اجتماعات کے ثمرات کہاں ہیں؟
لاکھوں کروڑوں کے مذہبی اجتماعات رائیگاں کیوں؟

ان کی تعلیمات اور ریاضت سے اگر ہزاروں لاکھوں پروفیشنلز کی زندگیاں بدل رہی ہیں تو معاشرے میں بے راہ روی، بددیانتی، کام چوری، چوری چکاری، زنا بالجبر کے علاوہ پورن ویب سائٹس دیکھنے والوں کی شرح کیوں بڑھتی چلی جا رہی ہے؟

ہماری عبادات اور ریاضتیں لا حاصل کیوں؟
حج کے دوران وطن عزیز سے لاکھوں لوگوں کا حرم شریف کی طرف سفر بے ثمر کیوں؟

ہم تو سنتے آئے ہیں کہ تبلیغی اجتماع سے خطاب کرنے والے اور دعائیہ کلمات ادا کرنے والے بزرگ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں سوال یہ ہے کہ ان عالی شان بزرگوں کی دعائیں بے اثر کیوں؟ اور تربیت کے اثرات اتنے پھیکے کیوں؟

جن کے مطابق صفائی ان کا نصف ایمان ہو وہ گندگی میں گھرے ہوئے کیوں؟
دنیا بھر کو اخلاقیات کا درس دینے والے اس قدر بد اخلاقیوں کا شکار کیوں؟
دوسروں کی مورل پولیسنگ کرنے والے خود مورل لیس کیوں؟

Facebook Comments HS