تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ


تمہاری سنگت کے بغیر ایک اور سال گزر گیا۔ بیتے ہوئے سالوں کی سنہری اور خوب صورت یادوں کا ایک ہجوم ہے۔ جو ساون کے بادلوں کی طرح سبق روی سے قلب و روح کے دریچوں سے گزرتا چلا جا رہا ہے۔ تمہارے ساتھ گزارے ہوئے سینتیس سال چار ماہ اور اکیس دن کا طویل عرصہ یوں لگتا ہے۔ جیسے پلک جھپکتے ہی گزر گیا ہو۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ تم کب میرے پاس آئیں اور کب رخصت بھی ہو گئیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمہاری موجودگی میں مجھے اس بات کا احساس بھی نہیں ہوسکا۔ کہ میں تمہیں اس قدر ٹوٹ کر چاہتا ہوں۔

مجھے اس کا ادراک اس وقت ہوا۔ جب تم منوں مٹی کے نیچے سفید چادر اوڑھ کر جا سوئیں۔ کہ میں تو تم سے بے پناہ محبت کر تا تھا۔ شاید محبت کا لفظ میرے جذبات کی مکمل عکاسی کرنے سے قاصر ہے۔ تم میری بہت اچھی دوست، پر خلوص ساتھی، میرے لیے ہمدردی، الفت، محبت، شفقت اور چاہت کے جذبات سے لبریز ایک ایسے چشمے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ جس کی قربت سے ہی میری تمام تشنگیاں، محرومیاں، کوتاہیاں، خامیاں اور کج ادائیاں ایک نئی دل فریبی اور خوش ادائی کا گھونگھٹ اوڑھ کر انوکھی جہت سے میری شخصیت کا جزو لاینفک بن گئیں۔

میری غیر حاضر دماغی اور بھول جانے کی عادت یقیناً تمہارے لیے مسائل کا سبب بنتی ہی رہتی تھی۔ لیکن مجال ہے کہ تمہاری زبان سے کبھی اس بارے میں کوئی گلہ، شکوہ، شکایت، بیزاری یا اکتاہٹ کا اظہار ہوا ہو۔ اس کے برعکس تم میری تمام بیوقوفیوں اور حماقتوں کے قصے اس دلنشین اور دل چسپ پیرائے میں بیاں کرتیں۔ کہ میری یہ ساری کی ساری کج ادائیاں اور خامیاں دل فریب اور خوش کن اداؤں کا روپ دھار لیتیں۔ ہمارے ملنے جلنے والے لوگ باگ اور رشتہ دار ان قصے کہانیوں کی روشنی میں تم سے ہمدردی رکھنے اور تم پر ترس کھانے کی بجائے تم پر رشک کیا کرتے۔

بلکہ اکثر اوقات تو مجھے بھی اپنی ان تمام کج ادائیوں پر خوش کن صفات و محاسن کا گمان ہونے لگتا۔ تمہارے اسی فعل کی بدولت مجھ پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ اگر انسان اپنی خامیوں کے بارے میں خود ہی دوسروں کو آگاہی دے دے تو پھر دوسروں کی نظر میں ان خامیوں کی شدت میں بڑی حد تک کمی آجاتی ہے۔ اور اکثر و بیشتر لوگ ان سے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنی خامیوں کو دوسرے لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ زندگی بھر اپنی زیادہ تو صلاحیتوں کو اسی منفی کام پر لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اس سب کے باوجود ناکامی قدم قدم ان کے ساتھ ساتھ ہی چلتی رہتی ہے۔ تم میری شریک حیات ہی نہیں تھیں۔ بلکہ میری رگ رگ اور ریشے ریشے میں سمائی ہوئی میرے بارے میں مجھ سے بھی زیادہ آگاہی رکھتی تھیں۔ تمہیں اس بات کا علم تھا کہ نظر کی کمزوری اور غیر حاضر دماغی کی وجہ سے کم ملنے جلنے والوں کو پہچاننے میں مجھے اکثر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کبھی ایسی صورت حال وقوع پذیر ہوتی اور کوئی ایسا مہمان گھر میں آ جاتا اور تو تم فوراً ہی میری مدد کو آ پہنچتیں۔

انجم یہ اقبال بھائی لاتاں سے آئے ہیں۔ آ جاؤ پہلے ان سے مل لو پھر کوئی اور کام کر لینا۔ تم اتنی سادگی سے میری مشکل حل کر دیتیں کہ آنے والے کو احساس بھی نہ ہو پاتا کہ اصل بات ہے کیا؟ ایک بار تمہاری چھوٹی بہن خالدہ کا خاوند شاہد اپنے ایک دوست کے ساتھ میاں چنوں سے مجھے ملنے آیا اس کے دوست کا یہاں کوئی کام پھنسا ہوا تھا اور شاہد اس کے ساتھ سفارشی کے طور پر آیا ہوا تھا۔ وہ دونوں ہی سیدھے سکول میں ہی آ کر مجھ سے ملے۔

ذرا احوال ملاقات ملاحظہ ہو۔ السلام علیکم! وعلیکم السلام! کیا حال ہے۔ جی بالکل ٹھیک ہوں کیسے آنا ہوا جی آپ سے ملنے آیا ہوں۔ فرمائیں میں آپ کے کس کام آ سکتا ہوں۔ دونوں ملاقاتیوں نے بڑی حیرانی سے میری طرف دیکھا اور چپ سادھ لی۔ تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے پھر پوچھا آپ نے بتایا نہیں کہ کیسے آنا ہوا۔ شاہد بولا کہ میاں چنوں سے آئے ہیں۔ کیوں آئے ہیں۔ اب وہ دونوں ایک بار پھر تذبذب سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اب شاہد بولا کہ میرا نام شاہد محمود ہے میاں چنوں سے آیا ہوں اور آپ کی سالی محترمہ کا خاوند نامدار ہوں۔ بڑی شرمندگی ہوئی کئی بار ملاقات کے باوجود بھی اسے نہ پہچان پایا۔ بہر حال ان لوگوں سے معذرت کی کہ میرا دھیان کسی اور طرف تھا۔ آپ لوگوں کو پہچان نہ سکا وہاں سے سیدھے گھر میں آئے۔

تمہیں اس تمام قصے کہانی کے بارے میں بتایا گیا۔ اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچاننے پر مجھ سے کوئی گلہ گزاری کرنے کی بجائے تم نے الٹا شاہد کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔ تمہیں پتہ نہیں کہ تمہارے بھائی جان سارا دن بچوں کے ساتھ مغز کھپائی کرتے رہتے ہیں اور اوپر سے تم لوگ آ کر ان کا امتحان لینا شروع کر دیتے ہو۔ آئندہ جب بھی ملو تو سب سے پہلے انہیں اپنے بارے میں بتایا کرو۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کی اچھے طریقے سے مہمان داری کی گئی۔ اور ان کا پھنسا ہوا کام نکلوا کر معاملے کی سنجیدگی کو کم کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بارے میں بھی ہم دونوں کے رویے متضاد تھے۔ اگر تم کبھی بچوں کو ڈانٹتیں تو میں عموماً تمہیں ہی کہتا کہ چلو جانے دو کوئی بات نہیں بچے ہیں سمجھ جائیں گے۔ لیکن اگر میں بچوں کو ڈانٹتا تو تم انہیں اس بات کا احساس دلاتیں کہ تمہیں تمہاری غلطی پر بالکل صحیح ڈانٹا گیا ہے۔ اس لیے آئندہ محتاط رہیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جس پر تمہیں ڈانٹنے کی نوبت آئے۔

تمہارے جانے کے بعد ہمارے بچے ایک دم اپنی عمروں سے کہیں بڑے ہو گئے ہیں۔ وہ سارے کے سارے میرا اس طرح خیال کرتے ہیں۔ جیسے والدین اپنے بچوں کا کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارا آٹھ سالہ پوتا ارحم بھی انہی میں شامل ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اس کا زیادہ تر وقت ہمارے ساتھ ہی گزرا ہے۔ بلال خضریٰ اور بدر تو ادھر میرے پاس ہی ہیں۔ وہ تو میرا دھیان رکھتے ہی ہیں۔ آمنہ اصفیٰ اور مائرہ کی لکسمبرگ، آسٹریلیا اور عارف والا میں رہائش ہونے کے باوجود پوری کوشش ہوتی ہے کہ روزانہ کم از کم ایک آدھ بار رابطے میں آجائیں۔

بدر ہر وقت میرے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لیے اسی حساب سے وہ عمر میں سب سے چھوٹا ہونے کے باوجود سب سے بڑا بزرگ بنا ہوا ہے۔ تمہارے جانے کے بعد عشا فاطمہ نے جس طرح سے میرا خیال کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر نورین کی ہمسائیگی میں مجھے تنہائی کا احساس بالکل بھی نہیں ہوتا میں اپنی ہی باتیں کیے جا رہا ہوں۔ کچھ تم بھی اپنی سناؤ۔ وہاں شب و روز کیسے گزر رہے ہیں۔ ابا جی، ماں جی، صادق صاحب، میجر صاحب بھائی اسماعیل اور ہمارے دوسرے رشتہ دار جو اب تمہارے ہی دیس کے باسی ہیں۔ ان سے ملاقات رہتی ہے۔ یہ سب لوگ کیسے ہیں کبھی اپنا حال احوال سنانے کے لیے دو گھڑیاں ہی وقت نکال کر میرے پاس آ بیٹھو کچھ میری سن لو کچھ اپنی سنا جاؤ میں بڑی شدت سے تمہارے انتظار میں ہوں۔

Facebook Comments HS