میناچم بیگن: ایک صیہونی گوریلا جنگجو


میناچم بیگن بیسویں صدی کے وہ گوریلا جنگجو تھے جن کے خاندان کے بہت سے باشندے جرمنی کے ہولوکاسٹ میں قتل کر دیے گئے تھے۔ بیگن ان یہودیوں میں سے ایک تھے جو تھیوڈور ہرزل کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر کے کرہ ارض پر ایک یہودی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔

بیگن ساری عمر بلکہ مرنے کے بعد بھی ایک متنازع شخصیت کے مالک رہے۔ بعض یہودی ان سے ٹوٹ کر محبت اور بعض حد سے زیادہ نفرت کرتے ہیں۔

اگرچہ بیگن کو خود بہت سے مظالم کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ فلسطینیوں کے بارے میں ہمدردانہ رویہ نہ رکھتے تھے۔ وہ ساری عمر یاسر عرفات سے دوستی کا ہاتھ ملانے سے انکاری رہے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے ہاتھوں پر بہت سے معصوم فلسطینیوں کا خون بھی تھا۔

جب ہم بیگن کی شخصیت کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہی شخص جو نوجوانی میں مظلوم تھا وہی شخص ادھیڑ عمر میں خود ایک ظالم بن گیا۔ اسی لیے وہ لوگ جو نوجوانی میں ان سے ہمدردانہ رویہ رکھتے تھے وہی ادھیڑ عمر میں ان کے نقاد بن گئے کیونکہ انہوں نے اسرائیل کے وزیر دفاع ایریل شیرون کے ساتھ مل کر بہت سے بے گناہ فلسطینیوں کا ناحق خون بہایا۔

بیگن انیس سو تیرہ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی والدہ ایک درویش منش امن پسند خاتون تھیں لیکن ان کے والد زیو ڈوو ایک ایسے انقلابی سیاسی کارکن تھے جو ایک یہودی ریاست کا خواب دیکھتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا ایک انقلابی وکیل بنے۔

بیگن کو بچپن میں پولینڈ کے لوگوں کا یہودیوں کے بارے میں تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں یہودیوں کے لیے دو راستے تھے۔

یا وہ مقامی معاشرے میں ضم ہو جائیں
اور یا وہ یہودیوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کی کوشش کریں۔
بیگن کے والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا ایک انقلابی اور سیاسی رہنما بنے۔

اسی لیے جب ولادمیر جیبوٹنسکی نے بیٹار کے نام سے ایک انقلابی سیاسی پارٹی بنائی تو بیگن نوجوانی میں ہی اس پارٹی میں شامل ہو گئے تا کہ یہودی ریاست بنانے میں اس پارٹی کے لوگوں کی مدد کر سکیں۔ بیگن خود بھی ایک گوریلا فوجی بنے اور دوسرے یہودیوں کو بھی تحریک دی کہ وہ انقلابی بنیں اور ایک صیہونی ریاست قائم کر سکیں۔ بیگن کا خواب یہ تھا کہ وہ علاقہ جو ماضی میں فلسطین کہلاتا تھا وہ مستقبل میں اسرائیل کہلائے۔

بیگن کے مقابلے میں جیبوٹنسکی ایک امن پسند رہنما تھے لیکن بیگن نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور اسے ایک گوریلا فوج کا روپ دیا۔ بیگن کا موقف تھا کہ ہمیں اپنے صیہونی نظریات اور مقاصد کو مبہم انداز سے بیان نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں بر سر عام اقرار کرنا چاہیے کہ اگر ایک صیہونی ریاست قائم کرنے کے لیے ہمیں مسلح جدوجہد کی ضرورت پڑی تو ہم اسلحہ استعمال کرنے اور خون بہانے سے پیچھے نہ رہیں گے۔

بیگن کے جارحانہ رویے سے جیبوٹنسکی اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ پہلے وہ ڈپریشن کا شکار ہوئے اور پھر دوسری جنگ عظیم شروع ہوتے وقت نیویارک چلے گئے۔

بیگن نے انیس سو انتالیس میں الیزا سے شادی کی۔ الیزا مرتے دم تک ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی میں ان کا ساتھ دیتی رہیں۔

بیگن پر ہٹلر کے یہودیوں سے ظالمانہ سلوک اور ہولوکاسٹ کا بہت برا اثر ہوا کیونکہ اس ہولوکاسٹ میں ان کے بہت سے رشتہ دار مارے گئے۔ جب بیگن نے وارسا سے بھاگنے کی کوشش کی تو وہ پکڑے گئے اور انہیں سائبیریا کے کالے پانے بھیج دیا گیا۔

جب بیگن کو نیویارک سے جیبوٹنسکی کی موت کی خبر آئی تو وہ بہت اداس ہو گئے۔

سائبیریا کی قید کے دوران بیگن نے فیصلہ کیا تو وہ اپنی بقیہ زندگی اپنے صیہونی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وقف کر دیں گے۔

جب فلسطین میں عربوں نے یہودیوں پر حملے کرنے شروع کیے تو یہودیوں نے
IRGUN ZVAI LEUMI

پارٹی بنائی۔ بیگن نہ صرف اس پارٹی میں شامل ہوئے بلکہ اپنی جوشیلی تقریروں سے بہت سے یہودیوں کو ایک یہودی ریاست کے قیام کے حوالے سے اپنا ہم خیال بنا لیا۔ دھیرے دھیرے بیگن نے ایک گوریلا فوج تیار کی اور خود اس گوریلا فوج کے قائد بن گئے۔

جب برطانوی حکومت نے یہودی لیڈر ڈیوڈ بین گوریان کو اپنے ساتھ ملا لیا تو بیگن کو اپنی جان بچانے کے لیے زیر زمین جانا پڑا تا کہ وہ اپنی گوریلا جنگ جاری رکھ سکیں۔ جب برطانوی حکومت اور بیگن کے درمیان ٹھن گئی تو بیگن نے اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے کنگ ڈیوڈ ہوٹل پر حملہ کیا جس میں کئی برطانوی فوجی مارے گئے۔ اس حملے کے بعد برطانوی حکومت نے بیگن کو دہشت گرد نمبر ایک قرار دیا اور انہیں گرفتار کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

زیر زمین زندگی کے دوران بیگن کی بیگم حاملہ ہو گئیں۔ جب انہیں زچگی کے دوران ہسپتال جانا پڑا تو خطرہ تھا کہ بیگن کہیں گرفتار نہ ہو جائیں اس لیے ان کے ایک دوست نے قربانی دی اور بچے کے باپ کے نام کے خانے میں اپنا نام لکھوا دیا۔

انیس سو پینتالیس میں جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو برطانیہ نے ایک لاکھ فوجی فلسطین بھیجے تا کہ یہودیوں کی صیہونی تحریک کو کچل دیا جائے لیکن وہ بیگن کی گوریلا جنگ کے آگے شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ دھیرے دھیرے برطانیہ کا فلسطین پر کنٹرول کم ہوتا گیا اور بیگن اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے گئے۔ برطانیہ سے جنگ کے دوران بیگن کے گوریلا فوجیوں نے برطانوی حکومت کی بہت سی بلڈنگوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ جب برطانوی حکومت نے گوریلا جنگجوؤں کو غدار سمجھ کر گرفتار کیا تو گوریلا فوجیوں نے بھی برطانوی فوجیوں کو پکڑ لیا۔ جب برطانوی حکومت نے گوریلا فوجیوں پر تشدد کیا تو گوریلا فوجیوں نے بھی برطانوی فوجیوں کو سولی پر لٹکا دیا۔

بیگن کے ارگن کے گوریلا جنگجوؤں کا کنگ ڈیوڈ ہوٹل پر حملہ ان کی کامیابی کی نشانی تھی۔
گھمسان کا رن پڑا۔ آخر برطانیہ نے ہار مان لی۔

بیگن کے ساتھیوں کو اپنی کامیابی کا اس وقت اندازہ ہوا جب برطانوی حکومت نومبر انیس سو سینتالیس کو مان گئی کہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہوئی کہ ماضی کے فلسطین کا آدھا حصہ فلسطین رہے گا اور آدھا حصہ اسرائیل بن جائے گا۔

بیگن کو یہ کامیابی آدھی کامیابی محسوس ہوئی۔ وہ پورے فلسطین کو پورا اسرائیل بنانا چاہتے تھے۔
اسرائیل کی جدوجہد میں دو لیڈر شامل تھے، میناچم بیگن اور ڈیوڈ بین گوریان۔ یہ علیحدہ بات کہ دونوں کی شخصیت اور سیاست میں بہت فرق تھا۔ جب اقوام متحدہ نے یہودیوں کو آدھا فلسطین دے دیا تو بیگن نے آدھا فلسطین لینے سے انکار کر دیا۔

برطانوی حکومت کا ارادہ تھا کہ وہ پندرہ مئی انیس سو اڑتالیس کو فلسطین سے رخصت ہو جائے گی لیکن جب بیگن کے گوریلا فوجیوں نے حملے شروع کر دیے تو برطانیہ کو دھڑکا لگا کہ کہیں فلسطین اور اسرائیل میں خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے۔

بیگن نے پورے فلسطین پر قبضہ کرنے کے لیے ایک جہاز الٹیلینا تیار کر رکھا تھا جس میں اسلحے کی ایک بڑی مقدار موجود تھی۔

اس نازک موقع پر یہودی لیڈر ڈیوڈ بین گوریان نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بیگن کے مسلح جہاز کو ساحل پر نہ لگنے دیا۔ اس طرح فلسطین خانہ جنگی سے بچ گیا۔

اس حملے کی ناکامی بیگن کے انقلابی تحریک کی ناکامی تھی۔ اس طرح انتیس ستمبر انیس سو اڑتالیس کو ارگن کی گوریلا تحریک اپنی موت مر گئی۔

اسرائیل بننے کے بعد بیگن نے اپنے رویے میں تبدیلی کی اور گوریلا جنگ چھوڑ کر ایک سیاسی پارٹی بنائی جو پہلے ہیروٹ (آزادی) اور پھر لیکوڈ پارٹی کہلائی۔

گوریلا جنگ کو خیرباد کہنے کے باوجود بیگن کا موقف تھا کہ ارگن کی گوریلا جنگ نہ ہوتی تو کرہ ارض پر اسرائیل بھی نہ ہوتا۔

بیگن نے کئی بار الیکشن لڑا۔ کئی بار الیکشن ہارے بھی لیکن اپنی ہمت نہ ہارے۔ آخر انیس سو ستتر میں الیکشن جیت کر اسرائیل کے وزیر اعظم بن گئے۔

بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بیگن ساری عمر ڈپریشن کے مریض رہے۔ ان پر ڈپریشن کے کئی دورے پڑے۔ ان کی بیگم الیزا کی وفات کے بعد ڈپریشن کا دورہ اتنا شدید تھا کہ وہ انیس سو تراسی میں وزیر اعظم کے عہدے سے بھی مستعفی ہو گئے۔

اپنے دور حکومت میں بیگن نے اپنے دشمن اور مصر کے سیاسی رہنما انور سادات سے ہاتھ بھی ملایا جس کے لیے دونوں کو امن کا نوبل انعام بھی ملا۔

امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کے باوجود ان کی شخصیت دنیا کے بہت سے گوریلا فوجیوں کی طرح متنازعہ فیہ رہی۔

بعض لوگ آج بھی میناچم بیگن سے سخت نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ انہیں ایک دہشت گرد سیاسی رہنما سمجھتے ہیں جبکہ بعض لوگ ان سے بہت محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ انہیں یہودیوں کا ایک حریت پسند لیڈر سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے جب بھی کوئی اسرائیل کے قیام کی تاریخ لکھے گا تو وہ تاریخ میناچم بیگن کی کاوشوں کے بغیر نامکمل رہے گی۔

۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail