علی سردار جعفری، ایک سرخ انقلابی نقاد


تفرقہ پڑتا ہے جب دنیا میں نسل و رنگ کا
لے کے آتی ہوں پرچم انقلاب و جنگ کا
(علی سردار جعفری کی نظم ”آزادی“ )

علی سردار جعفری ( 2000۔ 1913 ) ایک ایسا نام ہے جس کا ذکر کیے بغیر ترقی پسند تحریک کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ ترقی پسند تحریک کا ذکر ہو اور علی سردار جعفری کی کتاب ”ترقی پسند ادب“ کو موضوع بحث نہ بنایا جائے تو بات تشنہ تکمیل رہتی ہے۔ وہ ترقی پسند شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انقلابی افسانہ نگار، ڈراما نویس اور نقاد تھے۔ ہندوستانی سیاق میں ترقی پسندی پر بات کی جائے تو اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب 1936 ء میں ”ادب برائے زندگی“ کے نعرہ کے ساتھ ترقی پسند تحریک کا لکھنو سے باقاعدہ آغاز ہوا اور لکھاری جوق در جوق سرخ انقلابی قافلہ میں شامل ہونے لگے۔ ان قافلوں کو تین طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا طبقہ بڑے ادیبوں کا تھا جن میں پریم چند، جوش ملیح آبادی، حسرت موہانی اور فراق گورکھ پوری وغیرہ شامل تھے۔ دوسرا گروپ نو آموز لکھاریوں کا تھا جن میں کرشن چندر، جاں نثار اختر اور سبط حسن جیسے لوگ اور تیسرا گروہ کسان اور مزدور شاعروں کا تھا جن کی بدولت ترقی پسند تحریک کی دیہاتی اور عوامی ادب کی طرف توجہ ہوئی۔ ترقی پسند تنقید کی بات کی جائے تو اختر حسین رائے پوری کا مقالہ ”ادب اور زندگی“ کو اس کا نکتہ آغاز کہا جاتا ہے۔

اس مقالہ کے شائع ہونے کے ساتھ ہی ترقی پسند تنقید کی روایت کا آغاز ہوتا ہے جس میں تسلسل کے ساتھ کئی بڑے نام سامنے آتے ہیں جن میں احتشام حسین، علی سردار جعفری، ڈاکٹر عبادت بریلوی اور سید وقار عظیم جیسے نام سر فہرست ہیں۔ ترقی پسند تنقید ادب کو زندگی کا ترجمان سمجھتے ہوئے افادیت کی سطح پر پرکھنے کی سعی کرتی ہے مگر اس جانچ پرکھ کے معیارات مارکس، لینن اور گورکی جیسے مغربی مصنفین کے نظریات سے مستعار لیے گئے ہیں۔

ترقی پسند لکھاریوں کے قافلہ میں علی سردار جعفری کا شمار اس صف کے ادیبوں میں ہوتا ہے جن کو نظریاتی طور پر انتہا پسند شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ادب کو ادب نہیں رہنے دیتے بلکہ چیخ اور نعرہ بنا دیتے ہیں۔ یہی رویہ ان کی تنقیدی بصیرت میں بھی کارفرما ہے۔ بطور ترقی پسند نقاد علی سردار جعفری کی تین کتابیں ”ترقی پسند ادب“ ، ”اقبال شناسی“ اور ”پیغمبرانِ سخن“ کے عنوانات کے ساتھ منظر عام پر آئیں۔ ان میں سب سے اہم اور باعثِ اختلافات بننے والی کتاب ”ترقی پسند ادب“ ہے۔ اس کے شائع ہوتے ہی ترقی پسند حلقے سے باہر اسے ترقی پسند تحریک کے نظریات کی ترجمان اور ایک اہم دستاویز سمجھا گیا تو دوسری طرف ترقی پسند حلقہ نے اسے متنازعہ کتاب قرار دیا۔

ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اعظمی نے اس کتاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں شامل تنقید، ترقی پسندی اور شاعری کو اپنے معیار پر لانا چاہتی ہے تاکہ علی سردار جعفری کو سب سے اونچے منصب پر فائز کیا جا سکے۔ اس کتاب میں علی سردار جعفری نے حسن کے معیارات میں تبدیلی، مصنف کی بطور ادیب سماجی ذمہ داریاں، ترقی پسندی کا اصل مفہوم، اپنی وابستگیوں کے بر ملا اظہار اور ترقی پسند ادب اور نئے ادب میں حدِ تفاوق کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ بعض لوگ نئے ادب کو جو غلطی سے ”نیا ادب“ جیسے رسالوں میں شائع ہو گیا ہے ترقی پسند سمجھ لیتے ہیں اور مثال میں انہوں نے منٹو اور عصمت چغتائی کی کہانیوں اور ن م راشد کی شاعری کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہر نیا ادب ترقی پسند ادب نہیں ہوتا۔ ترقی پسند ادب وہی ہو گا جو انقلاب کی بات کرے گا اور سرخ صبح کی امید دے گا۔

بطور نقاد ان کی دوسری کتاب ”اقبال شناسی“ ہے جس میں انہوں نے ترقی پسند استدلال اپنایا ہے۔ اس کتاب میں ایک طرف علامہ محمد اقبال کی شاعری کو تحریک آزادی کے سیاق میں رکھ کر پرکھتے ہوئے ترانہ ہندی، ہندوستانی بچوں کا گیت اور بال جبریل کی غزلوں تک بات کو محدود رکھنے کے بجائے اقبال کو انسان دوستی جیسے آفاقی عنوان کے تحت موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ تو دوسری طرف سر تھامس آرنلڈ، اشپنگلر، ایمرسن، ولیم کوپر، لانگ فیلو اور گوئٹے جیسے مغربی مصنفین کا تذکرہ موجود ہے جن کے کام سے علامہ اقبال کسی نہ کسی صورت متاثر ہوئے۔ مذکورہ کتاب کا اہم مضمون ”اقبال کا تصورِ وقت“ ہے جس میں علی سردار جعفری نے علامہ کی شاعری کو وقت، سائنس اور فلسفہ کے تناظر میں ترقی پسند لینز کے تحت پرکھنے کی سعی کی ہے۔ وہ اقبال کے تصور وقت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ: ”اقبال کو ایک ایسے تصورِ وقت کی تلاش تھی جس سے مسلمانوں کی پس ماندگی کا علاج ہو اور مردہ رگوں میں دوبارہ تازہ خون دوڑنے لگے اور یہ خواہش ہماری تحریکِ آزادی کی پیدا کی ہوئی امنگوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اقبال کا تصورِ وقت ہماری تحریکِ آزادی کا ایک نظریاتی حربہ ہے۔“ (اقبال شناسی، صفحہ 99 )

تیسری کتاب ”پیغمبرانِ سخن“ ہے جس میں انہوں نے کبیر، میر تقی میر اور غالب کو ایک ہی سلسلے کی کڑیاں سمجھتے ہوئے، موضوع بحث بنایا ہے۔ ان شعراء پر بات کرتے ہوئے، ان کے ادوار کے سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس بات پر نقطہ چینی بھی کی گئی ہے کہ کبیر کو ہندی لیبل کی وجہ سے موضوع بحث نہ بنایا گیا تو دوسری طرف میر تقی میر کو بہتر نشتروں تک محدود کر کے سمجھنے کی سعی کی گئی اور غالب کی شاعری کو مشکل پسندی کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ بقول علی سردار جعفری: ”کبیر، میر اور غالب، یہ تینوں میرے نزدیک ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ اردو والوں کی کوتاہ نظری تھی کہ انہوں نے قطب شاہی اور اس سے پہلے کی دکنی شاعری کو تو اردو ادب کی میراث کی حیثیت سے قبول کیا، لیکن کبیر سے پہلو تہی کی اور ہندی والوں کی تنگ نظری نے کھڑی بولی کی نکھری ہوئی شکل کے دو سب سے بڑے شاعر میر اور غالب کو ہندی کا رتن ماننے سے انکار کر دیا۔“ (پیغمبرانِ سخن، ص 5 )

اس بحث کو ختم کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ علی سردار جعفری ایک ایسا نقاد ہے جس نے نئے ادب کو سمجھنے کے لیے میر، غالب اور کبیر جیسے اسلاف کو سامنے رکھا، پڑھا اور ان کی شاعری کا تجزیہ کیا۔ پھر ترقی پسند ادب کو جانچا، ترقی پسند ادب اور نئے ادب میں حدِ تفاوق کھینچتے ہوئے ترقی پسندی کے معیارات مقرر کیے۔ اور اعتراضات کے باوجود اقبال کی شاعری کو پرکھا۔ مگر ان کا تنقیدی پیمانہ ترقی پسند تھا اور اسی لینز سے وہ ہر فن پارہ کو جانچتے، اور اس کے معیاری و غیر معیاری پن کا فیصلہ کرتے۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais