پاکستان کو مسخروں کا ملک ثابت نہ کریں
زندگی سے گھبرائے اور پریشان ہوئے افراد کو وقتی خوشی اور دل لگی کے لئے انٹرنیٹ پر میسر ہے ”ٹک ٹاک“ ۔ یہ ایپ اسے استعمال کر نے والوں کو عملی زندگی کی پیچیدگیاں بھلانے میں بہت مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ ہمارے چند معزز اراکین سینٹ بھی مذکورہ ایپ کے علت کی حد تک عادی ہوچکے ہیں۔ غالباً اسی وجہ سے گزرے جمعہ کے دن انہوں نے یکسو ہو کر ”وفاق کی علامت“ تصور ہوتے ایوان میں ٹک ٹاک وڈیوز جیسا ایک تماشا لگایا جسے تمام نیوز چینلوں نے نہایت سنجیدگی سے لیا۔ معمول کی نشریات چھوڑ کر اس ”قرارداد“ پر نہایت فکر مندی سے تبصرہ آرائی شروع ہو گئی جو فقط 12 اراکین نے اس وقت ”متفقہ“ طور پر منظور کی جب ایوان میں صرف 14 افراد موجود تھے۔ جو ”قرارداد“ منظور ہوئی اس کاتقاضا تھا کہ سردی کی شدت اور دہشت گردی کی بڑھتی وارداتوں کو نگاہ میں رکھتے ہوئے 8 فروری 2024 ء کے دن کے لئے طے ہوئے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مؤخر کردئے جائیں۔
مذکورہ قرارداد پیش کرنے والے صاحب کا اسم گرامی ہے دلاور خان۔ تعلق موصوف کا مردان سے ہے۔ ”کامیاب کاروباری“ کی شہرت کے حامل ہیں۔ یہ شناخت انہیں پنجاب کے ”کاروباری حضرات“ کی بنائی مسلم لیگ (نون) کے قریب لائی۔ وہ اس کی مدد سے 2018 ء میں سینٹ کے رکن منتخب ہو گئے۔ یاد رہے کہ اس برس سینٹ کی خالی نشستوں کو پر کرنے کے لئے جو ا نتخاب ہوا تھا اس میں مسلم لیگ (نون) کو بطور سیاسی جماعت حصہ لینے کی اجازت نصیب نہیں ہوئی تھی۔ ان دنوں کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کی جانب سے ”صادق اور امین“ کے معیار پر پورا نہ اترنے کے سبب عمر بھر کے لئے نا اہل ہوئے نواز شریف کے دستخطوں سے جاری مسلم لیگ نون کے امیدواورں کی ٹکٹوں کو ”باطل“ قرار دیا تھا۔ تکینکی اعتبار سے لہٰذا انہیں ”آزاد“ حیثیت میں منتخب ہوناپڑا۔ اگست 2018 ء میں عمران حکومت قائم ہوئی تو ایف بی آر کے ٹیکس وصول کرنے والے افسروں کے رحم وکرم کے محتاج دلاور خان کو اپنی ”آزاد“ حیثیت شدت سے یاد آنا شروع ہو گئی۔ وہ حکومتی بنچوں پر بیٹھے بغیر ہی حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپنے کاروبار کا تحفظ یقینی بناتے رہے۔
دریں اثناء مارچ 2021 ء آ گیا۔ قومی اسمبلی نے اس مہینے اسلام آباد سے سینٹ کی خالی ہوئی ایک سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کو منتخب کرتے ہوئے دنیا کو حیران کر دیا۔ پیغام یہ گیا کہ عمران خان اور ”وہ“ اب ”سیم پیج“ پر نہیں رہے۔ تحریک انصاف کی صفوں میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے اور عمران حکومت کے ساتھ صبح گیا یا شام گیا والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ حکومت بلوچستان بھی ایسی ہی کیفیت میں مبتلا دکھائی دی۔ مرکز اور صوبوں میں پھیلی افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دلاور خان نے سینٹ میں سے پانچ دیگر اراکین بھی تلاش کرلئے۔ باہم مل کر وہ ”آزاد“ گروپ ہو گئے۔ اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ یوسف رضا گیلانی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ ان کی حمایت نے رضا ربانی اور شیری رحمن جیسے اصول پسند سینیٹروں کو شرمندہ کیا تو ان چھ ا فراد نے ”آزاد“ بیٹھتے ہوئے بھی تواتر سے عمران حکومت کی جانب سے پیش ہوئے قوانین کی تابڑ توڑ حمایت شروع کردی۔ اپریل 2022 ء میں حکومت بدلی تو جی حضوری کا رخ شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہوئی حکومت کی جانب موڑ دیا۔
سدابہار موقعہ شناسوں پر مشتمل اس گروپ کے قائد دلاور خان اور دیگر اراکین مارچ 2024 ء میں سینٹ کی رکنیت سے محروم ہوجائیں گے۔ ایوان میں واپس لوٹنے کی تمنا نے انہیں یقیناً اپنے ”وجود کا احساس“ دلانے کو مجبور کرنا شروع کر دیا ہو گا۔ اسی باعث جمعہ کے دن انہوں نے ”قرارداد“ والی ”شرلی“ چھوڑی۔ پارلیمانی کارروائی کا 1985 ء سے مستقل رپورٹر ہونے کی وجہ سے لیکن میں دلاور خان اور ان کے بنائے گروپ کو جمعہ کے دن چھوڑی ”شرلی“ کا ذمہ دار نہیں ٹھہراؤں گا۔ سینٹ کے چیئرمین۔ صادق سنجرانی۔ نے بھی قوم کو اس دن کئی گھنٹوں تک وسوسوں میں مبتلا رکھنے والی ”شرلی“ چھوڑنے کی شرارت میں بھرپور بلکہ میری دانست میں ”قائدانہ“ کردار ادا کیا ہے۔
پارلیمانی رپورٹروں کی اکثریت بخوبی جانتی ہے کہ جمعہ کے روز سینٹ کے اجلاس مختصر ترین ہوا کرتے ہیں۔ ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی کارروائی کے بعد اجلاس آئندہ ہفتے کے لئے جمعہ کی نماز کے قریب مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ اجلاس مؤخر ہو جائے تو ارا کین کی کافی تعداد جمعہ کی نماز پارلیمان کی عمارت میں موجود مسجد میں ادا کرنے کے بعد چیئرمین سنجرانی کے کمرے میں آجاتی ہے۔ دوپہر کا کھانا وہ اکثر وہیں کھانے کے بعد اپنے ”علاقوں“ کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ جمعہ اس لئے بھی ”غیر معمولی“ نظر آ رہا ہے کہ اس روز سینٹ کے اجلاس کو نماز جمعہ کے بعد بھی جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ واحد مقصد اس کا یہی تھا کہ وہ ”قرارداد“ پیش کرنے کا ”داؤ“ لگاکر قوم کو پریشان کر دیا جائے۔
جس قرارداد کا ذکر ہے وہ اس روز کے ایجنڈے میں یقیناً شامل تھی۔ اسے زیر بحث لانے کے لئے مگر سینٹ چیئرمین اسے ”ترجیحی بنیادیں“ فراہم کرنے کا اختیار استعمال کرنے کو مجبور تھے۔ موصوف نے وہ حق فیاضی سے استعمال کیا اور قرارداد آناًفاناً منظور ہو گئی۔ قرارداد منظور ہو گئی تو نیوز چینلوں میں تھرتھلی مچ گئی۔ بینڈباجہ بارات کے ساتھ ”بریکنگ نیوز“ آئی۔ جس کے بعد اس چینل سے وابستہ ”سینئر تجزیہ کار“ منظور ہوئی قرارداد کے ”ممکنہ اثرات“ کو سنجیدگی سے زیر بحث لاتے رہے۔ بدقسمتی سے محض اپنی عمر کی وجہ سے میرا شمار بھی اب ”سینئر تجزیہ کاروں“ کی جنس میں ہوتا ہے۔ میں قیلولہ کی تیاری میں تھا تو جس ٹی وی سے ان دنوں وابستہ ہوں وہاں سے ٹیلی فون آیا اور اینکروں کے سوالات کے روبرو پیش کر دیا گیا۔
یہ حقیقت سمجھانے میں مجھے ہی نہیں دیگر کئی چینلوں سے وابستہ کئی ”سینئر تجزیہ کاروں“ کو بہت وقت صرف کرنا پڑاکہ سینٹ سے منظور ہوئی ”قرارداد“ اپنے تئیں کسی وقعت کی حامل نہیں ہوتی۔ جمعہ کے روز منظور ہوئی قرارداد اس لئے بھی غور کے قابل نہیں کہ اسے فقط 14 اراکین کی موجودگی میں بارہ سینیٹروں کی حمایت میسر رہی۔ ہمارا ”سینئر“ ہونا مگر حقیقت سمجھانے کے کام نہیں آ رہا تھا۔ بحیثیت قوم ہم ذہنی طور پر خود کو طاقت ور اداروں کی من چاہی خواہشوں کے مقابلے میں قطعاً بے بس ولاچا ر محسوس کرتے ہیں۔ آئین ہمارا ”تحریری“ ہونے کے باوجود اکثر عملی اعتبار سے نافذ نہیں ہوپاتا۔ طاقت ور حلقوں کے رچائے تماشوں کے دہائیوں سے غلام ہوئے اذہان مصر رہے کہ دلاور خان اینڈ کمپنی کو ”مقتدر“ کہلاتے حلقوں سے مذکورہ قرارداد پیش کرنے کا حکم صادر کیا ہو گا۔ موصوف اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے فوری تعمیل ہو گئی۔ ذہنی طور پر لہٰذا اب ہمیں انتخاب کے مؤخر ہونے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ قرارداد کی ”سنجیدگی“ پر توجہ دینے والے ایک لمحے کو بھی دلاور خان اور موصوف کے ساتھیوں کی ”اصل اوقات“ جاننے کو آمادہ نہیں ہوئے۔ بالآخر الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا گیا کو جمعہ کے روز سینٹ سے منظور ہوئی قرارداد 8 فروری 2024 ء کا انتخاب مؤخر نہیں کرپائے گی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے چند معزز ساتھی پہلے ہی سے اس تاریخ کو پتھر پر لکھی تحریر پکارے جا رہے ہیں۔
طاقت ور حلقوں کی سازشوں کے 1950 ء سے عادی ہوئے بے بس ولاچار عوام یہ سمجھنے کو آمادہ ہی نہیں ہو رہے کہ اگر 8 فروری 2024 ء کے روز انتخاب نہ ہوئے تو امریکہ اور اس کے اتحادی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ذریعے ہمیں سری لنکا میں چند ماہ پہلے آئے دیوالیہ کے سپرد کرنے کے بعد پاکستان کو برمایا شمالی کوریا کی طرح عالمی تنہائی کی جانب دھکیلنا شروع ہوجائیں گے۔ اقتصادی اعتبار سے نازل ہوئی عالمی تنہائی کسی ملک کے رہائشیوں کے لئے کیا عذاب لاتی ہے اس کا اندازہ لگانا ہو تو چند روز اپنے ہمسایے میں واقع افغانستان میں گزاریں۔ خدا کے لئے اس ملک پر رحم کیجئے۔ دنیا کے روبرو پاکستان کو مسخروں کا ملک ثابت نہ کریں۔ دلاور خان جیسے کرداروں کو ٹک ٹاک کی وڈیوز کی طرح تصور کرتے ہوئے دل کو خوش رکھیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔


