گاؤں ایک ملنسار اور ایماندار شخص سے محروم ہو گیا


کامیاب لوگوں کی سماجی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو بہتر جگہ بنائیں نہ کہ اس سے صرف ذاتی فائدہ اٹھائیں۔ ہمارے گاؤں جولگرام کے کچھ گنے چنے اشخاص تھے جن کی زندگی کا مطلب لوگوں کو فائدہ پہنچانا اور حالات اور نظام میں بہتری لانا تھا اور جنہوں نے اپنی استطاعت اور فہم کے مطابق سماج میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے کافی کوششیں کیں۔ اگر چہ انہوں نے انسانوں اور سماج کی بہتری کے لئے الگ الگ راستوں کا انتخاب کیا تھا لیکن مقصد ایک ہی تھا، لوگوں کی زندگی کو کیسے بدلا جائے۔ ان میں ایک حاجی فضل اکبر صاحب تھے جو دو جنوری دو ہزار تئیس کو اس دنیا سے رحلت کر گئے۔

حاجی فضل اکبر صاحب بچپن میں پہلے یتیم اور پھر یسیر ہو گئے لیکن خوش قسمتی سے ان کی ایک ہوشیار اور فہم و فراست والی مخلص بہن تھیں جنہوں نے نہ صرف ان کی کفالت کی بلکہ ان کی تعلیم کا خاص خیال رکھا۔ جس دور میں انہوں نے تعلیم حاصل کی، اس وقت تعلیم حاصل کرنا نہ صرف مشکل تھا بلکہ ہمارے دیہاتی علاقوں میں تعلیم پر پیسے لگانا اور اعلا تعلیم کے لئے بڑے شہروں میں جانے اور وہاں ہاسٹلوں میں رہنے کا رواج نہیں تھا، یہ ایک انوکھی بات سمجھی جاتی تھی۔

فضل اکبر صاحب نے مالاکنڈ ہائی سکول سے میٹرک کے بعد لنڈی کوتل کے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں تدریس کی تربیت مکمل کی۔ اس کے بعد پاڑہ چنار وزیرستان اور پھر باجوڑ میں بحیثیت معلم اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ چونکہ وہ ایک قبائلی نوجوان تھے اور قبائلی معاشرے اور قبائلی عوام کے دود اور دستور سے خوب واقف تھے، اس لئے انہوں نے باجوڑ اور وزیرستان میں نہ صرف سکول کے بچوں کی تعلیم اور تربیت کو بہتر بنانا اپنا اولین فرض سمجھا تھا بلکہ وہاں کے لوگوں کو خوش اور مطمئن رکھنے کے لئے اپنے سماجی ہنر کو بھی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔

پھر اس نے ضلع مالاکنڈ کے مختلف سکولوں میں اپنی پراثر اور ہر دل عزیر مواصلاتی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کو پڑھایا۔ ان میں اچھے معلم کی صفات مثلاً تیار رہنا، مثبت رویہ رکھنا، تخلیقی ہونا، شاگردوں سے اچھی توقعات رکھنا، منصفانہ ہونا، ذاتی رابطے کا مظاہرہ کرنا، ہمدرد ہونا، معتدل مزاج ہونا، طلباء کا احترام کرنا، انہیں غور سے سننا، ان کے ساتھ تعاون کرنا اور شاگرد کی ذہنی سطح کو جاننا، یہ سب صلاحیتیں ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ اس لئے جس سکول میں جاتے وہاں کے طلباء اور اساتذہ کا دل جیت لیتے۔

جوانی سے جماعت اسلامی کے رکن ہونے کے ناتے اس کے ذیلی تنظیم، تنظیم اساتذہ سے وابستہ رہے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم میں بہت ہی فعال کردار ادا کرتے ہوئے اساتذہ کرام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مخلصانہ جدوجہد کرتے رہے۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں جب فضل حق صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے گورنر تھے تو اساتذہ نے اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے ایک تاریخی احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاج کی شدت کو دیکھ کر فضل حق جیسے سخت اور مطلق العنان گورنر نے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔

فضل اکبر صاحب اس احتجاج میں بہت سرگرم اور فعال تھے اور اپنی اس پرجوش اور بے باک سرگرمی کی وجہ سے جیل بھی گئے تھے۔ وہ اساتذہ کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتے تھے۔ میں ڈھیری جولگرام اور اس کے مضافات کے سو سے زیادہ اساتذہ کو جانتا ہوں جو فضل اکبر صاحب کی کوششوں سے بھرتی ہوئے ہیں اور میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ گاؤں کی سطح پر پیپلز پارٹی کے رہنماء اور سابقہ وفاقی وزیر محمد حنیف خان مرحوم اور بہت مشہور ریٹائرڈ سول سرونٹ شفیع اللہ خان (مرحوم) کے بعد جس بندے نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو روزگار دلوانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے، وہ فضل اکبر صاحب ہیں۔

وہ ثابت قدمی، استقلال اور کفایت شعاری کا استعارہ تھے۔ انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کی۔ مستقل مزاجی کا ایک درخشندہ مثال تھے۔ وہ ہمارے گاؤں کے ان چھ نمایاں افراد میں شامل تھے جنہوں نے انیس سو ستر سے اپنی زندگی کے آخری دم تک سیاسی وابستگی تبدیل نہیں کی۔ کفایت شعاری کے ساتھ ساتھ وہ حد درجہ کے مہمان نواز تھے۔ اپنے محدود وسائل میں اپنے اور اپنے خاندان کی تمام ضرورتوں کو با عزت طریقے سے پوار کرتے تھے۔

بائیس جنوری دو ہزار تئیس کو جب میں پاکستان گیا تھا تو وہ میرے پاس ملنے کے لئے آئے تھے۔ باتوں باتوں میں اپنے پنشن کو خرچ کرانے کی روداد اتنی سچائی اور مسحورکن انداز میں بیان کی کہ مجھے ان کے انداز پر رشک آیا کہ کاش ہم بھی اس طرح اللہ کی طرف سے دی گئی عنایات پر شکر ادا کرسکیں۔ کیونکہ اپنے پنشن خرچ کرنے کی تفصیل میں جو طریقۂ کار انہوں نے بتایا تھا، اس میں ان کی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے محبت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی نعمتوں پر شکر، صبر و قناعت اور کفایت شعاری کی وصف جھلک رہی تھی۔

یہاں میں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کی میرے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔ جب بھی میں پاکستان جاتا تو سب سے پہلے خوش آمدید کے لئے وہ تشریف لاتے اور کھانے کی پرخلوص دعوت دیتے حالانکہ یہ جانتے ہوئے کہ میرے اور ان کی سیاسی راہیں جدا ہیں لیکن پھر بھی وہ میری حد سے زیادہ عزت کرتے تھے اور مجھے اس پر فخر ہے کہ ایک ایماندار اور باکردار شخص کا مجھ جیسے ناچیز کے ساتھ محبت اور عزت کا سلوک ان کی اعلا ظرفی کا مظہر تھا۔

وہ ایک ایماندار اور باکردار شخصیت تھے۔ قرآن و حدیث اور لوگوں کے سماجی رویوں کا ادراک رکھتے تھے۔ اس لئے ان کے بیان اور تقریر میں ایک خاص تاثیر تھی۔ ان کے کلام اور گفتگو میں اسلامی اور قبائلی ٹچ ہوتا جس کی وجہ سے لوگوں پر ان کی باتیں ناگوار نہ گزرتیں۔ اگر چہ ان کا انداز بیاں غصیلا لگتا تھا لیکن وہ ہر بات دلیل کے ساتھ اور کسی کی پرواہ کیے بغیر دو ٹوک انداز میں بیان کرتے۔

گاؤں اور علاقے کے لوگ فضل اکبر صاحب پر حد سے زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ اس وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرتے تھے اور ان کی مخلصانہ کوششوں سے علاقے کے بہت سے تنازعات حل ہو گئے ہیں۔ ہمارا اپنے چچا اور چچازاد بھائیوں کے ساتھ ایک تنازعہ چل رہا تھا جو فضل اکبر صاحب کی مدد سے حل ہو گیا تھا۔

وہ عاجز مزاج اور ملنسار انسان تھے۔ انسانوں سے ان کے تعلقات ذات پات، رنگ و نسل اور سماجی حیثیت سے بالکل مبرا تھے۔ وہ ہر ایک کو انسان سمجھ کر بات کرتے تھے۔ مجھ جیسے سماجی طور پر غریب اور عاجز شخص کے ساتھ نہایت محبت سے پیش آنا ان کی عاجزی اور خاکساری کا ثبوت ہے۔

اللہ تعالی دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے لیکن ظاہری طور پر فضل اکبر صاحب کا کردار ہر حوالے سے قابل رشک اور قابل تعریف تھا۔ خداوند تعالیٰ ان کی روح کو ابدی سکون اور عافیت سے نوازے۔

Facebook Comments HS