نجمہ صادق؛ کس کو یاد ہیں؟


فیمینزم آج کا فیشن بن چکا ہے۔ بالکل موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی امور پر بات کرنے اور ڈونرز کے فنڈز سے فیضیاب ہونے کی طرح۔ چٹکی بجانے سے بھی پہلے دانشور اور ماہرین جنم لے رہے ہیں۔ جس میں کافی کمال جدید ٹیکنالوجی کا ہے۔ صورت حال کچھ یوں ہے کہ ایک ٹویٹ پر آپ کو نوبل انعام بھی مل سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ آپ کی نسلی شناخت اور مزاحمت کا نشانہ وہ ہوں جو دنیا چلانے والوں کو اور ان سے منسلک لابی کو پسند ہوں۔ یہ سہولت ان کو ہرگز مہیا نہیں کی جاتی جو بلاوجہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیوں نا ہر نا انصافی ہر ظلم ہر گڑبڑ پر تحقیق کر کے خوبصورت، شفاف انگریزی تحریر سے اور دیانت دارانہ ایکٹی وزم سے آگاہی اور شعور پھیلایا جائے اور حق صحافت اور مزاحمت ادا کیا جائے؟

آج جب کہ خود مجھ کو سماجی ترقیاتی شعبے اور صحافت سے وابستہ ہوئے تین دہائیوں سے زائد عرصہ ہو گیا ہے میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیا ہمارے قابل احترام اتالیق / منٹورز غلط تھے کہ انھوں نے ہمیں مارکیٹنگ کے گر نہیں سکھائے؟ انھوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ فیمنسٹ کی طرح زندگی مت گزارو بلکہ اس کو سوشل میڈیا پر مقبول ہونے کے لیے یا فیلو شپ کے لیے یا ڈپلومیٹک کلب میں داخل ہونے کا پروانہ جانو؟ یہ نہیں بتایا کہ گرمیوں کی چھٹیاں کسی بڑے ٹھنڈے ملک میں گزارو اور سردیاں پاکستان میں۔ دہری تہری شہریت رکھو اور انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، امن، ماحولیات، موسم اور بھوک پر کام کرنے والے کمیشنز پر اچھا عہدہ حاصل کرو؟ ہمیں تو یہ بھی نہیں بتایا کہ کیسے سچ کو چھپانا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بے باک صحافی کا ایوارڈ لینا ہے؟

اب تو اپنی تربیت، اپنی اخلاقی اقدار کے نظام اور اپنی اساتذہ کی فہرست میں شامل ناموں کی سند پر بھی کبھی کبھی شک ہونے لگا ہے لیکن کیا کریں اب آخری وقت میں کیا خاک مسلمان ہوں گے؟

اسی بھولی بسری پگڈنڈی پر چل رہے ہیں جو نجمہ صادق کا راستہ اور عقیدہ تھی اور جس کا نام سچائی تھا کہ ڈپلومیسی فارن آفس کا کام ہونا چاہیے نہ کہ صحافیوں اور حقوق سے جڑے کارکنان کا۔ اس رہ گزر میں کانٹے ہیں۔ صحافت مصالحت یا مصلحت نہیں ہوتی۔ لیکن مکمّل سچ بول کر، لکھ کر برت کر، رد کیے جانے، اور بھلا دیے جانے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ اور یہ بوجھ ان کے لئے اور بھی زیادہ اور یقینی ہوتا ہے جن کا تعلق نہ تو اشرافیہ سے ہو نہ وہ صحیح ڈومیسائل کے حامل ہوں۔ جن کے پاس یہ دونوں مراعات ہوتی ہیں وہ وکٹ کے دونوں طرف آسانی سے کھیلتے ہیں اور مستند لبرل، ترقی پسند وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔

یہ بات لکھتے ہوئے بھی میرا دل رو رہا ہے کہ میں نے ہمیشہ علاقائی تعصب سے بلا تر ہو کر اس وطن کے ہر حصّے میں کمیونٹی کے ساتھ کام کیا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں۔ 8 جنوری کو نجمہ صادق کی نویں برسی تھی۔ وہ نجمہ صادق جن کے نام اور کام سے پاکستان کے بڑے شہروں کی مہنگی جامعات کے جینڈر اسٹڈیز یا فیمینزم یا صحافت یا ابلاغ عامہ کے طالب علم کیا کئی اساتذہ بھی واقف نہیں اور واقف کیوں کر ہوں جب ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ایک خاص انداز کے لوگوں کا راج ہو۔

نجمہ صادق کا تعلق سابقہ مشرقی پاکستان سے تھا لیکن 1971 کے سانحے کے بعد انہوں نے اپنی خانگی زندگی کی خوشی کو چھوڑ کر کراچی میں ہی قیام کرنا پسند کیا۔ نجمہ صادق کے والدین برصغیر کے پہلے مسلمان تھے جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹریٹ تھے۔ یہ وہی نجمہ صادق ہیں جو بہت شاندار پینٹنگز بھی کرتی تھیں اور وومن ایکشن فارم اور شرکت گاہ جیسے تاریخ ساز اداروں کی بانی ممبران میں شامل تھیں۔

ایک وقت تھا کہ نجمہ صادق کی انگریزی صحافت کے چرچے تھے لیکن ان کو ان کی 72 سالہ زندگی کے آخری سالوں میں توہین آمیز حد تک نظر انداز کیا گیا۔ نام نہاد روشن خیال لوگوں اور بڑے صحافتی اداروں نے شرمناک جد تک ان کی زندگی اجیرن کر دی۔ ان کے شاندار کاموں کو، فیمینزم اقتصادیات، کارپوریٹ سیکٹر کی شیطانیوں، غربت اور ماحول کے حوالوں سے ان کے بے مثال گراں قدر حصّے، کو ان کی کاوشوں کو ہمارے اکثر و بیشتر سماج سازوں، سوشل ڈویلپمنٹ انڈسٹری کی خواتین لیڈرز اور میڈیا نے، شاید اپنی کم عقلی، کم ظرفی اور کم مائیگی کے کمپلیکس کی بدولت، بھلانے میں ہی عافیت سمجھی۔

ویسے بھی اسلام آباد جیسے شہر اقتدار میں کسی طرح اپنے آپ زندہ کو رکھ کر، صحافتی معیار اور مزاج کو سمجھ کر اور رائج پیمانوں کو دیکھ کر اتنا ادراک تو مجھ کو بھی ہو ہی گیا ہے کہ کیا بکتا ہے اور لوگ صرف ان کو یاد رکھتے ہیں جن سے فائدہ ہونے کا یقین ہو یا نقصان پہنچنے کا اندیشہ یا وہ کم از کم شام کی محفلوں میں یا ٹک ٹوک پر تو ہوں۔

 

Facebook Comments HS