ایمسٹرڈیم کی ہیرا منڈی
آج کل محترمہ، بلکہ ہماری میم، بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب، ہماری آدی نور الہدی شاہ آج کل یورپ کے دورے پر ہیں اور جہاں جاتی ہیں وہاں کی تصویریں اور ویڈیوز ہمارے ساتھ شریک کر رہی ہیں، گویا ہم بھی ان کے ساتھ ساتھ وہاں کی سیر میں ایک طرح سے شریک ہیں، لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ ان تصویروں اور ویڈیوز میں ان کی اپنی خودنمائی کہیں دور دور بھی نہیں آ رہی ہے، بس صرف اس جگہ، عمارت یا مشہور شخصیت یا شخصیات کی تصویریں یا مجسمے سامنے لاتے ہیں اور اس پر ایک چھوٹا سا کیپشن لکھا ہوا ہوتا ہے۔
آج جب صبح صبح موبائل آن کیا تو آدی نے ایمسٹرڈیم کے ہیرا منڈی کی گلی کی تصویر پوسٹ کی تھی اور اس سلسلے میں ایک نثری نظم کی طرز پر ایک جمالیاتی اسلوب میں تخلیقی مشاہدے کی وساطت سے تجربے کی مرام تک پہنچ گئی تھی۔ پہلے وہ میں آپ سے شیئر کرتا ہوں پھر مزید گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ایمسٹرڈیم کی ہیرا منڈی۔
لکھا ہے،
we are not prostitutes, we are sex therapists.
میں نے کہا، سچ کہتی ہو بیبیو! ہمارے ہاں ذہنی و جسمانی مریضوں کی تیماردار بیبیوں کو شفا خانوں سے اٹھا دیا گیا، اب معصوم بچے ان کے مرض کا شکار ہوتے ہیں۔
جس چیز نے اس ہیرا منڈی کی گلیوں سے گزرتے ہوئے متاثر کیا، therapists خواتین سبھی، کھڑکیوں میں بیٹھی اپنے اپنے فون میں مصروف تھیں اور گزرنے والے یوں گزرتے رہے جیسے کچھ ایسی بھی بھوک نہیں نگاہ نفس کو!
اتنی شفاف نظروں کے ساتھ تو ہمارے ہاں شریفوں کے محلوں سے بھی لوگ نہیں گزرتے۔
اس ہیرا منڈی سے ملحقہ چرچ گھنٹے بجا بجا کر اعلان کرتا رہا کہ ذرا سنبھل کے گزر ارے او بے خبر!
چرچ کے چاروں اطراف جگہ جگہ سرخ بتیاں جلتی دکھائی دیں۔ مطلب شفا خانہ مریضوں کے لیے کھلا ہے۔ مرضی ہے، اس حکمت کی دوا حاصل کرو یا اس حکمت کا دارو پیو!
عجب معاملہ ہے یہ بھی! لاہور کی ٹبی گلی برس ہا برس بادشاہی مسجد کے سائے میں آباد رہی!
دیوار کے دوسری طرف اقبال سویا ہوا ہے۔
غالب نے کیا خوب کہا ہے،
مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے
یہ بندۂ کمینہ ہم سایۂ خدا ہے!
اصل میں بھوک کیا ہے؟ میرے خیال میں حاجت شکم سیری کے علاوہ کچھ بھی نہیں، لیکن جن کی آنکھیں بھوکی ہو وہ حاجت شکم سیری کے باوجود بھی آنکھوں سے کھانے سے بس نہیں کرتے اور نظروں کے نوالے، دانتوں کے چبانے اور زبان کو لبان پر پھیر کر دھن کے لعاب کے قطرے کچھ خارج اور کچھ داخل میں ٹپکاتے ہیں، ایسے لوگ شرفا کی طرح کیسے شکار گاہ کے سامنے سے گزر سکتے ہیں۔
ہر چیز کی اپنی جگہ اور ہر مال یا پیداوار کی اپنی اپنی جگہیں، منڈیاں یا بازار ہوتے ہیں جہاں پر اس مال، پیداوار یا رسد کی مانگ طلب یا بیوپار ہوتا ہے۔ ہر بازار یا منڈی میں تھوک اور پرچون کا بیوپار ہوتا ہے۔ تھوک کے مال میں گانٹھ خریدے جاتے ہیں، جو پہلی بار کھولا جاتا اور اس مال میں لوگوں کا چھوڑا یا بھولا ہوا سامان پیسے یا دیگر چیزیں بھی لینے والوں کے ہاتھ لگتے ہیں۔ جبکہ پرچون والے کھلا یا لوز یا پھر بکھرا ہوا مال لیتے ہیں جن میں سے پہلے لوگ چھوڑا یا بھولا ہوا مال نکال لیتے ہیں۔
ہیرا منڈیوں یا اس طرز کے کاروبار بزنس یا تھراپی کے لئے بھی ہمارے ہاں دیگر ممالک کی طرح اپنے اپنے مخصوص جگہیں یا گلیاں ہوا کرتی تھیں، جیسے لاہور میں ہیرا منڈی یا کراچی میں نپئیر روڈ لیکن کہتے ہیں کہ جنرل ضیا ء الحق نے یہ چیزیں ختم کیں اور ان مخصوص جگہوں پر پابندی لگا دی۔ تو یہ بھی ایک سائنسی مسلمہ اصول ہے کہ جس چیز کو آپ جتنی شدت سے دباتے ہیں اتنی شدت سے وہ پھیلتا بھی ہے۔
اور وہ جگہیں جہاں لوگ سمجھتے تھے کہ یہ شرفا کے رہائشی علاقے ہیں وہاں بھی پہلے چوری چھپے اور بعد میں آزادانہ طور پر اس تھراپی طرز کا کاروبار ہونے لگا اور اس کی پشت پناہی با اثر افراد کے ساتھ ساتھ اس جیورس ڈکشن کے تھانوں نے بھی کیں۔
اب شرفا نیچی نظریں کر کے چلیں یا اونچی نظر کر کے آگے بڑھیں وہ اب ان کی بس کی بات نہیں رہی۔ اب شرفا اور غیر شرفا، آپس میں گڈ مڈ ہو چکے ہیں اب پیسوں اور ظاہری جاہ جلال سے شرافت دیکھی جاتی ہے۔ بڑے بڑے بنگلے، بڑی بڑی گاڑیاں اور بڑے بڑے عہدے اب شرافت اور غیر شرافت کی کسوٹی ہے۔ شرفا اور غیر شرفا میں اب بس اتنا فرق رہ گیا ہے کہ شرفا اس وقت تک شریف ہوتے یا رہتے ہیں، جب تک غیر شرفا نے ان کو اپنی جانب آمادہ یا للکارا نہ ہو اور جونہی وہ اس حربے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر شرفا وہ عمل روا اور ناروا پر اتر آتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔
ہمارے ہاں ہیرا منڈیوں نے شو بزنس کے راستے وہ، وہ شخصیات پروڈیوس کیے ہیں کہ وہ اب شرفا ہی نہیں مہا کے شرفا ہیں۔ ٹیلنٹڈ ہیں، سلیقہ مند ہیں، ہنر مند ہیں، لکھاری ہیں، ڈاکٹرز ہیں، انجینئرز اور صحافی ہیں اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہیں۔
ہم ان غیر شرفا کو حرف عام میں دو نمبر بولتے ہیں۔ دھندوں والے بولتے ہیں، حرام کی کمائی والے گردانتے ہیں۔ لیکن ہم نے جانتے بوجھتے کبھی لوٹ کھسوٹ کرنے والے شرفا یا رشوت لینے دینے والے شرفا، وائیٹ کولر کرائم میں ملوث شرفا، منشیات، ذخیرہ اندوزی گراں فروشی، ملاوٹ ناپ تول میں کمی کرنے والے شرفا۔ اجرتی قاتلوں، منی لانڈرنگ، ہائیڈرنٹ مافیا، انکروچرز میرٹ کے بجائے ڈی میرٹ کے بل بوتے پر نشست کے گھس بیٹھیے اور اس طرز کے دیگر سفید پوش شرفا کو کبھی غیر شرفا نہیں کہا بلکہ سلف میڈ، ذہین، فطین، چالاک، سمجھدار اور وقت کے ساتھ ساتھ چلنے والے پکارے اور یاد کیے ہیں۔
ہر وہ دھندا گندا ہے جس میں دو نمبری ہو خوا وہ ہیرا منڈی کا ہو یا زیرہ منڈی کا۔ شرف و ظرف اندرونی احساس کا نام ہے۔ شرف ظرف ظاہری عمل کا نتیجہ ہے۔ شرف ظرف سماجی توازن، ناپ تول اور پیمائش کا نام ہے۔ شرف و ظرف دوسرے کے جھکانے کا نہیں خود کے جھکنے کا نام ہے۔ شرف و ظرف جوائنٹ ونچر کا نام ہے۔ شرف و ظرف میں تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ مساج اور سیکس تھراپی بھی دونوں ہاتھوں سے ہوتی ہے جسے شرفا اور غیر شرفا کے جوائنٹ ونچر کا نام بھی دیا جا، سکتا ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ ہیرا منڈی میں ہو یا کسی پوش علاقے کی کسی پوش عمارت کے کسی پوش منزل کے کسی پوش کمرے کے کسی پوش بیڈ پر ہو۔


