اہل علم اور صوفیا کے در پر


چودہواں حصہ

بغداد کی سجری سویر دریچے سے لگ کر صبح کے مناظر دیکھے۔ تسبیح اور دعائیں کیں۔ نسیم نے کمرے میں رکھے چائے کے سامان سے چائے بنائی۔ خود پی اور مجھے پکڑائی۔ چائے پیتے ہوئے میں باہر کے نظارے کرتی رہی۔ ہو ٹل کے لان اور روشیں چپ کی ردا اوڑھے ہوئی تھیں، جب کہ سڑکوں پر زندگی جاگ اٹھی اور گاڑیوں کی جلتی بجھتی روشنیاں اور آمدورفت اس کی مظہر تھیں۔

دس بجے ہم ناشتے کے لئے گئے۔ چونکہ یہاں زیادہ تر سفارت کاروں کی رہائش ہے تو ناشتے اور کھانے میں مغربی، چائنیز اور عربی ہر طرح کے کھانے موجود ہوتے ہیں۔ سلاد میں کئی اقسام کے پتے رکھے ہوتے ہیں جو انگریز مرد وزن صبح صبح بڑی رغبت سے کھا رہے ہوتے ہیں۔ دوسرا یہاں تربوز بھی بڑے شوق سے کھا یا جاتا ہے۔ انہیں کھاتے دیکھ کر امی یاد آتیں کہ جو سخت گرمی میں صبح تربوز جب کھانے کو دیتیں تو چائے دو گھنٹے کے بعد ملتی۔ ہمارے ہاں تربوز کھانے کے جو اوقات اور ادب آداب ہیں، نسیم اب بھی سختی سے ان پر کاربند ہیں۔ سچ ہے کہ بچپن کی سکھائی گئی عادات عمر بھر ساتھ چلتی ہیں۔ بہرحال مغربی اور مشرقی لوگوں کی غذا، لباس اور اطوار کا مشاہدہ کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ تھا۔

ناشتہ کر کے آج عائشہ بھی احمد کے ساتھ چلی گئی کہ اس روز یہاں کے ایک معروف اخبار کے لئے اس کا انٹرویو تھا۔ اس کے جانے کے بعد میں اس کی کامیابی کے لئے دعا اور نظر کی سورتیں پڑھتی رہی۔ ظہرانہ پر عائشہ خوش خوش واپس آ گئی کہ الحمدللہ الحمدللہ اس کا انٹرویو اچھا رہا۔

ہم لوگ کچھ دیر قیلولہ کرتے اور پھر تیاری کرتے ہیں کہ آج تین چار زیارات پر حاضری دینی ہے۔ اس لیے ساڑھے پانچ بجے تک تیار ہو کر نیچے آتے ہیں۔ کمرے کے خنک ماحول میں موسم کی تپش اور شدت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ باہر موسم شدید گرم اور دھوپ ایسی سخت اور سرخ کہ آنکھوں میں چبھ رہی ہے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی موسم خوشگوار اور ہم شکر گزار ہوئے جاتے ہیں۔ گرین زون کے سرسبز علاقے اور بلند و بالا عمارات کو دیکھتے ہوئے کشادہ سڑکوں پر سفر کرتے ایک دم کچے راستے پر ہو لیتے ہیں اور تھوڑی دیر میں گاڑی رکتی ہے تو حیران ہوتے ہیں کہ یہ اتنے قریب تھا۔ چند سیڑھیاں چڑھ کر ہم اندر ایک کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ سخت گرمی میں مزار کے متولی بھاگے بھاگے آتے ہیں۔ ٹھنڈا پانی پیش کر کے خوشدلی سے استقبال کرتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ جس میں لکڑی کے جیفری نما حصار میں جنید بغدادی اور ان کے ماموں سری ثقفی کا مزار ہے۔ میرے ہاتھ محترم شجاعت راہی صاحب کی کتاب ”نالۂ شب گیر“ ہے مزار کے دروازے کے ساتھ کھڑی ہو کر چند اشعار پڑھتی ہوں۔

مر جاؤں تو حیات سے بہتر حیات دے
دوزخ کی جلتی نار سے مجھ کو نجات دے

یہ اور اس طرح کے اشعار کی زبانی حرفِ دعا زبان پر لائی۔ دست ِدعا بلند کیے اور سب کے لئے دعائیں کیں۔ خاص طور اپنے ملک کے لئے کہ جس کے ہونے سے ہم سب ہیں اللہ اسے قائم و دائم رکھے۔

جنید بغدادی کی ولادت تیسری صدی ہجری کے اوائل میں عراق کے عروس البلاد شہر بغداد میں ہوئی۔

نام جنید بن محمد بن جنید ہے، ابو القاسم آپ کی کنیت ہے۔ آپ کا آبائی علاقہ نہاوند ہے لیکن آپ کی پیدائش و پرورش بغداد میں ہوئی۔ آپ کے خطابات و القابات میں لسان القوم ”طاؤس العلماء، سلطان المحققین“ عمدۃ المشائخ ”“ ماہر شریعت ”،“ چشمۂ انوار الٰہی ”اور“ منبع فیوض لا متناہی ”سید الطائفہ اور امام الائمہ تھے۔

مشہور و معروف صوفی سری سقطی کے بھانجے، مرید اور شاگرد تھے۔ خطیب بغدادی کہتے ہیں : ”انہوں نے بغداد میں رہتے ہوئے سماعِ حدیث کیا، علمائے کرام سے ملاقاتیں کی، ابو ثور سے فقہ پڑھی، متعدد نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جن میں حارث محاسبی اور سری سقطی شامل ہیں۔ اس کے بعد عبادت گزاری میں مشغول ہو گئے اور اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور بہت شہرت پائی، یہاں تک کہ علم الاحوال اور وعظ کے لیے اپنے وقت کے یگانہ روزگار شیخ بن گئے۔

اہل علم نے جنید بغدادی کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے ہیں : حافظ ابو نعیم کہتے ہیں : ”جنید ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے شرعی علم کو مضبوط بنایا۔“

ابن تیمیہ کہتے ہیں : ”جنید بغدادی کتاب و سنت کے شیدائی تھے۔ آپ اہلِ معرفت میں سے ہیں۔“

حافظ ذہبی کہتے ہیں : ”آپ اپنے زمانے کے شیخ العارفین اور صوفیا کے لیے نمونہ تھے، اپنے وقت کے نامور ولی تھے، اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں۔“

جس وقت ان کی موت کا وقت آیا تو قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، تو انہیں کسی نے کہا: آپ تھوڑا آرام کر لیتے تو انہوں نے کہا: ”اس وقت مجھ سے بڑھ کر کسی کو قرآن کی ضرورت نہیں ہے، یہ وہ لمحہ ہے جس لمحے میں میرا صحیفہ بند کر دیا جائے گا۔“

آپ کا وصال بکمال 27 رجب بروز جمعہ 297 ہ 910 ء میں ہوا، آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے فرزند قاسم جنیدی نے پڑھائی۔ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

جنید بغدادی کے مزار کے پائنتی سرہانے گھوم گھام کر لکڑی کی جالیوں کو چھو کراس عالم بے بدل کے مزار کو دیکھتی اور دعائیں کرتی رہی۔ ان کے سرہانے کی طرف ایک اور مزار تھا جو ان کے ماموں سری ثقفی کا تھا۔ نجف اشرف، کربلائے معلیٰ میں جن برگزیدہ ہستیوں کے مزار اقدس پر حاضری دی، وہ شان و شوکت جلال جمال لئے ہوئے شاندار مزارات تھے جہاں سونے کا استعمال کیا گیا تھا۔ عمارات، مساجد، درودیوار، کھڑکیاں اور دروازے غرض ہر چیز اعلیٰ فن کا نمونہ اور شان رکھتی تھی۔ پھر شیخ عبدالقادر جیلانی کا چاندی جیسا چمکتا دمکتا نقرئی دروازہ اور جالیاں اور اب یہاں لکڑی کا ، جو سادگی کا مظہر تھا جہاں صرف ہم ہی تھے۔

یہاں سے نکلنے لگے تو چند خواتین اندر داخل ہوئیں۔ یہاں سے نکل کر سامنے ہی بہلول دانا کا مزار تھا۔ وہی بہلول دانا جن کے قصے اور باتیں پر از حکمت ہیں۔ چھو ٹی سی چاردیواری کے ساتھ مختصر سا صحن اور چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اندر مزار بھی غریبانہ سا تھا۔ باقی قبروں کے تعویز زمین سے کافی اونچے بنے ہوئے تھے جب کہ بہلول دانا کا زمین کے برابر تھا۔ یہ اب تک کے مزاروں میں سب سے زیادہ سادہ اور درویشانہ تھا۔ نہ کوئی فانوس، نہ تام جھام، نے چراغے، نہ گلے کی تفسیر پیش کرتا ہوا اس مرد درویش کا مزار جو شاہی خاندان اور آسائشیں چھوڑ کر فقیری لباس پہن لیتا ہے۔ اس کے پر از حکمت قصے فکر کے نئے چراغ جلاتے، علم و دانش کی کرنیں بکھیرتے رہے۔ اس کے لیے عقیدت و محبت سے دعا کی۔
جاری ہے

Facebook Comments HS