داستانِ فلسفہ


فلسفہ کیا ہے؟ اِس سوال کا تاحال کوئی مُسلّمہ اور متفقہ جواب نہیں ملتا۔ نہ جانے فلسفہ کی شناخت کو کیوں معدوم کیا گیا اور اُسے پارہ پارہ کر کے مختلف شکلوں میں تقسیم کر دیا گیا؟ پھر فلسفہ پر ستم ڈھایا کہ اِس کی علمی حیثیت کا ہی انکار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ فلسفہ کا کوئی ثِقّہ مضمون ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ علم نہیں ہے۔ فلسفہ کے ایک معروف پروفیسر لکھتے ہیں کہ ”فلسفے کی ماہیت اور دائرہ کار کے متعلق فلسفیوں میں اتفاق رائے نہیں ہے اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ فلسفہ بنیادی طور پر مضمون نہیں، بلکہ سرگرمی ہے۔“ (فلسفہ کیا ہے؟ مُرتّبہ ڈاکٹر وحید عشرت)

پھر ایرے غیرے کے ذاتی خیالات اور ثقافتی اقدار کو فلسفہ کہا جانے لگا۔ فلسفہ کا رشتہ سائنس اور اِنسان سے توڑ دیا گیا۔ فلسفہ کا بنیادی سوال یہ ٹھہرا کہ مادّہ پہلے پیدا ہوا تھا یا خیال یعنی ذہن۔ مادّے نے خیال کو پیدا کیا تھا یا خیال نے مادّے کو۔ چند ذہنوں کی اس پر ناقابلِ فہم بحث و تمحیص کو فلسفہ کہا جانے لگا، جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یوں یہ حضرات پہنچ گئے بند گلی میں، وہاں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا۔ یہ خود کی پہچان بھی بھول گئے اور فلسفہ کی بھی۔ شناخت کرنا مشکل ہو گیا کہ اصل میں فلسفہ کیا ہے اور فلسفی کون ہوتا ہے؟ حالانکہ فیثا غورث فلسفی کی زندگی کا تعارف کراتے ہوئے، بین السطور فلسفہ کی حقیقت بھی واضح کر گئے تھے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ فلسفی کی زندگی کا مقصد سماجی اقدار کا علم و تجربہ حاصل کرنے کے علاوہ مطالعہ فطرت اور انکشافِ ہستی ہوتا ہے۔

فلسفہ کی پہچان اور دائرہ کار کو سکاٹ لینڈ کے معروف فلسفی کیرڈ (Caird) کیا خوب بتاتے ہیں، وہ اپنی کتاب (Philosophy of Religion) میں لکھتے ہیں۔

” کُل سرچشمہِ حقیقت اور تمام تجربی شواہدِ اِنسانی میں سے کوئی بھی ایسی شے باقی نہیں رہ جاتی کہ اُس کا مطالعہ فلسفہ کی حدود سے باہر ہو۔ یا یہ کہ فلسفیانہ تحقیق اِنہیں مزید آگے نہ بڑ ہا سکتی ہو۔ فلسفہ اپنے تہہ بہ تہہ گہوارہِ علم میں ایک منظم، جامع اور منطقی طور پر حصول کرد ہے تمام میدانِ علم کی صداقتوں کی توجیہ اور توضیح کی ایک کوشش کا نام ہے جو حیات و کائنات کو ایک کَل کی حیثیت میں منضبط کرتا اور پرکھتا ہو اور وہ میدانِ علم مظہریت، حقیقت، علمیت اور اقداریت جیسے علوم کا ایک محیط کُل ہے۔ “ (فلسفہ کیا ہے؟ مُرتّبہ ڈاکٹر وحید عشرت)

بہر حال یہ حقیقت ہے کہ فلسفہ ایک مربُوط اور مبسُوط علم ہے بلکہ اُم العلوم ہے۔ میری مراد اُس فلسفہ سے ہے، جس کے معنی عقل سے محبت کے ہیں۔ یاد رہے کہ عقل سے عاری کوئی علم فلسفہ نہیں ہوتا۔ اِس فلسفہ کا آغاز یونان سے ہوا تھا اور پھر یہ جغرافیائی حدیں توڑ کر عالمی فلسفہ بن گیا تھا۔ اُس کی اوّلین شناخت یہ ہے کہ وہ حیاتیاتی و طبیعیاتی کائنات کے حقائق اور سچائیاں تلاش کر تا ہے۔ اِس کا آغاز یونانی فلسفی تھیلیز نے کیا تھا۔ اُس کی دریافت ہے کہ یہ کائنات ایک مشین کی مانند ہے، جو فطری قوتوں کے تحت چل رہی ہے۔ اِس کے رموز جاننے کے لئے سوال اُٹھانا چاہیے کہ یہ کیا ہے؟ اُس کے شاگردوں انکسی مینڈر اور انکسی مینیز نے اِس فکر کا تعلق سائنس سے اُستوار کیا اور خوب پروان چڑھایا۔ برٹرینڈ رسل نے اِن کی سائنسی حیثیت کو تسلیم کیا ہے۔ فیثاغورث نے اِس فکر کو فلسفہ کا نام دیا اور خود کو فلسفی کہا۔ سقراط نے اِسے انسان کی روزمرّہ زندگی (اخلاقیات) سے ہم آہنگ کیا۔ سماجی سچ تلاش کر نے کے گُر سکھائے اور دلیل و فلسفہ پر قربان ہو نے کی رسم ڈالی۔ یوں فلسفہ کی آبیاری یونان میں ہوتی رہی۔

تا ہم افلاطون اور ارسطو اُسے اعلیٰ علمی مقام پر لے گئے۔ اُنہوں نے اِنسانی سماج اور طبیعیاتی کائنات پر سیر حاصل فلسفیانہ مباحثات کیے۔ بیشتر علمی موضوعات کے پوشیدہ راز منکشف کیے اور جدید نظریّے مرتّب کیے، جس سے اِنسانی فکر و نظر میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ بلا شبہ اُن کی تحقیقات و انکشافات آج بھی راہنمائی کر رہے ہیں۔ تاحال اِنسان ورطہِ حیرت میں ڈوبا ہوا ہے کہ یونان میں ایسا کیونکر ہوا تھا؟ امام غزالی کی معروف کتاب۔ ’تہافتہ الفلاسفہ‘ کے مفسّر مولانا محمد حنیف ندوی لکھتے ہیں۔

”خطہ یونان کو اس بارے میں جو امتیاز و تفوق حاصل ہے اس کا کوئی حریف پیدا نہیں ہو سکا۔ دنیا کے کسی لٹریچر میں اُس کی کوئی مثال پائی نہیں جاتی۔ صرف اِس خطہ کو یہ شرف کیوں حاصل ہوا کہ یکے بعد دیگرے یہاں سقراط، افلاطون اور ارسطو ایسی عظیم شخصیتیں پیدا ہو گئیں، جنہوں نے تمام نوعِ اِنسانی کے لئے فکر و تعّمُق کی راہیں ہموار کیں۔“ (تہافت الفلاسفہ از مولانا محمد حنیف ندوی)

معروف دانشور مولانا عبد الماجد دریا بادی، یونانی فلاسفہ کے اِن علم و حکمت کے کارناموں پر لکھتے ہیں۔

” فیثاغورث، اقلیدس، دیو جانس، سقراط، افلاطون، ارسطو کو پیوند خاک ہوئے آج ہزاروں سال گزر چکے، تاہم یہ حیات جاودانی کی بزم کے مسند نشین ہیں۔ ان کے نام اِس وقت تک علمی تاریخ کے صفحات کے لئے باعث زینت ہیں اور اِن کے کارناموں کا ہر اعادہ ہماری تعظیم و احترام کے قویٰ کو تحریک دیتا ہے۔“ ( مبادی فلسفہ از مولا نا عبد الماجد دریا بادی )

معروف مفکر مولانا ابوالکلام آزاد ؔ فلسفہ کیا ہے؟ کی راہ دکھاتے ہیں، وہ لکھتے ہیں۔

” فلسفہ کیا ہے؟ جب ہم حقائق اور معارف سے بحث کرتے ہیں تو ہمیں دو راہیں اختیار کرنی پڑتی ہیں، ایک راہ وہ ہے جس کا مبداء اور منتہا الہام اور روایات ہیں۔ اِس راہ کو ہم مذہب کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسری راہ کا دار و مدار عقل و خرد کی کارفرمائیوں پر ہے اور اِسے ہم فلسفہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔“ (مقالہ فلسفہ از مولانا ابوالکلام آزادؔ)

مذکورہ بالا ٹھوس حقائق کے باوجود، بعد میں آنے والے راہ بھٹک گئے۔ فلسفہ کی ذات او ر حاصلات پر شک کرنے لگے۔ بے سروپا تصّوراتی افکار فلسفہ بنے اور حقیقی فلسفہ پٹری سے اُتر گیا۔ فلسفہ کو مُبہم و طویل تحریروں، ثقیل اصطلاحوں، لا یعنی استعاروں و تشبیہوں اور گمبھیر عبارتوں میں دفن کر دیا گیا۔ کسی کو سمجھ نہ آنے والے بیانیہ کو فلسفہ کہا جانے لگا۔ بلا شبہ یہ عقل سے محبت کرنے والے ”فلسفہ“ سے سرا سر زیادتی ہے۔ میرے نزدیک فلسفہ کو عام فہم زبان اور سائنسی انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

Facebook Comments HS