انٹرنیٹ سے محرومی کا میرا رات کا قلق
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی بار جی چاہا کہ ہماری ریاست کے حتمی فیصلہ سازوں سے جان کی امان پاتے اور پاؤں رگڑتے ہوئے یہ عرض کروں کہ عمران خان کی تحریک انصاف کے مقابلے میں پراپیگنڈہ کے محاذ پر آپ بری طرح پٹ رہے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے لیکن دل میں مچلتی خواہش کو نظرانداز کرتا رہا کہ حکمرانوں کو رضا کارانہ مشورے دینا میرا فرض نہیں ہے۔ صحافتی کیرئیر کے بیشتر برس میں نے ویسے بھی ہر نوع کے حکمرانوں کی نازل کردہ ذلت و بے روزگاری کی نذر کیے ہیں۔ اب عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد منہ بند رکھنا سیکھ ہی لینا چاہیے۔ چھٹتی نہیں ہے مگر۔۔۔
اتوار کی شام سات بجے کے قریب میں تھوڑی واک اور اپنے جانوروں سے ”گپ شپ“ کے بعد فارغ ہوا تو ”گرم حمام“ جیسے ماحول میں غسل کی لذت سے لطف اندوز ہوا۔ خود کو اپنے تئیں ”بالم“ بنا کر لکھنے کی میز پر بیٹھا اور لیپ ٹاپ کھول لیا۔ اسے کھولا تو میرے فیس بک اور ٹویٹر (ایکس) اکاؤنٹ کھلنے کو آمادہ ہی نہیں ہو رہے تھے۔ پریشان ہو کر موبائل فون دیکھا۔ وہاں بھی مذکورہ ایپس کے ساتھ یہی عالم تھا۔ فرض کر لیا کہ میرے گھر میں نصب ہوا وائی فائی سسٹم کسی مشکل میں گرفتار ہو گیا ہے۔ اپنے فون کو وائی فائی پر انحصار سے آ زاد کیا تب بھی لیکن فیس بک اور ٹویٹر (ایکس) کھل نہیں پائے۔
اتفاق یہ بھی ہوا کہ میری بیٹی اور اس کا خاوند ان دنوں تعطیلات گزارنے پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ وہ دونوں رزق کمانے کے لئے کمپیوٹر پر کامل انحصار کو مجبور ہیں۔ میرا داماد ایک ایسی عالمی کمپنی کے لئے کام کرتا ہے جو گھروں میں انٹرنیٹ کے ذریعے طلب کی اشیاء فراہم کرنے کے رجحان کی بانی شمار ہوتی ہے۔ وہ دونوں چند ہی روز بعد پاکستان سے پرواز کر جائیں گے۔ اتوار کے روز میں اور میری بیوی ان بے چاروں کو یہ بتا کر پریشان اور کافی حد تک احساس جرم میں مبتلا کرتے رہے کہ وہ ہم بڈھوں کے بغیر خوش رہتے ہیں۔ اپنے دفاع میں کچھ کہنے کے بجائے وہ شرمندہ ہوئے دیگر انداز میں ہم سے اپنی محبت جتاتے رہے۔ بازار سے کھانے پینے کی چند اشیا خرید کر گھر میں ”پارٹی“ کا ماحول بنانے کی کوشش کی۔ مجھے انٹرنیٹ تک رسائی کے بغیر پریشان ہوئے دیکھا تو ہمارے ہاں نصب وائی فائی سسٹم اور میرے ٹیلی فون کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ اپنے زیر استعمال فونز بھی چیک کرتے رہے۔ بالآخر یہ نتیجہ نکالا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ نظام کسی تکنیکی خرابی کی زد میں ہے۔ یہ ”خرابی“ تاہم تھوڑی دیر کے بعد ختم ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کے تقریباً 70 یا 90 منٹوں کے بعد دوبارہ نازل ہو گئی۔
اپنا وقت برباد ہونے سے اکتا کر میں کتاب لے کر بستر میں گھس گیا۔ بہت دنوں سے ارادہ باندھ رکھا تھا کہ وارث شاہ کی لکھی ”ہیر“ کو غور سے ایک بار پھر پڑھا جائے۔ اسے پڑھتے ہوئے یہ جان کر بے حد شرمسار ہوا کہ اپنی ماں کی گود سے سیکھی پنجابی کے کئی الفاظ میں اب عرصہ ہوا بھول چکا ہوں۔ اس کے علاوہ چند ایسے الفاظ بھی تھے جن کا مطلب جاننے کے لئے مجھے اپنے پاس موجود ”ہیر“ کے ساتھ ہی چھپا اردو ترجمہ دیکھنا پڑا۔ اپنی مادری زبان بھلانے کی وجہ سے ازحد شرمسار محسوس کر رہا ہوں۔
شرمساری کی شدت نے بتدریج یہ سوچنے کو مجبور کیا کہ حکمران قوتیں کسی قوم میں غلامی کی خصلت پیدا کرنے کے عمل کا آغاز اسے مادری زبان سے محروم کرنے سے کرتی ہیں۔ برطانوی سامراج نے پنجاب پر 1848 ء میں قابض ہونے کے بعد اس عمل کا آغاز کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ہم نے اس سلسلے کو جاری رکھا اور آج یہ عالم ہے کہ ہفتے کے پانچ روز اردو کا کالم اور زندگی کے کئی برس روزانہ کی بنیاد پر انگریزی اخباروں کے لئے خبریں اور کالم لکھنے کی وجہ سے نام نہاد ”دانشور“ کہلاتا نصرت جاوید اپنی مادری زبان کی حتمی اور اساطیری مظہر ”ہیر“ کو روانی سے پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہا۔ خدارا ذرا سوچیں کہ کوئی ایرانی ’‘ دیوان حافظ“ یا فردوسی کے ”شاہنامے“ کو پڑھنے اور سمجھنے کے ناقابل ہوتے ہوئے بھی خود کو ”دانشور کالم نگار“ ثابت کرنے کی جرات دکھا سکتا ہے؟ انگریزی میں لکھنے والوں کے لئے شیکسپیئر کے بیشتر ڈراموں اور کرداروں سے کامل آگاہی ہر صورت درکار تصور ہوتی ہے اور میں دو نمبر کا قلم گھسیٹ ”ہیر“ پڑھنے کے قابل بھی نہیں۔
خود پر ملامت کرتے ہوئے یاد یہ بھی آیا کہ اتوار کی شام ”ہیر“ پڑھتے ہوئے میں اس مقام پر بھی پہنچا تھا جہاں رانجھا بھابھیوں کے دیے طعنوں سے اکتا کر اپنا آبائی گاؤں چھوڑنے کو مجبور ہوجاتا ہے۔ سفر کے دوران بے وسیلہ رانجھے کو رات گزارنے کے لئے ایک مسجد میں قیام کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وہاں موجودگی مگر ”خدا کے گھر“ پر قابض ہوئے ملا کو پسند نہیں آتی۔ رانجھے اور ملا کے درمیان اس کی وجہ سے جو تکرار ہوتی ہے وہ اگر ہمیں بچپن سے پڑھائی جاتی تو شاید ”افغان جہاد“ کو 1980 ء کی دہائی میں ہمارے خطے سے رضا کاروں کے ہجوم ڈھونڈنے میں نہایت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا۔ ہمیں یہ بھی احساس رہتا کہ پنجاب کی عورت تاریخی و ثقافتی اعتبار سے ”بے زبان“ نہیں تھی۔ وہ اپنے خاوند کے بھائی (رانجھے ) کو ڈٹ کر طعنے دیا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ ہیر اپنے پلنگ پر رانجھے کو سویا دیکھ کر اسے چھڑی سے مارکر جگانے کی ہمت سے مالا مال تھی۔
حسب معمول مرکزی خیال سے بھٹک گیا ہوں۔ بنیادی طور پر آپ سے اس دکھ کا اظہار کرنا تھا کہ کئی دہائیوں سے بنیادی طور پر پیشہ ورانہ ضرورتوں کی وجہ سے انٹرنیٹ کی فیس بک اور ٹویٹر (ایکس) جیسی ایپس کا عادی ہوا یہ بدنصیب اتوار کی شام سے رات گئے کئی گھنٹوں تک انہیں استعمال نہیں کر پایا۔ میں پاکستان کا شہری ہوں۔ سنا ہے ”شہری“ کے کچھ حقوق بھی ہوتے ہیں۔ ”حقوق“ کا ذکر کرتے ہوئے یاد یہ بھی دلانا ہے کہ عمران حکومت کے چار برس اصولی طور پر بے روزگار ہونے کے باوجود میں ہر برس باقاعدگی سے اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کرواتا رہا ہوں۔ یہ کالم لکھنے کا معاوضہ بھی مجھے اس پر واجب ٹیکس ادا کرنے کے بعد ملتا ہے۔ اپنی مادری زبان بھلائے ذہنی طور پر نسلوں سے غلام ہوئے مگر اس ”صحافی“ میں یہ ہمت و جرات ہی باقی نہیں رہی کہ اپنے مالک ہوئے حکمرانوں سے پوچھ کر آپ کو بتا سکوں کہ درحقیقت وہ کون سی وجوہات تھیں جو پاکستان کو 2024 ء کا آغاز ہوتے ہی انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورت تصور ہوتی سہولت سے محروم رکھنے کا سبب ہوئیں۔ ایسے میں اگر تحریک انصاف یہ دعویٰ کرے کہ انٹرنیٹ میں خلل کا واحد سبب اس جماعت کی جانب سے ہوئی ایک کاوش تھی جس کا مقصد اس کی انتخابی مہم کے لئے چندہ جمع کرنا تھا تو مجھ جیسے افراد ان کے کہے پر اعتبار کرنے کو مجبور ہوں گے۔


