کتب بینی
معاصرین اور معالجین کا متفقہ موقف ہے کہ کتب بینی بہرحال ’کتا بینی‘ سے بہتر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے عوام کی نظر میں سنگ تراش اور سگ تراش میں فرق مٹتا جا رہا ہے۔ بادی النظر میں کرم کتابی دکھائی دینے والا شخص کرم الہی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بالکل ضروری نہیں کہ کتابیں ہر صورت میں انسان ساز ہوں، وہ سراسر ساز باز بھی ہو سکتی ہیں۔ آخر کوئی تو وجہ ہے ہر وہ شخص جس کا کتاب کے ساتھ واسطہ ہے، ہمہ وقت دکھی ہے۔ اس بنا پر ہماری تو گزارش یہ ہے کہ کتب بینی سے مصلحتاً آناً فاناً کنارہ کشی اختیار کر لی جائے تو انسانوں کے کچھ قبیلوں کو اب بھی بچایا جا سکتا ہے۔
سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ کتب بینی کا شوق مفقود کیوں ہو گیا ہے؟ میں نے خود آخری کتاب رشتہ ازدواج میں باندھ دیے جانے سے پہلے پڑھی تھی۔ وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں اور بہت سی ’بینیاں‘ آ گئی ہیں جنہوں نے انسانی شوق کے معانی کو گمان کی ان انتہاؤں تک پہنچا دیا ہے، جہاں سے نیچے نازل ہو کر واپس کتابوں میں مغز ماری کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ مثال کے طور پر موبائل بینی کے شغف کو ملاحظہ فرمائیں۔ دنیا بھر کی کتابیں اس برقی ڈبے میں سمٹ گئی ہیں اور علامہ گوگل پر ایک انگلی اٹھانے سے صفحوں کے صفحے ایسے کھلتے چلے جاتے ہیں جیسے کسی باوردی کی آواز پر سیاستدانوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ ایسے میں، معاف کیجیئے گا، کسی کا دل، اگر گرد آلود، پرانی، دقیانوسی کتابیں، خصوصاً آئین شائن کھنگالنے کو کرتا ہے تو اسے کتب خانے کی نہیں پاگل خانے کی ضرورت ہے۔
ہو سکتا ہے کچھ پڑھے لکھے افراد کو میرا نقطہ نظر برا لگے مگر میرا ماننا ہے کہ کتب بینی سے بہتر ہے بندہ دور بین دیکھ لے۔ زیادہ کتابیں پڑھنے سے انسان کی نظر کمزور ہو سکتی ہے، اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مشکوک ہو سکتی ہے اور اس کے متعلق لوگوں کی رائے نامناسب ہونے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ دور بین، آپ سے دور ہر چیز کو، نزدیک کر سکتی ہے، بہت بڑا دکھا سکتی ہے اور لوگوں کو خبر بھی نہیں ہونے دیتی۔ دور بین کے استعمال میں دماغ بالکل استعمال نہیں ہوتا اور روز مرہ کے معاملات میں بغیر کسی دشواری کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
کتابیں پڑھنے کے لیے انسان کو ورق پہ ورق الٹنے پڑتے ہیں جبکہ دور بین کو صرف آنکھوں سے لگانا پڑتا ہے اور دنیا واضح ہو جاتی ہے۔ جو لوگ رات کو کتابیں پڑھ پڑھ کر تھک گئے ہیں، ان کے لیے نائٹ ٹیلی سکوپ بھی ایجاد ہو چکی ہے۔ کتابوں کے بہانے رات کو جاگنے کے زمانے لد گئے ؛ اب دور بینی سے کام لے کر کھلے عام شب بیداری ہو یا شب خون، ہر دو چیز، بہت آسانی سے ممکن ہو سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے کتابوں کے زمانے سے نکل جائیں ؛ اگر ایسا نہیں کریں گے تو بہت جلد دور بین سے کیا، خورد بین سے بھی نہیں دیکھے جا سکیں گے۔
انسان کی سب سے بڑی دشمن کتاب ہے۔ آپ نے غور کیا ہو گا کہ کتاب خواہ کوئی ہو، ایک ذی روح شخص جیسے ہی اسے اٹھاتا ہے، اسے نیند آ جاتی ہے۔ اقوام کو میٹھی نیند میں دھکیلنے میں ان کتابوں کا بڑا کردار ہے۔ انسان اچھا بھلا پھول اور پتے پہن کر غاروں میں رہتا تھا، در و دیوار پر تصویریں بناتا تھا اور پتھر پہ پتھر مار کر آگ جلاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کی زندگی میں نہ کوئی فکر تھا اور نہ کوئی فاقہ تھا۔ جب سے کتابوں سے اس کا پالا پڑا ہے، فکر گھونگھٹ اٹھا کر آ گئی ہے، فاقہ تو جیسے ناکہ لگائے کھڑا تھا اور ساتھ ہی پہلے ایک کاکا، پھر دوسرا کاکا اور پھر تیسرا کاکا بھی آتا چلا جاتا ہے ؛ نہ ان کو کتابیں روک سکتی ہیں اور نہ کتابی چہرے۔
ہم لوگ لکھے ہوئے لفظوں کہ اس قدر غلام ہو گئے ہیں کہ منہ زبانی بات ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتی۔ کوئی پوچھے کہ کتاب تو اٹھارہویں صدی میں چھپنا شروع ہوئی؛ کیا اس سے پہلے انسان ان پڑھ تھے؟ واقعتاً ہم یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ تاریخ کتابوں میں مقید ہو کر ہم تک نہیں پہنچی، وہ تو دراصل ہم تک سینہ بہ سینہ پہنچی ہے۔ اجہل اقوام کی روایت پسند عوام اور ان کے تعویز و تربیت میں الجھے دستار برداروں نے کتابیں پڑھ پڑھ کر اپنے سینے چھوٹے کر لیے ہیں اور کہتے ہیں اس دنیا سے آگے جو دنیائیں ہیں وہاں جانا ہے۔
بھیا کی جان! صرف کتابوں کے سہارے تو کوئی باورچی خانے سے غسل خانے تک بھی نہیں جا سکتا۔ آپ بیس منٹ تک تاریخ اور فلسفہ کی کتاب آنکھ جھپکے بغیر پڑھیں، آپ کو اپنے آنسو روکنا محال ہو جائے گا۔ کچھ کتابیں ایسی بھی ہیں جن کو پڑھ کر اپنی بیگم کے خلاف بلوہ کرنے کے خیالات کو تحریک مل سکتی ہے اور آپ جلوہ سے اور حلوہ سے تاحیات محروم ہو سکتے ہیں۔ اگر مقصد دنیا میں رہنا اور زیست کو چکھنا ہے تو ذرا نکال مظراب اور بجا دے بین کہ راز حیات کے سر اور تال کسی کاغذ قلم کے نہیں بلکہ دیدہ و دل کے محتاج رہتے ہیں اور دیدہ و دل کتاب میں نہیں، شتاب میں ملتے ہیں۔
یہ پچھلی نسلوں کے بھمبل بھوسے، زمانہ جدید کے ہم نواؤں کو سانس تک نہیں لینے دیتے۔ جب ان قصہ گوئی کے شوقین بزرگوں کا اپنا زمانہ تھا تو ان کا طریقہ یہ تھا کہ کتاب کھول کر آنکھیں ہمسائیوں کی چھت پر رکھ دیتے تھے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ درسی کتابوں کے اندر جاسوسی ڈائجسٹ رکھ کر پڑھنے والوں کے قصے کیا ہم نے نہیں سن رکھے۔ وہ کیا فراموش ہو گیا جب اچانک والد گرامی کمرہ خاص میں قدم رنجہ رکھتے تھے تو سارا رومان اڑنچھو ہو جاتا تھا۔
معاملہ اصل میں یہ ہے کہ نئی نسل کے ہاتھ میں موجود برقی ڈبے نے سارے فاصلے مسمار کر دیے ہیں اور اب نہ کوئی بندہ رہا ہے اور نہ کوئی بندہ مار ؛ ہمارے بزرگوں سے بس یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ وہ ہاتھ میں کتابیں پکڑے، صورت یار کے دیدار کے لیے سو کوس کا فاصلہ طے کر کے سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے گلی میں کھلنے والی کھڑکیوں کو دیکھا کرتے تھے اور یہ نئی نسل بغیر کوئی کتاب پکڑے، رضائیوں میں پڑے پڑے اپنے چاہنے والوں کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ بات کتاب کی نہیں بلکہ اس حساب کتاب کی ہے جس نے ارمان و وفا اور ہجر و وصال کو اوراق سے نکال کر آزاد فضاؤں میں بکھیر دیا ہے۔ کتابیں تو پابند کرنے کے لئے لکھی جاتی ہیں۔ بھلا ہم انہیں کیونکر پڑھیں؟
دوسرا یہ کہ کتب بینی کے لیے درخت کاٹنا پڑتے ہیں اور بعض اوقات تو نہایت نجی مفادات کے جھاڑ جھنکار کا خون بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ جس نے کتابیں پڑھ لیں، وہ ہاتھ سے گیا۔ کتاب پہلے جسم سے آزاد کرتی ہے، پھر گھر سے نکلنے پر مجبور کرتی ہے اور پھر نہ کہیں رہنے دیتی ہے اور نہ کسی کا ہونے دیتی ہے۔ تاریخ چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ آج تک کوئی ایسا عظیم انسان نہیں گزرا جس نے اپنا مقام کتابیں پڑھ کر بنایا ہو۔
دنیا میں دو بڑے بادشاہ گزرے ہیں ؛ سکندر اعظم اور اکبر اعظم اور دونوں تصدیق شدہ ان پڑھ۔ ارسطو گلی میں تھڑے پر بیٹھ کر بچوں بالوں سے گفتگو کر کے علم بانٹتا تھا۔ افلاطون کی بھی جمعہ بازار میں کھلونوں کی دکان تھی۔ گوتم بدھ بھی درخت کے نیچے بیٹھ کر چیونٹیوں کی قطاریں سیدھی کروایا کرتا تھا۔ وہ عظیم ہستیاں جانتی تھیں کہ دنیا سے آنکھیں چرانے والے ہی کتابوں میں سر چھپاتے ہیں۔ اگر انہوں نے کتابیں پڑھ رکھی ہوتیں تو وہ برگزیدہ نہیں بلکہ ان میں سے کچھ سگ گزیدہ اور کچھ مارگزیدہ ہوتے۔ اگر آپ میں رتی بھر بھی شعور ہے اور من کی مراد پانا چاہتے ہیں تو ہمت کریں ؛ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو آنکھ ماریں، بند گلیوں کی طرف جانے والے دروازے کھول دیں اور کتابیں بند کر کے سو جائیں۔

