حسن پرست شاعر، مصور اور خطاط: اسلم کمال


اب اس واقعے کو لگ بھگ تین دہائیاں ہو چلی ہیں، میں نے اپنے افسانوں کا مجموعہ ”بند آنکھوں سے پرے“ اسلم کمال کو پیش کیا تووہ اس کے سرورق کو کچھ دیر توجہ سے دیکھتے رہے پھر کہا ؛

”میں اس کتاب کا سرورق بناتا تو یوں نہ بناتا، یہ کچھ اور ہوتا۔“

وہ سرورق ہمارے ایک دوست آفتاب عالم نے بنایا تھا۔ آفتاب شوقیہ مصور تھے۔ ایک روز یونہی بیٹھے بیٹھے میں نے کاغذ پر پنسل سے عورت کا ایک اسکیچ بنایا کہ اس فن سے مجھے بھی کچھ دلچسپی رہی تھی اور آفتاب کے سامنے کھسکا کر کہا تھا:

” مجھے آئل میں ایسی پینٹنگ چاہیے، کتاب کے سرورق کے لیے۔“
میرے دوست نے عورت کا چہرہ کینوس پر بنا دیا۔ وہی مگر وہ مختلف تھا۔

وہ عورت ہی کا چہرہ تھا ؛ ایک رخ سے ؛ جیسا کہ میں نے بنایا تھا۔ سامنے کو اٹھا ہوا مگر آنکھیں بند۔ عورت کے سرخ ہونٹ نمایاں تھے۔ گری ہوئی پلکیں بھی لامبی ہونے کے سبب نمایاں تھیں۔

” بند آنکھوں سے پرے“

آفتاب نے کتاب کا نام لیا اور اپنی پینٹنگ میرے سامنے رکھ دی۔ آئل میں ذرا بڑے کینوس پر بنائی گئی ایک شاندار پینٹنگ۔

محض رنگ اور برش سے بنائی گئی عین مین حقیقی عورت ہو کر بھی وہ حقیقی عورت نہ تھی کہ جہاں جہاں برش استعمال ہوا تھا ایک جھٹکے سے لکیر بناتا چلا گیا تھا۔ باقی نائف ورک تھا اور وہ بھی کچھ ایسا کہ اس نے کینوس کو ایک گہرائی عطا کر دی تھی۔

افسوس، کتاب کے سرورق پر آ کر یہ پینٹنگ ویسی نہ رہی تھی۔

اسلم کمال کہہ رہے تھے ؛
”کسی کتاب کے سرورق کے لیے آئل اور کینوس کی بجائے بہتر میڈیم انک اور پیپر ہو سکتا ہے کہ رنگوں کا اضافہ طباعت کے دوران ہونا ممکن ہوتا ہے اور مناسب بھی۔“

مجھے تب اسلم کمال کی بات مناسب لگی تھی۔ اگر یہاں محض اسکیچ ہوتا اور سالڈ رنگ مشین پر اضافہ ہوتے تو کینوس پر موجود وہ گہرائی جو طباعت میں عنقا ہو گئی تھی، اس کی جگہ، ہموار رنگ ایسی نفاست ایزاد کر دیتے جو اسکیچ کو چھاپہ خانے سے نکلنے پر اور بھی جاذب نظر بنا دیتے۔

مجھے لگتا ہے کہ جب آپ پنسل سے اسکیچ بنا رہے ہوتے ہیں یا کریون سے ڈرائنگ کرتے ہیں تو آپ کی کھینچی ہوئی لکیریں اتنی زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں کہ وہ آپ کے ہاتھ کی لرزش، لغزش اور رپٹن کو بھی دکھا دیں تاہم پین اور انک سے یا باریک برش سے اسکیچ بناتے ہوئے یہ لکیریں ہی سب کچھ ہوتی ہیں۔

مجھے یاد ہے اوپر بیان ہو چکے واقعے کے کئی برس بعد جب اسلم کمال نے ڈاکٹر توصیف تبسم کے کیے ہوئے میرے پچاس افسانوں کے انتخاب کے لیے سرورق بنایا تھا اور کتاب کے اندر مختلف مقامات پر شامل اشاعت کرنے کے لیے کئی اسکیچ بنا کر بھیجے تھے تو ان میں ایک عورت کا اسکیچ بھی تھا۔

ایک عورت کا اسکیچ جو آئنے میں اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
بھرے جسم والی عورت کا چہرہ بس آئنے کے چوکھٹے ہی میں دیکھا جاسکتا تھا۔

اسکیچ میں عورت اپنی قامت کے ساتھ پشت کیے کھڑی تھی۔ بے لباس عورت کی پشت جس میں سب سے نمایاں اس کے کولہے تھے۔ اور اسلم کمال نے یہ عورت کچھ ایسی نفاست سے لکیری تھی کہ وہ کچھ زیادہ ننگی ہو گئی تھی۔

وہ اسکیچ میں نے کتاب میں استعمال نہیں کیا تھا۔ اسلم کمال نے کتاب دیکھی؛ ہنسے اور کہا تھا:
” ڈر گئے؟“

میں ڈر گیا تھا یا کچھ اور تھا، میں نہیں جانتا تاہم اتنا جان گیا تھا کہ اسلم کمال محض اور صرف خطاط نہیں تھے۔ میری اس اسلم کمال سے ملاقات ہو رہی تھی جس سے میں ان کے ناروے کے سفری رپورتاژ میں مل چکا تھا۔ ایک عمدہ نثر نگار جو واقعات یوں لکھنے پر قادر تھے کہ پڑھنے والا فکشن کا لطف پاتا تھا۔ ”اسلم کمال اوسلو میں“ کے نام سے لکھی گئی اس کتاب میں انہوں نے نارویجن تہذیب و ثقافت اور ادب و فن کے باب میں جو معلومات فراہم کیں ان میں ان کا ذاتی تجربہ گندھ کر تحریر کی اثر انگیزی بڑھا گیا تھا۔

انہوں نے بڑے بڑے فنکاروں، مجسمہ سازوں، مصوروں اور ادیبوں کو قریب سے دیکھا اور دکھایا تھا۔ وہیں کہیں میری ملاقات اس اسلم کمال سے ہوئی تھی جو نیوڈ بنا رہا تھا۔ بعد میں یہ والا فن کار کہیں گم ہو گیا اور ہماری ایسے اسلم کمال سے ملاقاتیں بڑھ گئی تھیں جو زیادہ تر جیومیٹریکل ساخت میں چہرے اور کھڑکیاں بناتے تھے اور انسان کی پوری قامت کی طرف کم کم دیکھا کرتے۔ رفتہ رفتہ ان کے فن میں دائرے، چوکھٹے، گنبد، محراب و منبر، مینار، طاقچے، چاند، سورج، بادل، ستارے، کتاب اور پھول پتے داخل ہو کر ایک اور نوع کی جمالیاتی توسیع کا سامان ہوتے چلے گئے۔

اسلم کمال یہ سب کچھ لکیروں ہی لکیروں میں کچھ یوں کمال نفاست اور بظاہر سہولت سے نمایاں کر رہے تھے کہ ہر تصویر جادو اثر ہو جاتی تھی۔ مجھے تو ان کی یہ لکیریں میر تقی میر کے سہل ممتنع میں کہے گئے مصرعوں جیسی لگتی تھی؛ بظاہر سہل، فی الاصل مشکل۔ کوئی اتنی سہولت سے کیسے اتنی نفیس لکیریں کھینچ سکتا ہے؟ میں جب جب ان کے فن پاروں کو دیکھتا تو حیران ہوتا۔ اپنی اثر انگیزی میں کمال کو پہنچا ہوا اسلم کمال کا یہ جادو اقبال اور فیض کے حوالے سے کیے گئے کام میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ اقبال، فیض اور اسلم کمال، تینوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ تاہم میرا گمان یہی ہے کہ محض سیالکوٹ کا ہونا اس تخلیقی تحریک کا شاخسانہ نہ رہا ہو گا۔ اسلم کمال خود بھی شاعر تھے اور اپنے عہد کے بڑے شاعروں کے ساتھ اپنے فن کو وابستہ کرنا چاہ رہے ہوں گے۔ اقبال اور فیض کے کلام کی مصورانہ تطہیر، تعبیر اور تفسیر ایسی ہے کہ وہ اس باب میں بھی ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

اسلم کمال کی شخصیت کا ایک نمایاں حوالہ پاکستان بھی ہے۔ پاکستان ہم سب کا حوالہ ہے مگر اس سے بے پناہ محبت کا اظہار ہم اسلم کمال کے ہاں دیکھتے آئے ہیں۔ اپنے ایک سفر نامے ”لاہور سے چین تک“ کے آغاز کی سطور میں انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ:
”مرعوبیت میری سرشت میں نہیں ہے۔ میں پاکستانی ہوں۔“

ایسے کتنے پاکستانی ہیں جو مرعوبیت کے ہاتھوں نڈھال نہ ہوں۔ اسلم کمال ایسے نہ تھے۔ وہ اپنے وطن سے محبت کے اظہار کی صورتیں نکال لیا کرتے تھے۔ جن دنوں مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے اس کی حیثیت بدل کر آگ بھڑکائی تھی تو انہوں نے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو ایک ایسے نسائی کردار کی صورت میں تصویر کیا تھا جس کی گردن میں غلامی کا پھندا تھا۔ یہ پوسٹر دیکھ کر مجھے چین کے تاہنگ خاندان ( 617 ء۔ 907 ء) کے ایک استاد مصور یانگ کی وہ بیٹی یاد آ گئی جو کسی حادثے میں کھو گئی تھی۔

میں نے یانگ کی اس بیٹی کا قصہ اسلم کمال ہی کے ایک سفرنامے میں پڑھا تھا۔ ان کے مطابق جب وہ پیکنگ کے کیپیٹل تھیٹر گئے تھے تو وہاں مصور یانگ کی بنائی ہوئی اپنی بیٹی کی تصویروں کو دیکھا تھا۔ جو وہاں تھی مگر غلامی کا رقص کر رہی تھی۔ اسلم کمال اپنے احتجاجی پوسٹر کے ساتھ شہر شہر جا رہے تھے۔ ایک مصور کا تن تنہا ایسا احتجاج بھی ایک واقعہ ہو گیا تھا۔ اسی حوالے سے ایک تقریب اسلام آباد میں اکادمی ادبیات کے کانفرنس ہال میں ہوئی تھی، اس کانفرنس ہال میں جو ان کی بنائی ہوئی ادیبوں اور شاعروں کی کہکشاں پر مشتمل تصویروں سے سجی تھی۔

قبل ازیں وہ لاہور میں پریس کلب اور دوسرے مقامات پر اس پوسٹر کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکے تھے۔ کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی گئے تھے۔ یہ جنوں ایسا تھا کہ انہیں ٹک کر بیٹھنے نہ دے رہا تھا۔ مجھے یاد ہے اکادمی کے کانفرنس ہال میں وہ اپنے احتجاجی پوسٹر کو سامنے رکھ کر گھنٹہ بھر بولتے چلے گئے تھے۔

انہیں یاد رکھنے کا ایک اور حوالہ ؛ بلکہ غالب حوالہ ان کا خطاط ہونا ہے۔ ”اسلامی خطاطی“ ، ”قلم اور مو قلم“ کے نام سے انہوں نے اپنی دلچسپی کے اس علاقے پر بہت کچھ لکھا جو دو کتب کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ اسلامی خطاطی انہیں بہت مرغوب رہی۔ تاہم ایسا انہوں نے نستعلیق، نسخ یا پہلے سے مروجہ کسی خط میں نہیں کیا؛ یہاں بھی وہ اسی جیومیٹریکل قرینے کو کام میں لائے جو فیگریٹو فن پاروں میں برتا کرتے تھے۔ یوں ایک نیا فن ایجاد ہوا۔

ہم ادیب شاعر چوں کہ انہیں بہت قریب پاتے تھے اور وہ تھے بھی سہولت سے دستیاب ؛لہٰذا کتابوں کے سرورق کے لیے انہیں رجوع کرنے لگے۔ یہ کام بھی انہوں نے کچھ ایسی دلجمعی اور محبت سے کیا کہ اس باب میں بھی ریکارڈ قائم ہوا۔ شاید ہی دنیا بھر میں کوئی اسلم کمال سا ہو گا جس نے اتنی بڑی تعداد میں کتابوں کے سرورق بنائے ہوں گے۔ گرد پوش ڈیزائن کرتے ہوئے اسلم کمال کتاب کا نام اور مصنف کا نام اپنے ایجاد کر خط میں لکھتے۔ یوں یہ خط شہرت پکڑتا گیا۔ خط کمال اب مستقل طور پر کمپیوٹر پر بھی دستیاب ہے۔

اسلم کمال چلے گئے مگر اپنے فن کی ایسی روایت چھوڑ گئے ہیں کہ کبھی بھولیں گے نہیں۔ انہوں نے اپنے چین کے سفرنامے کا آغاز ان لفظوں سے کیا تھا:

”میں ان اوراق میں جغرافیہ کا طالب علم نہیں ہوں۔
شاعر ہوں، حسن پرست ہوں۔
میں مورخ نہیں ہوں، محقق تو بالکل نہیں۔
مصور ہوں۔ خطاط ہوں۔ ”
اس حسن پرست شاعر، مصور اور خطاط کو اپنے سبھی حوالوں کے ساتھ یاد کرنا مجھے اچھا لگ رہا ہے۔

Facebook Comments HS