بہشتی تیور
کتاب، بہشتی زیور، مسلم لڑکیوں کی تربیت کے لیے لکھی گئی جو استفادے کی خاطر انہیں جہیز میں بھی دی جاتی تھی۔ اس کتاب میں عورتوں کو بیک وقت دو خداؤں کو سہنے اور دیگر ازدواجی و سسرالی آداب سے بڑی شدت سے روشناس کرایا گیا تاکہ وہ اپنی ذاتی زندگی جہنم بنا کر اپنے مجازی خدا کے گھر کو جنت بنائیں اور حقیقی خدا کی خوشنودی پائیں۔ اس کتاب سے مردوں نے بھی مذہبی عورت سے ہی شادی کرنے کے گر سیکھے کیو نکہ وہ خاوند کو مجازی خدا اور اس کی غربت، ہٹ دھرمی، کج خلقی اور نا اہلی کو تقدیر سمجھ کر غلامی کرتی رہے گی۔
اور جب مرے گی تو پاؤں تلے جنت لے کر سیدھی دوزخ میں جائے گی۔ کیونکہ مذاہب نے مردوں کو خواہ مخواہ کی خبط عظمت اور نرگسیت میں نہال کر رکھا ہے لہٰذا وہ عورتوں کو جنت کے لیے روا نہیں سمجھتے۔ اس لیے ان کے، بہشتی تیور، نہایت ہولناک، خوفناک اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں جنھیں بھانپنا عام مسلمانوں کے لیے جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ملاؤں کے رال ٹپکاتے ایچ ڈی خطابات سن سن کر مومن اپنی بیویوں پر تیوری چڑھائے بیٹھے ہیں اور جلد جنت میں راہ تکتی حوروں کو دبوچنے کے لیے بے حال ہوئے جاتے ہیں۔
ان کے تیور بتاتے ہیں کہ وہ جنت میں قدم رنجا فرما کر حوروں کا کس طرح تیا پانچا کرنے والے ہیں۔ دنیا میں خواتین کی کمی کا شدید شکار اور ٹائمنگ گزیدہ احباب جنت کی ایک سو تیس فٹی حور پر کمند ڈالنے کی حسرت میں صبح و شام تمام کیے جاتے ہیں۔ جہاں حور کا ایک بوسہ، ایک معانقہ اور ایک صحبت ہزاروں سالوں کی ہوگی۔ ایک نیک جنتی جب حور کی ٹانگوں کے درمیان چالیس میل کا فاصلہ ناپے گا تو کیا تماشا ہو گا۔ اتنی وسیع بھول بھلیوں میں مومن کہیں فنا فی الحور نہ ہو بیٹھے اور ڈھونڈنا پڑے کہ جنتی کو آسماں کھا گیا یا زمیں نگل گئی۔
روایت ہے کہ جنت میں روزانہ ایک سو کنواریاں مفت میں دستیاب ہوا کریں گی جن کی چھاتیاں اناروں کی مثل ہوں گی۔ دن اور رات کا کوئی تصور نہ ہو گا اور جنتی سر عام شراب کی نہروں کے کنارے تمام وقت اسی دھندے میں گزرا کرے گا۔ کسی حکیم، کسی نسخے ساز اور کسی ٹوٹکے باز کی حاجت نہ ہوگی کیونکہ بہشتیوں کی "باہ شریف” آسمانوں سے باتیں کر رہی ہوگی۔ حوروں کے جسم کے تمام اعضا دیدنی ہوں گے اور ستر پوشاکوں میں بھی نظر آرہے ہوں گے۔
ابھی ایک حور سے صحبت ختم نہ ہوگی تو دوسری اپنی طرف کھینچ لے گی۔ وہم ہوا کہ ایک سو تیس فٹی لڑکی اور پانچ فٹا ملا پہاڑ اور گلہری والی بات ہوگی۔ اگر کبھی حور کے سر یا کندھوں سے گرا تو کہاں اٹکے گا؟ پر یہ جان کر جان میں جان آئی کہ سب جنتیوں کے قد برابر ہوں گے ۔ گویا حوریں اور تمام بہشتی اک دوجے کی، ٹکر، کے لوگ ہوں گے۔ بچے اور بوڑھے بھی جنت میں جوان ہوں گے۔ گویا جنت میں صرف 18 + ہی جا پائیں گے اور انھیں ایک سو مردوں کی طاقت عنایت کی جائے گی۔
وہ جو چاہیں گے، سب پائیں گے۔ کسی جنتی کو بہتر اور کسی کو ہزاروں حوریں ملنے کی نوید ہے جبکہ عورتوں کے لیے جنت میں بھی ان کے دنیاوی شوہر ملنے کی دردناک وعید ہے۔ سو التجا کی۔ یا خدایا عورت کو دنیا میں بھی معتوب رکھا اور آخرت میں بھی نامراد ٹھہری۔ اس پر عورتوں کو حوروں کی سرداری کا لولی پاپ تھما دیا جائے گا۔ اب وہ اپنے خاوند کے ساتھ ساتھ بہتر سوکنوں کو بھی سہیں گی اور اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خاوند کو ان کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض حالات میں بھی دیکھیں گی۔
ہمت مرداں مدد خدا کے تحت ایک سابق، مرد ناقص، کو اس قدر مرد کامل بننے پر انگشت بدنداں ہوں گی۔ یوں کچھ کو تو اپنے خاوند کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی خاطر حوروں کی باریوں اور ٹائم ٹیبل کا اہتمام و انصرام بھی کرنا ہو گا۔ اب جنتی رب کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلا پائیں گے۔ سچ ہے کی مذہبی رنگ میں تو پورنوگرافی بھی منظور و مقبول ہے۔ بقول حالی ملاؤں کے ایسے بیان جنت کے نہیں، بازار حسن کے بیان محسوس ہوتے ہیں۔ بعید نہیں کہ چند منتقم مزاج جنتی عورتوں کو ، اپنا کھانا اور بستر خود گرم کرنے کی بابت یاد دلا کر بغلیں بجاتے پھریں۔
کچھ ماہر خواتین بھی اپنی خداداد صلاحیتوں سے لگائی بجھائی کر کے حور و غلمان میں پھوٹ ڈال سکتی ہیں۔ اہل بہشت کے تیور دیکھ کر لگتا ہے کہ قیامت صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں حوروں کے لیے بھی برپا ہوگی کیونکہ ہزاروں سالوں سے جنت میں رہتی اس پر امن مخلوق کو جنتیوں کے قہر کا سامنا ہو گا۔ عظیم الجثہ، شکم پرور اور بھاری بھر کم مومنوں کا بار گراں جب جنت کی نازک حوروں کے رانوں اور کندھوں پر ہو گا تو انہیں دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔
اور وہ جان جائیں گی کہ اب جنت خالہ جی کا گھر نہیں رہا۔ وہ سوال کریں گی کہ مومنوں کو تو ہم ان کی نیکیوں کے اجر میں ملیں ہیں پر یہ مومن ہم کو کس گناہ کی پاداش میں ملے ہیں؟ آج کے پرفتن دور میں جنت و حور پرست مولویوں کے خطابات جنت میں بھی وائرل ہیں اور اس سلسلے میں حوریں شدید تشویش و اضطراب کا شکار ہیں۔ کیونکہ حور ہی جنت کا مرکزی آئٹم ہے۔ دنیا کے مومنین کی نیکیاں، تقوے، عبادات، چلے، حج و عمرے اور خیرات و تقریبات جنت میں حوروں کا ، تراہ، نکالے ہوئے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب لکھا ہے۔
شیخ مسجد میں سر جھکاتا ہے حور جنت میں کانپ جاتی ہے
اور جب وحشی ملا سہمی سی حوروں کے پیچھے بھاگیں گے تو حوروں کے اوسان خطا ہونا لازم ہے۔ اس دن انھیں معلوم ہو گا کہ اب ان کا پالا ان مومنوں سے پڑ چکا ہے جن کی زندگیاں اپنی بیویوں پر پارا چڑھنے، اقارب کے دانت کھٹے کرنے، جنت کی حوروں سے باتیں کرنے کے لیے عربی زبان سیکھنے اور کافروں کی ایسی تیسی کرنے کے لیے جہاد میں گزری ہے۔ کسی معاملہ پہ امت کا اتفاق نہ ہوسکا مگر چار شادیوں اور بہتر حوروں پہ اجماع امت ہے۔
تاہم جاوید غامدی جیسے سکالرز نے دعویٰ ہے کہ حوریں تمہاری بیویاں ہی ہوں گی۔ جس پر امت سیخ پا اور ناک بھوں چڑھائے ہوئے ہے۔ کیونکہ علمائے جمہور کا پختہ عقیدہ تھا کہ جنت اور حوروں کو حاصل کرنے کے لیے اس عارضی دنیا کو جہنم بنانا فرض عین ہے۔ مگر ڈھاک کے تین پات کے مصداق جنت میں بھی فطرت انسانی پھڑک سکتی ہے۔ جنت میں آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن گزرے ہوں گے اور جب مومن حور و قصور کی نعمتوں سے خوب استفادہ کر لے گا تو اپنے مسلک کے لوگ اور مساجد نہ پاکر اداس ہو گا۔
نفرت کرنے اور دشمنی کے لیے لوگ ناپید ہوں گے۔ سوچے گا یہ کون سی بے رونق جگہ ہے جہاں نور و بشر، حاضر ناضر، وجود و شہود اور واجب و ممکن کا شور نہیں، کہے گا، یہ مشرک کافر ملحد گستاخ جنت میں کیسے آئے؟ سوچنے کی بات ہے کہ ہر وہ چیز اور ہر وہ کام جو دنیا میں حرام ہے، جنت میں حلال کیوں؟ گویا جن حرکتوں کے موجب ہم دوزخ میں جلیں گے وہ سب جنت میں جائز ہیں۔ ڈیڑھ چلو پانی حرام مگر جنت میں اس کی نہریں حلال۔ دنیا میں نامحرم اور سنگساری کی سزا پر جنت میں ہزاروں حوروں سے صحبت بھی روا۔
یوں لگتا ہے کہ اربوں کہکشاؤں کا مالک خدا صرف سیارہ زمین پر مسجدیں بنانے والوں، خیرات اور عمرے کرنے والوں، اور اس کی تعریف کی محفلیں برپا کرنے والوں کو ہی دیکھ رہا ہے۔ اور دوسری طرف زندگیوں میں آسانیاں لانے والوں، شعور بیدار کرنے والوں، سچ بولنے والوں اور زمین و آسمان پر تفکر و تدبر کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سلگا رہا ہے۔ بقول ہری چند اختر،
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہو گا ملے گی شیخ کو جنت ہمیں دوزخ عطا ہو گا
ملاؤں، پنڈتوں، پادریوں اور راہبوں نے ایسے خدا بنا رکھے ہیں جس کی جنت کے ٹکٹ ان کے نمائندوں کے پاس ہیں۔ اور جاہل لوگ قطاروں میں لگ کر خریدتے بھی ہیں۔ کسی نے سچ ہی کہا کہ میں اس خدا کو کیوں مانوں جس نے ان فراڈیوں کو دنیا میں اپنا نمائندہ بنا رکھا ہے۔ جو خدا عقل دیتا ہے پھر اسے استعمال کرنے سے کیسے روک سکتا ہے۔
ہم جیسے دلبروں کو جہنم میں ڈال کر بیٹھے رہو بہشت کو ویراں کیے ہوئے
خدا اور رسولوں کے بارے لوگوں نے کیسی کیسی باتیں گھڑ رکھی ہیں۔ ان کی جنت میں شرم و حیا، عفت و عصمت اور تقویٰ و پرہیز گاری نظر نہیں آتی۔ دنیا کا شرابی اور زانی چھپ چھپا کر لذت گناہ لیتا ہے مگر جنت میں تو یہ سب کھلے بندوں اور زمان و مکاں سے ماورا ہو گا۔ حور کے وجود کا مقصد جنتی ریوڑ کی جنسی تسکین کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اللہ کی جنت نہ ہوئی بگ باس کا شو ہوا۔ تصور کریں کہ بیٹا، باپ، دادا، پر داد اکٹھے جنت مکانی ٹھہرے تو کس دھڑلے سے ایک دوسرے کو دکھا دکھا کر حور گردی کریں گے۔
ملاؤں کی جنت میں قدم قدم پر صنم کدے، مے خانے اور طوائفوں کے کوٹھے ہیں جہاں یہ ہر غم اور ہر بیماری سے محفوظ ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ بھلا ان روایات کو فیملی میں بیٹھ کر بیان کیا جاسکتا؟ غازی علم دین کو کون بتلائے کہ راج پال نے خود سے کچھ نہیں لکھا بلکہ ہماری مستند کتب سے اقتباس ہی تو لکھے تھے۔ سلمان رشدی نے بھی انہیں روایات سے فتنہ پیدا کیا۔ کتابوں میں ہے تو متبرک، کسی مخالف نے کہہ دیا تو گستاخی۔
یاد رکھو جس ان دیکھی جنت کے لیے ہم دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اسے ابلیس نے دیکھتے بھالتے ایک سجدے پر قربان کر دیا۔ مگر آج وہ بھی اپنے کیے پہ نادم ہے اور اب انسان کو سجدہ کرنے کا سوچ رہا ہے۔ یقیناً خدا اور اس کے پیارے ان خرافات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ راویوں اور نیم ملاؤں کا کمال ہے جنھوں نے اپنی دکانیں چلائیں۔ دین پر سوچنا اور سوال کرنا گناہ قرار دیا۔ یہ راوی بھی تو اپنے ادوار کے صحافی ہی تھے اور ہر صحافی کی اپنی لابی ہوتی ہے، سو اس وقت بھی تھی۔
جنت کی خوش فہمی میں مسلمانوں کی آبادی میں بھی خطرناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر جنتیوں کی تعداد حد سے تجاوز کرتی ہے تو جنت میں حوروں اور جنتیوں کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بہتر مومنوں کے حصے میں صرف ایک ہی حور آئے۔ پھر جو ہو گا، ہم بتانے سے قاصر ہیں۔ المختصر کہ ہر بہشتی ریوڑ کے اپنے اپنے بے شمار بہشتی تیور ہیں جو روز بروز خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ الامان و الحفیظ۔


