مولانا فضل الرحمان کا دورہ کابل، بہتری کی امید


پاک افغان تعلقات میں بہتری کی بڑی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سال سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ٹی ٹی پی دہشتگردوں کی جانب سے 60 کے قریب دہشتگرد حملے کیے گئے ہیں۔ زیادہ تر حملے سیکورٹی فورسز پر ہوئے ہیں۔ حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ امریکی ہے جو واپس جاتے ہوئے چھوڑ گئے تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق زیادہ تر حملوں میں افغانستان کی دھرتی استعمال ہو رہی ہے۔

لیکن طالبان حکومت ٹی ٹی پی سے لاتعلقی ظاہر کرتی آر ہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود داعش، ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشتگردی کر رہی ہے۔ کچھ روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمن پر حملہ کیا گیا، گاڑیوں پر فائرنگ ہوئی لیکن وہ محفوظ رہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کے حملے میں 20 سے زائد سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے، باجوڑ میں دہشتگردوں کی فائرنگ میں 6 پولیس اہلکار شہید جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں۔

زیادہ تر حملے ٹی ٹی پی، داعش کر رہی ہیں اور افغان دھرتی استعمال ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ سب سے بڑی بات کہ پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات بھی دہشت گرد کارروائیوں کی وجہ سے شیڈول ملتوی کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ خود مولانا فضل الرحمان اور اس کی جماعت کے پی اور بلوچستان میں الیکشن مہم چلا نہیں سکتی۔ وزارت داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کے لئے سیکیورٹی رسک قرار دیا ہے۔ پاک افغان تعلقات میں بہتری، افغان پناہ گیروں کی پاکستان سے افغان باعزت طریقے سے واپسی سمیت دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال رکھنے کے لئے افغان طالبان امارات اسلامیہ کے سپریم لیڈر مولانا ہیبت اللہ کی جانب سے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن کو خصوصی دعوت دی گئی تھی۔

کہا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا دورہ افغان دونوں ممالک پاک افغان سلامتی، امن امان کی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ معیشت کے اعتبار سے دونوں ممالک کے عوام کے لئے فائدہ مند رہے گا۔ جبکہ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن افغان طالبان حکام نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے، تجارت، معیشت اور امن امان سمیت پناہ گیروں کی ملک بدری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ طالبان حکمرانوں نے مولانا فضل الرحمن کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی دھرتی تمام ہمسایہ بالخصوص پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

طالبان نے اسلام آباد کے لئے واضح پیغام بھیجا ہے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن نے بھی ان سے شکوے کیے۔ اشرف غنی حکومت کے خاتمے اور افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد سب سے پہلے مولانا فضل الرحمن کی جماعت جے یو آئی نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام اور افغان طالبان کا تعلق ایک جیسا ہی ہے، دونوں فریق دیوبندی اسکول آف تھاٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ہوں یا مولانا ہیبت اللہ دونوں دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

گزشتہ ایک سال سے پاک افغان صورتحال کشیدہ ہے۔ نگران وزیراعظم کاکڑ نے پاکستان میں موجود افغان پناہ گیروں کی واپسی بھی امن امان کی وجہ سے کی تھی۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ جتنے حملے ہوئے ہیں ان میں افغانستان کے لوگ اور وہاں کی دھرتی استعمال ہوئی ہے۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن افغانی طالبان کے دورے پر خصوصی دعوت پر وفد کے ہمراہ افغانستان پہنچے ہیں۔ کابل میں مولانا فضل الرحمن کا سرکاری سطح پر فقیدالمثال استقبال کیا گیا ہے۔

اس دن کابل میں سرکاری سطح پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ وفد میں مولانا عبدالواسع، مولانا عطا الحق درویش، مولانا صلاح الدین، مولانا جمال الدین اور مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا کمال الدین، مولانا محمد ادریس حقانی، مولانا امداد اللہ اور مفتی ابرار احمد شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمن افغان طالبان کے دورے پر جانے سے قبل حکومت کو آگاہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے بریفنگ دی گئی، ملک میں جاری دہشتگردی، خطے سمیت امن وامان کی صورتحال پر بات تبادلہ خیال کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان اسلام آباد سے کابل پہنچ گئے، جہاں انہوں نے افغان طالبان حکومت کے نائب وزیراعظم مولوی کبیر سے وفد سمیت ملاقات کی۔ افغان وزیر خارجہ مولانا امیر خان متقی سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے۔ دونوں جانب علما کرام کی ملاقات تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے کابل سے قندھار جاکر امارات اسلامیہ کے سپریم لیڈر مولانا ہیبت اللہ سے خصوصی ملاقات کی ہے۔ مولانا نے علما کے ساتھ وزیر اعظم مولانا محمد حسن، افغان چیف جسٹس مولانا عبدالحکیم سے بھی ملاقات کی ہے۔

اس سے پہلے قندھار کے گورنر اور افغان حکومت کے ملٹری اور انٹیلی جنس کے نائب سربراہ گزشتہ ہفتے پاکستان آئے تھے، مولانا فضل الرحمن کے ساتھ خصوصی ملاقات کی تھی۔ اسی دورے کے دوران پاکستانی حکام نے انہیں افغان شہریوں کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے گئے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ پر بھی گفتگو کی گئی تھی۔ افغان وزیراعظم محمد حسن نے پاکستانی علما کے وفد کا خیرمقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔

امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی کسی کو ہماری سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

مولانا نے کہا کہ ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔

مولانا عبدالکبیر نے وفد کو خاطری کرائی کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کیا جائے گا۔ بہتر ہے کہ دعووں اور میڈیا پروپیگنڈا کے بجائے حقائق پر بات چیت کی جائے۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کا ہمراہی وفد اسلام آباد کو امارت اسلامیہ کا واضح پیغام پہنچائیں گے کہ امارت اسلامیہ خطے میں سلامتی اور استحکام چاہتی ہے اور کسی کو افغان سرزمین کسی اور کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان میں افغان تارکین وطن کے ساتھ ناروا سلوک اور ان کی جبری ملک بدری روکنے کی اپیل کی۔ مذکورہ وفد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ان کے دورہ کابل پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں اسلامی ممالک میں مشترکات ہیں اور انہیں بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہیے اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے رہنما اور دیگر ارکان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور مسائل کے حل پر زور دیا۔ ملاقات میں امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے افغانستان کی اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کو حل کرنے کی راہیں تلاش کرنی چاہئیں اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔

 

Facebook Comments HS