فلسطین کے دو لخت ہونے کی درد ناک کہانی
جب ہم فلسطین کی سرزمین کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں تو ہمیں شاہ سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ یاد آ جاتا ہے جن کے دربار میں دو عورتیں ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی تھیں اور دونوں ماؤں کو اس بچے کی حقیقی ماں ہونے کا دعویٰ تھا۔ شاہ سلیمان (علیہ السلام) کی دانشمندی نے تو بچے کو دو حصوں میں کٹ جانے سے بچا لیا تھا لیکن اس واقعے کے تین ہزار سال بعد کے سیاسی رہنما اتنے دانشمند نہ تھے کہ فلسطین کو تقسیم ہونے سے بچا سکتے۔
جب کسی بھی خطہ زمین کی تقسیم عوام کی خواہشات کے خلاف بیرونی طاقتوں کے جبر سے ہوتی ہے، چاہے وہ کوریا ہو یا ویت نام، جرمنی ہو یا فلسطین تو ان کے دردناک نتائج مرتب ہوتے ہیں اور تاریخ کی ان نا انصافیوں کو دور کرنے میں بعض دفعہ عوام کو ایک طویل عرصے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فلسطین کی تقسیم کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس تقسیم کی وجہ سے لاکھوں افراد اور گھرانے بے گھر ہوئے جو آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
بیسویں صدی کے آغاز میں دنیا بھر کے یہودیوں پر جو ظلم و ستم ڈھائے گئے ان کے بارے میں ساری دنیا کے باضمیر لوگ فکرمند تھے اور ان کے حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس صورت حال میں صیہونی تحریک نے دنیا کے اصحاب بست و کشاد پر سیاسی، سماجی، اور معاشرتی دباؤ ڈال کر انہیں قائل کر لیا کہ بیسویں صدی میں یہودیوں کے مسائل کا حل اسرائیل کا قیام ہے۔
اگرچہ بہت سی تنظیمیں اور قومیں جو یہودیوں کے مسائل کے بارے میں ہمدردانہ رویہ رکھتی تھیں وہ بھی اسرائیل کے قیام کے بارے میں فکرمند تھیں۔ انہیں یہ خدشہ تھا کہ اس سے مشرق وسطیٰ اور فلسطین کے مسائل کم ہونے کی بجائے اور بڑھ جائیں گے۔ وہ یہودیوں کے مسائل کے بارے میں تو فکرمند تھیں لیکن ان مسائل کے صیہونی حل کے حق میں نہیں تھیں۔
انیس سو اڑتالیس میں اقوام متحدہ کے نمائندے فوک برناڈوٹ نے سیکورٹی کونسل میں اپنی تشویش کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا
” فلسطین کے یہودی علاقوں میں اگر یہودی مہاجروں کی تعداد بڑھتی گئی تو چند سالوں میں اس سے بہت سے معاشی، معاشرتی اور سیاسی مسائل پیدا ہوں گے اور عرب عوام کی پریشانیاں بڑھ جائیں گی“ ۔
اسرائیل کے قیام کے بعد اس کے سیاسی رہنما ڈیوڈ بین گوریان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا
”ہم اپنی ریاست کو صرف قائم ہی نہیں رکھنا چاہتے بلکہ بڑھانا بھی چاہتے ہیں“
اور اسرائیل کے وزیر اعظم مینوچم بیگن نے کہا تھا
”میں عرب ممالک کے خلاف جنگ کے حق میں ہوں تا کہ ان کی طاقت کو کم کیا جائے اور اپنی حدود کو بڑھایا جائے“
اسرائیل کے قیام کے بعد حالات اتنے ابتر ہو گئے کہ اسرائیل کے باضمیر عوام و خواص خود اس نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے لگے۔ ٹیل آویو کے دانشور نیتھن جوفشی نے ایک دفعہ کہا تھا
”اب ایک داخلی انقلاب ہی یہودیوں کو عربوں کے خلاف نفرت کی بیماری سے بچا سکتا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا جلد یا بدیر اقرار کرنا ہے کہ ہم نے عربوں کے ساتھ نا انصافیاں کی ہیں اور ہم نے ان کی زمینوں اور کھیتوں پر اپنے سکول اور عبادت گاہیں بنائی ہیں۔ ہمیں ایک دن اپنے گریبانوں میں خود جھانکنا پڑے گا“ ۔
فلسطینیوں کی موجودہ صورت حال اور ان کے داخلی اور خارجی تضادات کو سمجھنے کے لیے ہمیں فلسطین کے تاریخی، معاشرتی، مذہبی اور سیاسی پس منظر کا مطالعہ کرنا ہو گا تا کہ ہم ان کے حال کو ماضی کی روشنی میں دیکھ سکیں۔
فلسطین کی سرزمین
بعض لوگ فلسطین کے بارے میں اس خیال کو مقبول عام بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ ایک بنجر اور بیابان علاقہ تھا جسے یہودیوں نے آ کر آباد کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انیس سو بیس کی یہودیوں کی ہجرت سے پہلے بھی وہ بیابان نہ تھا۔ فلسطین میں زیتون، مالٹے اور دیگر پھلوں اور سبزیوں کی اتنی زیادہ کاشت ہوتی تھی کہ وہ دوسرے ممالک کو بھیجتے تھے۔ انیس سو بارہ میں عربوں نے انتیس لاکھ پونڈ کے صرف مالٹے یورپ برآمد کیے تھے۔ یہ ایک مثال اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ فلسطین شروع سے ہی ایک زرخیز علاقہ تھا۔
بدامنی کی ابتدا
اگر ہم فلسطین کی سرزمین پر آباد لوگوں کا تاریخی حوالے سے جائزہ لیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہاں مسلمان، عیسائی اور یہودی جو ایل کتاب کہلاتے تھے آپس میں دوستوں، بھائیوں اور ہمسایوں کی طرح مل کر رہتے تھے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔
فلسطین کی سرزمین پر سب سے پہلے بدامنی انیس سو بیس کی دہائی میں پیدا ہوئی جب فلسطین میں خارجی یہودیوں کی آمد شروع ہوئی۔ اس آمد کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا کیونکہ وہ بے روزگار اور بے گھر ہوتے گئے۔ جب مقامی لوگوں کو یہودیوں کے صیہونی نظریات اور اسرائیل کے قیام کا اندازہ ہوا تو غصے کی چنگاریاں شعلوں میں ڈھلنے لگیں۔ امریکی یہودی گروہ کے نمائندے گوٹفریڈ نیوبروگر نے انیس سو ساٹھ میں لکھا تھا
”مسلمان یہودیوں کے خلاف نہیں ہیں وہ صیہونی تحریک اور اسرائیل کے قیام کے خلاف ہیں“
آسمانی وعدہ
صیہونی تحریک کے نمائندوں نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ چار ہزار سال پہلے خدا نے آسمانی کتاب میں ابراہیم سے فلسطین کے بارے میں ان الفاظ میں وعدہ کیا تھا
UNTO THY SEED HAVE I GIVEN THIS LAND
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس تحریک کے نمائندے ابراہیم کی اولاد میں صرف اسحاق کی نسل کے یہودیوں کو شمار کرتے ہیں جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ ابراہیم کی اولاد میں اسماعیل کی نسل کے عیسائی اور مسلمان بھی شامل ہیں۔ وہ ابراہیم کی اولاد میں تمام خدا کے ماننے والوں کو شمار کرتے ہیں۔
یہودی مسائل اور صیہونی تحریک
یہودی وہ لوگ ہیں جو صدیوں پرانے آسمانی مذہب کے پیروکار ہیں اور عالمی برادری کو ماننے والے ہیں جبکہ صیہونی تحریک ایک سیاسی تحریک ہے جس کے سیاسی مقاصد ہیں۔ صیہونی تحریک کے پیروکاروں نے باقی قوموں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے لیے بھی بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ پروفیسر ولیم ہوکنگ نے آج سے نصف صدی پہلے لکھا تھا
”صیہونی تحریک دنیا بھر میں یہودیوں کے مفاد کی دشمن ہے“
ان کا خیال تھا کہ اس تحریک نے چاروں طرف تعصب اور نفرت کے بیج بوئے ہیں۔
انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد صیہونی تحریک نے ساری دنیا سے یہودیوں کو اسرائیل آنے کی دعوت دی۔
فلسطین میں ہر جنگ کے بعد فلسطینیوں کی تعداد کم اور یہودیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی دوستی
اسرائیل کے اپنے ملک کی آزادی کے اعلان کے گیارہ منٹ بعد امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا۔ یہ عمل اتنا جلد ہوا کہ صیہونی تحریک کے نمائندے خود بھی حیران پریشان ہو گئے۔
مشرق وسطیٰ میں امن
بہت سے ماہرین سماجیات و سیاسیات کا موقف ہے کہ فلسطینیوں کے مسائل کے حل اور ان کے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
نوٹ: سیمی ہدوی کی کتاب کڑوی فصل
BITTER HARVEST
کے چند اقباسات کا ترجمہ اور تلخیص


