کنگ چارلس سوئم اور زکوٹا جن
ننگے پاؤں ( 4 )
کنگ چارلس سوئم کی رسم تاجپوشی دیکھی اور کورس میں یہ نعرہ سنا۔ God save the king یعنی خدا بادشاہ کو محفوظ رکھے تو میں نے سوچا کہ کس سے محفوظ رکھے۔ عوام کے شاہ مخالف جذبات سے، شہزادی ڈیانا کی روح کے انتقام سے، میگھن مارکل کی آئندہ چالوں سے یا کامیلا پارکر کے نہاں عزائم سے۔
پرنس ہیری نے جب سیاہ فام میگھن مارکل سے شادی کی تو اس نے غالباً اپنی ماں پرنسس ڈیانا کے قتل کا انتقام ہی تو لیا تھا جس سے پرنس چارلس نے ہمیشہ بے وفائی کی۔ شاہی خاندان نے ان دونوں کی شادی کو بھی دل سے تسلیم نہیں کیا
اس عمل کے ردعمل میں شوہر اور بیوی نے نیٹ فلکس کی ڈاکومنٹری ہیری اینڈ میگھن میں کھل کر حصہ لیا اور شاہی خاندان کے پول کھولے، اور پھر ایک بائیو گرافی (Spear) بھی چھپوا دی جس میں کئی راز افشا کیے اور اس کی سزا بھی بھگتی۔
میں کنگ چارلس کو بالکونی میں کھڑے ہو کر عوام کے لئے ہاتھ ہلاتے دیکھتا تھا اور یاد کرتا تھا عینک والا جن کے زکوٹا جن کے ایک پس پردہ منظر کو جب وہ کرشن نگر کے ایک سکول کی قدیم بالکونی سے گلی میں جمع بہت بڑے ہجوم کو ہاتھ ہلا رہا تھا، لوگ تالیاں بجا رہے تھے مگر گاڈ سیو دی کنگ کہنے والا کوئی نہیں تھا۔
ہوا یوں کہ میں اپنی ٹیم کے ہمراہ کرشن نگر کے ایک پرانے سکول میں عینک والا جن کا ایک منظر فلمانے گیا۔ اس منظر کا مرکزی کردار زکوٹا جن ہی تھا۔ عوام کو معلوم ہوا تو سکول کے ساتھ والی کھلی گلی میں زکوٹا، زکوٹا کے نعرے لگانے لگے۔ میں نے شوٹنگ روک دی اور زکوٹا سے کہا کہ بالکونی میں جا کر بادشاہوں کی طرح ہاتھ ہلاؤ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ میرے خیال میں یہ زکوٹا کی زندگی کا بہترین لمحہ تھا۔
”مجھے کام بتاؤ، میں کیا کروں، میں کس کو کھاؤں، مجھے بھوک لگی ہے۔“
زکوٹا جن کی زبان سے ادا ہونے والا یہ فقرہ ضرب المثل بن گیا، اس کی کئی توجیہات کی گئیں اور پارلیمنٹ تک اس کی گونج سنائی دی۔ صحافت میں اس فقرے کا استعمال بہت ہوا مگر سب سے بہتر استعمال تحقیقی صحافی رؤف کلاسرا نے کیا
وہ اپنے کالموں میں جب سیاستدانوں یا بیوروکریٹس پر تنقید کرتے اور ان کی کرپشن کا ذکر کرتے تو اس طرح اپنے فقرے کا آغاز کرتے
اسلام آباد کے زکوٹا جنوں نے۔۔۔
مگر اسی زکوٹا جن کی اپنی بہادری دیکھئے۔ عینک والا جن کی شوٹنگ کے دوران جو سانپوں والے مناظر شوٹ ہوتے ان میں اصلی سانپ اور اژدہے حصہ لیتے۔ چڑیا گھر کا چیف سپیرا سانپوں کو زہر سے مبرا کر کے لاتا اور اداکار ان کے ساتھ اداکاری کا مظاہرہ کرتے۔
اے حمید صاحب نے زکوٹا کے لئے ایک منظر تحریر کیا کہ وہ گردن میں اژدہا پہنے ہوئے آتا ہے۔ میں نے چیف سپیرے کو فون کیا اور وہ بڑا سانپ لے کر حاضر ہو گیا۔
اب شوٹنگ شروع ہوئی۔ سانپ زکوٹا کے گلے میں پہنا دیا گیا۔ اب اس نے چلتے ہوئے کیمرے کی طرف آنا تھا۔
میں نے سٹینڈ بائی، سائلنس، سٹارٹ ساؤنڈ، رول کیمرہ اور ایکشن کے نعرے لگائے۔ اور زکوٹا نے کیمرے کی طرف تیزی سے چلنا اور مکالمہ بولنا شروع کیا۔ میں نے کیمرہ مین کے ساتھ کھڑے ہوئے محسوس کیا کہ خوف سے زکوٹا کا برا حال تھا۔ اس کے دل کے دھڑکنے کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی، سینے کا زیر و بم نمایاں ہو رہا تھا۔ میں نے جھک کر کیمرہ مین کے کان میں کہا ”پہلی ٹیک اوکے ہونی چاہیے، زکوٹا دوسری ٹیک نہیں کروا سکے گا“ اور اس نے وہ شاٹ بڑی احتیاط سے لیا۔ چیف سپیرے نے جلدی سے سانپ کو اس کے گلے سے جدا کیا اور زکوٹا جن ہانپتا ہوا زمین پر یوں بیٹھ گیا جیسے سو کلومیٹر پیدل چل کر آیا ہو۔
بارے سانپوں کا کچھ اور بیاں ہو جائے۔ ان میں آستین کے سانپ بھی شامل ہیں مگر ان کا ذکر پھر کہیں سہی۔
انڈونیشا کے پہلے دارالخلافہ جکارتا میں ٹیلی وژن پروڈکشن اینڈ مینیجمنٹ کا ٹریننگ کورس منعقد ہوا۔ پاکستان ٹیلی وژن نے مجھے اس میں حصہ لینے کے لئے منتخب کیا۔ اس کے اساتذہ میں انڈونیشیا کے ماہرین کے ساتھ ساتھ ایک ٹرینر سونی کارپوریشن سے تھے جو خود کو پیار سے چیکی کہتے تھے اور دوسرے جاپان کے سرکاری ٹیلی وژن این ایچ کے سے سینئیر پروڈیوسر ازائیوا تھے۔ پاکستان ٹیلی وژن کی طرح این ایچ کے بھی لائسنس فیس سے چلایا جاتا ہے اور بوقت ضرورت حکومت بھی تعاون کرتی ہے۔
ایک دن ہمارے ٹرینر زیر تربیت پروڈیوسروں کو تفریح کی غرض سے لے گئے تو وہاں ایک مداری، اژدہے کے کرتب دکھا رہا تھا۔ ایک موٹا سا اژدہا وہ کبھی اپنے گلے میں ڈال لیتا اور کبھی تماشائیوں کے گلے میں اور روزی کماتا۔ میرے اندر وہی شخص جاگ اٹھا جو سرکس دیکھتے ہوئے جاگا تھا اور ایرینا میں داخل ہو گیا تھا۔ میں اٹھا اور گردن مداری کے حوالے کر دی۔ اس نے وہ اژدہا میری گردن کے گرد لپیٹ دیا اور میں دلیرانہ انداز میں کیمرے کے سامنے کھڑا ہو گیا پوری بتیسی نکالے ہوئے۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ زکوٹا پر کیا بیتی ہوگی۔ اس اژدہے نے مجھے کچھ نہیں کہا مگر آستین کے سانپوں نے میرا کبھی لحاظ نہیں کیا۔
آستیں میں جو نہاں ہے دشنہ وہ جلدی نکال
سانپ سے بڑھ کر خرابی سانپ کی دہشت میں ہے
میرا یہ شعر انہی تجربات کا اظہار ہے جو مجھے آستین والوں کے ساتھ تعلقات میں ہوئے مگر ایک دن جو کچھ پی ٹی وی کے سٹوڈیو میں ہوا وہ وہاں موجود سب کو یاد رہے گا
ایک منظر میں ایک سانپ کسی اداکار کے ہاتھ سے نکل کر سٹوڈیو میں گم ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا سب کے توتے اڑ گئے۔ کچھ کمزور دل تو سٹوڈیو سے بھاگ لئے مگر میں تو کیپٹن تھا سو کچھ دلیروں کو ساتھ ملا کر سانپ ڈھونڈنے لگا۔ سیکورٹی والے بھی آ گئے اور آخر یہ کھلا کہ سانپ سٹوڈیو کی سردی سے گھبرا کر کیمرے کی ڈولی کے پہیوں میں پناہ لے چکا تھا۔ میک اپ روم سے ہیٔر ڈرائیر منگوایا گیا اور چیف سپیرے نے سانپ کو گرم ہوا مہیا کی۔ ذرا سی گرمائش پہنچی تو تو سانپ پھنکارتا ہوا پہیوں سے باہر نکل آیا جسے چیف سپیرے نے فوراً دبوچ کر ڈرے ہوؤں کا سانس بحال کیا۔
مگر میرے سانس کبھی بحال نہیں ہوئے۔ ایک مسلسل تگ و دو، ایک مستقل جد و جہد
کویت کے ایک قصبے خیطان الجدید میں اپنے کزن انور اور بھابھی رخسانہ کے ہاں رہتا، بھابھی کے ہاتھ کے مزے مزے کے کھانے کھاتا اور انتہائی گرم پانی سے بھرے ٹب میں ریفریجریٹر سے نکالے ہوئے برف کے کیوب ڈال کر نہاتا۔ مگر اصل امتحان تو اس وقت شروع ہوتا جب میں نوکری پر جانے کے لئے گھر سے نکلتا اور گرمی کی شدت میں کئی فرلانگ چل کر بس سٹاپ تک آتا۔ گردن گھماتا ہوا گھروں کی چھتوں پر لگی ہوئی بے شمار، پانی کی نیلی ٹینکیوں کو دیکھتا ہوا بس سٹاپ تک پہنچ جاتا۔ نیلی ٹینکیوں میں پانی، ٹینکر بھرتے مگر وہاں کوئی ٹینکر مافیا نہیں تھا اور نہ کوئی ایم کیو ایم تھی۔
راستے میں ایک پاکستانی کا گھر تھا جس نے نہ جانے کہاں سے زرخیز مٹی منگوا کر کھٹے کی بیل اگائی ہوئی تھی اور پھول بھی۔
بس سٹاپ پر بس کا دروازہ کھلتا اور سکھ ڈرائیور میرا منتظر ہوتا۔ میں کچھ فلس کرائے کے، اس کے ڈیش بورڈ پر بنے ہوئے گہرے خانے میں ڈال دیتا، دروازہ سردار کے بٹن دبانے سے بند ہوتا اور بس اک گھنٹے سے زیادہ طویل سفر پر روانہ ہو جاتی۔ خیطان الجدید کے مکانات ختم ہو جاتے اور ایک لق و دق صحرا شروع ہو جاتا۔ شکیب جلالی کا صحرا اور میرا صحرا
میں جس تلاش میں صدیوں چلا ہوں صحرا میں
یہی نہ ہو کہ وہ منظر وہاں رہا ہی نہ ہو
فل لائٹس
کویت کا صحرا، اس میں 52 ڈگری سنٹی گریڈ گرمی برساتا ناراض سورج
اور میں سیون اپ کا ٹھنڈا کین ہاتھ میں لئے اس کی ٹھنڈک کو محسوس کرتا ہوا بس سٹاپ کی طرف رواں۔
اس لئے کہ بس جب ایک ہی رفتار سے نہایت ہموار سڑک پر چلتی ہی چلی جاتی تو متلی کی کیفیت مجھے گھیرے میں لے لیتی۔ میں وہ کین کھولتا اور وقفے وقفے سے چسکی نما گھونٹ لیتا ہوا منزل تک پہنچتا جو میری منزل نہیں تھی۔
جونہی میں اس پاکستانی کے گھر کے سامنے سے گزرا تو کھٹے کی بیل کے پتے سبز تھے اور پھول سر اٹھائے کھڑے تھے۔ اور جب سارا دن مشینوں کے پرزے صاف کر کے، پسینہ بہا کر اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے مزدوروں کے ساتھ وقت گزار کر واپس آیا اور اس پاکستانی کے گھر کے باہر سے گزرا تو بیل کے پتے نیم سوختہ اور پھول سر جھکائے کھڑے تھے۔
میں نے خود کلامی کی
” حفیظ طاہر جس دیس کے موسم میں پتے نیم سوختہ ہو جائیں اور پھول سر جھکا لیں تو وہاں میرے محبت زدہ دل کا کیا ہو گا۔ میری نس نس میں بسا شاعر شعر کیسے کہے گا۔ اب میں کویت آئل کمپنی کے مین سٹیم پاور سٹیشن کبھی نہیں جاؤں گا۔ وجیہہ سکھ ڈرائیور کی بس کا دروازہ اب میرے لئے کبھی نہیں کھلے گا اور میں اس کے ڈیش بورڈ پر کچھ فلس بطور کرایہ رکھ کر اگلی سیٹ پر نہیں بیٹھوں گا اور مجھے متلی روکنے کے لئے گھونٹ گھونٹ سیون اپ کا کین خالی کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مگر میں سردار جسبیر سنگھ ترکھان کا کیا کرتا جو شاعر بھی تھا۔ (جاری ہے )





