سستا خون اور فلسطین

مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد الاقصی بیت المقدس میں واقع مسلمانوں کی مقدس مساجد میں سے ایک ہے۔ بعض روایات کی بنا پر رسول اکرم ﷺ اسی مقام سے معراج کے سفر پر روانہ ہوئے۔ قرآن مجید کے سورہ اسراء میں معراج کا تذکرہ کرتے ہوئے مسجد الاقصی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ مسجد مسلمان، یہودی اور مسیحیوں میں بھی انتہائی قابل احترام ہے ؛ اسلامی احادیث میں مسجد الحرام اور مسجد النبی کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کو بھی انتہائی محترم و با فضیلت مساجد میں شمار کیا گیا ہے اور اس میں نماز ادا کرنا دوسری مساجد میں ہزار نمازوں کے برابر کہا گیا ہے۔
یہ عظیم الشان مسجد ریاست فلسطین میں واقع ہے وہ فلسطین جو اس وقت بھی اسرائیلی درندگی کا شکار ہے گو کہ اسرائیلی مظالم کئی دہائیوں سے مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں اب سے قبل بھی دو ہزار آٹھ اور نو میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں پانچ سو سے زائد معصوم فلسطینی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے انہیں شہید کیا گیا تھا ان حملوں کا آغاز 27 دسمبر، 2008 کو اسرائیلی فضائی حملوں سے ہوا، جس کو اسرائیل نے آپریشن کاسٹ لیڈ کا نام دیا۔ اور اب گزشتہ سال سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی یک طرفہ جنگ میں تقریباً تیس ہزار معصوم فلسطینی شہید، ایک لاکھ کے قریب زخمی لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ موجودہ جنگ میں اسپتال مردہ خانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد شہری بھوک کے سبب موت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ قحط کا خطرہ شدید ہو چکا ہے امداد کے لئے اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر روز 10 سے زائد معصوم بچے اپنے اعضا سے محروم ہو رہے ہیں۔ یونیسیف کا ایک بیان میں یہ بھی کہنا ہے کہ دھماکوں سے بچوں کے کمزور اعضا زیادہ چوٹوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں معصوم بچے ایک یا دونوں ٹانگوں سے معذور یا محروم ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پر سیو دی چلڈرن نے بھی اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ غزہ کے تنازع میں بچوں کی تکالیف ناقابل تصور ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری اسرائیلی درندگی
انسانیت کے نام نہاد دوغلے علمبرداروں سے سوال کرتا ہے کہ ان مظلوم نہتے بے کس فلسطینیوں کا کیا قصور ہے کیا یہ انسان نہیں۔ انسانیت کے دعوے دار اپنے بے زبان جانوروں کی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز ڈال ڈال کر خود کو بہت رحم دل اور خدا ترس ظاہر کرتے ہیں کیا ان کے دل مردہ زبانیں گونگی کان بہرے آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں جو انہیں نہتے مسلمانوں پر ہوتی سفاکیت سنائی دیتی ہے نہ دکھائی دیتی ہے۔
اس وقت وحشیوں کی دنیا پر حکمرانی ہے یہ دور حاضر کے ہلاکو، چنگیز خان ہیں اس وقت انہیں فلسطینیوں کا خون سستا اور اپنے مکروہ عزائم عزیز ہیں۔ اور کیوں نہ لگے ابھی تو مسلمانوں کے اپنے اور مسائل زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ان کے لئے اس وقت مغرب کی خوشنودی ان کی دستی زیادہ عزیز ہے یا پھر یہ بھی اپنی باری کے منتظر ہیں۔ اس سے زیادہ شرم کی کیا بات ہوگی کہ تمام مسلم حکمران اپنے تھوڑے سے لالچ یا معمولی مفادات کے پیش نظر ابھی تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ اسرائیلی اور جو جو اس جنگ میں شامل ہے ان کی مصنوعات کا ہی اجتماعی مکمل بائیکاٹ کریں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
مسلم حکمران ہی کیا مسلم پبلک بھی خود یہی سوچ رہی ہے کہ بائیکاٹ سے کیا ہو گا۔ یہی بے شرمی، بزدلی، غلامی والی سوچ اور طرز عمل آج کے مسلمان کا خاصہ ہے جب ہی ہم ہجوم اور ہمارے دشمن قوم بن چکے ہیں ہم صرف منہ دیکھا احتجاج کر کے جنت کے متمنی ہیں جب کہ یہود ہمارا قتل عام کر کے بھی بنی نوع انسان سے ہمدردی کا دعوے دار بنا ہوا ہے۔ مگر اب یہ مسئلہ صرف اسلامی نہیں انسانی بھی ہے۔ خود کو بہادر، نڈر سمجھنے والے عورتوں، بچوں، بوڑھوں کا شکار کرنے والوں کی انسانیت اب سوال نہیں بن چکی، کیا کسی کو ترس یا رحم نہیں آتا۔
ان تمام مظالم کے بعد یہ اب سامنے کی بات ہے کہ ہزاروں انسانوں کو بے دردی سے قتل کرنے والا اسرائیل اور اس کے حواری اس دنیا کو جس آگ میں دھکیل رہے ہیں انس آگ کے شعلے آسمان تک جا رہے ہیں اس کی تپش سے اب کوئی بھی نہیں بچ سکے گا سب کے گھر جلیں گے محفوظ کوئی نہیں رہے گا چاہے اسرائیل، امریکا کے حواری ہوں یا ان کی خوشنودی حاصل کرنے والے دنیا بھر کے حکمران۔ جن مظلوموں لاچاروں کے پیارے ان کے سامنے لاشوں میں تبدیل ہو گئے جن نہتوں پر لاتعداد بموں کی بارش کی گئی جن کے اسپتال اور قبرستان بھر چکے جن کا تمام مال و متاع تباہ ہو چکا ہے جب یہ ہولناک درندگی سے بھرپور تماشا ختم ہو گا خون کی پیاس کم ہوگی تو زندہ بچ جانے والوں میں کون کب کیسے انتقام لے یہ اللہ ہی جانتے ہیں کیا وہ بھی ایسے ہی عوام کو نشانہ نہیں بنائیں گے؟ ابھی بھی وقت ہے اس یک طرفہ جانبدارانہ خوں ریزی کو ختم کر دیا جائے اسرائیل امریکا گٹھ جوڑ کو لگام دی جائے

