استاد نجیب فاضل قیصا کورک
استاد نجیب فاضل مرحوم ترکیہ کے معروف مفکر ، ادیب اور شاعر ہیں ۔ انہیں ” سلطان الشعراء ” بھی کہا جاتا ہے ۔وہ ترکیہ کے” شیکسپیئر "بھی کہلاتے ہیں۔
وہ 26 مئی 1904 کو استنبول میں پیدا ہوئے اور 25 مئی 1983 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے. ان کا مزار استنبول میں حضرت ابو ایوب انصاری سے منسوب قبرستان میں واقع ہے.
ترکیہ میں ان کے افکار، خیالات اور ادب میں مقام کی وجہ سے انہیں” استاد ” کا درجہ حاصل ہے۔ وہ ترکیہ کے موجودہ صدر رجب طیب اردوان کے پسندیدہ ادیبوں میں سے ہیں۔
ان کا اصل نام احمد نجیب تھا۔ نجیب ان کے پڑدادا کا نام تھا۔ ان کے والد عبدالباقی فاضل قانون دان تھے اور قاضی کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کے دادا محمد حلیمی بھی قانون دان تھے اور قاضی کے عہدے پر متعین رہے۔ آپ کا خاندان خاصہ پڑھا لکھا تھا جہاں مطالعہ کتب اور ادب کا شغف موجود تھا۔ انہیں بچپن ہی سے گھر اور تعلیمی اداروں سے ادب دوست ماحول میسر ہوا ۔انہوں نے چھوٹی عمر اور سکول کے زمانے سے ہی شعر کہنا شروع کر دیئے تھے ۔زمانہ طالب علمی میں ہی ادب کی طرف ان کا رجحان ہو گیا تھا ۔ انہیں ترکی زبان کے علاوہ فرانسیسی اور انگریزی زبان پر بھی دسترس حاصل تھی اور انہوں نے ابتدائی عمر ہی میں لارڈ بیرن , آسکر وائلڈ اور ولیم شیکسپیئر جیسے مشہور مغربی ادیبوں کو پڑھ لیا تھا۔ آپ نے فلسفہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
زمانہ طالب علمی کے دوران ہی ان کے اشعار اس وقت کے مشہور مجلوں میں شائع ہونے لگے تھے۔ اپنے وقت کے مشہور ادیبوں کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا اور ذاتی مراسم قائم ہو گئے تھے۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ فرانس کے دارالحکومت پیرس چلے گئے۔ یہاں سور بون کالج کے شعبہ فلسفہ میں داخلہ لے لیا ۔ یہیں ان کی ملاقات مشہور فلسفی ہینری برگساں سے ہوئی ۔وہ بعد میں استنبول واپس آگئے ۔
استاد نجیب فاضل قیصا کورک کا پہلا شعری مجموعہ ” مکڑی کا جالا” 1925 میں شائع ہوا ۔آپ کچھ عرصہ استنبول میں بینک میں ملازم بھی رہے۔ 1928 میں آپ کا دوسرا شعری مجموعہ ” کالدرما ” شائع ہوا اس شعری مجموعے نے آپ کو شہرت کے عروج پر پہنچا دیا ۔1929 میں آپ انقرہ چلے گئے اور وہاں ترکیہ کے ” ایش بینک ” میں اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے ۔ یہاں انہوں نے 9 سال کام کیا. یہی انقرہ میں ان کی ملاقاتیں اس وقت کے معروف سیاسی رہنماؤں سے ہوئیں۔ انقرہ میں ہی آپ کا تیسرا شعری مجموعہ شائع ہوا. اس دور میں آپ نے مختلف میگزینوں میں کہانیاں لکھنا شروع کر دی تھیں جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئیں.
1934 میں آپ کی ملاقات مشہور عالم دین اور شیخ نقشبند عبدالحکیم ارواسی سے ہوئی ۔ اس ملاقات کے بعد استاد نجیب فاضل کے افکار و نظریات میں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور آپ کے اشعار میں اسلام اور تصوف کا رنگ ابھرنا شروع ہو گیا ۔ان افکار کا اظہار آپ کی آنے والی تصانیف میں بھی نظر آتا ہے۔ ” تخم” کے نام سے 1935 میں آپ کا لکھا ہوا کھیل شائع ہوا. شاعری اور کہانیوں کے علاوہ آپ نے بہت سے ڈرامے اور فلسفہ پر مشتمل کتابیں بھی لکھیں ۔
1936 میں آپ نے "مجموعہ شجر ” کے نام سے ایک مجلہ شائع کیا ۔ یہ مجلہ تصوف اور اسلامی خیالات پر مبنی تھا۔ آپ نے تھیٹر کے لیے بھی خاصا لکھا اور آپ کے لکھے ہوئے تھیٹر کو لوگوں نے بہت پسند کیا ۔مختلف وقتوں میں آپ نے بہت سے میگزین شائع کئے اور ان کی ادارت کے منصب پر فائز رہے۔ 1938 میں آپ نے بینک کی ملازمت کو خیر آباد کہہ کر ” خبر ” اخبار سے منسلک ہو گئے۔ اس کے علاوہ آپ رابرٹ کالج میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے۔ آپ وہاں ادب کی تعلیم دیتے تھے۔ 1939 میں آپ کے افکار پر مبنی کتاب ” چلا ” شائع ہوئی. 1940 میں آپ نے ” نامق کمال” کے نام سے کتاب شائع کی۔
نامق کمال ترکیہ کی معروف ادیب ہیں۔ ان کے اشعار و افکار پر آپ نے تبصرے کیے۔ 1941 میں 37 سال کی عمر میں آپ فاطمہ نسلی خان سے رشتہِ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ آپ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ "
بیوک دوو /عظیم مشرق ” مجلہ بھی آپ کی ادارت میں شائع ہوا ۔جس میں آپ کے افکار و نظریات شائع ہوتے تھے۔ یہ اپنے دور کا ایک اہم مجلہ تھا جس میں آپ کی تحریر متواتر شائع ہوتی تھیں۔ بہت سے اخبار و رسائل میں تواتر سے آپ کے مضمون شائع ہوتے رہے۔ ان اخبارات میں” ینی استقلال” اور ” سون پوستا "وغیرہ شامل ہیں ۔ 1965 میں آپ نے” فکر کلب” کی بنیاد رکھی جس کے تحت مختلف اداروں میں لیکچرز اور سیمینارز دیئے ۔
1973 میں آپ نے حج کیا۔ اس سال آپ کے بیٹے محمد فاضل نے ” بیوق دوئو ” کے نام سے پبلشنگ کمپنی اور ایک اشاعتی ادارے کی بنیاد رکھی جو آپ کی کتابیں شائع کرتا تھا۔
26 مئی 1980 کو ترک ادبیات فاؤنڈیشن کی طرف سے آپ کو "سلطان الشعراء "کا خطاب دیا گیا .1982 میں آپ نے” مغربی افکار اور اسلامی تصوف” نامی کتاب شائع کی. اسی سال آپ کو ” ترکیہ کا بہترین مفکر اور ادیب” کا اعزاز بھی ملا .
” ایمان اور اسلام کا انسائکلوپیڈیا ” نامی کتاب بھی آپ کی تصانیف میں سے ایک اہم کتاب ہے ۔ "سلطان وحد الدین , ایک عظیم وطن دوست سلطان ” کے نام سے بھی آپ نے کتاب لکھی۔
آپ اپنے دور کے عظیم ترین ادیب تھے۔ آپ ابھی 12 سال کے ہی تھے کہ شعر کہنا شروع کر دیے۔ آپ کی پہلی کتاب اس وقت شائع ہوئی جب آپ صرف 17 سال کے تھے۔ آپ کے اشعار و افکار ترکیہ کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہیں۔ 2015 میں آپ کی اہل خانہ نے آپ کے نام پر ” نجیب فاضل قیصا کورک کلچر اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن "کی بنیاد رکھی جو آپ کی تصانیف اور آپ کے افکار و خیالات کی ترویج کے لیے کام کرتی ہے. آپ کی تصانیف کی تعداد 100 سے زائد ہے.
مشہور اقوال
آپ کے چند مشہور اقوال درج ذیل ہیں ؛
نمبر : ا اے اللہ میں ایک غریب اور محتاج انسان ہوں۔ میرے پاس نہ تاج ہے نہ تخت ۔تو میرا ہاتھ تھام لے۔ میں صرف تیرا محتاج ہوں ۔
نمبر 2: مت بھولو کہ تم بھی خدا کے بندے ہو ۔کسی کو اللہ کے سوا مت اہمیت دو ورنہ بھلا دیئے جاؤ گے۔
نمبر : 3 ایک دن آئے گا کہ ہم بھی بوقت شام اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ لوگوں کے لبوں پر صرف ہمارے الفاظ رہ جائیں گے۔
نمبر 4: عظیم کارنامے سر انجام دینے کے لیے دن رات کیڑوں مکوڑوں کی طرح محنت کرنا پڑتی ہے۔
نمبر 5: جیسے کسی کشتی کا ملاح صرف ایک ہی ہوتا ہے ایسے ہی ہمارے دل کا مالک صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالٰی ہے۔
نمبر : 6 انسان کو پختہ کرنے والی شے عمر نہیں بلکہ زندگی کے حادثات ہیں.
نمبر: 7 اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا غلام بناؤ تاکہ حقیقی طور پر آزاد ہو سکو۔
نمبر : 8 اس دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
نمبر: 9 حیرت ہے کہ چار دن کی دنیا کے لیے اتنی جدوجہد اور ابدی حیات کے لیے کچھ بھی نہیں ۔
نمبر : 10 کائنات میں ہمارے لیے بہت سے راز پوشیدہ ہیں۔ سورج کا صبح طلوع اور شام کو غروب ہو جانا کیا یوں ہی ہے ۔کیا ہم ساری زندگی ایسے ہی رہیں گے۔
نمبر : 11 اگر ہر قہقہے کے ساتھ آللہ کو یاد نہیں کر سکتے تو مصیبت میں اس پر چیخنے چلانے اور اعتراض کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے ۔
نمبر : 12 زمین پر گرتے ہوئے پتے سے عبرت حاصل کر . وہ بھی کبھی اوپر سے زمین کو حقارت سے دیکھتا تھا۔
Facebook Comments HS




