بندیال عدلیہ کا زوال
سپریم کورٹ کی ”بندیال کورٹ“ نے جب مئی 2022 میں اسلام آباد میں عمران خان کے ممکنہ انتشار اور دھرنے کے مطالبے کے مقابلے میں پرامن جلسہ کرنے کی اجازت دی تو عمران خان نے سپریم کورٹ کے بنچ کے حکم کو ہوا میں اڑا دیا اور اپنے کارکنان سے کہا کہ وہ ”ڈی چوک“ میں جمع ہوں جہاں دھرنا دیا جائے گا، عدالت عظمی کے حکم کے برعکس جلسے کے بجائے دھرنا دینے اور پورے اسلام آباد کو خاکستر کرنے کے بعد عمران خان کے بلوائیوں کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لئے جب حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا کہ عدلیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور بلوائیوں پر قانون شکنی کی سزا تجویز کی جائے تو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ”ہو سکتا ہے کہ عمران خان تک عدلیہ کے فیصلے کا پیغام درست نہ پہنچایا گیا ہو اور وہ سپریم کورٹ کے صرف ‘پرامن جلسہ’ کرنے کے حکم سے لا علم رہے ہوں“ لہذا عمران خان کو اسلام آباد کی توڑ پھوڑ کے مقدمے میں شریک کرنا مناسب نہیں“۔
اسی طرح انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بار بار کے نوٹسز کے بعد اسلام آباد طلبی پر جب وہ کامپلیکس پہنچے تو عمران خان کے بلوائیوں نے دوبارہ پر تشدد ہنگامہ کیا اور عمران خان کی حاضری کو ان کی گاڑی ہی میں ممکن بنایا گیا، اس دوران عمران خان کی گرفتاری پر چیف جسٹس نے عمران خان کی سپریم کورٹ حاضری کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی انتظامات کیے اور مرسڈیز کار بھجوا کر عمران خان کی حاضری کو یقینی بناتے ہوئے معروف جملہ GOOD TO SEE YOU ادا کیا اور بندیال کورٹ نے عمران خان کی رہائی کے آرڈر جاری کیے ، یاد رہے کہ ان تمام بینچز میں جسٹس اعجاز الاحسن کی شرکت کو ضروری جانا گیا۔
بندیال کورٹ کی عمران خان اور قانون شکنوں کی سہولت کاری یہاں تک نہیں رکی بلکہ عمران خان کی سہولت کاری کے لئے لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ایسے انتظامات کیے گئے کہ عمران خان ایسے ”لاڈلے“ کے لئے سہولت کاری مسلسل مہیا کی جاتی رہے، جو آج بھی کسی نہ کسی صورت جاری ہے اور تحریک انصاف کے اپنے آئین کے مخالف انٹرا پارٹی انتخابات کو کبھی لاہور ہائی کورٹ اور کبھی پشاور ہائی کورٹ کے ذریعے قانونی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن مذکورہ انتخابات کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 15۔اے کے تحت کالعدم قرار دے چکا ہے، تحریک انصاف کے انتخابات میں حصہ لینے کی جنگ ہنوز جاری ہے جبکہ بندیال کورٹ کے دو اہم ججز استعفی دے کر گھر جا چکے ہیں، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز کے یکے بعد دیگر استعفے آج بھی ہمارے افسوسناک غیر جمہوری طرز عمل کا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی بدقسمتی میں گورنر جنرل ملک غلام محمد ملکی عدالت میں جسٹس منیر کے ذریعے وہ نقب زن ٹھہرے جنہوں نے اپنی خواہش کے مطابق اقتدار پر رہنے کے لئے سب سے پہلے عدلیہ کی آزادی اور اس کے نظام انصاف پر ضرب کاری لگائی۔ 1954 میں جب فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس میاں عبدالرشید ریٹائر ہوئے تو اس وقت فیڈرل کورٹ کے سب سے سینئر جسٹس اے ایس اکرم تھے، مگر حکومتی سازشی حربوں کے نتیجے میں جسٹس اے ایس اکرم کو مجبور کیا گیا کہ وہ خود یہ عہدہ چھوڑ دیں اور فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس بننے سے خود الگ ہو جائیں۔ سو اے ایس اکرم نے اس منصب سے خود کو دستبردار کر لیا، مگر جسٹس اس بات پر ہر گز ٓمادہ نہ تھے کہ ان کی جگہ کسی انگریز جج کو مذکورہ منصب دیا جائے بلکہ کسی بھی پاکستانی جج کو مذکورہ عہدہ دے دیا جائے۔
اس آسانی کے بعد گورنر جنرل غلام محمد نے اپنے ہی ککے زئی قبیلے کے جسٹس منیر کو لاہور ہائی کورٹ سے بلوا کر وزیراعظم محمد علی بوگرہ کے ذریعے جسٹس منیر کو فیڈرل کورٹ کا چیف جسٹس بنا اور یوں پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں بربادی کی نقب ڈال دی، جس نے سقوط ڈھاکہ سے لے کر عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومتوں کو فوجی مارشل لاؤں کے مقابلے میں نہ صرف تہہ تیغ کیا بلکہ ملک میں آمرانہ اور طاقتور اسٹبلشمنٹ انصاف فراہم کرنے کی ایسی روایت ڈالی کہ نچلے طبقات کے لئے ملک کا عدالتی نظام انصاف آج تک صرف ایک خواب بن کے رہ گیا ہے۔
ملک کی عدالتی تاریخ کے اس رخ کو اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ ملک میں غیر جمہوری اور آئین شکن قوتوں کا یا جنرلی مارشل لاؤں کا ذکر نہ ہو۔ گورنر جنرل غلام محمد کی بد نیت سوچ اور جمہوری قوتوں کو پیچھے دھکیلنے میں سب سے اہم کردار جنرل ایوب نے کیا، جنہوں نے کمال مہارت سے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی چاپلوسی کے ذریعے ناجائز پروموشن حاصل کیے اور خود کو جنرل کے عہدے تک پہنچایا جس میں انہوں نے وزیردفاع اسکندر مرزا کو استعمال کر کے ملک میں پہلے غیر جمہوری مارشل لا کی بنیاد رکھی اور اپنے بندوق بردار اقتدار کو مستقل رکھنے کے لئے گورنر جنرل غلام محمد کے نوازے جانے کے لئے چیف جسٹس منیر کی مدد اور عنایت سے غیر جمہوری اقتدار کو طول دے کر جمہوری سوچ کے مقابلے میں عوام کے ذہنوں کو اسٹبلشمنٹ کی طاقت کی طرف دیکھنے اور مراعات حاصل کرنے کی سوچ پر کام کیا۔
جس کے لئے جنرل ایوب نے 1956 کے آئینی ڈرافٹ کو قانون ساز اسمبلی میں نہیں آنے دیا اور یوں ملک ایک طویل عرصے تک آئینی دستور سے محروم کر دیا گیا اور ملک کا نظام بی ڈی سسٹم کے تحت چلا کر جنرل ایوب کے اقتدار کو جسٹس منیر کی عدالت نے قانونی راستہ فراہم کیا۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ جب جنرل ایوب کے آمرانہ اقتدار کے خلاف عوامی مزاحمت میں شدت آئی تو جنرل ایوب نے اقتدار اپنے دوسرے جنرل یحیی خان کو سونپ دیا، جنہوں نے ملکی حالات کے پیش نظر ملک میں دستور کے بغیر انتخابات کرانے کا غیر قانونی اور غیر آئینی راستہ تلاش کیا۔
جنرل ایوب کے آمرانہ اور غاصبانہ اقتدار کو اس وقت کا عدالتی نظام دیکھتا رہا اور جنرل ایوب کے اقتدار پر ناجائز قبضے کے سلسلے میں کوئی عدالتی یا قانونی سزا تجویز نہ کر سکا۔ یہی نہیں بلکہ ایوبی دور کا عدالتی نظام جنرل ایوب ایسے غاصب کو یہ تک نہ کہہ سکا کہ کس قانون کے تحت ملک کا نظم و نسق دوسرے جنرل کے حوالے کر رہے ہو؟
سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ 1954 سے لے کر 1972 تک کیوں اور کس قانون کے تحت اس وقت کی عدلیہ نے کیا اور جمہوریت کے لئے حاصل کیے گئے ملک میں انصاف اور قانون کے تقاضے پورے نہ کیے گئے اور عدلیہ جنرلی مارشل لاؤں کے گھر کی لونڈی بنی رہی اور ملک میں تمامتر غیر قانونی اور انصاف کے منافی کردار ادا کرتی رہی۔
اس کا سادہ سا جواب یہی بنتا ہے کہ کہ جنرل ایوب نے ملک کی بنیادوں میں عدالتی انصاف کو بندوق کے خوف میں مبتلا کیا تاکہ آئندہ کے آنے والے جنرلز حکمرانوں کے لئے بھی ملک کی عدلیہ آئین و قانون کے منافی مدد کرتی رہے اور ملک کے عدالتی نظام میں ”نظریہ ضرورت“ کو شامل کر کے تمام فوجی حکمرانوں کی سہولت کاری جاری رکھی جا سکے۔ یہی وہ تناظر ہے جس کو جنرل ضیا سے لے کر جنرل پرویز مشرف نے استعمال کیا اور ملک کے جمہوری اذہان کو مارشل لائی ذہن میں تبدیل کر کے ملکی سیاست اور معیشت کو تباہ و برباد کیا۔
جنرل ضیا نے جنرل ایوب کی فکر کے تحت اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل نہ کرنے کے فلسفے پر عمل کیا اور دیدہ دلیری سے 1973 کے باضابطہ دستور کی دھجیاں بکھیریں اور ہماری اس وقت کی عدلیہ نے جنرل ضیا کو ”نظریہ ضرورت“ کے تحت غیر آئینی اقدامات کی نہ صرف اجازت دی بلکہ آئین شکن جنرل ضیا کی ترامیم کو عدالتی تحفظ فراہم کیا اور عدلیہ میں جسٹس مولوی مشتاق اور جسٹس منیر ایسے کرداروں کی مدد سے ملک کے منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی ”عدالتی سزا“ دلوائی۔
مگر ہماری عدلیہ آئین شکن جنرل ضیا کا احتساب نہ کر سکی بلکہ اعلی عدلیہ میں جسٹس افتخار چوہدری، جسٹس ثاقب نثار، جسٹس کھوسہ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس اعجازالاحسن اور جونئیر جج لاتی رہی جبکہ دوسری جانب اسٹبلشمنٹ نواز اور غیر جمہوری ذہن کے عمران خان کو آر ٹی ایس نظام کے ذریعے اقتدار دلوا کر غیر جانبدار منصفوں کے خلاف سازشیں کرتی رہی۔ آج کے پاکستان میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلی عدلیہ سے لے کر نچلی عدلیہ تک میں ”نظریہ ضرورت“ کو ہمیشہ دفن کر دیا جائے اور عدلیہ سے جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز ایسوں سے پاک کیا جائے۔


