سلگتے حرفوں سے لکھی تحریر


پرانی فائلوں کی ورق گردانی کرتے کرتے دماغ جھنجھنانے لگا ہے اور جھٹکوں کا تسلسل بھی دل و دماغ اڑائے دے رہا ہے۔ ساتھ والی نشست پہ بیٹھے لڑکے کی آنکھیں بند ہیں۔ زیادہ تر مسافر اونگھ رہے ہیں بلکہ کچھ تو باآواز بلند خراٹے لے رہے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ نیند تو کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے مگر میری بے خواب آنکھوں سے نیند کوسوں دور ہے۔ بے خوابی سے نمٹنے کو میرے بیگ میں نیند کی گولیاں موجود ہیں مگر ٹریول انزائٹی میں یہ گولی مجھ پہ کارگر نہیں ہوتی بلکہ طبیعت مزید بوجھل کر دیتی ہے۔ یوں بھی میں سونا نہیں چاہتی کیوں کہ دھیان تو کہانی کے ان ٹکڑوں میں اٹکا ہوا جنہیں کھوجنا باقی ہے۔

کالج کے دنوں میں جب مہر بانو نے یہ واقعہ سنایا تھا تب تو مزید پوچھنے کی ہمت ہی نہ پڑی۔ میں مہر بلب اس کے بے حس و حرکت خد و خال پہ وقت کی لکھی اس تحریر پڑھنے کی کوشش کرتی رہی جو کسی ایسی زبان میں لکھی تھی جس سے میں یکسر ناواقف تھی۔ اس کی آنکھوں میں اڑتے ریت کے بگولوں نے مجھے دہلا دیا تھا۔ اپنے تجسس کی آبیاری کی خاطر درد کو عنوان دینے کا حوصلہ مجھ میں نہیں تھا۔ اگر مگر بے معنی تھا کہ انسان اتنا ہی بیان کرتا ہے جس کے لیے وہ ذہنی طور پہ تیار ہوتا ہے۔

ہر کسی کی زندگی میں کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جسے وہ ایسی خفیہ دراز میں چھپا کر رکھتا ہے جس تک کسی کی پہنچ نہ ہو۔ تنہائی میں یہ درازیں خود بخود کھل جاتی ہیں اور ان سے امڈ امڈ کر باہر آتے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے اکیلے ہی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ آزادی انسانی فطرت کا خاصہ اور خوف وہ نادیدہ زنجیر ہے جسے توڑے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ جو انسان اپنے اندر پیروں کی زنجیر توڑنے کی ہمت پیدا کر لیتا ہے وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ گو مہر بانو نے اپنے اندر کے بت توڑ ڈالے تھے مگر ان کی کرچیاں ہمیشہ اس کی روح زخمی کرتی رہیں۔

میں نے برسوں اس لمحے کا انتظار کیا جب وہ خود سینے پہ رکھے اس نادیدہ بوجھ کو اتار پھینکے۔ یہی ہمارے مضبوط تعلق کی بنیاد تھی۔ اس دن میں نے آہستگی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر صرف اتنا کہا تھا کہ چلو مہرو کینٹین چلتے ہیں۔ نہیں، تم جاؤ۔ غالباً اسے خود کو سمیٹنے کے لیے تنہائی درکار تھی سو نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اٹھنا پڑا۔ اس کے پل میں تولہ اور پل میں ماشہ مزاج کی شکایت اکثر دوستوں کو رہتی مگر دوستی میں رخنہ نہ پڑتا۔ انا پرستی اس زمانے کا چلن نہ تھی اور ایک دوسرے سے وابستہ رہنا ضروری تصور کیا جاتا تھا۔

گنجلک رویوں کے پیچھے بہت سے سانحات و واقعات ہوتے ہیں۔ جب یہ گتھیاں نہیں سلجھتیں تو سینے پہ پڑے بھاری پتھر سرکانے کے لیے انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت پڑتی ہے جو مددگار نہ سہی پر ایک اچھا سامع ضرور ہو مگر اس خود غرض دنیا میں اپنے ہی آپ سے لدے پھندے لوگ اپنا وقت دوستی اور محبت جیسے بے حیثیت سکوں کے عوض فروخت نہیں کرتے۔ انسانیت کا جھوٹا پرچار کرنے والوں کے چہروں سے جب نقاب اترتا ہے تو ان کی بدصورتی سے گھن آنے لگتی ہے۔ یہاں کان نہیں زہریلے سانپوں کی دو شاخہ زبانیں ہیں۔ ان کے ڈسے کو پانی مانگنے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ یہ وہ مکھیاں ہیں جو صرف زخموں پہ بھنبھناتی ہیں۔

برسوں بعد جب تعلق کے دھاگے اٹوٹ ہو چکے تھے تب ایک دن میں نے پوچھا مہرو کالج میں اپنے بچپن کا جو واقعہ تم نے سنایا تھا وہ ذہن سے چپک کر رہ گیا ہے، لیکن پوچھنے کی ہمت نہیں پڑتی کہ پھر کیا ہوا تھا؟ وہ بولی جو مجھ پہ بیتا وہ تو مجھے یاد ہے اور باقی باتیں گھر میں ہونے والی گفتگو سے اخذ کی ہیں۔ کم سنی کے باعث بہت کچھ میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ دادی نے بتایا تھا کہ لوگوں نے تالہ توڑ کر انہیں باہر نکالا۔ مجھے قریبی ڈاکٹر کی کلینک لے جایا گیا، گو زخم بہت گہرا نہیں تھا مگر اتنا گہرا ضرور تھا کہ سر میں ٹانکے لگے۔ دہشت سے میری آواز بند ہو گئی تھی۔ چاچا فضل دین نے دادی سے کہا بچی کو میرے گھر لے چلیں بچوں میں رہے گی تو بہل جائے گی۔ مجھے تو بس اتنا یاد ہے کہ بھولا اور مسرت تمام وقت میرا ہاتھ تھامے بیٹھے رہے۔ میں کب سوئی کچھ یاد نہیں جب آنکھ کھلی تو گھر میں تھی۔

اس رات ابا بہت غصے میں تھے اگلے دن وہ تھانے پہنچے مولوی ابوالحسن اور چند دیگر افراد کے خلاف رپورٹ درج کرا دی۔ اگلی شام بگلا بھگت بنا بخاری آیا تو ابا نے چھوٹتے ہی کہا، آؤ آؤ میرا گھر جلنے کا تماشا دیکھو کہ یہ آگ تمہاری ہی لگائی ہوئی ہے۔ بخدا حسن بھائی مجھے کچھ خبر نہیں میں تو اپنی پریشانی میں دو روز سے نور پور گیا ہوا تھا۔ ابا دھاڑ کر بولے میں باز آیا ایسی دوستی سے اور عقیدے سے جس نے میرے ہی گھر میں کربلا کھڑی کر دی ہے۔

کیوں کفر بکتے ہو بھائی حوصلہ رکھو میں ابھی ان لوگوں سے جاکر بات کرتا ہوں۔ ابا نے تڑخ کر کہا میں کفر بکتا ہوں؟ یہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کا تم بھی حصہ ہو۔ میٹھی چھری کو کند ہوتے دیکھ کر تلملاتے ہوئے بولا جہاں اتنا احسان کیا ہے وہیں تھوڑی سی مہلت اور سہی، بندوبست تقریباً ہو چکا ہے میں بہت جلد چلا جاؤں گا۔ پھر ابا اندر آ کر دادی سے چپکے چپکے خدا جانے کیا باتیں کرتے رہے۔ امی مٹی کا مادھو بنی سنی کو ان سنی کرتے ہوئے دوسرے کمرے میں چھوٹے بھائی کو سلانے چلی گئیں۔

کیا پھر وہ چلا گیا؟ نہیں وہ اس واقعے کے دو ماہ بعد گیا۔ ابا نے حفظ ماتقدم کے طور پہ دروازے کی باہر والی کنڈی نکلوا دی اور رات نو بجے اپنے ہاتھ سے اندر کی کنڈی میں تالا ڈالتے۔ اس پر بخاری بہت جز بز ہوا مگر ابا تو ہتھے سے اکھڑ چکے تھے انہوں نے ایک نہ سنی الٹا گرجتے ہوئے بولے، یہ میرا گھر ہے، میری مرضی جب چاہوں دروازہ کھولوں یا بند رکھوں، برداشت نہیں تو ابھی چلے جاؤ اور ہاں اگر کسی نے بھی ادھر کا رخ کیا تو نتیجہ خود بھگتے گا۔

جسے وہ ممولا سمجھے تھے شہباز نکلا۔ اتنے سخت ری ایکشن کی امید کسی کو نہ تھی لہٰذا کچھ عرصہ دم دبک کر دم سادھے رہے مگر یہ خاموشی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ جب تیسرا محرم شروع ہوا تو دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پہ اتر آئے۔ ابا تو یوں بھی ایک آدھ مجلس میں ہی جاتے تھے اور اب تو وہ اتنے متنفر تھے کہ انہوں نے بالکل ہی جانا چھوڑ دیا۔ اصل کم بختی تو دادی کی آئی۔ وہ جہاں بھی جاتیں طعن و تشنیع کی بوچھار ان کا پیچھا کرتی۔ ایک دن دادی کی شناسا وہ خاتون جن کا منہ خالہ کہتے نہ سوکھتا تھا دادی سے کہنے لگیں کہ خالہ تم مجلس میں نہ آیا کرو ورنہ لوگ ہمارے ہاں آنا چھوڑ دیں گے۔

ام لیلٰی پھر اشتیاقی اور خالہ جگن غرض کہ ہر جگہ یہی کہانی دھرائی گئی۔ وہ فرش عزا جو حسین کے چاہنے والوں کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے رہتا ہے دادی کے لیے بند تھا۔ مولوی ابوالحسن کے گروہ نے سب کو اس گھرانے کا سوشل بائیکاٹ کرنے پہ مجبور کر دیا۔ چند اوباش تو دادی کو دیکھتے ہی کافر کی اماں کہہ کر فقرے کستے۔ اس معاشرے میں کفر کا فتویٰ لگانا کس قدر آسان ہے صرف چھٹانک بھر کی زبان ہی تو ہلانی پڑتی ہے۔ انسان ایک لمحے میں بندے سے خدا بن جاتا ہے، اگر خدائی کا اتنا ہی شوق ہے تو رحمانی خدا کے بجائے جابر اور قاہر ہی کیوں؟

دادی صوم و صلٰوة کی پابند سادھارن عورت اکثر تنہائی میں ایسے آنسو بہاتیں جیسے کسی نے جنت سے نکال کر اچانک دوزخ کی آگ میں جلنے کو جھونک دیا ہو۔ ہڑک سے مجبور ہو کر کرنل کے امام باڑے کا رخ کرتیں کہ وہاں اس گروہ کی پہنچ نہیں تھی۔ بے چاری وہاں کسی الگ تھلگ کونے میں بیٹھی گریہ زاری کی زبان میں اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہتیں۔ اصل مسئلہ ہی یہی تھا کہ اس گروہ کو کرنل کے مقابل آنے کو بڑی جگہ درکار تھی جو کسی کے پاس نہیں تھی۔ یہ عقدہ تو بعد میں کھلا کہ یہ ساری کارروائی ہی اسی مقصد کے تحت کی گئی تھی۔ اسکیم کی ناکامی نے اس گروہ کو باولا کر دیا تھا۔ وہ ابا کو زک پہنچانے کا ہر رکیک حربہ استعمال کرنے پہ تل گئے تھے۔

دادی عمر کے جس حصے میں تھیں اس میں نئے میل ملاپ بنانا یوں بھی مشکل ہوتا ہے۔ ان کے لیے برادری سے باہر ہونا کالے پانی کی سزا کاٹنے کے مترادف تھا۔ وہ گھر کی ہی ہو کر رہ گئیں۔ ان کی جان پہچان والوں میں اب مظہر کی اماں اور مونا ہی بچی تھیں جن کا تعلق سنی مسلک سے تھا۔ گھر بیٹھے بیٹھے جب دل گھبرا جاتا تو میرا ہاتھ تھامے کبھی کبھار ان کے ہاں چلی جاتیں۔ رہیں امی تو انہیں کوئی خاص فرق نہ پڑا کہ ان کے لیے تو میکہ ہی کافی تھا۔

مجھے حویلی کے تاریک زینے سے بہت خوف آتا تھا۔ وہاں کوئی کھڑکی نہیں تھی اونچائی پہ ایک چھوٹا سا روشندان تھا جس کا شیشہ مدتوں کی جمی گرد نے اتنا دھندلا دیا تھا کہ دن کے وقت بھی روشنی کی چند لکیریں ہی اندر آ پاتیں۔ ان لکیروں میں دھول کے ذرات سے بنتے بگڑتے ہیولے عجیب و غریب منظر پیش کرتے تھے۔ میں درمیانی منزل کی ڈیوڑھی پہ کھڑی یہ نظارہ پہروں دیکھا کرتی مگر کچھ دنوں سے اسی تاریکی میں لپکتے ہوئے دو ہاتھ جو مجھے اکیلے میں دبوچ کر جسم کے مختلف حصوں پہ اتنے زور سے چٹکیاں کاٹتے کہ نیل پڑ جاتے۔

جسم کے پرائیویٹ پارٹس کو چھوتے ہوئے دو لال انگارا سی آنکھیں تنبیہ کرتے ہوئے کہتیں کہ کسی کو بتایا تو گلا گھونٹ دیں گے۔ آنکھیں ابل جاتیں اور لب سل جاتے۔ ایک دن نہلاتے ہوئے دادی نے وہ نشان دیکھ کر پوچھا بٹیا یہ کیسے ہوا؟ میں سہم گر بولی، اماں جی کسی کو بتایا تو وہ گلا گھونٹ دے گا، کون گلا گھونٹ دے گا؟ وہی زینے والا بھوت یہ سنتے ہی یہ سنتے ہی جہاندیدہ بڑھاپے کے چہرے پہ فکر و پریشانی کی لکیروں نے ایک جالا سا تان دیا۔ پھر وہ میرا سایہ ہی بن گئیں۔ اسکول سے واپسی تک ڈیوڑھی پہ کھڑی رہتیں۔ میرے پہنچتے ہی اوپر کی کنڈی لگا کر نماز پڑھتیں تاکہ ہیں باہر نہ نکل پاؤں۔ اتنی کڑی نگرانی سے میرا دم گھٹنے لگتا۔ میں مسرت بھولے کے ساتھ پہلے کی طرح کھیلنا چاہتی تھی ایک دن وہ نماز پڑھنے سے پہلے کنڈی لگانا بھول گئیں تو میں بلی کی چال چلتی زینے کے جانب لپکی۔

وہ بھوت بھی جیسے موقع کی تلاش میں گھات لگائے بیٹھا تھا۔ جونہی اس نے مجھے چھوا میرے حلق سے بے اختیار چیخ نکلی۔ اس نے کس کے میرے منہ کو اپنے بھاری ہاتھ سے بھینچ دیا مگر چیخ دادی تک پہنچ چکی تھی وہ نماز توڑ کر کون ہے کون ہے کرتی زینے کی سمت بھاگیں اور اس کی پیٹھ پہ دوہتھڑوں کی برسات کر دی۔ بھوت اس اچانک حملے سے گھبرا گیا۔ منہ سے مفلر ہٹاتے بولا میں ہوں فیروز منی اندھیرے میں ڈر گئی تھی۔ اس کا ہاتھ میرے چہرے سے ہٹا تو میں سہمی ہوئی دادی سے لپٹ گئی۔

شور شرابا سن کر بخاری کی بیوی نیچے اتری تو دادی غصے سے تھرتھراتی دھاڑیں کہ کیا تم لوگ خون خرابہ چاہتے ہو؟ تمہارا اوباش سنپولیا میری بچی کو چٹکیاں کاٹتا اور ڈراتا ہے اور آج تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بچی کے جسم کے نیل دیکھو۔ بخاری کی بیوی ہونقوں کی طرح آنکھیں پھاڑے ٹکر ٹکر دادی کا منہ دیکھتی رہی، فیروز اس دوران بھاگ لیا۔ جانتی ہو یہ فیروز اسی بخاری کا بیٹا تھا۔ دادی کی مشکل یہ تھی کہ اگر وہ اپنے تند خو اکلوتے بیٹے سے کچھ بھی کہتیں تو وہ مرنے مارنے پہ آمادہ ہو جاتا۔ بات بڑھتی تو بدنامی کا ڈر الگ تھا۔ بہو تیسرا بچہ پیدا کرنے کو میکے میں تھی۔ عافیت چپ میں جانتے ہوئے، شام کو ابا گھر آئے تو انہوں نے اتنا ہی کہا کہ زینے پہ بہت اندھیرا ہے۔ منی ڈرتی ہے کسی بجلی والے کو بلا کر روشنی کا فوری بندوبست کرو۔

حالات کے اس نئے رخ سے بوکھلایا بخاری چار پانچ روز بعد بغیر کچھ کہے سنے گھر خالی کر گیا۔ ابا کبھی نہ جان پائے کہ اس اندھیرے زینے پہ ان کی معصوم بچی پہ کیا گزری تھی۔ وہ مدتوں اندھیرے سے کیوں خوف کھاتی رہی۔ جان جاتے تو شاید خود کو کبھی معاف نہ کر پاتے۔ اس کمینے کی جان لے لیتے یا خود کو ختم کر لیتے۔ غیرت کے نام پہ مرنا مارنا تو اس معاشرے میں عام سی بات ہے۔

مہر بانو خوش قسمت تھی کہ کسی بڑے نقصان سے بچ گئی ورنہ ایسے اندھیرے زینے تو کئی معصوم بچیوں کو نگل لیتے ہیں۔ ذہن کی صاف سلیٹ پہ سلگتے حرفوں سے لکھی ابتدائی تحریر جو اثرات مرتب کرتی ہی انہیں وقت دھندلا ضرور دیتا ہے مگر راکھ کے نیچے دبی ہوئی چنگاریوں کی تپش تا عمر محسوس ہوتی ہے

ابھی میں جکسا پزل کے ٹکڑے جوڑ ہی رہی تھی کہ جہاز نے اتنی زور کا غوطہ کھایا کہ منہ سے بے اختیار نکلا یا الٰہی خیر! جیسے بہت بلندی سے کسی نے نیچے پٹک دیا ہو۔ اس جھٹکے سے بہت سے ایمرجنسی ماسک باہر نکل آئے ہیں ہیٹ ریکس کھلنے اور سامان نیچے گرنے سے مسافروں میں کہرام بپا ہے ہر چہرے پہ موت کی سی زردی کھنڈی ہے۔ سنسنی کے اس ماحول میں سوچ کا تار و پوہ بکھر چکا ہے۔ جہاز کا کپتان اعلان کر رہا ہے کہ ہم تھوڑی دیر میں استنبول کے ہوائی اڈے پہ اترنے والے ہیں۔ یہ ایمرجنسی لینڈنگ ہے، اپنے حفاظتی بند باندھے رکھیں۔ وہ کچھ اور بھی کہہ رہا ہے مگر کان سن نہیں پا رہے۔ یا خدایا کیا ایمرجنسی ہو گئی؟ جب ڈوبتی ناؤ میں ملاح موجود ہوتو سوال کیا کرنا کہ وہ ہر ممکن کوشش ضرور کرے گا۔

دماغ ماؤف ہے۔ بچوں کے رونے کی آوازیں، عورتوں کی چیخیں زخمی مسافروں کی کراہیں۔ کیا یہ زندگی کا آخری رنگ ہے؟

فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے سو جو مرضی معبود

Facebook Comments HS