ایک اچھی روایت کی چالیسویں کڑی
سفر نامہ نگار، مزاح نگار معین قریشی ادب کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ مزاحیہ ادب کے ضمن میں ان کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔
سات جنوری کی دوپہر معین الدین قریشی کی رہائش گاہ پر یک جہتی مشاعرہ اور ظہرانے کا اہتمام ہوا۔ یہ دعوت ڈاکٹر معین قریشی ہر سال کیا کرتے تھے چوں کہ یہ دعوت سردیوں میں ہوتی ہے تو اس دعوت کا خاص کھانا پائے ہوتے ہیں گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دعوت بڑے پائے کی دعوت ہے۔
معین قریشی صاحب نے سینتیس سال اس روایت کو نبھایا۔ ان کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری ان کی اولاد نے سنبھالی اور اس روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ گزشتہ تین سال سے فہیم قریشی اپنے سب بہن بھائی مل کر مشاعرے اور ظہرانے کا اہتمام کرتے ہیں اور اسی حسن انتظام سے کرتے ہیں جیسے ان کے والد کیا کرتے تھے۔ وہ ہی ادب آداب، وہ ہی وضع داری اور وہ ہی مہمان نوازی ان سب لوگوں میں بھی ہے، جو ان کے والد صاحب کا خاصا تھا۔
اس محفل کا آغاز حسب روایت تلاوت کلام پاک اور پھر حمد و نعت سے ہوا۔ معین قریشی کے دوست شبیر بھٹی اس دعوت میں شرکت کے لیے ہر سال بہ طور خاص کینیڈا سے آتے ہیں۔ وضع داری کا یہ مظاہرہ خال خال ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس دعوت میں زیادہ تر لوگ معین قریشی صاحب سے اپنے دیرینہ روابط کی وجہ سے بھی شرکت کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو بہت وقت سے ہر سال اس محفل میں شریک ہوتے ہیں اور یہ بہت اچھی بات ہے کہ معین قریشی صاحب کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ان کے احباب و رفقاء نے ان کے گھرانے سے مہر و محبت کا رشتہ نہیں توڑا۔
اس مرتبہ شعری نشست میں صفدر علی خان، عقیل عباس جعفری، مرزا عاصی اختر، ریحانہ روحی، محمود شام، سحر انصاری، فراست رضوی، اختر سعیدی، نسیم نازش، عنبرین حسیب عنبر، شاعر علی شاعر اور دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے داد پائی۔ کچھ شاعروں کا نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔
میری قسمت دیکھیے دو بول کہنے کے عوض
ایک تھی مس وہ مسز صفدر علی خان ہو گئی
(صفدر علی خان)
ایک تدفین کے دوران ہو گیا ظہر کا وقت
اپنی اپنی ہی مساجد میں پڑھی سب نے نماز
اور جوں ہی کھانا لگا ہم نے یہ منظر دیکھا
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
(مرزا عاصی اختر)
یہ زمیں کچھ بھی نہیں ہے، آسماں کچھ بھی نہیں ہے
اگر ہم ہی نہ ہوں تو یہ جہاں کچھ بھی نہیں ہے
(عنبرین حسیب عنبر)
جب سے وہ بے وفا ہوا روحی
بے وفا لوگ اچھے لگنے ہیں
(ریحانہ روحی)
اس بزم میں جاتا ہوں میں جس سے ملنے
اس بزم میں جاکر میں اسی سے نہیں ملتا
(ڈاکٹر عقیل عباس جعفری)
.
کیسی کیسی صورتیں گم ہو گئیں
دل کسی صورت مگر آباد ہے
کیسی کیسی محفلیں سونی ہوئیں
پھر بھی دنیا کس قدر آباد ہے
(پروفیسر سحر انصاری)
ہے میسر مجھے چراغ مگر
آفتاب، آفتاب ہوتا ہے
(شاداب احسانی)
خواب میں چلنے کی عادت تھی مجھے
ہم سفر کون ہے دیکھا ہی نہیں
(فاطمہ حسن)
ایک صدا کی سمت میں چلتی رہی فسوں زدہ
دشت بلا میں کون تھا، چھپ گیا جو پکار کے
(نسیم نازش)
گرد ملال چہرے پہ ملتا رہا ہوں میں
سڑکوں پہ دھوپ اوڑھ کے چلتا رہا ہوں میں
(شاعر علی شاعر)
خواب تسکین بھی ہے اذیت بھی ہے
خواب کے بعد تعبیر کیا دیکھنا
(اختر سعیدی)
یہ اداس رت کے حبیب ہیں، یہی فصل گل کے نقیب ہیں
یہ جو خشک پتوں کا ڈھیر ہے، یہ عجب خسارہ ہے خاک پر
(فراست رضوی)
سرمایہ و شمشیر کی یک جائی ہوئی ہے
افکار و نظریات کی پس پائی ہوئی ہے
(محمود شام)
عموماً کہا یہ جاتا ہے کہ جہاں دو خواتین اکٹھا ہوں وہ خاموش نہیں رہ سکتیں لیکن اس محفل میں یہ بات الٹ ثابت ہوئی خواتین تو خاموشی سے شاعری سن رہی تھیں لیکن چند مرد حضرات آپس میں بلا تعطل گفت گو کیے جا رہے تھے۔ ایسی محفلوں میں حاضرین کو چاہیے کہ وہ خاموش رہ کر گفت گو یا شاعری سنیں اور دوسروں کو بھی سننے دیں۔ محفل کے اختتام پہ مہمانان خصوصی اور میزبان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
شعری نشست کے بعد ظہرانہ تھا۔ اس دعوت طعام کی روایت چوں کہ پائے ہیں لہٰذا وہ تو تھے ہی تھے لیکن اس کے ساتھ مکس سبزی بھی تھی۔ دونوں چیزیں دیکھنے میں جتنی خوش نما تھیں، کھانے میں بھی اتنی ہی لذیذ تھیں۔ میٹھے میں بہت مزے دار سی کھیر تھی میووں اور چاندی کے اوراق سے خوب آراستہ۔ نظر اور زبان دونوں کی تسکین کا انتظام۔ کھانے کے بعد سردیوں کا شوخ رنگ، رسیلا اور سب کا پسندیدہ پھل، کینو بھی پیش کیے گئے۔ کھانے کے بعد تصویری سیشن ہوئے کچھ گپ شپ ہوئی اور ایک اچھی محفل کی خوش گوار یاد لیے ہم وہاں سے رخصت ہو گئے۔




