تحریک انصاف کی مقبولیت کی جان والا امریکی طوطا
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کا دوسرا سیاسی جنم 30 اکتوبر 2011 کے جلسے سے ہوا، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔ خان صاحب اپنے دوسرے سیاسی جنم کی بنیاد جنوری 2010 میں اس وقت رکھ چکے تھے جب خان صاحب برٹش ٹھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے سیمینار میں شرکت کے لیے لندن گئے۔ خان صاحب کا سٹے اپنی سابقہ اہلیہ جمائما کے گھر پر تھا، یہیں پر خان صاحب کی اپنے سابق بردارِ نسبتی بین گولڈ سمتھ اور اس کی گرل فرینڈ اور دنیا کی امیر ترین یہودی بینکر فیملی کی فرد کیٹ روتھس چائلڈ سے ہوئی (کیٹ اس وقت بین گولڈ سمتھ کی گرل فرینڈ تھیں، ان کی شادی 2013 میں ہوئی اور 2023 میں طلاق ہوئی(۔
اگر آپ روتھس چائلڈ فیملی سے واقف نہیں ہیں تو ان کے بارے دو باتیں ذہن نشین کر لیں کہ
دو سو سال سے زائد عرصے سے دنیا کے مالیاتی اور نظام ذرائع ابلاغ روتھس چائلڈ فیملی کے زیر اثر چلتے ہیں۔ ان کی تمام بڑے بڑے بینکس اور میڈیا ہاؤسز مین سرمایہ کاری ہے۔
کم از کم ایک سو نوے سال تک روتھس چائلڈ فیملی دنیا کی امیر ترین فیملی رہی مگر پھر ان کی جائیدادیں فیملی میں تقسیم ہونے لگیں تو ان کے درجے میں ذرا سا فرق آ گیا۔
محققین اور مورخین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ اسرائیل کے قیام کا آئیڈیا چرچل کے ذہن میں دنیا کی سب سے با اثر یہودی روتھس چائلڈ فیملی کے مطالبے پر آیا۔
خان صاحب روتھس چائلڈ فیملی سے پہلے بھی مل چکے تھے لیکن اس وقت کیٹ روتھس چائلڈ کم سن تھیں۔ جنوری 2010 میں جب بین گولڈ سمتھ نے اپنی گرل فرینڈ کو خان صاحب سے متعارف کروایا تو کیٹ خان صاحب سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی۔
یہیں جمائما کے گھر پر دورانِ گفتگو کیٹ روتھس چائلڈ نے خان صاحب سے ان کی سیاسی پارٹی کے بارے پوچھا تو خان صاحب نے بتایا کہ وہ ملک میں نظام تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی مدد کو خوش آمدید کہیں گے۔
خان صاحب اس ملاقات کے بعد وطن عزیز واپس آ گئے لیکن مارچ 2010 میں اپنے دوسرے سابق برادر نسبتی زیک گولڈ سمتھ کی الیکشن کیمپین کے لیے دوبارہ لندن گئے (اس کے علاوہ 2016 میں بھی صادق خان کے مقابلے میں زیک گولڈ سمتھ کی لندن مئیر الیکشن کیمپین چلانے کے لیے گئے تھے ) تو بین گولڈ سمتھ کی گرل فرینڈ کیٹ روتھس چائلڈ سے پھر ملاقات ہوئی۔
اس وقت تک کیٹ روتھس چائلڈ نے اپنا نام تبدیل کر کے ایلس روتھس چائلڈ رکھ لیا تھا۔ ایلس (کیٹ) کی یہودی فیملی فائنانشل اداروں کے علاوہ میڈیا میں بھی بھاری سرمایہ کاری تھی اور یہ فیملی عوامی رائے پر کنٹرول یا زیر اثر لانے کے لیے متعدد فرموں کے استعمال سے خوب واقف تھی۔ ایلس روتھس چائلڈ نے مارچ 2010 میں ہونے والے اس دورے کے دوران لندن میں خان صاحب کی ملاقات ڈیوڈ فینٹن نامی شخص سے کروائی جو فینٹن کمیونیکیشنز نامی فرم امریکہ میں چار شہروں ہیوسٹن، نیویارک، لاس اینجلس اور سان فرانسسکو میں اپنے دفاتر چلاتا تھا۔
آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ڈیوڈ فینٹن اور ان کی فرم فینٹن کمیونیکیشنز کے بارے جان لیا جائے۔
ڈیوڈ فینٹن 1953 میں نیویارک سٹی میں پیدا ہوئے، ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں صحافتی زندگی کا آغاز بطور فوٹو جرنلسٹ کیا اور کچھ عرصہ تک رولنگ سٹون نامی میگزین کے ڈائریکٹر رہے۔ ڈیوڈ فینٹن نے 1982 میں اپنی فرم فینٹن کمیونیکیشنز کا آغاز کیا جس کے قیام کا مقصد پبلک کو ایشوز کے بارے آگاہ کرنا تھا لیکن قیام کے صرف دو سال بعد ہی ڈیوڈ کا اپنے پارٹنر رابرٹ پولاک سے کاروباری پالیسیوں پر اتفاقِ رائے نہ ہونے سے بٹوارہ ہو گیا۔ رابرٹ کو ڈیوڈ کے بزنس ماڈل سے اختلاف تھا جو کہ بنیادی طور پر کاروباری مقاصد کے لیے پبلک جو آگاہی فراہم کرنے کے بجائے بڑے پیمانے پر گمراہی پھیلانے پر مبنی تھا۔
اس سلسلے میں بات کو مختصر رکھتے ہوئے مناسب ہو گا کہ کچھ مثالوں کا مطالعہ کر لیا جائے۔ انیس سو نواسی میں ڈیوڈ فینٹن نے میڈیا پر بڑے پیمانے پر ایک کیمپین شروع کی جسے براعظم شمالی امریکہ میں ایلار سکئیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس سال فینٹن کمیونیکیشنز سے ایک ایسی افواہ پھیلا دی جس کے مطابق امریکہ میں سیبوں کی فصل پر ایک ایلار نامی کیمیکل سپرے کر دیا جاتا تھا جو کہ کینسر کا باعث بن سکتا تھا۔ اس سلسلے میں ثبوت کے طور پر فینٹن کمیونیکیشنز نے جو سٹڈی پیش کی وہ ایک این آر ڈی سی نامی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے شائع کی گئی تھی اور اس ادارے نے بھی اپنی تحقیقی رپورٹ میں یہ لکھا تھا کہ جب چوہوں کو عام خوراک سے پینتیس ہزار فیصد زائد ایلار کھلائی گئی تو ایسے آثار پیدا ہوئے جس سے لگا کہ یہ کینسر سیل ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کی وفاقی فوڈ اینڈ ڈرگ ایجنسی نے جب اس سلسلے میں تحقیق کی تو انہیں بارے کوئی ثبوت نہیں ملا، ایف ڈی اے کے مطابق اگر ایک بچہ اپنی تمام عمر روزانہ پچاس ہزار پاؤنڈز متاثرہ سیب کھاتا تو عمر کے آخری حصے میں اسے کینسر ہونے کے چانسز ہو سکتے تھے۔ بہرحال فینٹن کمیونیکیشنز پر جب سوال اٹھنے لگے تو انہوں نے مناسب تحقیق یا ثبوت پیش کرنے کے میڈیا میں اداکاروں کا پیش کرنا شروع کر دیا، معروف اداکارہ میرل سٹریپ اس سلسلے میں پیش پیش رہیں۔ فینٹن کمیونیکیشنز کے اس پروپیگینڈا کیمپین کے نتیجے میں اگلے دس سال تک امریکی سیبوں کی مارکیٹ شدید متاثر رہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کیمپین کے نتیجے میں امریکی معیشت کو 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا جو آج کے دور میں 425 ملین ڈالرز کے قریب بنتے ہیں۔ آپ اس پروپیگنڈا کی شدت کا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ امریکی سیب کھانے سے کینسر ہونے کے خطرات بارے ہم نے 2001 میں کینیڈا میں بھی سنا۔
فشفینٹن کمیونیکیشنز نے ماہی گیری کی صنعت کو متاثر کرنے کے لیے سورڈ فش کے شکار پر پابندی کی کیمپین (گِو سورڈ آ بریک) شروع کی، کیمپین میں بعد ازاں مچھلیوں کی دیگر اقسام کے شکار پر پابندی کی سفارشات بعد میں شامل کی جانا تھیں، ماہرین کے مطابق اس کیمپین کا مقصد مالی مفادات حاصل کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔
2002 میں فینٹن کمیونیکیشنز نے معروف بریک فاسٹ سیریل کیلوگز اور کیمپ بیل سوپ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف کیمپین شروع کی۔ کیلوگز فاؤنڈیشن آج فینٹن کمیونیکیشنز کی ایک بڑی کسٹمر ہے۔
آپ ڈیوڈ فینٹن کے بزنس ماڈل پر اگر توجہ دیں تو آپ کو تین اہم نکات نظر آئیں گے۔
ایسے ایشوز کو اٹھانا جو عوامی سطح پر جلد توجہ حاصل کرنے والے ہوں جیسا کہ صحت کے مسائل، اور اس کے لیے مخصوص الفاظ کا بار بار استعمال کرنا تاکہ بات عوام کی نفسیات کا حصہ بن جائے۔
نتائج حاصل کرنے کے لیے میڈیا پر بھرپور پروپیگنڈا کیمپین کرنا۔ ڈیوڈ فینٹن کے اپنے الفاظ میں ’ہم نے اس قدر شدید کیمپین کی کہ ہم نے یقینی بنایا کہ کوئی امریکی ہماری کیمپین سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہ جائے‘ ۔
مقاصد کے حصول کے لیے شوبز سیلیبریٹیز کو استعمال کرنا۔
اس بزنس ماڈل کے تحت ڈیوڈ کا طریقہ واردات یہ ہے کہ کسی ایک ایشو کو پکڑ کر بھرپور طریقے سے کیمپین کرنا، جب کیمپین کے اثرات عوامی سطح پر نظر آنا شروع ہو جائیں تو متاثرہ فریق کو اپنا کسٹمر بنا کر بزنس ڈیل کر لینا یا اس کیمپین دو ہزار دس کے اثرات کو دیگر کسٹمرز کے سامنے بطور اپنی کارکردگی پیش کر کے ان سے بزنس حاصل کرنا۔
مالی تفصیلات طے ہونے کے بعد اگست 2011 میں میں خان صاحب ڈیوڈ فینٹن سے ملے اور مرحوم نعیم الحق، جو اس وقت ان کے ہمراہ تھے، کی ڈیوڈ فینٹن سے رابطہ رکھنے کی ذمہ داری لگا کر آئے۔ فینٹن کمیونیکیشنز نے لفظ سونامی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ہدایت کی۔ اسی سال مارچ 2011 میں جاپان میں سمندر کیں سونامی باعث ساحلی شہروں کے باسی اور ان کی جائیدادیں پانی کے بہاؤ میں تیرتے دیکھے گئے تھے۔ غالباً لفظ سونامی تجویز کرنے کے پیچھے یہ تاثر تخلیق کرنا مقصد تھا کہ پی ٹی آئی کا سونامی دیگر جماعتوں کو سونامی کی طرح خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ چند ٹی وی پروگرامز میں ابتدائی طور پر لفظ سونامی استعمال کرنے کے بعد عمران خان نے پہلی بار اکتوبر 2011 کے جلسے میں عوامی طور پر یہ لفظ استعمال کیا۔
لفظ سونامی کے بعد جو دوسرا لفظ کثرت سے استعمال کرنے کی ہدایات دی گئیں وہ لفظ ’چور‘ تھا۔ آپ 2011 سے کے درمیان کے اخبارات اور ٹی وی پروگرامز دوبارہ دیکھ لیں آپ کو سب سے زیادہ تکرار جس لفظ کی ملے گی وہ لفظ ’چور‘ نکلے گا۔ اس کے بعد 2013 اور 2015 کے درمیان الفاظ سب سے زیادہ استعمال کیے گئے وہ ’دھاندلی‘ اور ’پینتیس پنکچر‘ نکلیں گے۔ اور اس کے بعد 2018 تک ایک بار پھر الفاظ ’چور‘ اور ’چوری‘ دہرائے جاتے رہے۔
اور 2022۔ 2018 کے درمیان ’رونا‘، ’بھاگ گیا‘، ’این آر او‘ اور ’ہزار کروڑ‘ جیسے الفاظ با کثرت مستعمل رہے اور اپریل 2022 کے بعد ’غلامی‘ ،’حقیقی آزادی‘ اور ’ننگا‘ تزویراتی طور پر سب سے زیادہ استعمال کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مرحوم نعیم الحق کی وفات کے بعد فینٹن کمیونیکیشنز سے رابطہ رکھنے میں مشکلات پیش آئیں تو زلفی بخاری کے ذریعے ہیوسٹن ٹیکساس میں مقیم ایک سجاد بخاری نامی پی ٹی آئی عہدیدار کو رابطہ رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس بارے میں یہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ڈیوڈ فینٹن کو یہ پیمنٹس شوکت خانم فنڈز سے کی جاتی رہیں، اس لیے سنجیدہ تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اس پراجیکٹ کا نام صاف ہو سکے اور افواہوں کا خاتمہ ہو۔ ان فنڈز کے بارے فوزیہ قصوری بار بار سوال اٹھاتی رہی ہیں اور اسی پاداش میں انہیں پارٹی سے باہر نکال دیا گیا۔ دسمبر 2016 میں فنڈز جمع کرنے میں مدد کرنے والے پی ٹی آئی امریکہ کے ایک عہدے دار محبوب اسلم جب پاکستان آئے تو پہلے تو ان سے ملاقات سے انکار کر دیا گیا
(خبر کا لنک: https://jang.com.pk/news/236845)
بعد ازاں ان کے شدید احتجاج پر ملاقات کا وقت دیا گیا تو فنڈز بارے حساب پوچھنے پر اٹھا کر کمرے سے باہر پھنکوا دیا گیا تھا۔
عوامی رائے پر اپنی اثر انداز ہونے کی صلاحیت کے باعث کے فینٹن کمیونیکیشنز سی آئی اے اور دیگر ایجنسیوں کو بھی خدمات مہیا کرتی ہے۔ اس سلسلے میں سی آئی اے کے سابق ملازم رابرٹ لارینٹ گرینیئے کی فرم آرلوک نے فینٹن کمیونیکیشنز کے ساتھ ایک جوائینٹ وینچر یا فینٹن/آرلوک نامی کنسورشیم بنا رکھا ہے۔ سی آئی اے چونکہ کبھی بھی اس قسم کے معاملات براہ راست ہینڈل نہیں کرتی تو مقاصد کے حصول کے لئے بطور درمیانی رابطہ فینٹن/آرلوک کو استعمال کرتی ہے۔
یہ وہی فینٹن/آرلوک فرم ہے جس کی خدمات خان صاحب نے اپنے دور امریکہ کے دوران ایم ایس این بی سی نامی ٹی وی چینل پر انٹرویو دینے کے لیے پچاس ہزار ڈالرز کے عوض وقت حاصل کیا۔
یکم اگست 2022 کو پی ٹی آئی نے فینٹن/آرلوک فرم سے باقاعدہ معاہدہ کیا جو پندرہ دن بعد 16 اگست 2022 کو منظرِ عام پر آیا تو اس وقت کے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پریس کانفرنس کر کے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی نے جس فرم سے لابنگ کرنے کا معاہدہ کیا ہے وہ پاکستان کی ایٹمی پروگرام کے خلاف لابنگ میں انوالو رہی ہے۔
یہاں پر ایک دلچسپ اور قابل غور امر یہ ہے کہ آپ عمران خان صاحب کی دو ہزار دس سے پہلے کی تمام جدوجہد پر نظر دوڑائیں تو خان صاحب چھوٹی کارنر میٹنگز، چند ایک ٹی وی انٹرویوز میں جھگڑا کرتے اور قاضی حسین احمد مرحوم اور میاں نواز شریف کی پریس کانفرنسز میں پیچھے بچہ جمہورا کی طرح کھڑے نظر آتے ہیں، لیکن دو ہزار دس کے دورہ ہائے لندن کے بعد خان صاحب ایک باقاعدہ ایجنڈا اور پروگرام لے کر چلتے نظر آتے ہیں۔
دو ہزار دس کے بعد کی پی ٹی آئی اور فینٹن کمیونیکیشنز کا کام کرنے کا طریقہ بھی ایک جیسا نظر آتا ہے، جیسے کہ
وطن عزیز میں مذہب اور حب الوطنی کارڈ جیسے جلد توجہ حاصل کرنے والے ایشوز کا میڈیا پر بے دریغ استعمال، ایشوز کو اٹھانا جو عوامی سطح پر جلد توجہ حاصل کرنے والے ہوں، اور اس کے لیے مخصوص الفاظ کا بار بار استعمال کرنا تاکہ بات عوام کی نفسیات کا حصہ بن جائے
نتائج کے حصول کے لیے میڈیا کا بھرپور اور کثیر الجہتی استعمال۔
مقاصد کے حصول کے لیے شوبز سیلیبریٹیز کو استعمال کرنا۔
مارچ 2022 میں جب خان صاحب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جا رہی تھی تو خان صاحب نے ایک انٹرویو میں اپنے آپ کو برین گیمز کا ماسٹر قرار دیا تھا امید ہے کہ تحریر ہذا کے تناظر میں آپ خان صاحب کی پروپیگنڈا مشینری اور برین گیمز کی جان والے طوطے کے بارے بخوبی جان گئے ہوں گے۔


ہمیں تو شروع سے یقین تھا خان صاحب نہائت ڈھٹائ سے جھوٹ بولتے ہیں ۔ مگر قوم یوتھ تو انکو امت مسلمہ کے عظیم رہنماء اور قائد کے طور پہ اب بھی یقین کیے بیٹھی ہے