”جنگل میں جمہوریت“ مترجم ڈاکٹر عبد العزیز ملک: چند تاثرات


 ”جنگل میں جمہوریت اور دیگر کہانیاں“ پنجابی افسانوں کا ترجمہ ہے جسے اردو روپ ڈاکٹر عبد العزیز ملک نے دیا ہے۔ ان افسانوں کے تخلیق کار اکبر لاہوری ہیں۔ اکبر لاہوری سے میرا پہلا تعارف 2010 میں ہوا جب ان کے پنجابی افسانے ”جنگل وچ جمہوریت“ کا اردو ترجمہ ”جنگل میں جمہوریت“ ادب لطیف میں پڑھا۔ اس افسانے کے مترجم ڈاکٹر سعید احمد تھے۔ کسی پنجابی افسانہ نگار کو پڑھنے کا یہ میرا اولین اتفاق تھا جو نہایت خوشگوار تھا۔

اکبر لاہوری پنجابی ادب کے بہت نمایاں اور معتبر تخلیق کار ہیں۔ انہوں نے نثر کے ساتھ ساتھ شاعری کو بھی وسیلہ اظہار بنایا اور پنجابی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی شاعری کی۔ ان کی تخلیقات میں ”اکبر کہانیاں“ کے ساتھ ساتھ شعری تصانیف ”موج تبسم“ ، ”واردات“ ، ”چمن اردو“ ، ”کشکول“ اور ”راوی دیاں رمزاں“ شامل ہیں۔

”جنگل میں جمہوریت اور دیگر کہانیاں“ میں اکبر لاہوری کی پندرہ کہانیوں کا انتخاب شامل ہیں، جسے حسن انتخاب کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ڈاکٹر عبد العزیز ملک نے اس مجموعے کے دیباچے میں اکبر لاہوری کو پنجابی کہانی کا مرکزی ستون کہا ہے۔ اکبر لاہوری کی پنجابی کہانیاں دیکھیں تو وہ کسی بھی طرح کسی نام نہاد بڑی زبان کے بڑے تخلیق کار کے افسانوں سے کم تر نہیں۔ ان کے ہاں موضوعات اور اسلوب ہر دو سطحوں پر حیران کن حد تک تازگی، پختہ کاری اور فنکاری نظر آتی ہے۔

ان کہانیوں میں مطالعہ کریں تو کھلتا ہے کہ تخلیق کار زبردست سیاسی شعور کا مالک ہے۔ سیاسی شعور ہونا شاید اتنی قابل تعریف بات نہ ہو، تاہم اس سیاسی شعور کو جس انداز سے انہوں نے اپنی کہانیوں میں بنا ہے وہ بلاشبہ لائق تحسین ہے۔ ”جنگل میں جمہوریت“ ، ”بہروپیا“ ، ”جنگل کی سیر“ ، ”چڑیا گھر کی کہانی“ ایسے ہی افسانے میں جو ہمارے سیاسی نظام کے گورکھ دھندے کے عکاس ہیں اور علامتی آہنگ لیے ہوئے ہیں۔ چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے :

جنگل میں انتخابات کا سن کر بھیڑیے جو تعداد میں بہت کم ہیں ان کا نمائندہ، شیر سے کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے :

”آپ کو نہیں معلوم کہ حکمران ہم پر سختی کرنے کے لیے ہم میں سے ہی ہمارے بھائیوں کو عہدے دیں گے اور ان سے ہماری کھال اتروائیں گے۔ زمانے بھر میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ سر کار جب حکومت ہاتھ میں آ جائے تو پھر بھیڑ کا لیلا بھی ہلاکو خان بن جاتا ہے۔“ (جنگل میں جمہوریت)

افسانہ ”بہروپیا“ میں جس طرح ہمارے صاحب اقتدار لوگوں کو ماہر بہروپیے سے بڑا فنکار دکھایا ہے وہ خوب ہے، افسانے کا اختتام پر جب بہروپیا اپنے دوست شیخ کے بیٹے کے پاس جا کر اسے انتخابات میں کیے گئے وعدے یاد کراتا ہے تو :

”شیخ صاحب کا بیٹا کرسی سے اتر کر اس کے قریب ہوا۔ کان سے پکڑ کر اسے اوپر اٹھایا اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگوٹھے کا دباؤ دیتے ہوئے، اس کی آنکھیں اپنی آنکھوں کی طرف لاتے ہوئے کہا“ اوئے فقیریے باشا کے بیٹے دیکھا ہے بہروپیا ”۔ (بہروپیا)

افسانہ ”جنگل کی سیر“ میں سیہہ جب ایک جلسے میں صاحب مسند بگھیاڑ کے سامنے رو رو کر تقریر کرتا ہے کہ آپ ہمارے خون کے پیاسے کیوں رہتے ہیں آخر ہم نے آپ کا کیا بگاڑا ہے تو بگھیاڑ صاحب جواب دیتے ہیں :

” بگھیاڑوں کا خون پینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ بگھیاڑوں سے کمزور ہو۔ تمام جنگل اس بات کا گواہ ہے کہ بگھیاڑوں کا پنجہ شیر، گینڈے، سور، ریچھ اور ہاتھی کی گردن پر کبھی نہیں پڑا۔ جب بھی پڑا ہے خود سے کمزور پہ پڑا ہے۔“ (جنگل کی سیر)

ان کی کہانیوں میں ایک چیز جو بہت نمایاں ملتی ہے وہ طنز ہے۔ ان کی کہانیوں کے شیڈز میں طنز کا رنگ بہت گہرا اور حاوی ہے۔ وہ ایسے بے رحم انداز میں نشتر زنی کرتے ہیں کہ سماج کی برائیاں پوری خباثتوں سمیت بے نقاب ہو جاتی ہیں اور قاری بہت سی چیزوں کو ایک نئے انداز میں دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ افسانہ ”چھتر“ میں جس طرح بھگو بھگو کر قوم کو لگائے گئے ہیں، وہ چشم کشا ہے۔ اس افسانے میں ایک قومی شاعر جس کی تصاویر ملک کے ہر دفتر، ہر دکان اور ہر گھر میں آویزاں ہیں، کی کہانی بیان کرتے ہوئے ہماری مردہ پرستی کو طنز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ قومی شاعر کے بیٹے کی گفتگو ملاحظہ ہو:

” جب میرا باپ زندہ تھا تو اسے کسی نے نہ پہچانا اور نہ جانا۔ پبلشروں نے اسے پیٹ بھر کر دھوکہ دیا۔ اس نے قوم کو ایک پیغام دیا۔ اس قوم نے وہ پیغام ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا اور کبھی یہ نہ سوچا کہ جو آدمی راتوں کو جاگ کر دل کی آواز، آنکھوں کے راستے بکھرتا ہے اسے بھوک بھی لگتی ہے۔ وہ اپنی آنکھوں سے نالائقوں اور نااہلوں کو عالموں کی پوشاک پہنتے دیکھتا رہا اور کبھی منھ سے سی تک نہ نکالی۔“ (چھتر)

اس بے قدری کا بدلہ اس شاعر نے اپنی وصیت سے لیا کہ مجھے شہر سے دور کسی قبرستان میں دفنا کر قبر کو ہموار کر دیا جائے تا کہ قوم کا کوئی دولت مند، وزیر، عالم اور جاہل میری قبر پر پھول نہ چڑھا سکے۔ اس کے بیٹے نے ایسا ہی کیا اپنے گھر پر ایک علامتی مزار بنایا جہاں شاعر کے ٹوٹے ہوئے جوتے کو پتھر کے سہارے کھڑا کیا گیا تھا، اس مزار کے اندر جانے کی عوام کو اجازت نہ تھی۔ یہاں آنے والے زائرین اور شاعر سے محبت کرنے والوں کا جم غفیر دراصل شاعر کے جوتے پر پھولوں کے ہار چڑھا کے جاتے جنہیں بعد میں شاعر کا بیٹا بھی چھتر مارتا۔ اس افسانے کا عنوان مترجم نے ”چھتر“ ہی رکھا، اگر اس کا اردو ترجمہ کیا جاتا تو جوتا اس کے کسی مترادف سے اس معنویت کا جنم لینا ناممکن تھا جو اس عنوان سے عیاں ہے۔

اس مجموعے کی ایک اور خوبصورتی اس کے کرداری افسانے ہیں۔ اکبر لاہوری کے کرداری افسانے ”آپا“ ، ”کہانی بابے اسلام دین کی“ ، ”چودھری کی بیٹی“ اور ”ڈینگا“ دوسرے افسانوں کی نسبت خاصے نمایاں اور پختہ دکھائی دیتے ہیں۔ بالخصوص انہیں خواتین کردار تراشنے میں خصوصی مہارت ہے۔ ایک اور خصوصیت جو ان کے خواتین کرداروں میں نظر آتی ہے کہ وہ نہایت مضبوط کردار ہیں، جو احتجاج کرنا جانتی ہیں، اپنا حق لینا بلکہ چھیننا انہیں آتا ہے، وہ روایتی روتی، بلکتی اور ظلم سہتی عورت سے خاصی مختلف ہے۔

افسانہ ”آپا“ میں آپا اپنی محبت اپنے شوہر سے اس بات پر قطع تعلق کر لیتی ہے کہ اس نے اس کے سائیں بھائی کو برا کیوں سمجھتا ہے۔ ”جب عورت بدلہ لیتی ہے“ کا مرکزی کردار جس طرح اپنے شوہر اور بیٹے کی موت کا بدلہ چودھری سے شادی کر کے اس کے بیٹے کو مار کر لیتی ہے اس سے قاری کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے علاوہ ”چودھری کی بیٹی“ میں جس طرح چودھری کی بیٹی چودھری کے بھتیجے سے انتقام لیتی ہے اس کے علاوہ افسانہ ”ڈینگا“ کی ملانی اور افسانہ ”نیک بخت“ کی مرکزی کردار، اس طرح کی خواتین ہیں جو اپنی مرضی سے اپنی زندگی جینے کا ہنر جانتی ہیں۔

جو مزاحمت کر سکتی ہیں اور حالات کو اپنے زور بازو سے اپنی من چاہی سمت میں موڑ سکتی ہیں۔ مرد اساس معاشرے میں اس طرح کے خواتین کرداروں کو تراشنا شاید خواتین کی آزادی، خودمختاری اور انہیں اپنے جیسا ایک انسان سمجھنے کی وہ خواب ہو جو تخلیق کار نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عکس ان کی کہانیوں میں دکھائی دیتا ہے۔

اکبر لاہوری کے افسانوں پر موضوع اور بیانیہ تکنیک کے حوالے سے طویل اور بھرپور گفتگو کی جا سکتی ہے، وہ ایسی عمدگی سے کہانی بیان کرتے ہیں، بظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں اور جزئیات سے اس طرح پلاٹ تعمیر کرتے ہیں کہ قاری مبہوت رہ جاتا ہے۔ ان کے افسانوں کے فکری و فنی خصائص ایک مختصر تبصرے میں سمیٹنا ناممکن ہے، اس بحر کی غواصی اور لولوئے آب دار کے بیان کے لیے ایک طویل اور جامع تحریر کی ضرورت ہے۔ ترجمہ کی بات کریں تو ”اکبر کہانیوں“ کا یہ ترجمہ نہایت موزوں، شستہ، اور رواں انداز میں کیا گیا ہے۔

اس ترجمے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ جن پنجابی الفاظ کے موزوں متبادل اردو الفاظ نہیں ملے ان کو جوں کا توں تحریر کیا گیا ہے تاہم اردو ترجمہ بریکٹ میں درج کر دیا گیا ہے ، تا کہ کہانی کا تاثر مانند نہ پڑے۔ جیسا کہ ماسا (تھوڑی سی) ، کھڑبا کھڑبی (جھڑپیں ) ۔ پنجابی مصرع اور اشعار کہیں کہیں اردو ترجمہ کیے گئے ہیں کہیں ایسے ہی لکھ دیے گئے ہیں، جس سے پنجابی ثقافت اور تہذیب کی فضا نہ صرف قائم رہی بلکہ خوبی سے اردو میں منتقل ہوئی۔

ڈاکٹر عبد العزیز ملک اس سے پہلے عالمی افسانوں کو پنجابی زبان میں ”پنجابی کہانیاں“ کے عنوان سے منتقل کر چکے ہیں۔ یوں وہ دو محاذوں بیک وقت ڈٹے ہیں۔ نہ صرف پنجابی قارئین کو دوسری زبانوں کے عمدہ افسانوں کے روشناس کرا رہے ہیں، بلکہ پنجابی افسانوں کو اردو میں منتقل کر کے ہم ایسے اردو قارئین کو پنجابی ادب اور پنجابی تہذیب و ثقافت سے روبرو کرا رہے ہیں۔ یہ اس قدر عظیم، ضروری اور اہم کام ہے کہ اس جانب ہمارے اداروں کو توجہ دینی چاہیے۔ ڈاکٹر عبد العزیز ملک جس محنت، محبت، تندہی، جذبے اور بظاہر کسی مالی و دنیاوی منفعت کے بغیر یہ اس کام میں لگے ہیں وہ لائق صد تحسین ہے۔ کتاب کی طباعت، سرورق اور عمدہ پیش کش پر کتاب دوست پبلشر محمد عابد صاحب کے لیے بھی ہدیہ تحسین۔

Facebook Comments HS

One thought on “”جنگل میں جمہوریت“ مترجم ڈاکٹر عبد العزیز ملک: چند تاثرات

  • 17/01/2024 at 10:11 شام
    Permalink

     bohat acha likha hai book review main amooman likhari kitab ko ignore kar daite hain aur apni adabi aur ilmi wardaat ka parchar karte hain lekin isse parh k kitab k baare achi khaasi maloomat milti hain aur youn lagta hai jese likhne wale ne mukamal kitab parh kar qalam uthaya hai aur usse har pehlu se ujagar karne ki koshish ki hai jese akbar lahori se mera pehla taruf aj hua

Comments are closed.