چال ہم چلتے ہیں ہر بار غلط


سیاست کے میدان میں اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر پچھلے 75 سال کی بہت سی کہانیاں، فسانے اور حقیقتیں ہیں۔ سچ اور جھوٹ کے فیصلے تاریخ کیا کرتی ہے لیکن فرق ان کو پڑتا ہے جو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہتے ہوں اور آئندہ کے لئے اس کا دھارا موڑنے کے خواہشمند ہوں۔ وہ جن کا واحد مقصد حصول اقتدار ہو وہاں کوئی تاریخ کوئی کردار کوئی اصول، کوئی ضابطہ نہیں ہوتا۔ وہاں چاپلوسی ہوتی ہے، موقع کی تلاش ہوتی ہے یا پھر ڈھٹائی ہوتی ہے۔

فراز نے تو ہر نئے سال پر ہم جیسے ہی خوش فہموں کے بارے میں کہا تھا کہ نئے سرے سے بام و در آراستہ کرتے ہیں۔ در و بام تک بات رہتی تو درست تھا لیکن ہم بھولی قوم ہر نئے نعرے، نئی تبدیلی، نئے چیف سے توقعات وابستہ کر بیٹھتے ہیں۔ پھر کتنا ہی فاصلہ طے کر کے راستے میں خبر ہوتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہے۔ چنانچہ پھر انہی بھول بھلیوں میں کھوئے نشان منزل کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

ماضی کی راکھ کریدنے سے بہت زخم ہرے ہوں گے لیکن زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو مشرف دور میں دونوں بڑی جمہوری پارٹیوں سے جو ہو رہا تھا اس کے زخم تو ابھی تازہ ہیں۔ کوئی فرد واحد اٹھ کر پوری قوم کا ٹھیکیدار بن بیٹھتا ہے۔ پہلے سبق پڑھایا جاتا ہے کہ دوسرے ہر تباہی کے ذمہ دار ہیں اور پھر اپنے آپ کو نجات دہندہ ثابت کیا جاتا ہے۔ میڈیا کا شور جب ماند پڑتا اور تقسیم کی گئی مٹھائیوں کا مزا کڑواہٹ میں تبدیل ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سب سراب تھا، فسانہ تھا، حقیقت سے برعکس تھا۔ پھر نئے فیض نئی کہانی، نیا ڈرامہ، نیا پانامہ، نئے سائفر، نئی جنسی دوائیاں، نئے نکاح، نئے مفتی، قادری، رضوی لئے میدان میں اتر آتے ہیں۔ پردہ سیمیں پر ایک نئی قسط سب بھلا کر کسی اور کلائمکس کے تجسس اور انتظار میں ڈال دیتے ہیں۔

سب سے حیرت انگیز بات وہی ہوتی ہے کہ نہ کوئی سوچتا ہے نہ سمجھنا چاہتا ہے۔ خشت اول کی کجی دور کیے بغیر ثریا تک کی بہتر اور سیدھی تعمیر کے خواب دیکھنے اور دکھانے شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر مستزاد کہ جو ڈسے جانے پر نوحہ کناں ہوں وہ کسی اور کو ڈسنے میں مددگار بننے کو تیار ملتے ہیں۔ جنہیں کسی کی آلہ کاری کا شکوہ ہوتا ہے وہ خود آلہ کار بن کر ہر 9 مئی کے وکیل بن جاتے ہیں۔

کون دودھ کا دھلا ہے اور کون جمہوریت پسند۔ کس کو گیٹ نمبروں سے نفرت ہے اور کون اصولوں پہ چلا ہے۔ کس کو صرف ذاتی بغض یاد رہتا ہے اور کسے ذات سے آگے سجھائی دیتا ہے۔ کون قوم کی امنگوں کا ترجمان ہے اور کون انا کا ، خاندان کا اور دوستیوں کا ۔ کون ضمیر کا قیدی ہے اور کون ضمیر گروی رکھ چکا۔ کون بیڈ رومز کی سیاست کرتا ہے اور کون مذہب کی، حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی سیاسی سزا اور جزا کے قاضی عوام ہونے چاہئیں۔ تلوار کی بجائے تیر استعمال کریں، شیر کا نشان چھینا جائے، بلے پر ضرب لگائی جائے یہ کسی فرد واحد کی خواہش اور مرضی سے نہیں ہونا چاہیے۔

وہ قاضی صاحب جو چند دن قبل 342 افراد کے پارلیمان کی اجتماعی دانش کو 5 ججوں سے کمپیئر کر رہے تھے یہاں چوک کیوں گئے اور 3 افراد کی دانش کو پچیس کروڑ کی مرضی پر فوقیت کیوں دے بیٹھے؟ ہم جیسے وہ خوش فہم جو آپ کے آنے سے خیالوں میں آئین کی بالادستی سے بام و در آراستہ کر بیٹھے تھے بجھتی ہوئی روشنی اور پرانے اندھیروں کے تسلسل کے خوف سے کانپ اٹھتے ہیں۔

جہاں موقع ملا سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست دیکھی۔ قانونی طور پر مخدوم علی خان حاوی بھی دکھائی دیے اور پی ٹی آئی کے طریقہ انتخاب میں سقم بھی نظر آئے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی سقم ایسا نہیں تھا جو دوسری سیاسی پارٹیاں نہ کرتی ہوں۔ اقدامات اور فیصلوں سے یہی لگا کہ جب تک میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی لیکن جب پیا ناراض تو ترک تعلق کے لئے بہانے بھی ملتے ہیں کیا کیا۔

Facebook Comments HS