مبارک ہو جی، ایک بار پھر بیٹا ہوا ہے
نصیر جو پانچویں بار باپ اور تیسری بار بیٹے کا باپ بنا تھا، مبارکباد کو سرسری انداز میں سن کر خیر مبارک کہنے لگا۔
کہیں سے مٹھائی کی فرمائش بھی آ گئی، لیکن پانچویں بچے میں کون سی مٹھائی؟ کون سا نصیر کے ابے نے اس کے نام جائیدادیں چھوڑیں تھیں جو وہ ”ذرا ذرا“ سی بات پر مٹھائیاں بانٹتا۔
جوائنٹ فیملی سسٹم میں اسے صرف ایک کمرہ ہی تو ملا تھا جہاں بیوی کے ساتھ آئے جہیز کے بستر میں دو بچے بھی سوتے تھے اور باقی دو نیچے باتھ روم آتے جاتے نیند میں کچلے جاتے تھے۔ ایک سال خوردہ پھٹپھٹی موٹر سائیکل تھی جس پر مہینے بھر بعد بیوی کو میکے لے جانا ہو تو 4 بچے ٹھونسنا مشکل ہوجاتا تھا اور اب تو خیر سے پانچواں بھی آ گیا۔ اس تمام ہنگامہ خیزی میں اب بچہ ہونے کی مٹھائی کیونکر بانٹی جائے؟
پانچویں بچے کا دودھ کا خرچہ۔ ہیں؟ کیا مطلب؟ دودھ تو ماں کا پیے گا۔ لیکن ماں تو پہلے ہی ایک سال بڑے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہے اور ایک کے بعد ایک بچے کی پیدائش کے بعد ادھ مری ہو چکی۔ اگر ماں دودھ پلائے گی تو اس کو دینے کے لیے اچھی خوراک کہاں سے آئے گی؟
اور رہا سوال ڈائپر کا تو یہ سب آج کل کے چونچلے۔ پرانے کپڑوں کے ٹکڑے باندھ کر بچوں کو پہناؤ۔ یہ بیماریاں، فنگس، بدبو یہ سب ڈھکوسلہ ہیں۔ چلو ، یہ خرچہ بھی مکا (ختم)۔
لیکن نصیر میاں کا منا ہمیشہ نومولود تو نہیں رہے گا نا۔ اسکول کی فیس، کتابیں، علاج معالجہ وغیرہ اس سب کا کیا؟ ایک کمرے اور ایک موٹر سائیکل رکھنے والا نصیر کیا 5 بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے قابل ہے؟ کیا ایک کمرے میں پلنے والے، اپنی ماں کو سارا دن کولہو کے بیل کی طرح سسرال والوں کے کاموں میں گھلتا اور خاندانی سیاست کو گھونٹ گھونٹ پینے والے بچے ذہنی طور پر مطمئن اور خوشحال ہوسکتے ہیں؟
80 گز کے 3 منزلہ مکان میں جہاں ہر کمرے میں الگ خاندان آباد ہو، ایسے ماحول میں کتنے بچے پڑھ لکھ کر کار آمد شہری بنتے ہیں اور کتنے اسکول کے زمانے میں ہی ہم جماعتوں اور محلے والوں سے لڑ بھڑ کر تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں؟ ان میں سے بھی کتنے بچے کوئی ہنر یا روزگار کمانے کا جائز طریقہ اختیار کرتے ہیں؟
ایک بچہ اپنے ساتھ کون سے بنیادی حقوق لے کر جنم لیتا ہے؟ سڑک چھاپ آوارہ کتا جس کے ایک وقت میں 4 بچے ہوتے ہیں کیا اس کے بچوں اور ذی ہوش انسان کے بچوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں ہوتا جو پیدا کرنے سے پہلے ان کو پالنے کے اخراجات پر بھی غور کر لیا جائے؟
2024 میں نادرا کے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق سال 2023 میں 1 کروڑ 79 لاکھ بچوں کا جنم ہوا۔ اس خبر کو ایسے سوچیں کہ جس پاکستان سے ہر دوسرا شہری مسائل کی بھرمار اور وسائل کی تنگی کی وجہ سے بھاگنے کا سوچ رہا ہے وہیں صرف ایک سال میں پونے دو کروڑ حصے دار مزید پیدا ہو جاتے اور یہ تو صرف وہ تعداد ہے جس کا ریکارڈ موجود ہے، اصل تعداد یقیناً زیادہ ہی ہوگی اور آنے والے میں اس کا تناسب بھی کچھ کم نہیں ہو گا۔
اب ان پونے دو کروڑ بچوں میں سے کتنے قابل شہری بن کر ابھریں گے اور کتنے چور، اچکے موبائل چھیننے والے اور دیہاڑی دار مزدور، اس کو جاننا بالکل کوئی راز نہیں۔
اگر آپ حکومت کا رونا رو کر مسئلے سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی لیکن حکومت کو کیا کرنا چاہیے یا حکومت کیا کرے گی ان حقائق کو پچھلے 75 برس سے دیکھنے کے بعد بحیثیت معاشرہ اور سب سے بڑھ کر بحیثیت ماں باپ آپ نے کبھی سوچا کہ آپ اپنے آنے والے بچے کے حقوق کو پورا کرنے کے قابل ہیں یا نہیں؟
خود دو وقت کی روٹی کو ترستے ماں باپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ایک اور جان کو اسی غربت کے کولہو میں جوتنے کے لئے پیدا کریں جس سے وہ خود ساری عمر نکل نہیں سکے؟ کیا آپ نے کبھی اولاد پیدا کرنے سے پہلے سوچا کہ ان تمام مسائل میں جکڑے ہونے کے بعد آپ ایک ذمہ دار اور فعال شہری پیدا کرنے جا رہے ہیں یا موبائل چھیننے والا اچکا یا پھر اپنے ہی جیسا دھرتی کا بوجھ بڑھانے والا ایک اور بدنصیب؟


