جیسے آپ کی مرضی
پچھلے دنوں اے آر وائی کا ایک ڈراما سیریل چلا ”جیسے آپ کی مرضی“۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک مرد ہے جو نرگسیت (Narcissism) کا شکار ہے۔ وہ ہر وقت ہر جگہ اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے اور کسی کے جذبات اور احساسات کی اسے پرواہ نہیں۔ اس قسم کے مردوں کی معاشرے میں کمی نہیں۔
ایک حساس موضوع پر کہانی بنائی گئی اور توقع تھی کہ اس میں کچھ الگ سا دیکھنے کو ملے گا۔ لیکن کہانی کو اس قدر کھینچا گیا کہ دیکھنے والوں کو بیزاری ہونے لگی۔ ایک ہی طرح کے سین ایک ہی طرح کے مکالمے بار بار دہرائے گئے۔ یہ ہدایت کار کی بھی خامی ہے۔ ایک نرگسیت زدہ کردار کو انجام تک پہنچانے کے لیے 32 قسطیں لگ گیں۔ کچھ اقساط تو معلوم ہوتا تھا کہ دہرائی گئی ہیں اور کہانی جوں کی توں وہیں رکی ہوئی ہے جہاں ہم اس سے پہلی قسط میں دیکھ چکے ہیں۔ کچھ مکالمے بھی بار بار ایک ہی طرح سے کہے گئے۔
مرکزی کردار شیری یعنی میکائل نے بہت اچھی اداکاری کی۔ اوور ایکٹنگ کے مواقع ہوتے ہوئے بھی اس نے لب و لہجہ نیچرل رکھا۔ اس کا اسے پورا کریڈٹ جاتا ہے۔ مرکزی نسوانی کردار علیزے یعنی درفشان شیری کی بیوی ہے۔ اس کی اداکاری اور صداکاری دونوں کمزور رہیں۔ چہرے کے تاثرات بے جان تھے۔ مکالمے تاثرات کا ساتھ نہیں دے سکے۔ جھکے ہوئے کندھے اور بے بسی سے ہاتھوں کو بار بار ملنا دیکھ دیکھ کر الجھن ہوتی رہی۔ درفشان کو ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہو سکے تو اسے اداکاری کی تربیت لینی چاہیے اور اپنے چہرے کے تاثرات کو سچویشن کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا گر بھی سیکھنا چاہیے۔ ہر سین میں ایک ہی طرح بولنا اور ایک جیسے ایکسپریشن دینا ناگوار گزرتا ہے۔
علیزے کا کردار ایک مضبوط عورت کا کردار ہونا چاہیے تھا اس کے برعکس اسے نہایت کمزور اور اعتماد سے عاری دکھایا گیا ہے۔ وہ تعلیم یافتہ تھی، جاب کرتی تھی۔ موٹیویشنل اسپیکر بھی تھی۔ گھر والوں کی سپورٹ اسے حاصل تھی۔ پھر سمجھ سے باہر ہے کہ اسے فیصلہ کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟ وہ بار بار ایک ہی طرح کے حالات میں واپس کیوں جاتی رہی؟ خاص طور پر آخری بار۔ اس دفعہ وہ کیوں واپس شیری کے پاس گئی؟ وہ کیا ثابت کرنا چاہ رہی تھی؟ یہی کہ وہ بھی بدتمیز ہو سکتی ہے؟ وہ بھی شیری اور اس کی بہن کو مزا چکھا سکتی ہے؟ اگر وہ حاملہ نہ ہوتی تو کیا اس کا اپنا وجود کافی نہ ہوتا اپنے حق کے لیے لڑنے کو؟ ایک خود مختار عورت اتنی ذلت کیوں برداشت کرتی رہی؟ اتنی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اسے اتنی دیر کیوں لگی سمجھنے میں کہ وہ ایک نرگسیت کے مارے مرد کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ عورت اس زعم میں رہتی ہے کہ وہ اپنی محبت سے مرد کو ٹھیک کردے گی اسے سدھار کر ایک اچھا انسان بنا سکتی ہے لیکن ایک عقلمند عورت جلد ہی یہ بات جان لیتی ہے کہ اس قسم کے مرد بغیر کسی تھراپی اور نفسیاتی علاج سے ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے۔ علیزے سے بھی یہی توقع تھی کہ وہ جلد سمجھ جائے گی۔ یہاں کہانی کسی اور سمت موڑی جا سکتی تھی لیکن علیزے نے حماقتوں کی حد ہی کر دی۔
دوسرا فیمیل کردار نتاشا کا ہے جو شیری کی بہن ہے اور اسی کی طرح بداخلاق اور خود پسند ہے۔ نتاشا کا یہ کردار ادا کرنے والی نے اپنے کردار سے پورا انصاف کیا۔ وہ جتنی دفعہ بھی سین میں آئی چھا گئی۔ منفی کردار ہوتے ہوئے بھی اس نے بھرپور تاثر چھوڑا۔ اس کے بغیر یہ ڈراما ایک دم ٹھپ رہتا۔ اس کی ادا کاری، صدا کاری اور تاثرات سب کمال کے تھے۔
باقی کے کردار بس خانہ پری کے تھے۔ شیری اور نتاشا کے والد سگار پینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ انہیں ہوش بھی آیا تو بہت دیر میں آیا۔
مرنے سے پہلے کچھ اچھے کام کر گئے جو انہیں اپنی زندگی میں ہی کر لینے چاہیے تھے۔ ساری جائیداد علیزے کو بخش کر مصنف اور ڈائریکٹر نے ثابت کر دیا کہ اس غیر متوقع مدد کے بغیر علیزے اپنے طور پر کچھ نہیں کر پاتی۔ حالانکہ ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ علیزے اپنے زور بازو پر اپنی اور اپنے بچے کی زندگی سنوارے گی اور سر اٹھا کر جیے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ گھر اس نے اپنے لیے نہیں رکھا لیکن خدمت خلق اس کے بغیر بھی کسی نہ کسی طور کی جا سکتی تھی۔
علیزے کی بہن کا کردار پاور فل ہو سکتا تھا لیکن اس کی آواز اور لہجہ سماعت پر شدید گراں گزرتا رہا۔ انگریزی کے الفاظ کا تلفظ بہت ہی گیا گزرا تھا۔
علیزے کے والدین نے اپنے کردار کسی حد تک مناسب انداز میں ادا کیے۔ والد صاحب اپنے داماد سے بہت نالاں تھے لیکن اس کے دیے گھر میں رہتے رہے۔ یہ کھلا تضاد تھا۔ والد صاحب اپنی بیٹیوں کو خود اعتماد بناتے ہین لیکن علیزے نے ان کی تربیت پر پانی پھیر دیا۔
نتاشا کے شوہر کا کردار کہانی میں دبا دبا سا تھا۔ وہ نتاشا کی پاور فل شخصیت کے سامنے جھکا رہتا۔ لیکن اس کے کچھ اصول ضرور تھے جن پر وہ سمجھوتا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے باوجود اسے دفتر میں کام کرنے والی ایک لڑکی سے افیئر چلانا یہاں تک کہ شادی کی پیشکش کرنا بہت معیوب لگا۔ وہ اپنی بیوی سے بے وفائی کر رہا تھا۔
شیری کی پہلی بیوی کا کردار غیر ضروری تھا۔ اس کی گواہی کے بغیر بھی شیری کی نرگسیت ثابت ہو چکی تھی۔ یہ کردار کہانی کو بڑھاوا دینے کے لیے ڈالا گیا۔ آخر 32 قسطیں بھی تو چلانا ہیں۔
غرض یہ کہ ایک اچھا موضوع مصلحتوں کا شکار ہو کر ایک عام سا ڈراما بن گیا۔



