داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی


ہماری سب کاسٹ جھمے چنڈور ہے۔ جب بھی کوئی آدمی الٹا سیدھا کام کرتا تو اسے عموماً  جھما ہونے کا طعنہ دیا جاتا۔ اس سلسلے میں کچھ قصے کہانیاں ہمارے جھما قبیلے میں زبان زد عام تھے۔ جھموں کا ایک بڑا بابا نورا اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ ایک فضلو نامی آدمی پاس سے گزرا۔ اس نے ایک ان بنی چارپائی اٹھائی ہوئی تھی اور ساتھ ہی چارپائی بننے کے لیے اس کا بان بھی اٹھایا ہوا تھا۔ بابے نے دریافت کیا کہ کہاں سے آرہے۔

اس نے بتایا کہ چارپائی بنوانے کے لیے بابے شادی کے پاس گیا تھا۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھے آج کل بواسیر کی تکلیف زیادہ ہے۔ ذرا فاقہ ہولے۔ تو پھر اس کو بنا دیں گے۔ بابے نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر کہنے لگا یہ کون سا مشکل کام ہے ادھر رکھو ہم خود بنا لیتے ہیں۔ فضلو نے خیال کیا کہ شاید بابے کو یہ کام آتا ہے۔ اس نے چارپائی وہیں پر رکھ دی۔ بابا جی نے آدھے بان سے چارپائی میں تانا ڈال دیا اور باقی بان سے اس میں بانا ڈال کر چارپائی مکمل کر دی۔

فضلو بھی خوش ہو گیا کہ اتنے دنوں سے اس کام کے پیچھے پھر رہا تھا۔ چلو آج یہ تو اختتام کو پہنچا۔ چند دن گزرنے کے بعد چارپائی ڈھیلی ہو گئی۔ جب اسے کسنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ دوائن تو اس میں رکھی ہی نہیں گئی۔ فضلو چارپائی اٹھا کر بھاگا بھاگا بابے نورے کے پاس آیا اور ساری صورت حال سے اسے آگاہ کیا تو بابے نے کہا کہ میں بھی سوچ رہا تھا کہ چارپائی بننا کون سا مشکل کام ہے۔ یہ تو ہر آدمی بڑی آسانی سے کر سکتا ہے۔

لیکن اب پتہ چلا کہ یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔ بہر حال اب تم اسے دوبارہ بابے شادی کے پاس لے جاکر بنوا لو۔ اسی طرح ایک اور جھما خاندان نے چارپائی کے علیحدہ علیحدہ پڑے ہوئے پایوں اور بازووں کو جوڑ کر انہیں چارپائی کی شکل دینا تھا وہ توت کے ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے کام کر رہے تھے۔ جب چارپائی جڑ کر تیار ہو گئی اور اسے وہاں سے اٹھا کر گھر لے جانے کی کوشش کی گئی۔ تو پتہ چلا کہ درخت نے چارپائی کو پکڑ رکھا ہے۔

پہلے تو وہ خود ہی اسے درخت سے چھڑانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن یہ درخت بھی کمال کا ضدی ثابت ہوا۔ انہوں نے سمتیں بدل بدل کر اسے نکالنے کی کوشش کی لیکن ہر سمت میں درخت آڑے آ جاتا بالآخر وہ اپنے دو عدد سیانوں کو بلا کر لائے۔ انہوں نے صورت حال کا بٖغور جائزہ لینے اور اس پر غور و فکر کرنے کے بعد اعلان کیا کہ چارپائی کی جڑائی کے دوران درخت اس کے درمیان آ گیا ہے۔ اب اسے اکھیڑ کر درخت کو باہر نکال کر دوبارہ جوڑنا پڑے گا تبھی جان چھوٹے کی۔ چناں چہ انہوں نے بلا تامل ایسا ہی کیا اور اس طرح درخت سے گلو خلاصی کرانے میں کامیاب ہوئے۔

اکیسویں صدی کے شروع میں ہم نے موضع غفوروا میں تھوڑی سی زمین خریدی۔ اور وہاں پر ایک ڈیرہ تعمیر کر رہے تھے۔ صادق صاحب اور ڈاکٹر ارشد اس کے روح رواں تھے۔ ایک دن میرا بھی چکر لگا تو صادق صاحب نے مجھے تعمیر شدہ بلڈنگ کو دکھانا شروع کیا یہ تین کمرے ہیں آگے برآمدہ ہے۔ برآمدہ کے ساتھ سے سیڑھیاں چھت پر جا رہی ہیں۔ اور چھت پر ہر ایک کمرے کے اوپر ایک چوبارہ ہے۔

باقی چھت کے اردگرد پردہ کیا ہوا ہے۔ میں نے سیڑھیوں کے ساتھ نظر آنے والے ایک گہرے سے سوراخ میں نیچے جھانکا تو اس سوراخ میں مکمل اندھیرا تھا۔ میں نے صادق صاحب سے استفسار کیا کہ یہ کیا چیز ہے۔ کہنے لگے کہ واش روم بنوایا ہے۔ میں حیران ہوا کہ اس واش روم میں چھت سے اسی سوراخ کے ذریعے داخل ہوا جائے گا۔ کیوں کہ زمین کی سطح پر تو اس میں داخلے کے لیے کوئی راستہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ بہر حال نیچے اتر کر ایک بار پھر میں نے اس واش روم کے چاروں طرف گھوم کر جائزہ لیا تو دروازہ ندارد پایا اب میں اس مخمصے میں تھا کہ صادق صاحب سے اس بارے میں کچھ پوچھوں یا نہ پوچھوں۔

کہیں یہ کسی جدید طرز تعمیر کا شاہکار ہی نہ ہو۔ آخر کار یہ دونوں بھی سیانے ہیں۔ انہوں نے بھی کچھ سوچ سمجھ کر ہی تعمیر کیا ہو گا اور استفسار پر مجھے کہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ کچھ دیر تذبذب میں رہنے کے بعد آخر کار میں نے صادق صاحب سے دریافت کر ہی لیا کہ اس واش روم کے اندر داخل کیسے ہونا ہے کیا چھت سے نیچے اتریں گے۔

جواب ملا کہ ہمیں تم سے پہلے ہی ایک سیانے نے اس کی نشان دہی کر دی تھی۔ ہمیں تعمیر کے دوران دروازہ رکھنے کا یاد ہی نہیں رہا۔ کوئی بات نہیں اب دروازہ نکال لیں گے۔

ایک بار قربانی کے موقع پر ہم چاروں بھائی قربانی کے بکرے خریدنے گئے۔ بکرا منڈی میں داخل ہونے سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھایا کہ ایسی منڈیوں میں چھوٹی موٹی ٹھگیاں ہونا معمول کاکام ہے۔ اس لیے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ چناں چہ ہم سارا دن بڑے محتاط رہے۔ ایک ہاتھ تو مسلسل پیسوں والی جیب پر ہی رہا۔ کہ کہیں جیب ہی نہ کٹ جائے۔ بہر حال شام تک ہم قربانی کے بکرے خرید چکے تھے۔

انہیں پک اپ میں ڈالا اور گھر لے آئے۔ گھر آ کر سب سے پہلے بکروں کی گنتی کی گئی۔ تو پتہ چلا کہ ایک بکرا کم ہے۔ ہم نے گیارہ بکرے خریدے تھے اور پک اپ سے برآمد ہونے والے بکروں کی تعداد دس تھی۔ صادق صاحب میر کارواں تھے۔ انہوں نے فوراً اپنی ڈائری کھولی۔ جس پر وہ بکروں کی خریدو فروخت کا حساب لکھتے رہے تھے۔ بڑی دیر تک اس دستاویز کا جائزہ لیتے رہے۔ اور پھر بکروں کو دوبارہ گنا پھر ڈائری پر غور و فکر کیا۔ پھر گنتی کی اور آخر میں اعلان کیا یہ بکرے اصل میں گیارہ ہی ہیں۔ کیوں کہ ہم نے ادائیگی گیارہ بکروں کی ہی کی ہے۔

اب یہ بھی عجیب مخمصہ تھا۔ زمینی حقائق کے مطابق تو بکرے دس تھے۔ لیکن صادق صاحب کے حساب کتاب اور ڈائری کے مطابق ان کی تعداد گیارہ تھی۔ کافی دیر سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد میجر صاحب نے اس کا بڑا سادہ سا حل پیش کر دیا۔ کہ بکرے جتنے بھی ہیں لیکن ان کی قربانیاں گیارہ ہی تصور کی جائیں گی۔ کیوں کہ ہم نے ادائیگی گیارہ بکروں کی کی ہے۔ اس لیے اب اس جھمیلے کو چھوڑو اور اپنے اپنے کام کرو۔ دیکھیں کس طرح ایک گمبھیر مسئلے کو کتنی سادگی سے میجر صاحب نے حل کر دیا۔

ایک بار میں اور ڈاکٹر ارشد عید والے دن صبح ہی صبح قربانی کا ایک بکرا خرید کر لائے۔ بکرا گھر میں باندھ کر خود عید پڑھنے چلے گئے۔ عید پڑھ کر واپس گھر پہنچے تو بچوں نے انکشاف کیا کہ آپ کا خریدا ہوا بکرا تو بکری بن چکا ہے۔ یعنی ہم بے دھیانی میں بکرے کی بجائے بکری خرید لائے تھے۔ ایسی بہت سی داستانیں ہم جھموں سے منسوب ہیں۔

ماں جی اسی لیے جب بھی کسی کو بتاتیں وہ اپنے آپ کو ضلع جالندھر کا مہاجر ہی بتاتیں اور اپنی شناخت کو ہم سے الگ ہی رکھنا پسند کرتی تھیں۔ جبکہ میرے والد صاحب ضلع فیروز پور کے گاؤں قادر والا سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے تھے۔ بہر حال ایک بات تو طے ہے کہ ہمیں ہماری اس قسم کی چھوٹی موٹی کوتاہیوں اور غلطیوں پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں تھی۔ بلکہ ہم اپنی ایسی داستانوں کو بڑے مزے مزے سے بیان کیا کرتے۔

Facebook Comments HS