مدرسہ ریلوے اسٹیشن کا بند ٹکٹ گھر
چک مدرسہ کا نام بچپن سے آج تک بار بار سنتے آئے ہیں۔ ابو کی یادوں میں یہ نام تر و تازہ پڑا ہوا ہے۔ ابو جب بھی بیتے دنوں کی اجلی اجلی یادوں کی بھاری گٹھڑی کھولتے ہیں تو گانٹھ کھلتے ہی ان گنت لوگوں اور جگہوں کے نام شاخ سے گرے پتوں کی طرح ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں۔ ’مدرسہ‘ بھی انہی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ شاخ سے ٹوٹا ہوا ایک زرد پتا۔
دادا کی شادی ہو چکی تھی۔ گاؤں میں ان کی زرعی زمین غیر آباد اور ویران تھی۔ زمیں پہ اگے خود رو جنڈ، بوٹے، ون، کریاں، کیکر اتنے زیادہ تھے کہ لگتا تھا قیامت تک بھی ایک بندہ اور بیلوں کی ایک جوڑی اس زمین کو آباد نہیں کر سکیں گے۔ اک بیابان جنگل تھا اور اس بے آب و گیاہ ویرانے میں گندم دھان اگانے کی امید بھی بنجر اور اجاڑ ہی تھی۔
بیلوں سے ہل اور رہٹ چلا کر ایک دو بیگھہ زمیں پہ گیہوں اور چنے کاشت کر لیتے۔ دادا ایک ان تھک بیل کی طرح سخت مشقت سے اپنے جیون کا رہٹ چلا رہے تھے۔ گیہوں اور چنے کے کھیت سوکھنے کا اندیشہ لگاتار ان کے من میں پنجے گاڑے پڑے رہتا تھا۔ آسمان پر اگر سیاہ بادل نا امڈتے اور بارش نا برستی تو گھٹا ان کی آنکھوں میں چھا جاتی اور آنکھیں ٹپ ٹپ برسنے لگتیں۔
دادا کے ماموں بابا شیخ محمد ریاست بہاول پور کے شہر منڈی چشتیاں کے قریب چک علو میں جا بسے تھے۔ پیر تھے اور ان کے مریدین دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ مرید دعا کروانے آتے تو گندم، چنے، چاول، گڑ، اونٹ، بکری نذرانہ کر جاتے۔ چاندی کے سکوں سے چمڑے کا ’کھلتا‘ (بستہ) بھر جاتا۔ خوب ٹھاٹ باٹھ تھے۔ انہوں نے اپنے بھانجے (میرے دادا) کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا۔
دادا دادی گاؤں سے پیدل نکلے، ستلج کا پتن پار کیا، جھلن گاؤں میں اپنے دوست کے پاس چائے پانی پی کر بہاول نگر اسٹیشن سے ریل گاڑی پر سوار ہو گئے۔ گاڑی ڈوبتے سورج کے پیچھے چھک چھک دوڑنے لگی۔ تخت محل اور چک مدرسہ کے ریلوے اسٹیشن پیچھے رہ گئے۔ چک عبداللہ ریلوے اسٹیشن پر اتر کر پگڈنڈیوں سے گزرتے چک علو چلے گئے۔
چک علو میں دادا دادی کے جیون کے خشک کھیت کو میٹھے پانی کا کنواں میسر آ گیا۔ ہاڑ ساون ہو یا پوہ ماگھ ان کے جیون کھیت کی فصل کو سوکھا پڑنے کا ڈر نا رہا۔ خوب نبھانے لگی۔ پھوپھی دو چار سال کی ہوں گی تب۔ تایا وہیں چک علو میں پیدا ہوئے تھے۔ چک علو کے باسیوں سے دوستی بھائی چارہ ہو گیا۔
چند برس وہاں رہ کر پھر اپنے گاؤں پلٹ آئے۔ چک علو میں جو رشتے ناتے بنے وہ ہمیشہ نبھاتے رہے۔ وہ رشتے ان پیڑوں جیسے تھے جن کی جڑیں زمیں میں گہرائی تک پیوست ہوتی ہیں۔ سخت سوکھا ہو، بیلا روہی ہو، ان کی جڑیں محبت کا پانی ڈھونڈ لیتی ہیں اور شاخیں سبز کونپلوں سے لدی رہتی ہیں۔
سخت دھوپ میں بھی پھول کھلتے رہتے ہیں۔
دادا چک علو دوستوں سے ملنے جایا کرتے۔ دادا کے ساتھ ابو اور تایا بھی آتے جاتے رہے۔ پھر دادا جیون ندیا کے پار اس گاؤں سدھار گئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ ادھر سے کوئی ریل گاڑی بھی نہیں آتی۔
پھر ابو اور تایا جاتے آتے رہے۔ چشتیاں منڈی میں بسے چچا عبد العزیز خاں اور پھوپھی نجمہ عزیز سے ملنے تو عمر بھر آنا جانا رہا۔ اسی لیے تخت محل، مدرسہ اور چک عبداللہ ریلوے اسٹیشنوں کے نام ہمیشہ ان کی باتوں اور یادوں کا حصہ رہے۔ بچپن میں ہم سنتے تھے تو ہمیں یہ پریوں کے کسی دیس کی بستیوں کے نام لگتے تھے۔ جدا جدا سے، پراسرار سے، کہانیوں میں بسے گاؤں جیسے، خوب صورت اور انوکھے سے۔
’مدرسہ ریلوے اسٹیشن‘ ۔ جیسے خوابوں کی بستی میں چلتی خیالی ریل گاڑی کا ایک بے جسم پڑاؤ ہو یہ۔
آج بہاول نگر سے چشتیاں جاتی سڑک کے دائیں کنارے کھڑی ایک اجڑی ہوئی عمارت پر نظر پڑی تو ہم رک گئے۔ سڑک پر نصب بورڈ سے پتا چلا کہ اس جگہ کا نام ’مدرسہ‘ ہے۔
دھند سے لپٹے دسمبر کی یخ بستہ دوپہر تھی۔ مالٹوں سے بھری ریڑھیاں سڑک کنارے قطار باندھے کھڑی تھیں۔ نئی پرانی جیکٹیں، سویٹر، جرسیاں، مفلر اور جرابیں جا بجا بیچے جا رہے تھے۔ سودا بیچنے والوں کی اونچی اور خریداروں کی نیچی آوازوں کے شور و غل میں دھواں اڑاتی لاریوں کے ہارن کی پاں پاں پی کی آوازیں بھی مل گئی تھیں۔ اس سارے ہنگامے اور غوغہ سے ذرا ہٹ کر کھلی جگہ پر مدرسہ ریلوے اسٹیشن کی میلی کچیلی اور بے حال سی عمارت کھڑی ہے۔ جیسے مٹی سے اٹے بکھرے بالوں والا کوئی دیوانہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے لوگوں سے ذرا دور دنیا سے بے خبر پڑا ہو۔
اس کی بربادی بتا رہی ہے کہ کبھی یہ اہم اور شان دار عمارت رہی ہو گی۔
ٹکٹ کھڑکی اور شیڈ بہاول نگر سے آتی پٹڑی کے رخ بنے ہوئے ہیں۔ مدرسہ اسٹیشن دور سے آتی ریل گاڑی کو دیکھ لیتا ہو گا۔ آس پاس کھڑے اونچے اونچے کھجور کے پیڑ طلوع ہوتے سورج کی سمت پھیلے ہندوستان کی وسعتوں سے ہو کر بہاول نگر سے نکلتی ریل کو میلوں دور سے دیکھ کر اسٹیشن کے کان میں ٹرین کی آمد کی اطلاع دے دیتے ہوں گے۔
مکڑے کے جالوں اور دھول سے اٹی ٹکٹ کھڑکی کے آگے شیڈ کے نیچے دو بڑے منجے بچھے ہیں اور ان پہ تین افراد آلتی پالتی مارے گپیں لگا رہے ہیں۔ ٹکٹ گھر کے ساتھ دیوار پہ ایک بورڈ ہے جس پر امروکا سے کراچی تک مختلف اسٹیشنوں کے نام اور کرائے درج ہیں۔ مسافروں سے قطار بنانے اور سامان بک کروانے کی التماس لکھی ہے اور ایک ضروری اطلاع ہے
’ یہ ٹکٹ گھر گاڑی آنے سے ایک گھنٹہ پہلے کھلتا ہے اور گاڑی آتے ہی بند ہو جاتا ہے‘ ۔
اب یہ ٹکٹ گھر مستقل بند پڑا ہے۔ آخری گاڑی کے آتے ہی بند ہوا تھا، آج تک نہیں کھلا۔ شاید کبھی گاڑی یہاں آئے اور ایک گھنٹہ پہلے یہ کھل جائے۔ میرے پاس رنگ اور برش ہوتے تو ضروری اطلاع پر سفیدی پھیر کر سیاہ حروف میں یہ اطلاع لکھ دیتا۔
’ یہ ٹکٹ گھر ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ کوئی مسافر اس کے کھلنے کی کوئی امید نا رکھے‘ ۔
کہتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آخری حصے میں یہ ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ اس کا خرچ ریاست بہاول پور نے اٹھایا تھا۔ یہ اسٹیشن ریاست بہاول پور کے نوابوں اور برصغیر میں کالونیل دور کی کہانی بھی بیان کرتا ہے۔ سمہ سٹہ بھٹنڈا لائن کے ذریعے اس علاقے کے لوگ کراچی سے دلی تک سفر کرتے تھے۔ کتنی اہم اور پر رونق جگہ رہی ہو گی یہ۔ یہاں جب ریل پہنچتی ہو گی تو میرے دادا بھی اپنے سامان کی گٹھڑی سنبھالتے ہوں گے اور اگلے اسٹیشن چک عبداللہ پر اتر جاتے ہوں گے۔
سنتالیس کے بٹوارے میں کتنے ہندووں اور سکھوں نے آ کر یہاں پناہ لی ہو گی اور ریل گاڑی کا بے چینی سے انتظار کیا ہو گا۔ یہاں سے بیٹھ کر بہاول نگر، منچن آباد اور منڈی صادق گنج سے گزرتے ان کے دل کس خوف اور کرب سے گزرے ہوں گے۔
رب جانے امروکا اسٹیشن گزرنے تک کتنے سلامت رہے اور کتنے دھرتی کو اپنا لہو رنگ دے گئے۔
مشرقی پنجاب سے بے گھر اور اجڑے ہوئے مسلمان خاندان مدرسہ اسٹیشن پہ اترے ہوں گے۔ کتنے سلامت پہنچے اور کتنے منزل سے پہلے ہی جنت سدھار گئے۔ رب جانے۔
کہتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد ، پاکستان کے حصے آنے والے اثاثے اسی ریلوے لائن کے ذریعے دلی سے پاکستان لائے گئے تھے۔
سن سنتالیس میں بننے والی سرحد نے امروکا کے قریب اس لائن کو ہمیشہ کے لیے کاٹ دیا۔ اس سے پرے مشرق میں سبھی ریلوے اسٹیشنوں سے تعلق ٹوٹ گیا۔ آزادی کے بعد اس لائن کی قسمت میں زوال ہی زوال آیا۔ چند برس ریل گاڑیاں چلیں، پھر بند ہو گئیں۔ گرمی سردی، دھوپ، لو، طوفان، باد و باراں میں کھڑے یہ اسٹیشن دھیرے دھیرے برباد ہوتے چلے گئے۔ در و دیور ٹوٹتے چلے گئے۔ ٹکٹ گھر بند ہو گئے۔ مسافروں کے بینچ مٹی ہو گئے۔ ٹریک کو زنگ کھانے لگا۔ اب تو وہ زنگ آلود ٹریک بھی اکھاڑ لیا گیا ہے۔
اب نیم کا ایک پیڑ اس عمارت سے لپٹا ہے۔ شاید گلے لگ کر دلاسا دے رہا ہو۔ کھجور کے پیڑ ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر ریل گاڑی کی راہ تک رہے ہیں۔ اس علاقے کے لاکھوں لوگوں کا مدرسہ ریلوے اسٹیشن تباہ ہو رہا ہے۔ میرے دادا کا ریلوے اسٹیشن اجڑ رہا ہے۔ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے۔
مدرسہ ایسی جگہ یا ادارے کو کہتے ہیں جہاں بچے تعلیم حاصل کرتے ہوں۔
اس مدرسے میں اب نا کوئی مدرس ہے اور نا ہی کوئی طالب علم۔ بس گئے دنوں کی ایک کہانی ہے جو پل پل بنجر زمین کی خاک میں خاک ہو رہی ہے۔





