ناول بنت داہر
اکثر تاریخی ناول کے بارے میں قاری کی پہلے سے ہی زیادہ تر رائے بن چکی ہوتی ہے اور وہ اس ناول کو پڑھنے کے دوران وہی کچھ پڑھنا اور تلاش کرنا چاہتا ہے جو ایک خاص مطالعے، سنی سنائی باتوں اور افواہوں کی مرہون منت ان تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔
تاریخی ناول کے ساتھ کئی طرح سے قاری کی اٹیچمنٹ ہوتی ہے وہ سیاسی بھی ہو سکتی ہے، اخلاقی بھی ہو سکتی ہے، طبقاتی، قومی اور لسانی بھی ہو سکتی ہے اور وہ مذہبی بھی ہو سکتی ہے جو قاری کو پڑھنے پر اکساتی، ساتھ ساتھ چلاتی اور مضبوطی سے جڑے ہوئے بھی رکھتی ہے۔
بنت داہر بھی ایک تاریخ ناول ہے۔ لیکن یہ وہ ناول ہے جو جس موضوع پر، جس تاریخ سے متعلق، جس مذہب اور جس سیاسی اور اخلاقی منشا کے لئے لکھا گیا ہے وہ عام لوگوں تک کسی اور انداز اور کسی دیگر ذرائع اور وسیلوں سے پہنچا ہے یا پہنچایا گیا ہے لیکن یہ ناول اس واقعے کو بالکل ایک نئے انداز سے، فکشن کو حقیقت اور پھر حقیقت نئے سرے سے فکشن بنا کر پیش کر رہا ہے جس سے نہ صرف قاری لطف، حظ اور توانائی حاصل کرتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ تخلیقی، تحقیقی اور تازہ اسلوب سے بھی دشت ادب کی جگہ جگہ سرابی کیفیت سے تجسس کی پیاس بجھانے اور آگے بڑھتے ہوئے درست سمت تک خود کو پہنچانے کی ورک گردانی میں جکڑا ہوا بھی رکھتا ہے۔
اس ناول میں مصنف اموی خلافت و سلطنت کے بیرونی سلطنتوں کے لئے عزائم اور ان کی اندرونی سازشوں سے اس طرح پردہ اٹھاتا ہے کہ قاری نہ صرف تاریخ اپنے حافظے میں محفوظ کرتا ہے بلکہ خانگی ریشہ دوانیوں سے بھی سبق حاصل کرتا ہے۔
اس ناول میں بنت داہر اور محمد بن قاسم کے درمیان مکالمہ دلچسپ، مدلل، تاریخی، مزاحمتی، چالاکی، ہنر، سیاست، اخلاق، معیشت، وفاداری، جنس، چالبازی، حب الوطنی اور دیدہ دلیری کا وہ مرقع ہے کہ ناول کو چھوڑنے کے لئے دل ہی نہیں کرتا ہے۔
یہ ناول پڑھنے کے بعد قاری کبھی بھی پشیمانی کا مرتکب نہیں ہو گا کہ اس نے یہ ناول پڑھ کر وقت ضائع کیا ہے بلکہ وہ ایک لمحے کے لئے ضرور سوچے گا کہ یہ ناول مجھے بہت پہلے پڑھ لینا چاہیے تھا۔ کیونکہ میں نے خود بھی یہ محسوس کیا کہ یہ ناول مجھے بہت پہلے پڑھ لینا چاہیے تھا، کچھ مستثنیات کے علاوہ۔
اس ناول میں مصنف اس سلسلے میں لکھی یا پھر گھڑی ہوئی تاریخ کو ایک ایسے دھارے میں لے جاتا ہے جو لوگوں نے کسی نہ کسی حوالے سے کسی کی زبانی، کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی جگہ، سیمینار یا ذاتی نشستوں میں سن رکھا ہوا ہوتا ہے بلکہ میں بھی اس میں شامل ہوں جو اس ناول میں لکھا ہوا ہے اس کے بارے میں سنی سنائی کہانی بہت حد تک میں کسی نہ کسی جگہ یا کسی نہ کسی شخص یا ذاتی محفلوں میں کئی بار سن چکا ہوں لیکن بنت دائر کے بعد پڑھنے سے یہ ایک تحریری یا فکشن کے حوالے سے میرے حافظے کا پکا حصہ بھی بن گیا ہے۔
اس ناول نے کئی مبالغے پر مبنی تاریخوں پر ازسر نو لکھنے کے در وا کیے ہیں اور اس سلسلے میں ہمارے دوست احباب اظہار بھی کر چکے ہیں۔ لیکن اس کے لئے جرات اظہار کے ساتھ ساتھ اسلوب کا سلیقہ یا تہذیب بھی ہونا چاہیے۔
ہمارے ہاں تو تاتاریوں اور مغلوں کے ساتھ اس خطے اور سرزمین کے لڑنے والوں کو اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسے حملہ آور یہاں اسلام، تہذیب اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ مال و دولت کی نہریں بہانے کے لئے آرہے ہیں اور جو ان کے ساتھ اس سر زمین یا خطے کے دفاع میں لڑ رہے ہیں وہ وحشی، اسلام کے خلاف، تہذیب اور خوشحالی کے ساتھ اس خطے کو خدا نخواستہ مالا مال دیکھنا ہی نہیں چاہتے بلکہ بعض جگہ تو مغلوں کو مسلمانوں اور اس خطے کے لوگوں کو لودھیوں، روھیلوں اور افغانیوں کے درمیان مارکے تک کا لکھا اور کہا گیا ہے۔
ہم نے تو ان کو بھی دی گریٹ مغل کہا جن کے شہزادوں نے چالیس چالیس سال تک بادشاہتیں کیں لیکن ناخواندہ تھے۔ ان کو بھی ولیوں سے تشبیہ دی جن کے ہاتھ اقتدار کی خاطر اپنے بھائیوں، بھتیجوں اور قریبی رشتہ داروں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ اپنے باپ اور چہیتی بہن کو بھی پابند سلاسل کیا۔
جب ہم خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کو پڑھتے ہیں تو اس وقت کے ظل سبحانی کے چہرے سے نقاب کس طرح اٹھتے ہیں اس کے لئے خوشحال خان خٹک اور تاریخ نویسی پر مبنی لکھی ہوئی کتابیں اور تاریخی واقعات از ڈاکٹر وقار علی شاہ اور ڈاکٹر زبیر حسرت کے پڑھنے کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے۔
رحمان بابا کے اشعار اور خوشحال خان خٹک کے کلام پڑھنے ہوں گے۔
یا پیر روشان کی روشانائی تحریک کو رجوع کرنا پڑے گا جو انھوں نے مغلوں کے خلاف چلائی تھی۔ لیکن مغلوں کے پروردہ اس وقت کے کیمو فلاج روحانی پیشوا ان کو پیر تاریک جیسے القابات اور خطابات سے نوازتے گئے اور مزے کی بات یہ کہ ان کی قبر تک معلوم نہیں اور مخالفین کے مزارات پر لوگوں نے جھنڈے گاڑے ہیں، لنگر چل رہے ہیں اور اللہ کے ولی مانتے ہیں اور یہاں تک کہ لوگوں کو ان کے نام تک بھی معلوم نہیں تھے، پیر بابا یا اخون درویزہ بابا کے ناموں سے پکارے جاتے تھے تاکہ لوگ ان کے ناموں سے کوئی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور جو ادھر یا اس سر زمین کے روحانی پیشوا یا سچے ولی تھے ان کے خلاف ٹپے گھڑ لئے گئے اور ان پر سے گزر کر ان کے مزار پر جانے والوں کو کس طرح بد دعائیں مانگ مانگ کر فوکلور کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پیرہ بابا پہ ڈاگ یہ اولا
تا نہ تیریگی دیوانہ بابا لہ زینہ
اے پیربابا! تم ان کو زمین پر پٹخ دو
یہ تم سے گزر کر دیوانہ بابا کے پاس جاتے ہیں۔
یا یہ کہ
پیرہ بابا! پہ ملا ہے اولا
تانہ تیریگی سلام بل بابا لہ وڑینہ
اے پیر بابا! تو ان کے کمر پر وار کرے یا تو ان کی کمر کو مفلوج کرے
یہ لوگ تم پر سے گزر کر کسی اور بابے کے پاس جا رہے ہیں۔
یہ اور اس طرح کے کئی واقعات اور شخصیات ہیں جو بنت داہر کی طرح ازسر نو ناول کی صورت میں فکشن اور فکشن سے پھر حقیقت میں بیان کرنا اشد ضروری ہے تاکہ تاریخ کا دھارا صحیح سمت میں روا دواں ہو سکے۔


