مائے نی میں کنوں آکھاں؟


میں کون ہوں؟
پتہ نہیں۔
یاد کریں نا میں کون ہوں؟
پتہ نہیں۔
بتائیں نا میں کون ہوں؟
پتہ نہیں۔
سوچیں تو؟
پتہ نہیں۔
میں بتاؤں؟
بتاؤ۔
آپ میری امی ہیں۔
اچھا۔
میں آپ کی بیٹی۔
اچھا۔
یاد آیا؟
نہیں۔
کوشش کریں۔
نہیں۔

آپ کون ہیں؟
پتہ نہیں۔
میری امی۔
پتہ نہیں۔
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
مائے نی۔
مائے۔
*

دسمبر میں ڈیپارٹمنٹ میں سب کی چھٹی لکھی جاتی۔ اوشا جائے گی مارچ اور دسمبر میں، رینوکا جنوری اور مئی میں، رولا اگست اور نومبر میں لمبی چھٹی نہیں لوں گی مگر لوں گی چار بار۔ ایک ہفتہ ہر تین مہینے کے بعد ۔ وہ اعلان کرتی۔ کوئی سوال نہ کرتا کیوں؟

جہاز کے ٹکٹ بھی پہلے سے بک کروا لیے جاتے۔ مارچ، جون، ستمبر اور دسمبر۔ کوئی نہ پوچھتا کیوں؟

وہ ہر تین مہینے بعد جہاز سے اترتی، ائر پورٹ سے اس بستی کے ایک چھوٹے سے مکان میں پہنچتی اور وہ کھیل پھر سے شروع ہو جاتا۔

میں کون ہوں؟
پتہ نہیں۔
بتائیں نا میں کون ہوں؟
پتہ نہیں۔
یاد کریں میں کون ہوں؟
پتہ نہیں۔
کوشش کریں۔
پتہ نہیں۔
آپ امی ہیں؟
پتہ نہیں۔
میں آپ کی بیٹی۔
پتہ نہیں۔
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
مائے نی۔
مائے۔
*

دن میں کئی بار یہ سوال جواب کا کھیل ہوتا۔ نہ پوچھنے والی تھکتی نہ جواب دینے والی۔ ہو سکتا ہے سننے والے دل ہی دل میں اکتا جاتے ہوں۔ کیا ہے بھئی؟ کہہ جو رہی ہیں بار بار۔ پتہ نہیں۔ پھر کس بات کا اصرار اور کیوں یہ تکرار؟

کیا واقعی یہ تکرار تھی؟
بے معنی؟
بے مقصد؟
بے اثر؟
بیکار؟
شاید ہاں؟
شاید نہیں؟
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی۔
مائے نی
مائے۔
*

وہ دو عورتیں جو اس کھیل کی کھلاڑی تھیں۔ ان دونوں کے بیچ بندھی ڈور ہی تو تھی ان سوالوں کا تانا بانا۔ اس ڈور کا ایک سرا انتہائی بوسیدہ۔ یوں جیسے کہ ابھی ٹوٹا کہ ابھی چھوٹا۔

دوسرا سرا انتہائی مضبوط۔ پکڑنے والی نہ چھوڑنے پہ تیار نہ توڑنے پہ آمادہ۔
ڈور کی بوسیدگی اور خستہ حالی روز بروز بڑھتی جا رہی تھی اور اس کے ساتھ بندھی ڈگمگاتی ہوئی وہ۔
وہ ڈوب رہی تھی۔ آہستہ آہستہ۔
لیکن دوسری اس ڈور کو کھینچتی، پانی میں کنکر مارتی۔ یادوں کی بستی میں ہلچل مچاتی۔
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
مائے نی۔
مائے۔
*

نہ جانے کون ہے یہ لڑکی؟ ہر وقت اپنے سوالوں سے ناک میں دم کیے رکھتی ہے۔ ارے بابا کہہ دیا نا ایک بار نہیں کئی بار کہ نہیں جانتی تمہیں۔ پھر بھی پوچھے جاتی ہے۔ کہے جاتی ہے۔ ایک ہی سوال۔ بار بار۔

میں کون ہوں؟
میں تھک جاتی ہوں جواب دیتے دیتے مگر وہ مانتی ہی نہیں۔
جانتی نہیں میں اسے تو کیسے مانوں اور کیوں مانوں؟
نہ جان نہ پہچان۔

اور حد کر دیتی ہے ڈھٹائی کی۔ مجھے کہتی جاتی ہے۔ بار بار یاد کرواتی ہے کہ میں اس کی ماں ہوں۔ لو بیٹھے بٹھائے مجھ نمانی کو اپنی ماں بنا دیا۔

ماں کیسے ہو سکتی ہوں اس کی؟
نہ میری شادی ہوئی نہ کوئی گھر والا۔
سمجھ سے باہر ہے کہ نہ جانے کون ہے یہ؟ کیوں تنگ کرتی ہے مجھے؟
شاہ جی اور بے بے کو بتانا چاہیے مجھے۔
کہ اس لڑکی کو آئندہ گھر نہ گھسنے دیں۔
تنگ ہوتی ہوں میں۔
ایک تو ہر وقت کے سوال جواب اور پھر رونا دھونا۔
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
مائے نی۔
مائے۔
*

آج میں کھیتوں سے واپس آئی تو بے بے کے ساتھ وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ بے بے جی بھی لحاظ میں ماری جاتی ہیں۔ بھئی سیدھے سیدھے کیوں منع نہیں کرتیں اس لڑکی کو کہ میری بیٹی کو زچ کرنے نہ آیا کرو بھئی۔ اپنے سوالوں کے پھندے سے گلا مت گھونٹو اس کا۔

اب بے بے کے ساتھ بیٹھ کر نہ جانے کیا منصوبے بنا رہی ہے۔ ابھی آئے گی اور پھر وہی راگ۔
میں کون ہوں؟
نہیں جانتی بھئی۔
میں کون ہوں؟
کہہ دیا نا، نہیں پتہ۔
سوچیں میں کون ہوں؟
سوچ لیا۔
کوشش کریں؟
یا خدا کتنی بار کہوں کہ نہیں جانتی تمہیں۔
میں آپ کی بیٹی ہوں۔

حد ہو گئی۔ میری تو شادی بھی نہیں ہوئی۔
آپ میری ماں ہیں۔
او بابا معاف کرو، کہاں سے بن گئی تمہاری ماں۔ میں تو عمر میں تم سے چھوٹی ہوں۔
بے بے کو بلاتی ہوں ابھی کہ اس بے شرم کو گھر سے باہر نکالیں۔
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
مائے نی۔
مائے
*

یہ لڑکی میرا پیچھا نہیں چھوڑتی اور بے بے اسے منع نہیں کرتیں۔ آج شاہ جی گھر آئیں گے تو ان سے کہتی ہوں لیکن شاہ جی سے بات کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ کیا کہوں ان سے؟ یہ لڑکی مجھے اپنی ماں سمجھتی ہے۔

کیا سوچیں گے وہ؟ میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ ابھی تو میں نے پڑھنا ہے۔ پڑھ لکھ کر بڑے اسکول کی بڑی مس بننا ہے مجھے۔ کتنا اچھا لگتا ہے نا صبح صبح سکول جا کر لڑکیوں کو پڑھانا۔

لیکن کیا کروں؟
اس لڑکی نے جان عذاب میں کر دی ہے۔ نہ جانے کیا چاہتی ہے؟
کیوں پیچھا کر رہی ہے میرا؟
کیوں ماں کہہ کر مجھے بلاتی ہے؟
میری سہلیوں نے سن لیا تو کتنا ہنسیں گی مجھ پر۔

اور گاؤں والے؟ نہ جانے کیا کچھ سوچ لیں؟ کیا چکر ہے؟ کہاں سے آئی یہ لڑکی اور کیوں یہ پاکھنڈ مچایا ہے؟ بے بے آخر اسے منع کیوں نہیں کرتیں؟

مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
مائے نی مائے
مائے۔
*

کچھ سمجھ نہیں آتا میں کچھ کنفیوژ ہو گئی ہوں۔ شاہ جی اور بے بے نے آج اس لڑکی کو آپا کہہ کر بلایا۔ میں بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔ وہ جو کوئی بھی ہو، شاہ جی اور بے بے کی آپا کیسے ہو سکتی ہے؟

آخر کون ہے وہ؟
کیا راز ہے یہ؟
آج کل میرا سر گھومتا رہتا ہے جیسے ایک جھولے میں بیٹھی ہوں اور وہ گول گول گھومتا جا رہا ہو۔

کبھی کبھی جی چاہتا ہے زور زور سے چیخوں، روؤں، آنسو بہاؤں۔ ایسے تمام مواقع پر نہ جانے کیسے یہ لڑکی میرے پاس آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ میرا ہاتھ پکڑ کر اسے محبت سے دباتی ہے، میرے چہرے پہ بوسہ دیتی ہے اور کہتی ہے

امی، اداس نہ ہوں۔ اب نہیں پوچھوں گی کہ میں کون ہوں؟ میں ان بند دروازوں پہ دستک نہیں دوں گی جن کے کواڑ بوسیدہ ہیں۔

مجھے کچھ نہیں پوچھنا۔
کچھ نہیں جاننا۔
کوئی جواب نہیں چاہیے۔
میں جانتی ہوں، آپ کون ہیں؟
وہ مجھے گلے سے لگا کر اپنی بھیگی ہوئی آنکھیں پونچھتی ہے پھر گنگناتی ہے۔
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
مائے نی۔
مائے

Facebook Comments HS