بھگت سنگھ


کہانی وہ نہیں جسے چھپایا جائے۔ کہانی تووہ ہے جسے بتایا اور پڑھایا جائے تاکہ نسل در نسل منتقل ہوتی رہے۔ یہ کائنات خود ابھی ایک کہانی ہے جو مختلف مقامات پر مختلف کرداروں اور پلاٹ کے ساتھ چل رہی ہے مگر ہے یہ کہانی ہی۔ اور ایسی عجیب کہانی کہ جس کا سب سے اہم کردار قدرت اور انسان تو ہمارے سامنے ہے لیکن اس کا مصنف کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ سو کہانی انسان کی سرشت میں ہے۔ کیونکہ غار کے انسان سے لے کر جدید انسان تک کہانی کا سفر ہی ہے جو ہم تک نا معلوم تاریخ سے معلوم تاریخ تک پہنچا ہے۔

یہ بھی ایک کہانی ہے۔ میرے خطے کی کہانی تقسیم شدہ خطے کی کہانی جس کے کردار لکیر کے اس طرف ہیرو اور لکیر کے اس طرف نفرت کا نشان بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے خطرناک اور گھنے جنگل سے شروع ہوتی ہے جس میں خونخوار درندے اور آزادی کے متوالے معتوب انقلابی اکٹھے رہا کرتے تھے اور پھر جنگل کو ختم کر کے شہر بنا دیا گیا تاکہ سرکار کو باغیوں کی تلاش میں خونخوار درندوں کا رزق نہ بننا پڑے لیکن شہر بسانے والے یہ بات بھول گئے کہ شہروں میں بسنے والے جنگلی درندوں سے زیادہ خونخوار ہوتے ہیں۔

جنگلی جانوروں کی لڑائی لمحاتی ہوتی ہے اور وقفے وقفے سے ہوتی رہتی ہے لیکن انسانوں کے درمیان ہونے والی جنگیں بربادی کی ایسی داستانیں رقم کر دیتی ہیں کہ کہانیاں نسل در نسل نئی جنگوں کو جنم دیتی رہتی ہیں۔ غلام ہندوستان میں جہاں آج فیصل آباد ہے کسی زمانے میں گھنا جنگل ہوا کرتا تھا جو تاجدار برطانیہ کے باغیوں کی سب سے محفوظ پناہ گاہ تھا۔ سامراجی سرکار نے اس جنگل کو صفحہ ہستی سے مٹا کر بیسیوں صدی کی اختتامی دہائی میں ایک شہر بسایا جس کا نام اس وقت لائل پور رکھا گیا۔

جو کہانی سنائی گئی اس کے مطابق یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ یہ علاقہ پہلے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شور کوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع دو آبہ رچنا کا اہم حصہ بنایا گیا۔

آج یونین آف جیک کی طرز پہ بنے شہر فیصل آباد بارے برطانوی سامراج کا کہنا تھا کہ ہم اپنا جھنڈا اس خطے کے سینے میں گاڑ کر جا رہے ہیں لیکن مقامی لوگ اسے روزانہ پیروں کے نیچے روندنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس شہر کی نمایاں خصوصیت میں آٹھ مرکزی بازار اور ان بازاروں کے بیچ کھڑا گھنٹہ گھر جسے تاج محل تعمیر کرنے والے خاندان کے چشم و چراغ گلاب خان نے دو برسوں میں چالیس ہزار کی لاگت سے تعمیر کیا۔ اس کی تعمیر میں سرخ اور سفید پتھر استعمال کیا گیا ہے جو سانگلہ ہل کی پہاڑی سے کاٹ کر لایا گیا تھا۔

اس گھنٹہ گھر کے چاروں حصوں پر جلی حروف میں اس کی تاریخ درج ہے جو پنجابی کی بجائے ہندی زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس ٹاور پر بڑے بڑے گھڑیال نصب ہیں جن پر رومن ہندسوں میں ایک تا بارہ تک اعداد درج ہیں۔ جن پر سیاہ رنگ کے پتھر سے ترشی ہوئی سوئیاں رینگتی رہتی ہیں۔ ان ہندسوں اور سوئیوں کی جسامت اتنی ہے کہ ہر بازار کے خاتمے پر باآسانی وقت دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر پاک و ہند میں وقت کی تاریخ کے اوراق کو الٹ پلٹ کر دیکھیں تو سمجھ آتی ہے کہ اس شہر کا قیام بھی انگریز سرکار کے ظلم و بربریت ہی کی ایک شام تھی۔

یہ بار کا وہ حصہ ہے جس کو ساندل بار کہا جاتا ہے۔ اس بار کے اصل باشندے انگریز دور سے جانگلی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ ایک ثقافتی اکائی کا نام ہے جہاں بہت سی لوک روایات لوگوں کے نام سے مشترک ہیں۔ یہ لوک روایات صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہیں ہرجیت سنگھ کے مطابق چناب سے چنیوٹ اور ننکانہ صاحب کو چیرتی ہوئی ایک لکیر راوی کو جا چھوتی ہے۔ ان دو دریاوں کے بیچ میں بار کا دیس رہ جاتا ہے بار کا یہ جنگل، آبادیوں میں روپوش ہو کر بھی اپنے نام کی نسبت سے آج بھی زندہ ہے۔

یہ صدیوں تک اپنی طرز پہ قائم رہا۔ اس خطہ زمین پہ پہلے بھی غیر ملکی چور، ڈاکو، لٹیرے، حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ اس کے بعد انگریز سرکار نے ظلم کے پہاڑ توڑے حالانکہ یہاں انگریز سرکار کے بہی خواہوں کی کوئی کمی نہیں تھی پھر بھی انگریز سرکار آزادی کے متوالوں سے نہایت خوف زدہ تھی۔ جو یہاں سے گزرتے ہوئے برطانوی افسروں کے قافلوں پہ حملہ آور ہوتے اور انہی جنگلوں میں نظروں سے اوجھل ہو جاتے تھے۔ اس دوران رفتہ رفتہ برطانوی افسروں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ یہ جنگل اور یہاں کے باسی ان کے لئے مستقل خطرہ ہیں۔

اس وقت ایک طرف جھنگ اور دوسری طرف گوگیرہ بنگلہ میں سرکاری دفاتر موجود تھے جس کے درمیان ساندل بار کے جنگلات تھے۔ یہ جنگلات انگریز سرکار کے لئے وبال جان بن چکے تھے۔ بس یہی وہ خوف تھا جس کے پیش نظر کانگریس کی تخلیق کے ساتھ ہی جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کو لاہور جاتے ہوئے ایک نئے شہر (لائلپور) کے قیام کا خیال پید اہوا تاکہ آزادی کے متوالوں پہ کڑی سے کڑی نگاہ رکھی جا سکے۔ اس کے بعد نہر لوئر چناب کی تشکیل ہوئی اور پھر مسلم لیگ کے قیام کے کے عرصے میں یونین آف جیک کے طرز پر گھنٹہ گھر (کلاک ٹاور) تعمیر کیا گیا۔

تقسیم بنگال کے سال میں ہی اس شہر کا افتتاح کیا گیا اور اسے لائل پور کے نام سے نوازا گیا۔ اس افتتاح کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ساندل بار کے گاؤں بنگھے میں کشن سنگھ اور ودیا وتی کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ کون جانتا تھا کہ کشن سنگھ انقلابی کے گھر بچہ نہیں مشترکہ ہندوستان کی تاریخ نے جنم لیا ہے جس کا نام بھگت سنگھ رکھا گیا جو اس خطے کی مزاحمتی تحریک کا مرکزی کردار بننے جا رہا تھا۔ اس گھرانے کے بہت سے افراد برطانوی راج کے خلاف انقلابی سرگرمیوں میں شریک رہ چکے تھے۔

بھگت سنگھ کا دادا ارجن سنگھ سوامی دیا نند سرسوتی کی تحریک آریہ سماج کا پیروکار تھا۔ اس کا چچا اجیت سنگھ اور سورن سنگھ غدر پارٹی میں کام کرتے رہے اور دھرتی ماں کی حفاظت کے لئے لڑتے رہے۔ سورن سنگھ کو کوری ٹرین ڈاکا میں ملوث ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ بھگت سنگھ کو آریہ سماجی سکول دیا نند ویدک ہائی سکول میں داخل کروایا گیا۔ اس کے بعد وہ نیشنل کالج لاہور میں داخل ہوا۔ اس نے کم عمری کی شادی سے بچنے کے لئے کچھ عرصہ کے لئے گھر بھی چھوڑا۔

اس دوران نوجوان بھارت سبھا کی رکنیت اختیار کی۔ اس نے نوجوانی میں یورپی انقلابی تحریکوں کا مطالعہ کیا اور ایک صاحب مطالعہ انقلابی نوجوان کے طور پر سامنے آیا۔ اپنی مٹی سے اٹھا ہوا یہ نوجوان انگریز سرکار کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھاتا رہا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں بم پھینکا اور، انقلاب زندہ باد، کے نعرے لگائے۔ اس بم سے کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی کیونکہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کا مقصد احتجاج کرنا تھا۔ جب ہم تاریخ کی دوسری جانب دیکھیں تو انگریز سرکار نے جیلیانوالہ باغ میں سینکڑوں بے گناہ معصوم شہریوں، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا جبکہ اس بربریت کے خلاف مزاحمت کرنے والے آزادی کے متوالوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالا جاتا رہا۔

آخر کار بھگت سنگھ اپنے ساتھیوں سمیت گرفتار ہوا اور اسے مقدمہ چلانے کے بعد ساتھیوں سمیت سزائے موت سنا دی گئی۔ اس نے جیل میں برطانوی اور ہندوستانی سیاسی قیدیوں کے لئے یکساں حقوق اور سہولتوں کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی۔ بھگت سنگھ کے مصمم ارادے کے سامنے انگریز سرکار کو سر جھکانا پڑا اور اس کے مطالبات منظور کر لیے گئے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے خصوصی اہمیت دی اور بھگت سنگھ کو عام ہندوستانیوں میں ایک انقلابی نوجوان کی حیثیت سے زبردست شہرت ملی۔

وہ جیل میں اپنی ڈائری بھی لکھتا تھا۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں راج گرو اور سکھ دیو سنگھ کو لاہور پھانسی دینے سے پہلے آخری خواہش کے مطابق آخری بار ایک دوسرے کے گلے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تینوں دوست ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے جیل حکام کے سامنے پھانسی کے پھندے کو چومتے ہوئے انقلاب زندہ باد، انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان آشفتہ سروں نے مٹی کی محبت کا قرض بمعہ سود چکتا کر دیا۔

دنیا میں بہادروں کا قتل میدان جنگ میں کم اور عدالتوں میں زیادہ ہوا۔ یہ بھی ایسی ہی عدالت تھی جو اس سے پہلے مزدک، سقراط 3 ⁄ 4 مسیح اور حسین جیسے عظیم سورماؤں کے قتل کی مرتکب ہو چکی تھی۔ بھگت سنگھ نے پچیس سال کی عمر میں پھانسی کے پھندے پر جھول کر ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں نوجوانوں کے دل میں آزادی کی شمع روشن کردی جبکہ اس وقت 75 پچھتر سالہ بوڑھے ابھی انگریز سرکار کے بہی خواہوں میں شمار ہوتے تھے اور جن کی ذمہ داری تاجدار برطانیہ کے ملازموں کو نرم گرم زندہ گوشت سپلائی کرنا تھا۔

کیمپ جیل لاہور میں جس مقام پر بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی وہ اس وقت جیل کا حصہ نہیں بلکہ لاہور کا مہنگا علاقہ شادمان بن چکا ہے۔ شادمان کا دوسرا گول چکر ہی وہ مقام ہے جہاں پنجاب کے اس متفقہ بیٹے کو وطن سے محبت اور آزادی کی قیمت چکانے کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا لیکن بدقسمتی سے آج بھی تاجدار برطانیہ کے پرانے وفاداروں کی اولادیں شادمان چوک کو بھگت سنگھ چوک کا نام دینے کے خلاف ریاستی طاقت سمیت بھگت سنگھ اور اس فکر کے مخالف کھڑی ہیں لیکن سچ کو آ شکار ہونا ہوتا ہے۔ جبر کی یہ رات بھی ڈھل جائے گی۔

بھگت سنگھ کی چتا انگریز سرکار نے خوف کے مارے رات کے اندھیرے میں دریائے ستلج کے کنارے حسینی والا کے مقام پر جلائی اور چاہا کہ اس کا نام و نشان مٹا دیا جائے لیکن وہی نام آج اس خطہ کے طول و عرض میں کہیں پتھر اور کہیں نعرہ بن کر انہی سامراجی قوتوں کے گماشتوں کے سامنے کھڑا ہے۔ بھگت سنگھ نے بتا دیا کہ زندگی لمبی نہیں بڑی ہونی چاہیے وہ پچیس سالوں میں صدیاں جی گیا۔ ساندل بار کی مٹی نے ہمیشہ سورماؤں کو جنم دیا ہے جنہوں نے ہر رنگ میں کسی نے کسی جابر کے سامنے کلمۂ حق لازمی کہا ہے کبھی رائے احمد خان کھرل کی شکل میں اور کہیں دلا بھٹی کی شکل میں تو کہیں نظام لوہا ر اور ملنگی کی صورت۔

یہ وہ کہانی ہے جو خضر نے سنائی ہے جب راقم بھگت سنگھ کی جائے پیدائش کی زیارت کرنے گیا تھا۔ یہ مٹی اپنے ان بہادر بیٹوں پر جتنا فخر کرے کم ہے۔

انگریزوں نے پنجاب کو کنٹرول کرنے کے لئے وہ جاگیر دار پیدا کیے جن کی آل اولاد آج بھی ہماری سیاست پر سانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھی ہے۔ ان جاگیرداروں نے فوج میں جبری بھرتیاں کروائیں، آزادی کی کی تحریک کو توڑنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ اپنوں کا قتل عام کیا اور کروایا۔ انگریزوں کی حامی سیاسی پارٹیاں بنائیں اور بدلے میں انعام و کرام اور جاگیریں وصول کیں۔ انگریز تو جہاں سے آئے تھے، وہیں چلے گئے مگر ان کا طریقہ کار آج بھی جوں کا توں جاری و ساری ہے۔

پنجاب کا کلیجہ بہت بڑا ہے۔ جتنے دکھ، تکلیفیں اس خطہ زمین نے برداشت کیے ہیں، دنیا میں شاید ہی کسی اور خطہ زمین نے کیے ہوں۔ اس کی زبان و ادب کو بگاڑنے والے، اس کو لوٹنے والے، اس کو تباہ و برباد کرنے والے سب کے سب تاریخ کے کوڑا دان میں پڑے ہیں مگر پنجاب آج بھی شاد اور آباد ہے۔ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ایسے ایسے نابغہ روزگار پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے رہتل، وسیب، ماں بولی کو دنیا بھر میں وہی مقام اور رتبہ دلایا ہے جو دھرتی کے غیرت مند بیٹوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔

یہ مختصر کہانی گو کہ یہاں ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن یہ اختتام نہیں آغاز ہے۔ کہانیاں تو اب منظر پر آنا شروع ہوئی ہیں۔ وہ کہانیاں جن کو چھپا کر ظلم کیا گیا۔ جن کو نصاب سے غائب کر کے سمجھا گیا کہ وہ تاریخ سے مٹ گئیں۔ وہ کہانیاں جو عام آدمی کی کہانیاں ہیں۔ چوک چوراہوں کی کہانیاں ہیں۔ جن کو چھپانے کے لئے سرمایہ داروں جاگیر داروں سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ۔ گدی نشینوں اور ریاستی ملاؤں نے بار بار جھوٹی اور نئی کہانیاں لکھ کر ہر عہد کی نسل کو دیں۔

ایسا کرنے والے تاریخ کے کوڑے دان میں بھی جگہ نہ پا سکے اور رزق خاک ہو کر اسی مٹی کے بہادر بیٹوں کے حضور عالم برزخ میں اپنے معافی نامے لئے کھڑے ہیں۔ ماضی کی سچی کہانیاں ہی مستقبل کے روشن راستوں کا تعین کرتی ہیں انہیں نئی نسل سے چھپانا بدترین جرم اور گناہ ہے۔ مٹی کے بیٹے مٹی پر کھنچ جانے والے لکیروں کے بعد بھی مٹی پر اپنے حق ملکیت سے محروم نہیں ہوتے۔ عام آدمی کی جسمانی موت کے ساتھ ہی اس کی زندگی کا ازلی سفر ابدی ہو جاتا ہے لیکن خاص لوگوں کی موت ان کے ازلی سفر کا ایک پڑاو ہوتا ہے جہاں سے اگلا سفر نئی نسلوں کے لئے مینارہ نور بن کر شروع ہونا ہوتا ہے اور بھگت سنگھ ہماری مٹی کا وہی بیٹا ہے جس کا سفر اور تعلق ہماری ہواؤں۔ فضاؤں اور مزاحمتی تحریک سے اٹھنے والے ہر نعرے اور پتھر میں دکھائی اور سنائی دے گا کہ چھپائی گئی کہانی کی اصل کہانی یہی ہوتی ہے۔

تمام عناصر جہاں سے آئے ہیں وہیں لوٹ جائیں گے ہمارا جسم مٹی میں، خون پانی میں، حرارت آگ میں سانس ہوا میں۔

Facebook Comments HS

One thought on “بھگت سنگھ

  • 20/01/2024 at 10:16 صبح
    Permalink

    معلوماتی تاریخی اور سچ کو نئی نسل سے روشناس کرواتی ہوئی ایک منفرد تحریر۔۔۔۔۔ قابل تعریف ہے وہ سوچ جو نئی نسل کو اپنے ماضی کے انقلابی راہنماؤں کے بارے میں سچ بتائے اور سمجھائے۔۔۔
    اس دور ایسی تاریخی تحریر لکھنا جہاد جیسا درجہ رکھتا ہے۔
    سلامتی امن محبت ہو آپکے لئیے۔۔۔

Comments are closed.