گلوبلائزیشن کے نقصانات
دنیا دن بدن ترقی کی منازل طے کرتی فنا اور عروج کی طرف گامزن ہے، انسان کی جگہ مصنوعی انسان لینے کے لئے کلی طور پر تیار ہے۔ سائنس اور مادیت پرستوں نے اپنے اپنے جال تیار کر لئے ہیں، وائے انسان کہ ایک شکار کی طرح رفتہ رفتہ مصنوعی ذہانت کے جال میں پھنسنے سے پہلے خود اپنے احساسات و جذبات، خاندانی اور سماجی رشتوں کو دنیاوی آسائشوں کی بھینٹ چڑھا کر کھو چکا ہے۔ پرنٹ سے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا سفر اتنی تیزی سے طے کر چکا ہے کہ سچ اور جھوٹ، کھوٹے اور کھرے، قدرتی اور مصنوعی کی پہچان تک بھول چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی چکا چوند روشنیوں نے اس کی بینائی مکمل طور پر چھین لی ہے۔ مصنوعیت کا غازہ منہ پہ سجائے، رشتوں کو بھی مال و متاع اور جاہ حشمت کے پیمانے سے ماپنے کے لئے کوشاں ہے۔ عمر کی پچاس بہاریں دیکھنے، دوست و احباب کے موجودہ روئیے اور سلوک کا مشاہدہ کرنے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کی جیسے ہائی بریڈ غذا میں وہ پہلے جیسا مزہ نہیں رہا، ایسے ہی ہمارے لہجے اور روئیے بھی دن بدن ہائی بریڈ ہوتے جا رہے ہیں۔ دن اور رات اب بھی بارہ گھنٹے کے ہیں، موبائل اور سوشل میڈیا پیغامات کی مدد سے ہم اب اپنے قریبی رشتوں اور احباب سے صرف ایک انگلی کے لمس جتنے دور ہیں، رات کو بارہ، ایک بجے تک جاگنے کے باوجود بھی اپنے ہاتھ میں طلسمی آلہ پکڑے دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے ہم جنسوں سے اپنے معاشرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ابھی مجھے میٹرک کے ایک کلاس فیلو، حال مقیم کینیڈا کا پیغام، اس کے بیٹے کی شادی کی ویڈیو موصول ہوئی تو خوشی کے ساتھ ساتھ ایک یاسیت اور مایوسی کا احساس بھی ہوا کہ دیار غیر میں موجود، دو سالہ رفاقت والا ایک فرد اب بھی مجھے یاد رکھتا ہے اور ایک ہم ہیں کہ ہمیں دیہات میں رہتے ہوئے بھی قریبی رشتہ داروں، احباب اور ہمسائے کے حالات کا علم نہیں ہوتا۔ ہمیں کسی کی وفات اور بیماری کی اطلاع بھی اب بھی فیس بک یا واٹس ایپ سٹیٹس سے ملتی ہے۔
اب کال یا ذاتی میسج کی بجائے احباب کو یہ توقع ہوتی ہے کہ فلاں ابن فلاں کو ہماری پوسٹ یا سٹیٹس سے ہماری بیماری یا فوتگی کا علم ہو گیا ہو گا۔ میں اکثر اپنے قریبی احباب سے شکوہ کناں ہوتا ہوں کہ یار! مجھے علاقے میں ہونے والی وفات و بیماری کی اطلاع دے دیا کریں کیونکہ سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک سے دور رہتا ہوں لیکن اپنے اپنے مسائل اور پریشانیوں کا گٹھڑ اپنے کندھے اور سر پر اٹھائے ہر فرد یہی جواب دیتا ہے کہ یاد نہیں رہا۔
بچپن یاد آتا ہے تو ایک ہوک سی دل میں اٹھتی ہے، گو گھر کچے تھے، غربت تھی، وسائل نہ ہونے کے برابر تھے لیکن ہر خاندان، رشتہ اور فرد خلوص کی دولت سے مالا مال تھا۔ مصیبت اور پریشانی میں کندھا دینے والوں کی ایک قطار لگ جاتی تھی۔ اب ذرا کسی سے تھوڑی سی مقدار میں ادھار تو مانگ کر دیکھیں، ہر فرد پہلے سے اپنے مالی مسائل کا رونا رونے لگ جائے گا۔ ہر فرد کی یہی کوشش ہوگی کہ جس پریشانی میں وہ مبتلا و گرفتار ہے، اس سے جان چھڑوائے تو ایک فون یا واٹس ایپ کال کے بعد وہ بھی اس بھاری بوجھ سے عہدہ برا ہو۔
ایک نظر اپنے ارد گرد کے ماحول اور دوستوں پہ ڈالیں، اگر کسی نے ہنسنا ہے تو فوری طور پر کوئی کامیڈی کلپ ڈھونڈے گا اور اگر غلطی سے کسی نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے تو ٹک ٹاک، یو ٹیوب، انسٹا اور فیس بک پہ کوئی المیہ ٹیون ڈھونڈے گا۔ اب اس شیطانی چرخے کی مہربانی سے آپ کے سامنے روزانہ دکھی عشقیہ شاعری، میوزک اور گانے سامنے آتے رہیں گے اور آپ مایوسی کے عذاب سے جان نہیں چھڑوا سکیں گے۔ اگر غلطی سے آپ نے کسی سیاسی جماعت کا کوئی ٹاک شو دیکھ لیا تو روزانہ کی بنیاد پر آپ کے سمانے اتنے ٹاک شوز سامنے آئیں گے یہ برقی و صوتی آلہ جو صرف فون کال کے لئے استعمال ہوتا ہے، آپ کو سیاسی و نظریاتی بیمار بنا کے دم لے گا۔
ہمارے پاکستانی کرم فرما ویسے بھی ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اس لئے گلوبلائزیشن جیسے اس منحوس عفریت کے صارفین کی کثیر تعداد ہمارے ملک پاکستان میں موجود ہے۔ پہلے تو خواتین کو میک اپ کے لئے بیوٹی پارلر اور مردوں کو سیلون کا سہارا لینا پڑتا تھا لیکن چیٹ جی پی ٹی اور جدید ایپس کی مدد سے اب ہمارے جیسے پچاس سالہ بوڑھے بھی اپنے آپ کو جوان بنا کے خیالات و تصورات کی دنیا میں گم ہیں۔
ایک دور تھا جب حسن بن صباح جیسے شیطان کے پیروکاروں نے مسلمانوں کو مذہب اور معاشرے سے دور کرنے کے لئے دور پہاڑوں پر ایک مصنوعی جنت بنائی تھی، اور عوام کو حشیش یعنی نشہ پلا کر خوبصورت لڑکیوں سے ملوا یا جاتا اور اس کے ذہن پر قابو پا کر فدائی حملہ تک کروا دیا جاتا تھا، کیا اب ایسا نہیں لگتا کہ ہر فرد کے ہاتھ میں انہی شیطان کے چیلوں نے ایک تصوراتی جنت پکڑا دی ہے، جہاں نہ فراڈی حوروں کی کمی ہے اور نہ ہی جنت ارضی کی، ہر فرد جو دیکھنا چاہتا ہے، جیسا دکھنا چاہتا ہے، سو نقابوں کے اندر خود کو چھپا کے رکھ بھی سکتا ہے اور جو دیکھنا چاہے، دیکھ بھی سکتا ہے۔
گلوبلائزیشن کا سب سے بڑا نقصان انسان کو یہ ہوا ہے کہ وہ اپنے مذہب اور نظریات سے دن بدن دور ہوتا جا رہا ہے، انسانیت دم توڑ رہی ہے۔ معاشرے میں بے چینی، افراتفری اور تھرل و عیاشی کے نام پر بے حیائی کا دور دورہ ہے۔ انسان کو مکر و فریب اور جھوٹ کے سنہری جال میں جکڑنا بہت آسان ہوتا جار ہے ہے۔ معاشرے میں عالم، درویش، معلم، فنکار اور ٹیلنٹ کی قدر نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت کی چکا چوند روشنیوں نے ہر فرد کو اس طرح اپنے سحر میں جکڑا ہے، جس سے نکلنا محال ہے۔
ہر فرد خود ہی دوسرے انسان پر فرد جرم عائد کرتا ہے، خود ہی وکیل اور منصف ہوتا ہے اور اپنی عدالت سے کسی بھی شخص کو سزا بھی دے سکتا ہے۔ جھوٹ، مکر و فریب، بدتمیزی، بے حیائی اور جہالت کی اس منڈی میں سچ جیسی چیز نایاب ہے۔ ہم جانتے بوجھتے سچ سے راہ فرار اختیار کر کے جھوٹ اور صاحب مکر کو پروموٹ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ میری ذاتی رائے کے مطابق انٹرنیٹ اور گلوبلائزیشن کا ہم نے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا، ماسوائے جھوٹ کو بلا تصدیق پھیلانے، طاغوتی نظریات سے متاثر ہونے اور اغیار کے مقاصد کی تکمیل کے، اس میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا بھی شامل ہے اور ڈیجیٹل میڈیا بھی، اب بھی وقت ہے کہ انٹرنیٹ جیسے بے لگام گھوڑے کو قابو میں رکھنے کے لئے انفرادی اور اجتماعی مساعی کی جائے ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہمارے ہاں انسان کی بجائے، چرند، پرند اور درندہ صفت لوگوں کا راج ہو گا۔


