خود کو ناپسند کرنے والے لوگ کیا کریں؟ ڈاکٹر خالد سہیل، ڈاکٹر سارہ علی


میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل،

پچھلے مہینے جب میں آپ سے ملی تو کھانے کی میز پر جہاں انٹرنیشنل پالیٹکس اور انقلابیوں کی سائیکولوجی زیر بحث تھی۔ وہاں آپ کے اس جملے نے پورا مہینہ میری توجہ اپنی طرف مرکوز رکھی کہ ”دوسروں سے وہی لوگ محبت کر سکتے ہیں جو اپنے آپ سے محبت کرتے ہیں۔“ یہ جملہ ہماری اس گفتگو کا کرکس تھا جو اس موضوع پر ہو رہی تھی کہ لوگ دوسروں کی طرف اتنے ججمینٹل کیوں ہوتے ہیں اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے کیوں نہیں لطف اندوز ہوتے۔

میرے لیے آپ کی رائے بطور سائیکارٹسٹ اس موضوع پر بہت دلچسپ تھی کیونکہ آپ کا واسطہ دن رات لوگوں کے ذہنی مسائل سے رہتا ہے اور جس گہرائی سے آپ لوگوں کی نفسیات کو دیکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی اور پروفیشن سے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے ممکن نہیں۔ اس میں میرے لیے دلچسپ تھا جب آپ نے کہا کہ لوگ اپنے آپ کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس لیے اس کی بھڑاس دوسروں پر تنقید کر کے نکالتے ہیں جب کہ عام نقطہ نظر کے مطابق اپنے آپ کو پسند کرنا narcissism ہے لیکن اس گفتگو سے میرے اوپر محبت کا ایک نیا در وا ہوا وہ ہے۔

اپنے آپ سے محبت کہ بطور انسان یہ آپ کے اندر ایسی پازیٹیو انرجی پیدا کرتی ہے جس سے آپ اپنے اردگرد کے لوگوں اور ماحول میں پازیٹیویٹی دیکھتے ہیں اور اپنی نظر گلاس آدھا خالی کی بجائے گلاس آدھا بھرا پر رکھتے ہیں۔ اس میں دلچسپ آپ کی لوگوں کی نفسیات پر تھی کہ ”اگر آپ سو لوگوں سے ان کے اپنے بارے میں رائے معلوم کریں گے کہ وہ اپنے آپ کو پسند کرتے ہیں جس نہیں ان میں سے ننانوے لوگ اپنے آپ کو مختلف وجوہات پر ناپسند کرتے ہوں گے۔

کوئی اپنے آپ کو رنگ پہ ناپسند کرے گا۔ کسی کو اپنے بال پسند نہیں ہوں گے اور کسی کو اپنا آپ موٹا لگتا ہو گا اور ان وجوہات کی فہرست جن کی بناء پر لوگ اپنے آپ کو ناپسند کرتے ہیں۔ خاصی لمبی ہے۔ ”میرے لیے یہ خاصا حیران کن تھا۔ میرا خیال تھا کہ لوگ اپنے آپ کے ساتھ اتنے self obsessed ہیں کہ وہ ہر چیز میں برائی ڈھونڈ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی میں نے اختلاف کرتے ہوئے اپنی مثال دی کہ میں تو اپنے آپ کو بہت پسند کرتی ہوں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنے لوگ اپنے آپ کو ناپسند کریں؟

جس پر آپ نے مجھے بتایا کہ جو لوگ پر اعتماد ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کے اندر اچھائیاں دیکھتے ہیں۔ ان کا پازیٹیو سلف امیج ان کو پراعتماد بناتا ہے اور بقول آپ کے آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو اپنے آپ کو پسند کرتے ہیں۔ میرے لیے یہ ایک بالکل نیا نظریہ ہے کیونکہ ساؤتھ ایشین کلچر میں اپنی ذات کے ساتھ محبت خود پسندی، خود غرضی اور پھر فینسی اصلاحات narcissism کے تحت سمجھی جاتی ہے اور اس کو برا جانا جاتا ہے۔ میرا پازیٹیو سلف امیج اس لیے نہیں کہ میں پرفیکٹ ہوں اس کو میرے والدین نے میری شخصیت کا حصہ بنایا اور مجھے سکھایا کہ میں جیسی ہوں ویسا پرفیکٹ ہوں۔

میں پاکستانی معاشرے کے خوبصورتی کے معیارات سے یا دنیا میں جو خوبصورتی کا عالمی معیار ہے۔ اس پر پورا نہیں اترتی۔ میں بچپن سے فربہ جسم کی مالک ہوں اور اب تک کئی دفعہ اپنے وزن کو کم زیادہ کرنے کی مشق سے گزر چکی ہوں لیکن اس میں مزے کی بات ہے کہ کبھی بھی وزن کم کرنے کے پیچھے وجہ یہ نہیں تھی کہ میں لوگوں کو خوبصورت لگوں۔ آہستہ آہستہ میں نے اپنے ایٹنگ پیٹرن ڈھونڈے اور احساس ہوا کہ میں جتنا سٹریس میں ہوتا اتنا منچ کرتی ہوں اور میٹھا کھاتی ہوں اس نے مجھے میری اندر کی دنیا سے روشناس کروایا جہاں بیٹھا ہوا ڈر انگزائٹی اور اسڑیس اور ایٹنگ کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں اور میں نے آہستہ آہستہ لائف اسٹائل میں تبدیلیاں لانی شروع کیں، میں نے ہمیشہ وہ کپڑے پہنے جو میرے جسم کے ساتھ اچھے لگتے ہوں نہ کہ جو فیشن میں ان ہوں اور میں اپنے آپ کو آئینہ میں اچھی لگوں کون سے کٹس اور کون سا فیبرک مجھے سوٹ کرتا ہے۔

یہ ایک طویل سفر ہے جس کو میں آج بھی طے کرتی ہوں لیکن یہ دوسروں کی تعریف سننے سے زیادہ اپنے آپ کو اچھا محسوس کرنے کے لیے تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ پاکستان میں میرے درزی کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ٹائٹ قمیض سیے جو مجھے سوٹ نہیں کرتی تھی اور ایک دن میں نے اسے تنگ آ کر بولا کہ بھائی تمھارے تنگ قمیض سینے سے میں ایشوریا رائے نہیں بن جاؤں گی البتہ اس کو پہن کر انتہائی uncomfortable ہوں گی۔ اس لیے مہربانی کرو اور جو مجھے پہنا ہوا اچھا لگے ویسا سیو۔ یہ میرے اپنے لیے پہلا قدم تھا کہ خوبصورت دکھنے کہ لیے مجھے ایشوریا رائے کی طرح دکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ میں بطور سارہ خوبصورت ہوں۔ اسی طرح مجھے پچھلے دنوں پاکستان کے دو ایسے ڈرامے دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ہیرو ہیروئن کو اس لیے بدصورتی کے طعنے دے رہا تھا کہ اس کے بال گھنگریالے ہیں اور مجھے وہ ساری باتیں یاد آئیں جو مجھے میرے گھنگریالے بالوں کی وجہ سے کی گئی تھیں لیکن میں نے کبھی انہیں لفٹ نہیں کرائی بلکہ میں ایک دفعہ بال ایکسٹرا کرل کرا کے آئی تھی۔ حالانکہ میری کلاس فیلو نے ایک دفعہ میرے اپنے زیادہ نمبر لینے پر فرمان جاری کیا تھا کہ میرے بال بکرے کی طرح ہیں اور میرا جواب تھا کہ بڑا ماڈرن بکرا ہے کہ کرلی بال رکھتا ہے۔

اسی طرح کبھی مجھے اپنا ہیر کلر تبدیل کرنے کی خواہش نہیں ہوئی حالانکہ ساؤتھ ایشین میں گولڈن بالوں کا ضبط ہے لیکن اس سب اعتماد کی وجہ میرے والدین کا مثبت رویہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میری کزن نے میری ناک کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ تمہاری ناک چھوٹی اور تھوڑی موٹی ہے کیونکہ خاندان میں سب کی ناکیں بہت نازک اور تیکھی ہیں۔

اس لیے مجھے دکھ ہوا میں اپنی امی کے پاس گئی اور ان کو بتایا اتفاق سے اس ہفتے کا اخبار جہاں ابھی آیا تھا اور امی کے ہاتھ میں تھا اور اس پر زیبا بختیار کی تصویر تھی۔ امی نے سن کر قہقہہ لگایا اور مجھے زیبا بختیار کی تصویر دکھائی کہ دیکھو یہ کتنی خوبصورت ہے کہ انڈین بھی اس کی خوبصورتی کے دیوانے ہیں اور اس کی بھی ناک چھوٹی ہے۔ ایسے لوگ پھینے ہوتے ہیں اور بہت سوہنے (خوبصورت ) ہوتے ہیں اور اس دن کے بعد وہ پیار سے اکثر مجھے سارہ سہونو پھونو کہ کر مجھے بلاتی اور جب میں یہ آواز سنتی تو خوشی سے نہال ہو جاتی آج بھی زیبا بختیار کو دیکھ کر مجھے میری امی کی یہ بات یاد آتی ہے۔

اس میں جو سب سے عجیب تھا۔ وہ یہ کہ فیئر اینڈ لولی کا اشتہار دیکھ کر مجھے مزید گورا ہونے کا شوق چڑھا اور میں یہ کریم خرید لائی جب میرے ابو نے یہ دیکھا تو وہ بہت ہنسے کیونکہ میں پیچ سکن رکھتی ہوں اور بولا کہ اس سے زیادہ تو یہ ہے کہ سر پر فلیش لائٹ لگا لو جہاں ضرورت ہوئی چمکا دی اور مجھے بہت ہنسی آئی لیکن تھوڑی ڈھٹائی سے کہا کہ آپ نے اشتہارات کی ماڈل کا رنگ دیکھا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ”یار وہ کیمرہ اور لائٹنگ ہے۔ کچھ عقل سے کام لو“ اور پھر آدھ گھنٹا امریکہ کے ساحل سمندروں کی منظر کشی سننا پڑی کہ کیسے گورے اپنے آپ کو ٹین کرنے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں لیٹے رہتے ہیں اور مجھے قوی امید ہے کہ اس وقت ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی پیاری پیاری دوستیں گھوم رہی ہوں گی اور انہوں نے بھی کافی فرحت و شادمانی محسوس کی ہوگی، مین نے تو اچھا محسوس کیا ہی کیا۔

وہ دونوں ویسے جسمانی و ذہنی صحت کے خیال پر زور دیتے تھے کہ اچھا صحت مند کھانا کھاؤ واک کرو وقت پر سو اور اپنے آپ کو فوقیت دو لیکن ساتھ میں دوسروں کا بھی خیال رکھو۔ ان کا یہ سبق ہمیشہ میرے ساتھ رہا، شادی کے بعد عموماً خواتین اپنی پسند کو ایک طرف رکھ کر صرف خاوند اور سسرال کی پسند کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں لیکن یہاں پر بھی اس پازیٹیو سلف امیج نے میری مدد کی اور میں اپنی شخصیت کے مطابق تیار ہوئی ایک دفعہ میرے شوہر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس کے لیے تیار ہوتی ہیں اور میرے جواب تھا۔ اپنے لیے کہ اگر خود کو اچھا لگوں گی تو کسی اور کو اچھا لگوں گی۔ وہ چیز مجھے پسند نہیں اس میں میں کیسے خوش ہوں گی اور اس کا اطلاق میں نے صرف اپنے پہ نہیں اپنے خاندان پر بھی کیا کہ وہ اپنی پسند میں آزاد ہیں۔ ہم مختلف ہیں لیکن محبت میں یکجا ہیں کہ پرسنل باؤنڈری اور پرسنل اسپیس انتہائی قریبی رشتوں میں جان ڈال دیتی ہے اور کینیڈا میں بھی میں اپنے جلد کے اور بالوں کے رنگ اور کپڑوں کے فیشن اسٹائل میں پراعتماد ہوتی ہوں اور وہی خوبصورتی دوسروں کی شخصیت اور کام میں تلاش کر لیتی ہوں سوائے ان لوگوں کے جو دوسروں کے ساتھ ذلت آمیز طریقے سے پیش آئیں اور racist یا sexist طرزعمل کے حامل ہوں۔

آپ کے ساتھ اس موضوع پر بات کر کے مجھے اندازہ ہوا کہ معاشرے اور آپ کے اردگرد کے لوگ آپ کو کیسے اپنے آپ سے غیر محسوس طریقے سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ نفرت احساس کمتری بن کر آپ کے اندر جذب ہوتا جاتا ہے اور آپ کو انجانے میں بے شمار نفسیاتی مسائل سے دوچار کر دیتا ہے۔ احساس کمتری کب احساس برتری میں بدل کر دوسروں کی زندگی کو جہنم بنا دیتا ہے جس کب اس کا بدلہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں پر پرتشدد رویوں سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب ہم اپنی اور اپنے سے منسلک لوگوں کی زندگی جہنم بنا چکے ہوتے ہیں۔

اس لیے ڈاکٹر صاحب میں چاہتی ہوں کہ وہ بات جو خودپسندی اور سلف کیئر سے شروع ہوئی وہ اپنے قدرتی اختتام پر ایک سائیکارٹسٹ کی ماہرانہ رائے سے ہو اور میں چاہتی ہوں کہ آپ خودپسندی اور narcissism کا فرق ایک عام قاری کو بتائیں تاکہ ہم اس گلٹ سے نکل سکیں کہ یہ ایک جرم ہے۔ بطور ایک عام انسان کے میں نے اپنے والدین کے پازیٹیو سلف امیج کو اپنی زندگی میں محبت کے نشان کے پایا اور اس کا فائدہ بھی بیان کیا مجھے امید ہے کہ آپ ایک ماہر نفسیات اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

شکریہ۔
آپ کی دوست۔
سارہ علی۔

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

محترمہ و معظمہ ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!
آپ کا ادبی محبت نامہ پڑھ کر مجھے اپنا ایک قطعہ یاد آ گیا جو کچھ یوں ہے۔

نہ کوئی رازداں گزرے ’نہ کوئی ہم زباں گزرے۔
گلی کوچوں سے بیگانوں کا دن بھر کارواں گزرے۔
میں ایسے شہر میں رہتا ہوں سب بیزار ہیں۔ خود سے۔
میں اپنے آپ کو چاہوں تو لوگوں کو گراں گزرے۔

آپ نے اپنے خط میں جس موضوع پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ وہ نفسیاتی طور پر بہت اہم ہے۔

مجھے خود بھی حیرانی ہوئی جب مجھ سے اتنے زیادہ لوگوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود کو پسند نہیں کرتے۔ ان میں سے بہت سے بظاہر خود اعتمادی کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن جب ان کے دل میں جھانکا تو اندازہ ہوا کہ وہ احساس کمتری کا شکار تھے۔ اپنے آپ کو ناپسند کرنے والوں سے میں پوچھتا ہوں کہ جب آپ اپنے آپ کو پسند نہیں کرتے تو آپ کیسے امید رکھتے ہیں کہ دوسرے لوگ آپ و پسند کریں۔

جس دن آپ کا مجھے خط ملا اسی دن میرے کلینک میں میرا ایک فنکار مریض اپنی محبوبہ کو لے کر آیا۔ وہ محبوبہ ایک خوبصورت اور کامیاب عورت ہے۔ میٹنگ کے دوران اس محبوبہ نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے آپ کو پسند نہیں کرتی اسی لیے وہ سمجھتی ہے کہ وہ۔
unlovable۔
ہے اور جب اس کا محبوب کہتا ہے۔
you are beautiful۔ i love you۔
تو وہ اس کی بات پر یقین نہیں کرتی اور سمجھتی کہ وہ اسے خوش کرنے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے۔

میرے مریض نے میرے سامنے اپنی محبوبہ سے کہا کہ میں ایک سال سے تمہیں چاہ رہا ہوں اور تمہاری شخصیت کا گرویدہ ہوں لیکن اس کی محبوبہ کو اس کی باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔

جب میں نے اپنے مریض کی محبوبہ سے اس کے ماضی کے بارے میں سوال کیے تو پتہ چلا کہ اس کی والدہ ایک ریڈ زون منفی عورت تھی جو ہر روز کسی نہ کسی بات پر معترض رہتی تھی اور دن بھر زندگی سے شکایتیں کرتی رہتی تھی۔ وہ ایک ایسی عورت تھی جس کے بارے میں احمد فراز نے لکھا ہے۔

رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے۔
ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں۔

اپنی ماں کی شکایتیں اور اعتراض اور تنقید سن کر بیٹی بھی اپنے بارے میں منفی سوچنے لگی۔

میرے مریض نے اپنی محبوبہ کو بتایا کہ تین سال پہلے جب وہ مجھ سے تھراپی کروانے آیا تھا تو وہ بھی احساس کمتری کا شکار تھا۔ اس کی خود اعتمادی دس میں سے دو تھی لیکن تین سال کی تھراپی سے اس کی خود اعتمادی دو سے بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔

میرے مریض نے اپنی محبوبہ کو بتایا کہ چونکہ اس کا رنگ کالا تھا۔ اس لیے سکول میں بچے اس کا مذاق اڑاتے تھے اور جملے کستے تھے۔ اسی وجہ وہ خود بھی اپنے آپ کو ناپسند کرنے لگا تھا اور غصے میں رہتا تھا۔ تھراپی میں نہ صرف اس کا غصہ ختم ہوا بلکہ اسے اندازہ ہوا کہ وہ ایک فنکار ہے۔

اس نے جب اپنے موسیقی کے شوق کو پروان چڑھایا اور اپنے دوستوں کا حلقہ بنایا اور اس کے دوستوں نے اس کی موسیقی کر سراہا تو اس کی خود اعتمادی بڑھی۔ اب وہ اپنے آپ کو بھی پسند کرتا ہے اور دوسرے بھی اس کو پسند کرتے ہیں اور اس کے فن کو سراہتے ہیں۔ میرے مریض نے جب اپنی محبوبہ کو مشورہ دیا کہ وہ بھی مجھ سے تھراپی کروائے تو پہلے تو وہ رونے لگی اور پھر آمادہ ہو گئی۔

ڈیر ڈاکٹر سارہ علی!

میں اس لحاظ سے خوش قسمت ہوں کہ مجھے بچپن سے ہی اپنی نانی نانا ’خالہ اور ماموں کی بہت محبت ملی۔ میں چونکہ خاندان کا پہلا نواسہ تھا۔ اس لیے سب کا چہیتا اور لاڈلا تھا۔ میں بچپن سے ہی بہت سپیشل محسوس کرتا تھا اور اپنے آپ کو پسند کرتا تھا۔

بچپن میں رشتہ داروں کی محبت کی بارش میں بھیگ جاتا تھا اور اب دوستوں کی محبت کی بارش میں اندر تک بھیگ جاتا ہوں۔

میری نگاہ میں جو لوگ۔
positive self esteem۔

رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف خود کو پسند کرتے ہیں بلکہ وہ اپنی عزت بھی کرتے ہیں۔ وہ خوددار بھی ہوتے ہیں۔ عارف عبدالمتین کا شعر ہے۔

ناداں ہیں جو کہتے ہیں کہ مغرور ہے۔ عارف۔
ہم نے تو اسے پایا ہے۔ اک بندہ خود دار۔
خود دار انسان میں۔
self respect۔

ہوتی ہے۔ وہ صاحب الرائے ہوتا ہے۔ چونکہ وہ اپنی رائے کا احترام کرتا ہے۔ اس لیے وہ دوسروں کی رائے کا بھی احترام کرتا ہے۔

اس کے مقابلے میں جو لوگ نرگسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ مغرور و متکبر ہوتے ہیں۔ ان کا احساس برتری دراصل ان کے مخفی احساس کمتری کی غمازی کرتا ہے۔
وہ دھیرے دھیرے میں علیہ السلام بن جاتے ہیں اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں۔

وہ اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو چھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ وہ ان کی تذلیل و تحقیق کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے سماجی و رومانی رشتوں میں خود غرض ہو جاتے ہیں اور لوگ ان سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

ڈیر سارہ!

میں یہ سمجھتا ہوں کہ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں اور شاگردوں کی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کریں تا کہ ان بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہو اور وہ جوان ہو کر خود کو بھی پسند کریں۔ اپنی رائے کا بھی احترام کریں اور دوسروں سے بھی عزت سے پیش آئیں۔

ایک دوسرے کا احترام کرنا ہی ایک مہذب قوم کی نشانی ہے کیونکہ باہمی احترام ہی صحت مند رشتوں کی اساس ہے۔
یہ باہمی احترام افراد کے لیے ہی نہیں قوموں کے لیے بھی اہم ہے۔

مہذب قوموں کے افراد اور رہنما دوسری قوموں کے افراد اور رہنماؤں کا احترام کرتے ہیں اور باہمی مشاورت سے مسائل کا حل نکالتے ہیں۔
ایک دوسرے کا احترام کرنے والی قومیں اپنے مسائل کا مکالمے سے حل تلاش کرتی ہیں۔
جمہوریت بھی تو پرامن مکالمے کا ہی نام ہے۔

جہاں باہمی احترام ختم ہو جائے وہاں جنگ اور جارحیت کے آثار شروع ہو جاتے ہیں۔ چاہے وہ خانہ جنگی ہو یا عالمی جنگ ہو۔

جنگ اس وقت شروع ہوتی ہے جب دونوں فریقین اپنے آپ کو سچا اور عقل کل سمجھنے لگتے ہیں۔
آپ کے سوال پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن میں اپنی گزارشات یہاں ختم کرتا ہوں۔ طوالت کی معذرت۔

آپ کی تخلیقات کا مداح۔
خالد سہیل۔

Facebook Comments HS