ایران کے جنوب سے شمال کی طرف کا سفر (قسط نمبر 3 )
شیراز شہر کی سیر
8 جولائی 2023 کو ہم لوگوں نے صبح اٹھ کر غسل کیا، ناشتہ سے فارغ ہو کر شیراز میں موجود شیخ سعدی کے آرام گاہ کی جانب چل پڑے، شیخ سعدی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور دانا تھے۔ ان کی کتابیں گلستان اور بوستان باقاعدہ مدرسوں میں درس میں شامل ہیں۔ میں نے بچپن میں خود مکتب میں کریمہ، گلستان، بوستان پڑھا تھا۔ شیخ سعدی ایک ایسا لکھاری تھا کہ اب بھی ان کی کتابوں لوگ اسی دلچسپی سے پڑھتے ہیں، جو ان کے زمانے سے پڑھتے رہے تھے۔
شیخ سعدی 13 ویں سعدی کے شاعر تھے۔ ایک دفعہ سعدی نے اپنے ایک دوست سے کہا تھا کہ وہ ایک ایسی کتاب تحریر کریں گے، جو تعلیم بھی ہو اور دلچسپ بھی ہو، اس کا نام گلستان ہو گا، لوگ اس کتاب کو یاد رکھیں گے۔ ان کی دوسری کتاب بوستان تھا۔ ان کی کتاب بوستان کا فارسی ادب میں بہترین مقام ہے۔ شیخ سعدی کو اخلاقی شاعر کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ شیخ سعدی کتابوں میں اخلاقی درس دیا جاتا ہے۔ شیخ سعدی کے بقول نیک بخت شخص وہ ہے، جو خود بھی کھاتا ہے، اور لوگوں کو دیتا ہے، بدبخت شخص وہ ہے نہ خود کھاتا ہے، نہ کسی کو کھانے کے لئے دیتا ہے، بلکہ جمع کرتا رہتا ہے۔ شیخ سعدی شہر شیراز کا فخر ہے۔ لوگ ان کی آرام گاہ آج بھی جوش خروش سے آتے ہیں۔
شیخ سعدی مزار پر پہنچنے کے لئے ہم نے گوگل میں سرچ کیا۔ گوگل کے لوکیشن پر ہم جلدی ہی اپنے منزل پر پہنچ گئے۔ شیخ سعدی کی مزار ایک بہت بڑے چار دیواری میں تھا۔ اس چار دیواری میں بڑے بڑے خوبصورت درخت، اور پھول تھے۔ ہر طرف ہریالی کا سماں تھا۔
مزار میں لوگوں کی کافی تعداد ہم نے دیکھا۔ کچھ بلوچ بھی اپنے لباس کی وجہ سے پہچان میں آئے۔ سعدی کی مزار میں دعا کے بعد تھوڑی دیر وہاں رہے۔ اس کے بعد ساتھیوں کے ساتھ ہم لوگ حافظ شیرازی کے آخری آرام گاہ پر گئے۔ حافظ بھی اپنے وقت کے عظیم شاعر تھے۔ ان کی کتاب دیوان حافظ دنیا کی مشہور کتابوں میں شمار ہوتا ہے۔
حافظ کے مزار میں اندر جانے کے لئے آپ کو ٹکٹ لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ٹکٹ لینے کے لئے خود کار مشینیں لگی ہوئی ہیں۔ ہر شخص اپنے باری پر ٹکٹ لیتا ہے۔ رش ہونے کے باوجود آپ کو آسانی سے ٹکٹ مل جاتا ہے۔ حافظ کا مزار ایک بڑے قطعہ زمین پر ہے۔ چار دیواری کے اندر خوبصورت درخت ہیں۔ رنگ برنگے پھول بھی خوبصورتی کے باعث ہیں۔ حافظ کے مزار پر عرب، اور بلوچ بھی آئے ہوئے تھے۔ مزار کے احاطے میں دکانیں بھی تھی۔ کچھ دکانوں میں کتابیں فروخت ہو رہی تھیں۔
لوگ کتابیں خرید رہے تھے۔ مجھے حافظ کی دیوان لینا تھا۔ چنانچہ دکان میں موجود خانم سے ہم نے حافظ کی دیوان کی ڈیمانڈ کی۔ انہوں نے مختلف سائز اور کاغذ کے حافظ شیرازی کی دیوان دکھائے، جس میں سے ایک کو میں نے پسند کیا۔ حافظ ایک ایسے شاعر تھے، اسے خدائے سخن کا نام دیا جاتا ہے۔ حافظ کی شاعری میں شراب اور رندی و مستی کا جس طرح تذکرہ ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے زمانے میں انھیں اس کی وجہ سے لعنت و ملامت کا بھی سامنا رہا لیکن بعد میں لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ ان کے تصوف کی شان ہے جس میں سارا زور عشق حقیقی کی طرف جاتا ہے اور یہ شراب کی مستی در اصل روحانی ہے۔ ممبئی یونیورسٹی سابقہ پروفیسر شبنم عابدی کے خیال میں جب تک دنیا میں عشق کا جذبہ قائم ہے، حافظ کی شاعری پرانی نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ حافظ کا اردو شاعروں پر جتنا اثر نظر آتا ہے کسی اور شاعر کا نہیں ہے۔ انھوں نے حال ہی حافظ کی بہت سی غزلوں کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔
ان کے خیال سے حافظ کے ہاں جو شراب کا ذکر ہے وہ روحانی شراب ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے اشعار کی کئی جہتیں اور پرتیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بادہ مستوں کے ذوق کی بھی آبیاری ہوتی ہے اور روحانی سرمستی کے متلاشیوں کی پیاس بجھتی ہے۔ حافظ پر کئی کتابوں کے مصنف اور شاعر ڈینیل لیڈنسکی لکھتے ہیں : ’مجھے لگتا ہے کہ حافظ‘ روشنی کی افادیت ’یا‘ سورج ’کو بیان کرنے والے ایک نادر ماہر ہے۔ وہ‘ فن کی افادیت ’کے بھی ماہر ہیں۔ ان کی شاعری ضرورت مندوں کو راحت بخشنے، جلا بخشنے اور مالا مال کرنے صلاحیتوں سے معمور ہے۔ فن کو عاشق ہونا چاہیے۔ اسے شعاع ریز ہونا چاہیے اور جب آپ سردی محسوس کریں تو یہ آپ کے قلب کو گرما دے۔ ‘
’فن اندرونی پیاس اور بھوک کو بجھا سکتا ہے۔ اور رومی، مائیکل اینجلو، سینٹ فرانسس، کبیر، میرا اور حافظ اور کئی دوسرے عظیم شاعر مشرق اور مغرب کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اور ان کی شاعری پر کام کرتے ہوئے، میں نے سیکھا کہ ان میں ایک شاندار قدر مشترک ہے۔ ‘ حافظ کے کلام کو ہر دور میں رہنمائی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور آج بھی ایسے لوگ ہیں جو کسی مسئلے کے حل کے لیے اس سے رجوع کرتے ہیں۔
دیوان حافظ میں مولانا محمد قمر دہلوی نے لکھا ہے کہ حافظ کے تذکرہ نگاروں نے ایسے سینکڑوں واقعات نقل کیے ہیں جن سے فال نکالنے والوں کو حافظ کے کلام سے حیران کر دینے والے اشارے ملے ہیں۔ ایسے ہی چند حیرت انگیز واقعات کا انھوں نے ذکر بھی کیا ہے۔
اس ضمن میں انھوں نے مغل بادشاہ ہمایوں اور جہانگیر کے فال نکالنے کی حکایت بھی لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ’ہمایوں بادشاہ نے جب ایرانی فوج لے کر ہندوستان پر حملے کا ارادہ کیا تو دیوان حافظ سے فال نکالی جس میں وہ شعر سامنے آیا جس میں حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کا ذکر تھا۔ اور یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اس حملے کے بعد ہمایوں بھی اپنے تمام بھائیوں کو شکست دے کر ہندوستان کا بادشاہ بنا تھا۔‘ اسی طرح حافظ کی موت کے وقت ہونے والے ہنگامے کو بھی ان کے دیوان کے ایک شعر سے حل کیا گیا تھا۔
حافظ کے انتقال کے بعد ان کے مخالفین نے ان کی ظاہری حالت اور آزاد خیال ہونے کی وجہ سے شور و غوغا کیا اور نماز جنازہ اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفنائے جانے کی مخالفت کی چنانچہ اسلامی عقائد کے سلسلے میں ان کے کلام کا بھی ذکر آیا۔
جنھیں عذر تھا انھوں نے زور دیا کہ وہ حافظ کے دیوان سے اکثر ایسے شعر دکھا سکتے ہیں جو ملحدانہ ہیں اور اس کے ثبوت میں دیوان طلب کیا گیا اور کھولتے ہی جو شعر سب سے پہلے سامنے آیا اس نے تمام بحث کا خاتمہ کر دیا۔ وہ شعر یہ تھا:
قدم دریغ مدار از جنازۂ حافظ
کہ گرچہ غرق گناہست میرود ب بہشت
یعنی حافظ کے جنازے سے گریز مت کر کیونکہ اگرچہ وہ گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن وہ بہشت میں گیا ہے۔
اس کے بعد نماز جنازہ خاموشی سے ادا کی گئی اور جو حافظ چند منٹ قبل بے دین اور ملحد ثابت کیے جاتے تھے لسان الغیب قرار پائے۔ حافظ شیرازی کی آخری آرام گاہ میں آج بھی لوگوں کا ہجوم اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ لوگ مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ حافظ شیرازی اور اس کی شاعری کے قدر دان جوک در جوک حافظ کہ مزار پر آ کر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان قدر دانوں میں، میں بھی ایک ادنی سا قدر داں تھا۔ مجھے جب بھی شیراز جانے کا موقع ملے میں سعدی اور حافظ کے آخری آرام گاہ میں جاکر خراج عقیدت پیش کروں گا۔ اور آپ جب بھی شیراز جائیں سعدی اور حافظ کی آخری آرام گاہ پر ضرور جائیں۔
کچھ تصاویر بنانے کے بعد ہم نے واپسی کا رخ کیا۔ ایران میں کسی بھی شعبہ زندگی میں دیکھیں وہاں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ دکانوں میں، رستورانوں میں، کسی ٹکٹ گھر میں عورتوں کو آپ کام کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ جو اپنی روایتی اسلامی لباس میں ہوتی ہیں۔ انہیں خانم کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ مردوں کے ساتھ عورتوں نے اپنے کام کی وجہ سے ایران کو اقتصادی طور پر بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
ہمیں شیراز کے مضافات میں تقریباً دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک آبشار کو دیکھنا تھا۔ چنانچہ ہم لوگ اس آبشار کو دیکھنے کے لئے شیراز شہر سے نکلے۔ آبشار مارگون پہنچتے پہنچتے دو گھنٹے لگے۔ مارگون آبشار پہنچنے کے لئے ہم پہاڑوں پر بہت اوپر گئے۔ گاڑی اوپر پہاڑوں میں مختلف موڑ کاٹتے ہوئی اوپر جا رہا تھا۔ مارگون آبشار کا راستہ تھوڑا سا دشوار گزار تھا۔ لیکن یہ قدرت کا عجوبہ تھا۔ ہم جب اس آبشار پر پہنچے ہر طرف مرد وزن دکھائی دے رہے تھے۔ ایک اونچے پہاڑ کی مختلف حصوں سے پانی کے چشمے اونچائی سے نیچے کی طرف نکل رہے تھے۔ یہ منظر قابل دید تھا۔ لوگ شور کر ہے تھے، پہاڑ کی اونچائی سے جب پانی نیچے کی طرف آتا تھا ایک خاص قسم کی موسیقیائی آواز نکلتی تھی۔ پانی میٹھا اور سرد تھا۔
بہرکیف یہ منظر یادگار اور دلنشین تھا۔ جس مقام پر آبشار تھا، اس کے ارد گرد اشیائے خورد نوش کی دکانیں تھیں۔ شیراز جب بھی آپ کو جانا ہو مارگون آبشار دیکھنے ضرور جانا۔
آبشار پر ایک گھنٹہ گزارنے کے بعد ہم نے واپس شیراز کا رخ کیا۔ شیراز میں ایک پارک دیکھنے کے بعد ہم ایک قلعہ دیکھنے گئے جو ہمارے رہائش کے قریب تھا۔ یہ قلعہ کریم خان زند کا تھا۔ جو اپنے وقت کا ایک عادل بادشاہ تھا۔ جو قریبا دو سو سال قبل پورے ایران کا حکمران تھا۔ ایران میں خراسان کے علاوہ اس کی پوری ایران پر حکمرانی تھی۔ ان کا قلعہ شاندار تھا۔ اس کے مختلف حصے تھے۔ کریم خان زند انگریزوں کا سخت خلاف تھا۔ اپنے عوام کی سہولت کے خاطر اس نے بہت سارے اقدام کیے ۔
کریم خان زند کے قلعہ دیکھنے کے بعد ہم لوگوں نے مارکیٹ کا رخ کیا۔ ضروری سودا سلف کے بعد اپنے گھر چلے گئے۔ ہم تھکاوٹ سے چور تھے، غسل کرنے کے بعد ہم نے کھانا کھایا اور اپنے کمروں میں سونے کے لئے چلے گئے۔


