کیا مشرق وسطٰی کی جنگ پاکستانی معیشت کو بھی تباہ کرے گی؟
سال 2007 سے پہلے مجھے والد صاحب کی طرف سے چندی پور گاؤں سے ماہانہ اخراجات کے لیے مبلغ چار ہزار روپے بھجوائے جاتے تھے۔ اس رقم کا استعمال اس طرح سے ہوتا تھا کہ ایک ہزار روپے کمرہ کا کرایہ۔ سو روپے بجلی کے ماہانہ بل کی ادائیگی کے لیے۔ تقریباً تین سو روپے دھوبی کے ماہانہ بل کی ادائیگی کے لیے۔ باقی رقم سے میں تین وقت کا کھانا خرید کر کھاتا۔ خود چائے پیتا اور دوستوں کی چائے کا بل بھی ادا کرتا۔ انگریزی اخبار ڈان کا ماہانہ بل بھی ادا کرتا۔
ہفتہ میں ایک دن کڑاہی گوشت کھاتا۔ ہفتہ میں ایک یا دو بار کوئلہ کی آگ پہ پکائے گئے کباب کھاتا۔ ہفتہ میں ایک یا دو بار توا فرائی قیمہ کھاتا۔ ہفتہ میں دو یا تین بار انڈا شامی کباب فرائی والی ڈش کھاتا۔ چائے کا کپ پانچ روپے میں دستیاب تھا۔ دال سبزی کا کھانا روٹی کے ساتھ پندرہ سے پچیس روپے میں مل جاتا تھا۔ دوپہر کا کھانا تقریباً روزانہ ہی بڑے گوشت یا مرغی کے سالن کے ساتھ کھاتا جو روٹی کے ساتھ ڈھابہ پہ تیس سے پینتیس روپے میں مل جاتا تھا۔ میرے کپڑے اور ضرورت کی دیگر چیزیں والد صاحب خود ہی خرید دیتے تھے۔ میری تعلیمی فیس بھی وہ خود ادا کرتے۔
بہاول پور شہر میں صرف ایک ہی فاسٹ فوڈ اور چائنیز ریسٹورنٹ ہوتا تھا جس پہ اعلٰی فوجی افسران، بیوروکریٹس اور سیاستدان بھی کھانا کھاتے۔ وہاں سے چکن اور ایگ والے چائنیز رائس کی بڑی ڈش تقریباً سو روپے میں پارسل مل جاتی تھی جسے تین افراد پیٹ بھر کر کھا سکتے تھے۔
سال 2007 میں مجھے جاب ملی اور میری ماہانہ تنخواہ پانچ ہزار روپے مقرر ہوئی۔ کھانے کی روٹین میری یوں تبدیل ہوئی کہ دوپہر کو ایرانی ریسٹورنٹ میں جا کر کھانا کھاتا یا انھیں فون کر کے آفس منگوا لیتا اور رات کا کھانا روزانہ بوٹی کباب والا پراٹھا رول اور کولڈ ڈرنک اور کبھی چکن کڑاہی۔ آپ سوچتے ہوں گے میرے پاس بچتا کیا ہو گا تو میری اس بات کا یقین کر لیں کہ میں تھوڑے سے پیسے بچا لیتا تھا۔ میری تنخواہ بڑھتے بڑھتے سال 2009 میں بارہ ہزار روپے ہو گئی۔ اس تنخواہ میں سارے اخراجات بھی پورے ہو جاتے۔ پسندیدہ چیزیں کھانے کا شوق بھی پورا ہو جاتا۔ کپڑے بھی خرید لیتا اور اپنی تنخواہ سے جو بچت کرتا، اس سے بنک میں میری بچت سال دو ہزار نو میں اٹھارہ ہزار روپے یا اس سے زیادہ ہو گئی تھی۔
اس وقت سال 2024 چل رہا ہے۔ جاب چل رہی ہے، تنخواہ بھی ٹھیک ہے لیکن مہنگائی اس قدر خوفناک ہے کہ تنخواہ کا بڑا حصہ مہینے کے شروع کے دس دنوں میں ہی مختلف بلوں کی ادائیگی میں نکڑے لگ جاتا ہے۔ باقی سارا مہینہ اخراجات کو منیج کرنے میں لگ جاتا ہے۔ بچت کچھ بھی نہیں ہو رہی بس کھینچ تان کر گزارہ ہو رہا ہے۔
آج 16 جنوری 2024 کو میں کسی کام سے گھر سے باہر نکلا۔ ایک شخص سبزی خرید رہا تھا۔ میں نے خاموشی سے دیکھنا شروع کر دیا۔ مٹر ایک کلو۔ پیاز دو کلو۔ ایک پاؤ ٹماٹر اور ادرک کا چھوٹا سا ٹکڑا۔ بل بنا۔ نو سو روپے۔ تھوڑا سا آگے گیا تو پولٹری والے نے بورڈ لگایا ہوا تھا ”مرغی کا گوشت چھ سو ساٹھ روپے کلو“ ۔
گزشتہ روز پارک میں واک کے دوران گاجر کا حلوہ کھانے کی خواہش دل میں ابھری۔ مٹھائی کی دکان پہ گیا۔ لکھا تھا، گاجر کا حلوہ تیار ہے ”بارہ سو روپے کلو“ ۔ گزشتہ سال 2023 میں ون یونٹ چوک بہاول پور میں مچھلی کا گوشت ساڑھے تین سو روپے کلو تک بھی دستیاب تھا جو جنوری 2024 میں اسی علاقہ میں بارہ سو روپے کلو میں بھی فروخت ہوئی۔
گزشتہ روز پندرہ جنوری 2024 کو میڈیا میں خبر پڑھی ”انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹا لینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کا بڑھتا ہوا استعمال دنیا بھر میں کم و بیش چالیس فیصد ملازمتوں پہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تھوڑا عرصہ قبل پاکستانی بلاگ ویب سائٹ ہم سب ڈاٹ کام پہ ایک تحقیقی مضمون پڑھا، لکھا تھا“ مصنوعی ذہانت کا استعمال اب تک دنیا میں تقریباً ایک کروڑ افراد کو ملازمتوں سے محروم کر چکا ہے ”۔ عالمی میڈیا سے یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ چونکہ اب جنگی ہتھیار آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال سے مین لیس ہوتے جا رہے ہیں تو امریکہ، چین، روس اور دنیا کے کئی ممالک اپنی افواج کی تعداد کم کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اوپر سے مشرق وسطٰی میں چھڑی جنگ کے بادل اب قریبی ممالک کی معیشت کو بھی متاثر کرنے کے لیے برسنے کو تیار ہیں۔ کیا یہ جنگ جنوبی ایشیا اور پاکستان کی معیشت کو بھی متاثر کرے گی؟ ہمیں کیا فکر؟ ہم دہائیوں سے چلے آنے والے بوسیدہ نظام کے طوق کو اپنے گلے سے اتارنے کو ہی تیار نہیں۔ ہمارے سرکاری دفاتر کا یہ حال ہے کہ بڑے صاحب کے ماتحتوں کے لیے چالیس کمروں کی عمارت ہے۔ ہر کمرے میں بجلی کے پنکھے، ائر کنڈیشنڈ اور بلب استعمال ہو رہے ہیں اور بجلی کا بہت بڑا بل سرکار کے خرچ پہ ادا ہو رہا ہے۔
او بھائی! آپ بنکوں اور نادرا دفاتر کی طرز پہ تمام سرکاری محکموں کے دفاتر کو سنگل ہال پہ مشتمل آفس والا سسٹم کیوں نہیں دے دیتے۔ شیشے کی دیواروں والا ایک ہی ہال ہو۔ کونے میں بڑے صاحب اور چھوٹے صاحب کے شیشے والے کیبن ہوں اور باقی ہال میں تمام ماتحتوں کی ٹیبلز ہوں جن پہ کمپیوٹرز پڑے ہوں۔ ساتھ ہی ہال میں سی سی ٹی وی کیمرے اور ساؤنڈ ریکارڈرز لگے ہوں۔
کراچی کا صنعت کار بہاول پور شہر کے قریب انڈسٹریل یونٹ لگا کر وزٹ کرنے تک نہیں آتا بلکہ کلفٹن کراچی یا ڈی ایچ اے کراچی میں ہی اپنے گھر میں بیٹھ کر بہاول پور میں اپنی فیکٹری کے اندر لگے کیمروں سے سارے مناظر براہ راست دیکھ رہا ہوتا ہے اور ویڈیو کانفرنس سے بہاول پور والے عملہ سے کراچی سے ہی روزانہ میٹنگ کر رہا ہوتا ہے۔
ادھر سرکاری محکموں کے لیے نئی نئی گاڑیاں منگوا لی جاتی ہیں۔ جانوروں کو ویکسین لگانے والا سرکاری محکمہ بھی اپنی گاڑیوں پہ نیلی بتی والا ہوٹر اور ”سپیشل مجسٹریٹ“ والی نیم پلیٹ لگا کر گھوم رہا ہوتا اور عوام پہ رعب ڈال رہا ہوتا ہے۔
سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے کی سیوریج لائن بچھائی جاتی ہے یا بلڈنگز تعمیر ہوتی ہیں تو ٹھیکیدار پرانی عمارتوں کا ملبہ خریدنے والے کباڑیوں سے یاری لگا کر ان سے ملبہ میں آنے والا پرانا سریا اور لوہا خرید کر وہی نئی سرکاری عمارت کی آر سی چھت ڈالنے اور گٹر کا ڈھکن بنانے میں استعمال کر دیتا ہے۔ ”بڑے چھوٹے صاحب کا گھر بھی آباد، ٹھیکیدار کا کچن بھی آباد“ ۔
”جب آئے گا چاچو خان، بنے گا نیا پاکستان بنے گا نیا پاکستان“ ۔ پتہ نہیں کون سے والا چاچو آئے گا؟ وردی والا یا بغیر وردی والا۔ اس وقت تک تو سسٹم کا مکمل کباڑہ ہی نکل جانا ہے۔ سسٹم کی اوور ہالنگ کرنے والا کوئی آئے گا بھی یا نہیں؟ ابھی تک تو بے یقینی سی بے یقینی ہے۔ خیر۔
مشرق وسطٰی کی جنگ کے اپنی معیشت پہ منفی اثرات سے بچنا چاہتے ہو تو اکبر شیخ اکبر کی یہ بات پلے باندھ لو کہ ایک تو سسٹم میں فوری تبدیلی لاؤ دوسرا اپنی نوجوان نسل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کا علم سکھلاؤ ورنہ ”سیلاب“ آئے گا اور تم سب کو بہا کر لے جائے گا۔


