”کتے“ ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے


کیا زمانہ تھا؟ کیسے کیسے کتے تھے؟ طبیعت شاعرانہ، مزاج لڑکپن سے عاشقانہ، خوئے بے نیازی ایسی کہ سرشام ہی دم جھاڑ کے، قصاب کی دکان سے اپنی محبوبہ (مادہ) کے مکان کی جانب روانہ ہو جاتے اور ساری ساری رات اس کی گلیوں میں شعر پڑھتے پھرتے تھے :

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اس کو کاٹ لینا کبھی اس پہ بھونک دینا

دولت دنیا کا انہیں کوئی لالچ نہیں تھا بلکہ کسی کو ہوس زر میں مبتلا دیکھتے تو بھونک بھونک کر اس کے ’کان‘ میں دم کر دیتے۔ اس معاملے میں امیر اور فقیر کی تفریق روا نہیں رکھتے تھے۔ الٹا فقرا پر زیادہ آوازے کستے تھے کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی، فقر کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہو۔ عرفی شیرازی نے ان کے خلاف کئی ہجویہ شعر کہے مگر مجال ہے کسی کتے کی جبین پر شکن آئی ہو۔ ان کا موقف تھا کہ ہم انسان نہیں کہ آزادیٔ رائے کے حق سے محروم ہوں، ہم تو منہ میں زباں رکھتے ہیں۔ ہمیں ’غوغائے شاعراں‘ کی مطلق پروا نہیں۔ ”بھونکیں“ گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ”بھگائے“ کیوں؟

فیض صاحب نے بھی ان کے بارے میں ایک نظم تحریر کی جس میں ان کو ’بے کار‘ اور ’آوارہ‘ قرار دیا گیا مگر یہ ایسے سخن پرور نکلے کہ کہتے تھے ہم کسی اچھے شاعر پر بھونکتے ہیں اور نہ اسے کاٹتے ہیں، خواہ وہ کم زور نظم ہی کیوں نہ لکھے۔ بات ان کی درست ہے۔ ہم نے کسی اچھے شاعر کو سگ گزیدہ نہیں دیکھا، ہمیشہ برے شاعروں ہی کو پیٹ میں ٹیکے لگواتے دیکھا ہے۔

ایک صدی پہلے کا قصہ ہے۔ جاپان میں ہائیڈیسا بورویونو نام کے ایک پروفیسر تھے۔ (ظاہر ہے بھلکڑ بھی ہوں گے ) وہ روزانہ ٹرین پر سوار ہو کر یونی ورسٹی جاتے تھے۔ ان کا ایک پالتو کتا بھی تھا جسے وہ سگ لیلیٰ کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ کتے کا نام ہاچیکو تھا۔ پروفیسر صاحب، صبح سویرے ہاچیکو کی معیت میں گھر سے نکلتے، اسٹیشن تک پہنچتے، ہاچیکو کو خیرباد کہتے اور ٹرین میں سوار ہو جاتے۔ ہاچیکو الٹے قدموں گھر پھر آتا۔ شام کو پروفیسر صاحب ٹرین سے واپس آتے تو ہاچیکو ان کے قدم لینے کو پہلے سے موجود ہوتا۔

یہ سلسلہ ایک مدت تک جاری رہا۔ ایک شام پروفیسر صاحب گھر کا رستہ بھول گئے اور غلطی سے ملک عدم کی طرف نکل گئے۔ ہاچیکو اس شام بھی استقبال کے لیے آیا تھا مگر مالک سے ملاقات نہ ہو سکی۔ بے زبان جانور کو معلوم نہیں تھا کہ پروفیسر صاحب کا ’بولورام‘ ہو چکا ہے لیکن وہ نو سال تک روزانہ شام کو ان کو اسٹیشن لینے کے لیے آتا رہا۔ جہاں زاد! نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہے۔ اس دوران میں کسی نے اس کی ’وفاداری بشرط استواری‘ پر اخبار میں ایک مضمون چھاپ دیا۔

چہار دانگ میں اس کا شہرہ ہو گیا۔ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آنے لگے۔ ہاچیکو کی خوب مدارات ہونے لگیں۔ کوئی اسے ہدیۂ مرغ پیش کرتا، کوئی جلیبیوں کا لفافہ بغل میں دابے چلا آتا ہے (لا ادری، جلیبی کو جاپانی میں کیا کہتے ہیں ) ہر شخص کی زبان پر ہاچیکو کا نام تھا۔ لوگ ایک دوسرے کا حال احوال معلوم کرنے کی بجائے، ہاچیکو کا مزاج دریافت کرتے۔ برادران خورد کو صرف ایک ہی نصیحت کی جاتی: سگ باش! ابھی یہ چہلیں جاری تھیں کہ ایک روز اچانک ہاچیکو کا دیہانت ہو گیا۔

وہ تو دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوا مگر اس کا نقش وفا آج بھی تروتازہ ہے۔ (ثبت است برجریدۂ عالم) ٹوکیو کے شیبویا اسٹیشن پر آج بھی اس کا ’مجسمۂ وفاداری‘ نصب ہے۔ اس کی زندگی پر فلم بھی تیار کی گئی ہے۔ شاعروں نے اس کی شان میں نظمیں تحریر کی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان شاعروں کی اپنی ’وفات حسرت آیات‘ پر کسی کو ایک مصرعے کی توفیق نہیں ہوئی (کتے تیتھوں اتے! )

تاریخ انسانی میں کئی نامی گرامی کتے گزرے ہیں۔ رن ٹن ٹن، دنیا کا پہلا کتا تھا جو خاموش فلموں کا اداکار تھا۔ ذرا سوچیے، بھونکے بغیر اداکاری کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ لائیکا نام کی ایک روسی مادۂ سگ تھی جو پہلی بار ”خلا کے گھوڑے“ پر سوار ہوئی تھی۔ یہ ’خودکش خلائی مشن‘ تھا۔ نتیجہ معلوم۔ سو سال پہلے الاسکا میں ایک ایسی وبا پھوٹی کہ دوا بیچنے والے بھی دکان اپنی بڑھا گئے۔ سخت برفانی موسم میں بالٹو اور دیگر کتوں نے دواؤں کی ترسیل کی اور کئی انسانی جانیں بچائیں۔

باب ایک آسٹریلوی کتا تھا، سیر و سیاحت کا ایسا شوقین کہ ہر روز بغیر ٹکٹ کے ریل گاڑی میں سوار ہو جاتا اور شہروں شہروں سیر کرتا مگر کسی ٹکٹ چیکر کی مجال نہیں تھی کہ اس سے ٹکٹ کی بابت دریافت کرتا۔ طبیعت میں سیر و سیاحت کا شوق فراواں تھا مگر سفرنامہ لکھنے کی جانب طبیعت نہیں آتی تھی۔ بڈی، اولین کتا ہے جس نے بصارت سے محروم افراد کے لیے راہ نمائی کا فریضہ انجام دیا۔ چپس نے دوسری عالمی جنگ میں امریکی فوج کے لیے خدمات انجام دیں جس پر اسے کئی سرکاری اعزازات سے نوازا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اپنے وفادار کتوں کی سرپرستی کرتا ہے۔

یہ سب گزشتہ صدی کے قصے (کتے ) ہیں مگر کتے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے۔ آج کل کے کتے اپنے مالکوں سے بھی زیادہ دنیا دار اور دولت دنیا کے حریص ہیں۔ چند دن پہلے کا واقعہ ہے کہ امریکا کی ریاست پنسلوانیا میں سیسل نام کے ایک لالچی کتے نے اپنے مالک کے گیارہ لاکھ روپے ہڑپ کر لیے۔ اب ظاہر ہے کہ پیٹ چاک کر کے نوٹ کون نکالے کہ قوانین بہت سخت ہیں۔ مالک کی بیوی بہت کائیاں تھی۔ وہ کہیں سے جلاب لے آئی اور دس لاکھ روپے وصول ہو گئے مگر ایک لاکھ روپے ابھی تک اس کے شکم میں ہیں۔ کیا زمانہ ہے؟ کیسے کیسے کتے ہیں؟

Facebook Comments HS