کون غدار کون محب وطن؟

میرے خیال میں یہ سوال زیادہ اہم نہیں کہ ”غدار یا ملک دشمن“ کون ہے بلکہ یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ آخر کوئی ”غدار یا ملک دشمن“ کیونکر بنتا ہے؟ اگر ہم ایک مہذب ریاست کی طرح ان عوامل کا جائزہ لیں جو ریاست کے کسی شہری کو غداری یا ریاستی اداروں پر تنقید پر مائل کرتے ہیں اور ان کا سد باب کر دیں تو شاید بڑی حد تک یہ سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے۔ شاید ہم آزادی سے لے کر اب تک اپنی درست ترجیحات کا تعین نہیں کر پائے اور کنفیوژن کا شکار قوم ہیں اس لیے ہماری قومی سوچ اور پالیسیاں اب تک بالغ نظری کی حد کو نہیں پہنچ سکی ہیں۔
ہم اب بھی مسائل کا حل ٹھنڈے دماغ (Cold Intellectual Calculations) سے زیادہ جذباتی انداز سے نکالتے ہیں۔ اپنے ہی قومی راہنماؤں، دانشوروں اور شہریوں کو غدار یا ملک دشمن قرار دینے کے معاملے میں شاید ہم گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام لکھوا سکتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کا شاید ہی کوئی بڑا نام ایسا ہو گا جو غداری کے الزام سے محفوظ رہ سکا ہو۔ حد تو یہ ہے کہ غداری کے ان الزامات سے محترمہ فاطمہ جناح، نواز شریف، بے نظیر بھٹو، پرویز مشرف اور عمران خان تک محفوظ نہیں رہ سکے۔
سیاستدانوں، دانشوروں، مذہبی راہنماؤں اور شاعروں پر مشتمل غداروں کی اس طویل فہرست میں باچا خان، شیخ مجیب الرحمان، جی ایم سید، مولا نا مودودی، اکبر بگٹی، فیض احمد فیض، حسین حقانی، عاصمہ جہانگیر، نجم سیٹھی اور حامد میر سمیت درجنوں نہیں سینکڑوں بڑے نام شامل ہیں۔ ہم اس حوالے سے بھی ایک شاندار قوم ہیں کہ غداری کے سنگین الزامات اور بعض کیسوں میں ثبوتوں کے ہوتے ہوئے بھی ہم اب تک کسی غدار کے عدالتی ٹرائل کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے ہیں۔
عجیب مذاق ہے کہ قومی مصلحت میں ہی ہم اکثر کسی کو غدار قرار دیتے ہیں اور قومی مصلحت میں ہی اس کا ٹرائل کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ غدار قرار دینے کے حوالے سے ہم اتنے بے باک واقع ہوئے ہیں کہ ہم سابقہ مغربی پاکستان والوں نے آبادی کے لحاظ سے کہیں زیادہ کہ جن کی قربانیاں اور تحریک پاکستان میں کردار بھی کسی طور مغربی پاکستان سے کم نہیں بلکہ بہت زیادہ تھا، مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) والوں کو غدار قرار دے کر ان کے خلاف باقاعدہ ملٹری آپریشن تک کر دیا۔
یعنی ایک اقلیتی آبادی نے اپنے ہی ملک کی اکثریتی آبادی کو غدار قرار دے دیا۔ اس لحاظ سے ہماری اسٹیبلشمنٹ اشرافیہ کا غداری کا فارمولا بھی بڑا شاندار ہے کہ اگر آپ ہماری طرح سوچو تو آپ محب وطن ہو اور اگر آپ کی سوچ ہماری سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی تو آپ غدار ہیں۔ اس سلسلے میں جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سول اور ملٹری افسروں پر مشتمل ہماری ہیئت مقتدرہ برطانوی راج سے بہت مشابہت رکھتی ہے یا متاثر نظر آتی ہے کہ جو ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ کے اصول پر اپنی بالا دستی قائم رکھنے میں مزا لیتے تھے۔
اگر ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو برصغیر میں انگریز کے آنے تک مذہبی یگانگت قائم تھی لیکن گوروں کے آتے ہی مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہبی بنیادوں پر مفادات الگ الگ ٹھہرے۔ پاکستان کی اکثریت چونکہ مسلمانوں پر مشتمل تھی تو انگریز کے پروردہ ہمارے کالے انگریزوں نے اب صوبائیت، لسانیت، فرقہ واریت اور قومیت کے نام پر ہمیں تقسیم کرنا شروع کر دیا تاکہ ان کی اجارہ داری قائم رہے اور کوئی ان سے عوامی مفاد میں اصلاحات کا تقاضا نہ کر سکے۔ کوئی ان سے ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن، تعلیم، صحت، امن و امان، توانائی بحران، جمہوری اصلاحات، بڑھتی آبادی، ادارہ جاتی اصلاحات اور بے روزگاری جیسے مسائل کے بارے میں سوال نہ کر سکے کیونکہ ان کے پاس ان مسائل کو حل کرنے کا کوئی ویژن ہی نہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی ویژن ہے تو وہ یہ کہ مزید دولت، مزید اختیارات، مزید اقتدار کیسے سمیٹا جائے اور یہ کہ کیسے پاکستانی عوام کو اپنی اولادوں اور مخصوص اداروں کا دست نگر بنایا جائے۔
انگریز نے تو پھر بھی ہندوستانی عوام کو جدید تعلیمی نظام، ریلوے نظام، حکومتی نظام اور مواصلات کے نظام سمیت بہت کچھ دیا لیکن ان کے پاس تو سوائے ہمیں قرضوں میں جکڑنے کے کچھ بھی نہیں۔ ان کو پاکستان کے عوام کی کمزوریوں کا پتہ ہے کہ یہ مذہب پسند ہیں، افواہوں پر یقین رکھتے ہیں، عقل سے زیادہ جذبات سے کام لیتے ہیں، گرم علاقے میں رہنے کی وجہ سے سست الوجود ہیں، افواہوں کو حقیقت سمجھتے ہیں، حالات سے سمجھوتہ کرنے والے ہیں اور ان کی اکثریت جاہل ہے یا پڑھی لکھی جاہل ہے کیونکہ ان کو نظام تعلیم ہی ایسا دیا گیا ہے کہ جس میں پڑھا لکھا اور ان پڑھ برابر ہیں کہ تحقیق حال اور شعور کی خاطر پڑھنے لکھنے سے ہمیں خدا واسطے کا بیر ہے اور ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد ہی غلامی یعنی نوکری کا حصول ہے، سو حکمرانی اور غلامی کے لئے یہ قوم آئیڈیل ترین ہے۔
اسی لیے فوج، بیوروکریسی اور سیاسی پارٹیوں پر مبنی جاگیر داری ڈھانچہ جن کی آپس میں قریبی رشتہ داریاں تک ہیں، ان کے مفادات میں یکسانیت ہے، باقی ان کے آپسی اختلافات سب عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے نورا کشتی ہے۔ داخلی طور پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اسلام اور نظریہ پاکستان کی شدید ضرورت اس لئے پڑ گئی تھی کہ پاکستان میں شامل ہونے والی جن قومیتوں کی اسٹیبلشمنٹ میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی یعنی بنگالیوں، مہاجروں، سندھیوں، سرائیکیوں، پٹھانوں اور بلوچوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا سکے۔
وہ جب اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں تو انھیں اسلام اور نظریہ پاکستان کا مخالف قرار دے کر کچل دیا جائے۔ اسی طرح محنت کش طبقہ جب اپنے حقوق کی جد و جہد کرے تو اسے بھی اسلام اور نظریہ پاکستان کے نام پر دبا دیا جائے۔ اگر آئین شکنی اور ملکی مفادات بیچنے کو غداری پر محمول کیا جائے تو پھر پاکستان میں کوئی محب وطن ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا۔ کیا پاکستان کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بجائے اپنے لالچ کے لئے جان بوجھ کر قرضوں میں جکڑنے والے سیاسی اور افسر شاہی قیادت محب وطن کہلائے گی؟
جس ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہو اس ملک کے با اختیار طبقے کا وسائل کی لوٹ مار کرنا اور اپنے لیے ناجائز مراعات اور رعایتی پلاٹ لینا اور مخصوص اور پر آسائش آبادیوں میں قیام پذیر ہونا حب الوطنی کہلائے گا؟ جس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی غرض سے حاصل کیا گیا تھا اس ملک میں ایسی پالیسیاں نافذ کرنا کہ جو اس کو سیکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کر دیں اور آزادی کے 76 سال بعد بھی فلاحی ریاست کا یہ حال ہو کہ پچاس فیصد آبادی کیڑوں مکوڑوں کی طرح زندگی بسر کر رہی ہو اور حکمران طبقات کی دولت دن بدن بڑھ رہی ہو کیا یہ حب الوطنی کا عمل کہلائے گا؟
لوگوں کے جس طرح کے ابتر معاشی اور سماجی حالات ہیں کوئی بھی اپنی ضرورت کے لئے حب الوطنی بیچ سکتا ہے۔ جب ہمارے کھاتے پیتے اور عزت دار راہنما بک سکتے ہیں تو عام آدمی کیوں کر نہیں بک سکتا۔ خدارا! سمجھ لو ملک نظریوں پہ نہیں انصاف پر چلا کرتے ہیں۔ اگر آپ انصاف کریں گے تو نظریہ بھی باقی رہے گا اور ملک بھی ورنہ نہ نظریہ بچتا ہے نہ ملک اور ہمیں تو تاریخ اس بات کا درس بھی دے چکی ہے۔ آدھا ملک گنوا کے بھی ہم اپنی سوچ کا دھارا بدلنے کو تیار نہیں۔
یہ ہماری کیسی محب وطن اشرافیہ ہے جو خود تو اکیسویں صدی کی سہولیات کے مزے لیتی ہے اور اپنی عوام کو اٹھارہویں صدی کی سہولیات بھی دینے سے گریزاں ہے۔ یہ کیسی منافقت ہے کہ آپ کو خود تو اپنی ”دنیا“ کی پڑی ہے اور دوسروں کی ”آخرت“ کی فکر ہے۔ خود اسلام کے رواداری، بھائی چارے، انصاف اور انسانی حقوق کے عظیم اصولوں کی اپنے طرز عمل سے نفی کرنی ہے اور عوام سے یہ توقع کہ وہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے نام پر متحد رہیں اور تمام زیادتیاں برداشت کرتے رہیں تاکہ آپ اور آپ کی اولادوں اور لاڈلے اداروں کے لئے لوٹ مار کا سامان بہم مہیا ہوتا رہے۔
ان کے نزدیک ترقی کی تعریف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات کا فروغ ہے جبکہ پچاس فیصد سے زیادہ غریب عوام کے تعلیم اور صحت کے مسائل کو حل کرنے کو یہ ترقی ہی نہیں سمجھتے۔ ہیومن کیپٹل کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور یہ ترجیحات میں کہیں نظر ہی نہیں آتا۔ پچیس کروڑ کی آبادی میں کام کے پچیس لاکھ ڈھونڈنا بھی مشکل ہو گا۔ یعنی انسان کی کوئی وقعت نہیں اور اگر وہ غریب یا محروم طبقے سے ہو تو پھر تو اس کی بالکل بھی وقعت نہیں۔
ہاں شاید ان انسانوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی جو اپنی وقعت کھو بیٹھیں۔ ان کو غلاموں کی طرح ہی ہانکا جاتا ہے۔ کیا پاکستان سے لوٹ مارکر کے بیرون ملک بینکوں میں اربوں ڈالر اور وسیع پراپرٹی رکھنے والی اشرافیہ جس کے ہاتھ میں اس ملک کی باگ ڈور ہے وہ محب وطن کہلائے گی جبکہ پاکستان میں اس وقت پیسے اور سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ ظالمو! لوٹ مار کر نا ہی تمھارا پیشہ ٹھہرا تو کم از کم پیسہ تو اپنے ملک میں لگاؤ، یا پھر لندن، نیویارک، دوبئی، سوئٹزرلینڈ جہاں یہ پیسہ رکھواتے ہو یا لگاتے ہو وہیں سے حلال طریقے سے کما کے دکھاؤ۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ سیاستدانوں کو الزام نہ دیں اس میں فوج کا بھی قصور ہے لیکن سیاستدان جو کام کر سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر رہے۔ جیسا کہ اداروں میں کرپشن ختم کرنا، فوج کا آڈٹ نہیں ہوتا اور فوج کافی کاروبار بھی کرتی ہے پر ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا ہے صرف حب الوطنی کے خیال سے اور ان کے مورال کو بلند رکھنے کے لئے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود سیاسی حکومتیں جن کا جتنا بھی دائرہ کار ہے اس میں رہ کر بھی ناکام رہی ہیں۔
وجہ صرف بری طرز حکمرانی، کرپشن اور بد انتظامی ہے۔ پی آئی اے، ریلوے، سٹیل مل، پوسٹ آفس، واپڈا، پولیس، لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ یہ سب محکمے سیاستدانوں اور سول حکومت کے ماتحت آتے ہیں لیکن سب تباہ حال ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ سیاستدان خود فیوڈل ہیں اور بزنس مین بھی اور سرمایہ دار بھی ہیں جن کے مفادات ان اداروں کو صحیح کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ سب ٹھیک ہو سکتا ہے جب عام ورکنگ کلاس سیاسی عمل کے ذریعے حکومت میں آئے جن کا اپنا مفاد ریاستی مفاد سے نہ ٹکراتا ہو۔
جب ہی پاکستان میں اور اسی طرح ہی باقی پوسٹ کالونیل ریاستوں میں ترقی ممکن ہے۔ ہمیں کون غدار ہے اور کون محب وطن ہے جیسے ”نان ایشوز“ پر وقت اور توانائی ضائع کرنے کی بجائے ملک میں انتہا پسندی کے خاتمے، بد عنوان اشرافیہ، سیاست اور کاروبار کے بطن سے جنم لینے والے طرز حکمرانی کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے، باقی سب فضول گوئی، سب بے سروپا فصاحت اور اور اصل مسائل اور حقائق پر پردہ ڈالنے والی باتیں ہیں۔

